
----بسم اللہ الرحمن الرحیم :----- الجواب:---- جو نمازیں حضریعنی حالت اقامت میں قضا ہوئی ہیں ان کو مسافرت کی حالت میں قضا پڑھ سکتا ہے مگر اس میں قصر نہیں کرے گا، پوری پڑھے گا۔ اس طرح سفر میں جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کو حضر یعنی حالت اقامت میں قضا پڑھ سکتا ہے مگر ان میں قصر کرے گا، پوری نہیں پڑھے گا۔ [حاشیہ: فتاوی عالم گیری میں ہے : أن الفائتة تقضي على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منها ركعتين. [ج:۱، ص:۱۲۱، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت] المشاھدي] واللہ تعالی اعلم---(فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری))---
Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia
All rights reserved
05462-250092
info@aljamiatulashrafia.org