14 April, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 6967 Downloads: 669

(1)-اسلامی تربیت کا فقدان اور مسلم لڑکیوں کا ارتداد

جی ہاں! یہ حق اور سچ ہے کہ اسلام نے عورت کو عظیم مقام عطا کیا ہے ۔ جس عہد میں اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جلوہ گر ہوئے ، عرب کے بعض لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے ۔ انھیں خوف یہ ہوتا تھا کہ جوان ہوں گی تو ان کی شادیاں کرنا ہوں گی اور نوجوانوں کو داماد بنانا ہوگا۔ مگر سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی بچیوں سے حد درجہ محبت فرما کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بچیاں در گزر کرنے کے لیے نہیں بلکہ سینے سے لگانے کے لیے ہوتی ہیں۔ سیدۃ نساء العالمین سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقام و منصب سے کون واقف نہیں ،جب یہ لخت جگر آپ کی بارگاہ میں تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے تھے۔ امیر المومنین مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کتنی زیادہ محبت فرماتے تھے ۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یکے بعد دیگرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح فرمایا۔ یہ دونوں صاحب زادیاں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا زہد و ورع اور عصمت و طہارت میں اعلیٰ مقام رکھتی تھیں۔

read more

(2)-علمِ الٰہی قرآنی آیات کی روشنی میں

اللہ سمیع وبصیر ہے، علیم وخبیر ہے، علیم بذات الصدور ہے، علام الغیوب ہے، عالم الغیب والشہادہ ہے، یعنی وہ قریب وبعید کو سنتا ہے، ظاہر وباطن کو دیکھتا ہے،قلیل وکثیر کو جانتا ہے، دلوں کے احوال سے باخبر ہے، کائنات کے اسرار ورموز سے واقف ہے،اس کا علم ہر شی کو محیط ہے ، اور کائنات کا کوئی ذرہ اس سےمخفی نہیں،فرمایا: وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ۔[سورۂ یونس: ۶۱] آسمان وزمین کا کوئی ذرہ تمھارے رب کے علم سے باہر نہیں۔ علم الٰہی پر سب سے واضح دلیل قرآن ہے،قرآن کریم نے جا بجا علم الٰہی کی وسعتوں کا ذکر کیا، بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ذکر کیا،قرآن مقدس میں علم باری کے اثبات کے لیےپچاس سے زائد کلمات ذکر کیے گئے ، اور کم وبیش سات سو مقامات پر ذکر گئے، جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کا علم ہر شی کو محیط ہے، اور اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں،قرآن کریم کے جو کلمات صراحت کے ساتھ علم باری پر دلالت کرتے ہیں ان کی اجمالی فہرست یہ ہے:

read more

(3)-کیا فرماتے ہیں علماے دین ،آپ کے مسائل

سوال: کان اور دُم اعضاے مقصودہ سے ہیں یا نہیں؟ جواب: کان اور دُم دونوں اعضاے مقصودہ سے ہیں کہ شرعاً ان کا کھانا حلال ہے— کان کی جو ہیئت اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے وہ سننے کے لیے ضروری ہے اس ہیئت پر نہ ہو تو کان صحیح طور پر نہ آوازوں کو سنے، اور نہ ہی مخلوط آوازوں میں امتیاز کرسکے، جانور سنتا ہے اپنے مالک کی آواز پر دوڑا ہوا چلا آتا ہے، اور کسی دشمن جانور کی آواز کو سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے، اس کا مالک بلاتا ہے تو اسے چارہ کھلائے گا ،اس کی خدمت کرے گا، اس کی حفاظت کرے گا، اور کوئی دشمن جانور اس کو آواز دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر حملہ آور ہوگا اور اس کو نیست ونابود کردے گا،تو ایک آواز اس کو نیست ونابود کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کو وہ اپنے کانوں سے سنتا ہے اگر وہ نہ سنے تو تباہ ہوجائے گا اور تینوں مقاصد میں سے کسی مقص

read more

(4)-نصاب مدارس میں تصوف اور صوفیاے کرام کی تعلیمات

دارس اسلامیہ دینی علوم کی ترویج و اشاعت اور دعوت وتبلیغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں،انھیں مدارس کی بدولت آج چمن اسلام ہربھرا ہے،کیوں کہ یہی مدارس قوم کی دینی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں، علما، خطبا، ائمہ،مؤذنین،مدرسین،مبلغین اور مصنفین انھیں مدارس کے فارغ التحصیل وفیض یافتہ ہوتےہیں۔انھیں مدارس سےایسےافراد نکل کر میدان عمل میں آتےہیں جو دعوت وتبلیغ،اصلاح معاشرہ اورتزکیۂ نفوس کرتےہوئےپیغام الٰہی و پیغام رسول ﷺ کو گھر گھر تک پہنچانےکی کوشش کرتےہیں۔مدارس کا یہ سلسلہ صرف اِس دور کا نہیں ہےبلکہ کسی نہ کسی شکل و صورت میں زمانۂ رسالت مآب ﷺ سے آج تک یہ سلسلہ برقرار ہے،اگرکسی ملک یا علاقےمیں مدارس کے وجود کوختم کیاگیاتو وہاں کےدینی حالات افسوس ناک حد تک ابتر ہو گئے۔

read more

(5)-ماہ محرم الحرام اور یومِ عاشورا

ماہ محرم الحرام زمانہ قدیم سے ہی قابلِ احترام سمجھا جاتا رہا ہے- عربوں کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بات بات پر ایک دوسرے کی گردن اڑا دینے والے جاہل، قدم قدم پر خون کی ندیاں بہانے والے بیوقوف، معمولی معمولی باتوں پر پشتہا پشت سے لڑنے والی قوم ماہ محرم الحرام کا چاند دیکھتے ہی اپنی تلواروں کو جھکا لیتی تھیں- جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس ماہ مبارک کے فضائل میں چار چاند لگ گئے- تاریخی اعتبار سے ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں جو اس ماہ مبارک کی فضیلت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں- کہتے ہیں کہ عاشورا کے دن کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ رب العزت نے آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں، دریاؤں، لوح وقلم کو اور حضرتِ آدم و حوا کو عاشورا ہی کے دن پیدا فرمایا- اور اسی دن حضرتِ آدم علیہ السلام جنت میں داخل ہویے، اور اسی دن حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ خاص طور سے اس ماہ مبارک کی دسویں تاریخ کو جسے یومِ عاشورا کہتے ہیں اس دن بہت سارے حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، جیسے حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اسی دن ہوئی، اور اسی دن حضرتِ ابراہیم علیہ السلام پر نار نمرود گلزار ہوئی، اور اسی دن حضرتِ ایوب علیہ السلام نے مرض سے شفا پائی، اسی دن حضرتِ یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی، اور اسی مبارک دن میں حضرتِ سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکلے، اسی دن حضرتِ سلیمان علیہ السلام کو بادشاہی ملی، اور اسی دن حضرتِ موسیٰ علیہ السلام جادوگر

read more

(6)-خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے علمی آثار

طب الاقطاب ، شیخ المشائخ ، ابو الفتح ، صدر الدین ، ولی الاکبر الصادق سید محمد حسینی عرف حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز قدس سرہ ( متوفیٰ : 825 ھ ) کی تہہ دار فکر و شخصیت بہت سارے فضائل و کمالات اور نوع بہ نوع اوصاف و خصوصیات کی جامع تھی ۔ آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے ۔ علم و حکمت ، فضل و کمال ، سلوک و عرفان ، طریقت و معرفت ، ولایت و روحانیت اور زہد و تقویٰ کی ساری خوبیاں ایک مرکز پر سمٹ آئی تھیں ، جن کے سبب آپ کی شخصیت فائق الاقران بن گئی تھی ۔ آپ کی ذات اپنے اندر بڑی کشش اور وسعت و جامعیت رکھتی ہے ۔ آپ جامع العلوم و الفنون اور جامع الحیثیات و الکمالات تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اپنے وقت کے اکابر علماء و مصنفین اور عظیم المرتبت مشائخِ طریقت نے آپ کے علم و ولایت اور بلند علمی و روحانی مقام کا کھلے دل سے اظہار و اعتراف کیا ہے ۔ غوث العالم حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ جیسی عظیم المرتبت ہستی جو علم و حکمت کے جبلِ شامخ اور بحرِ ولایت و روحانیت کے غواص تھے ، آپ کی علمی و روحانی عظمتوں کو یوں اجاگر فرماتے ہیں

read more

(7)-فاضل بریلوی اور ملک شام

لک شام یہ وہ مقدس سر زمین ہے جس کے بارے میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے شام پر سایہ کناں رہتے ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا کہ جب تک شام میں خیر رہے گی پوری دنیا میں خیر رہے گی اور جب یہاں شر آئے گا، پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔ یہ مقدس سرزمین انبیا وصالحین کے مزارات اور مشاہد سے بھری ہوئی ہے۔ایک ہزار سال سے زیادہ پرانے ، جامع مسجد اموی کے قدیم در و دیوار اور اس کے اندر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مزار مقدس ، محب محبوب رب العالمین ، کشتۂ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سید الاولیا، شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن العربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امام العلما حضرت سیدنا عبد الغنی نابلسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،فقہ شافعی کے مجدد، حضرت سید نا امام نووی رضی اللہ عنہ، صاحب در مختار، امام علاء الدین حصکفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ اور دیگر درجنوں اکابر عظما وصلحا کے مزارات سرزمین شام کے ماتھے کا وہ جھومر ہیں جو اسے دیگر بلاد و اوطان سے ممتاز کرتے ہیں۔

read more

(8)-انگلینڈ کی یونیورسٹیوں میں رضویات اکیڈمک تحقیقات کا مطالعاتی منظر نامہ

امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی آفاقی شخصیت نہ صرف برصغیر میں اہل حق کی ترجمان ہے بلکہ بیرونی ممالک میں بھی سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے علامتی نشان کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ پوری دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر متعدد مقالات اکیڈمک سطح پر جمع کر کے، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کی جاچکی ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں زمینی سطح پر سروے کرنے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس عرصہ میں تحقیقی رجحانات میں کچھ کمی ضرور آئی ہے اور ساتھ ہی اسی عرصہ میں تحقیق کے معیار کو اونچا اُٹھانے کے لیے، برصغیر ہند و پاک نے یو جی سی اور ایچ ای سی کے ذریعہ نئے معیاری اصول بنائے ہیں ، جس کی پابندی اکیڈمک سطح پر ڈگری حاصل کرنے کے لیے لازمی ہوتی ہے ، پھر بھی اس دور پر آشوب میں کچھ جیالے ایسے بھی ہیں جو اس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں، یعنی ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ ان کی منزلِ عشق ، ان کو یہی صدادے رہی ہو ک

read more

(9)-ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما

نام و نسب:آپ کا نام رملہ تھا، سلسلہ نسب اس طرح ہے: رملہ بنت ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف اور والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ یوں ہے: رملہ بنت ام صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف تھا۔ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پشت میں جا کر آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔ کنیت:آپ کی کنیت” ام حبیبہ“ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر عبیداللہ بن جحش سے ایک لڑکی حبیبہ پیدا ہوئی اس وجہ سے آپ کی کنیت ام حبیبہ ہے۔ ولادت:سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبی کریم صلی اللہ

read more

(10)-مسلم لڑکیاں اورغیرمسلموں سےشادیاں ایک اصلاحی جائزہ

بزمِ دانش میں آپ ہر ماہ بدلتے حالات اور ابھرتے مسائل پر فکر و بصیرت سے لبریز نگارشات پڑھ رہے ہیں۔ ہم اربابِ قلم اور علماے اسلام کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ دیے گئے موضوعات پر اپنی گراں قدر اور جامع تحریریں ارسال فرمائیں۔ غیر معیاری اور تاخیر سے موصول ہونے والی تحریروں کی اشاعت سے ہم قبل از وقت معذرت خواہ ہیں۔ از :مبارک حسین مصباحی جولائی ۲۰۲۳ کا عنوان ہمارے ملک کی جمہوری قدریں اگست ۲۰۲۳ کا عنوان شاعروں اور مقرروں کا متعین اوقات کی اجرت طے کرنا— شرعی نقطۂ نظر فتنۂ ارتداد اور ہماری ذمہ داریاں از: محسن رضا ضیائی موجودہ وقت میں اُمّتِ مسلمہ جہاں تعلیمی،سماجی،معاشی اور ملکی مسائل اور چیلنجز سے دوچارہے وہیں کئی طرح کے شرور و فِتن سے بھی نبردآزما ہے۔مسائل کی اِس قدر بہتات و کثرت ہے کہ کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اور رہے شرور و فتن تو وہ ہر آئے دن نت نئی شکلوں اور مختلف صورتوں میں نمودار ہورہے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کے ساتھ ساتھ اب تو تعلیم و ترقی یافتہ لوگوں کو بھی اپنے دامِ تزویر میں پھنسارہے ہیں۔ اِن میں خاص طور سے قابلِ ذکر فتنۂ ارتداد ہے،جو اِن دنوں بہت زیادہ مستعد و سر گرمِ عمل ہے۔یہ مکمل طور پر اپنے بال و پر پھیلا چکا ہے اور اب تک ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ابھی بھی ہزاروں لوگ اِس کے دہانے پر ہیں۔خاص طور سے مسلم بچیوں اور عورتوں کو جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا کر نہ صرف ان کا ایمان و عقیدہ تباہ و برباد کیا جارہاہےبلکہ ان کی عصمت و ناموس کو بھی تار تار کیا جارہاہے،جو ہمارے لیے بہت ہی زیادہ فکر وتشویش کا باعث ہے۔ ملک کے حالات کاطائرانہ جائزہ لینے سے یہ بات نہایت ہی اعتماد و وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بیسوی صدی کے اوائل اور اس کے نصف میں اُٹھنے والی ’’شدھی تحریک ‘‘ نے پھر سے سرابھارا ہے یا پھر اسی کی کوکھ سے اِس’’فتنۂ ارتداد کا ناجائز جنم ہوا ہے ،جو اسی کے باطل افکاروخیالات اورشدت پسند نظریات کو اپنائے ہوئے ہے۔

read more

(11)-لڑکیوں کے مرتد ہونے کے اسباب اور ان کا تدارک

آئے دن ہمیں الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ سے یہ روح فرساخبریں موصول ہو رہی ہیں کہ مسلم دو شیزائیں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر کفر و الحاد کے راستہ پر چل پڑی ہیں،دختران اسلام غیر مسلم لڑکوں سے مشرکانہ رسم و رواج کے ساتھ شادی کر رہی ہیں اور ہندو مذہب اپنا رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً دس لاکھ لڑکیاں مرتد ہو چکی ہیں جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔آخر اتنی برق رفتاری کے ساتھ مسلم لڑکیاں کیوں مرتد ہو رہی ہیں؟ کیوں اپنے مہذب مذہب کو چھوڑ کر غیروں میں شامل ہو رہی ہیں؟ کیوں اپنی عفت و عصمت کے قیمتی جوہر سر عام نیلام کر رہی ہیں؟ جب ہم ارتداد کے اسباب پر غور و فکر کرتے ہیں تو ہمیں مندرجہ ذیل و

read more

(12)-بچُّوں میں خود اعتمادی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا۔ اور اُن میں تخلیقی صلاحیتیں بھی رکھی تا کہ انسان اُن کو اجاگر کریں اور دنیا میں کامیابی حاصل کریں۔ اس طرح بچوں میں بھی تخلیقی صلاحیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں شرط یہ ہے کہ انہیں پہچان کر بروئے کار لایا جائے۔ یہ والدین کی، خاص طور پر ماؤں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھیں اور انہیں اجا گر کر کے اُن میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کریں کیوں کہ خوداعتمادی ہی زندگی کو کامیاب اور خوشگواربناتی ہے۔

read more

(13)-پليسبو كيا هے

تصور کریں کہ ایک مریض کو ایک گولی دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سے اس کے درد کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور یہ دوا وہ ڈاکٹر دیتا ہے جس پر مریض کو پورا اعتماد ہوتا ہے۔ دراصل یہ کوئی دوا نہیں ہوتی محض شکر کی گولی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات مریض کو نہیں پتہ ہوتی ، وہ اسے حقیقی دوا سجھ کر کھاتا ہے اور صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس طرح بغیر دوا کے صحت یاب ہونے کے نفسیاتی عمل اور رجحان کو پلیسبو افيكٹ (Placebo Effect) کہتے ہیں۔ دراصل پلیسبو ایک ڈمی دوا ہے

read more

(14)-کھمبی کے حیرت انگیز فوائد

کھمبی ایک قدرتی نبات ہےاس کی سبزی نہایت ذائقہ دار ہوتی ہے،میسر آئے تو آپ بھی کبھی اس نعمت سے لطف اندوز ہوں۔قدیم مصر میں لوگ کھمبی(مشرومز) کے اگنے کو کسی جادوئی عمل کا نتیجہ قرار دیتے تھے کیوں کہ یہ راتوں رات اگ آتی ہےاور نہایت ذائقہ دار بھی ہوتی ہے۔ کھمبی کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے۔عہد قدیم میں اس کا استعمال دوا اور غذا کے طور پر ہوتا تھا جب کہ یونانی حکیم بقراط (جو کہ فادر آف طب مانا جاتا ہے)نے تو کھمبی کو ہڈیوں اور پٹھوں کے درد کو رفع کرنے کا ذریعہ بھی بتایا ہے۔ کھمبی کی طرح ایک اور نبات بھی ہوتی ہے جس کی شکل چھتری کی طرح ہوتی ہے اسے ککرمتا کہاجاتا ہے۔بظاہر تقریبا وہ بھی کھمبی ہی کی طرح ہوتا ہے مگر اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا ہے، اس کو کھایا جاتا ہے اور نا ہی اسے کسی درد کو رفع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

read more

(15)-معارف سلطان المناظرین

باب ششم:سلطان المناظرین! میدان مناظرہ میں باب ہفتم :سلطان المناظرین اور مدارس عربیہ کا قیام باب ہشتم:سلطان المناظرین اپنی تصانیف کے آئینے میں باب نہم:سلطان المناظرین ! شخصیت اور کارنامے باب دہم: سلطان المناظرین! ارباب علم و دانش کی نظر میں مؤلف ایک نظر میں: آپ کی ولادت موضع او نٹیا پوسٹ اسکار بازار ضلع سدھار تھ نگر – یو پی میں 16 ربیع الثانی ۱۴۰۴ھ/11 فروری 1982 ء میں ہوئی۔ سدھارتھ نگر کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی اور دورہ حدیث جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف سے 14 صفر 1423 ھ/ 28 اپریل 2002 ءمیں کیا۔ آپ فراغت کے بعد سے آج تک جامعہ اہل سنت امداد العلوم مٹہنا پوسٹ کھنڈسری ضلع سدھارتھ نگر میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تحریر و نگارش اور شعر و شاعری میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ لکھتے ہیں اور بھرپور لکھنے کی کاوش فرماتے ہیں ۔ متعددمو ضوعات 72 کتابیں مرتب فرما چکے ہیں۔ خوش مزاج ملنسار اور بلند اخلاق ہیں۔ ملک اور بیرون ملک تحریر کے حوالے سے گہرے روابط رکھتے ہیں ، ہم سے بھی رابطہ ہوا تو مسلسل گفتگو فرماتے رہتے تھے، عزم و حوصلہ کے مضبوط ہیں جو سوچ لیتے ہیں عام طور پر مکمل فرما دیتے۔ ہیں ۔ آپ نے نعتیہ شاعری میں بھی کمال حاصل کیا ہے، امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کی حدائق بخشش پر مکمل تضمین لکھ رہے ہیں،ہو سکتا ہے پایۂ تکمیل تک پہنچ چکی ہوں۔ اسلام وسنیت کے فروغ کے لیے مسلسل لگے رہتے ہیں رضویات اور علماے اہل سنت آپ کے فکر و قلم کا اہم موضوعات ہیں ۔

read more

(16)-نعت و مناقب

عیدی عطا کریں حسنِ تخیلات کی عیدی عطا کریں یعنی جمالیات کی عیدی عطا کریں سلطانِ کائنات ، شہنشاہِ بحر و بر !! پیہم نوازشات کی عیدی عطا کریں اے آسمانِ فیض و سخاوت کے آفتاب

read more

(17)-سفر آخرت

اس کائنات رنگ و بو میں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد سفر آخرت پر روانہ ہو جاتے ہیں ان میں ایسے خوش قسمت بھی ہوتے ہیں جو جب اس دارفانی سے سفر آخرت پر روانہ ہوتے ہیں تو اپنی یادوں کے ایسے حسین و جمیل نقوشِ جاوداں چھوڑ کر جاتے ہیں جنہیں آنے والی نسلیں کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ کچھ اپنی صالح اور نیک اولاد امجاد چھوڑ کر جاتے ہیں، کچھ اپنے مشاہیر تلامذہ تو کچھ اپنے قلم و قرطاس کے حسین و جمیل نقوش چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ایسے ہی نفوسِ قدسیہ میں صوفی باصفا ‌حافظ محمد صادق رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی بھی شامل ہے

read more

(18)-اقلیم فکروفن کا وہ سلطاں چلا گیا

بخدمت گرامی حضور عزیز ملت علامہ عبد الحفیظ صاحب قبلہ سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور و صاحب زادگان رئیس التحریر واساتذہ دار القلم، ذاکر نگر ، دہلی سلام و رحمت عقاید و معمولات اہل سنت کے سچے محافظ ، فکر رضا کے امین اور بے باک مبلغ رئیس التحریر حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی علیہ الرحمہ کی رحلت دنیا ے فکروفن اور جہان تحریر وقلم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

read more

(19)-صداے باز گشت

اشرفیہ کا نہایت ہی بے تابی سے منتظر رہتا ہوں بملاحظہ گرامی محبی مخلصی ادیب شہیر محقق بے نظیر مبارک العلما والفضلا حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی صاحب زید مجدہ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! اللہ کرے آپ مع الخیر ہوں ، چند دنوں سے آپ کی جانب سے مبارک نامہ آیا اور نہ ہی مجلہ اشرفیہ کا شمارہ ، آپ کے نوازش ناموں اور اشرفیہ کا نہایت ہی بے تابی سے منتظر رہتا ہوں ۔ اگرچہ بظاہر کافی فاصلے ہیں لیکن آپ ہمارے دل کے بہت

read more

(20)-خیر و خبر

دور حاضر میں بڑھتے ہوئے ارتداد کا سد باب انتہائی ضروری جامع مسجد غوثیہ بھد ولی اعظم گڑھ میں منعقدہ اجلاس سے مولا نا مبارک حسین مصباحی کا خطاب

read more

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved