
ہندوستان کا مسلمان صبر و ضبط اور حکمت سے کام لے اور اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہے، مسلم بیٹیاں اسلام کے احسانات کو یاد کریں، جو عزت و وقار اور وراثت کا حق دین اسلام نے انھیں دیا ہے اسے سمجھیں اور اسلام دشمن طاقتوں کے جال میں نہ پھنسیں، ورنہ دین بھی ہاتھ سے جائے گا اور دنیا کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار معروف خطیب مولانا محمد ہاشم کان پوری نے عرس عزیزی کی دوسری اور آخری شب کے اجلاس میں کیا، انھوں نے بہت زور دے کر کہا کہ ہمیں رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم اور صحابہ کرام کی پاکیزہ زندگی سے سبق لینے کی ضرورت ہے ان شاء اللہ خوشی اور خوش حالی کا سورج ضرور طلوع ہوگا اور دنیاے کفر میں اسلام کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا. یہ جلالۃ العلم حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کا اکیاونواں عرس اور جلسہ دستار فضیلت کا آخری اجلاس تھا، بعد نماز فجر مزار پاک پر قرآن خوانی ہویی، دن بھر مبارک پور کی مختلف انجمنوں نے اور دیگر معزز افراد نے مزار شریف پر چادریں پیش کیں، عصر کے بعد عزیز المساجد میں شرعی سوال وجواب کا پروگرام ہوا، بعد نماز عشا اجلاس عام منعقد ہوا، قاری صفتین رضا متعلم جامعہ اشرفیہ نے قرآن مجید کی تلاوت سے مجلس کا آغاز کیا، محترم نوری میاں بنارسی نے حمد باری تعالیٰ پیش کی پھر یکے بعد دیگرے نعت خوانوں نے نعتیہ و منقبتی اشعار اور معزز خطبا نے مختلف موضوعات پر تقریریں کیں اور زائرین عرس اور شرکاے جلسہ کو اہم پیغام نے نوازا، نعت خوانوں میں قاری صلاح الدین ادروی، قاری نسیم اعظمی، مولانا محمد احسان عالم، امتیاز رضا بریلوی، فرحان تنویری، کیف رضا نفیسی، قاری نور الہدی مصباحی، مولانا قسمت اللہ سکندر پوری، مولانا محمد عادل مصباحی، مولانا نوشاد احمد تنویری، شعبان الہ آبادی، توقیر الہ آبادی، مولانا الیاس جگدیش پوری، محمد حارث رضا اور محمد وارث کوشامبی شامل ہیں، خطبا میں مولانا شکیل احمد مصباحی مدھونبی، مولانا جنید احمد مصباحی کانپوری، مولانا محمد حسن نوری گونڈوی، مولانا خالد ایوب مصباحی، راجستھان، مفتی منظور احمد عزیزی، سلطان پور، مولانا اللہ بخش عزیزی راجستھان، مفتی عبد المنان کلیمی مرادآباد، مولانا حافظ عبید اللہ خان اعظمی شامل ہیں، نبیرہ حافظ ملت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی نے مختصر وقت میں ہندوستان کی مشہور خانقاہوں سے تشریف لانے والے معزز سجادگان کا تعارف کرایا اور بڑی جذباتی انداز میں ان خانقاہوں سے جامعہ اشرفیہ کے روابط کا انکشاف کیا جو کافی پسند کیا گیا، اس برس حافظ ملت ایوارڈ کے لیے جن دو معزز شخصیات کا انتخاب کیا گیا تھا ان میں ایک شہزادہ احسن العلماء حضرت سید شاہ نجیب حیدر نوری مارہروی اور دوسرے امریکہ میں مقیم اشرفیہ کے ممتاز فاضل اور سابق استاذ مفتی احمد القادری مصباحی شامل ہیں، ان کی بارگاہ میں حضرت عزیز ملت سربراہ اعلی کے ہاتھوں سپاس نامہ، شال اور اعزاز پیش کیا گیا، اور پانچ معاونین اشرفیہ کو اشرفیہ ایوارڈ دیا گیا ان میں مولانا ملک شبیر مصباحی کولکاتا، مولانا قاری شرف الدین مصباحی ممبئی، مولانا وقار احمد عزیزی بھیونڈی، مخیر قوم الحاج محمد شہنشاہ گجرات اور الحاج ریاض احمد بنارس شامل ہیں، گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل شریف ہوا پھر تین معزز سجادگان نے اپنے تاثرات پیش کیے، حضرت مولانا سید اویس میاں واسطی بلگرامی نے فرمایا کہ اشرفیہ اہل سنت کی ناک ہے، میرا پورا خاندان اشرفیہ کے ساتھ ہے، حضرت سید نجیب میاں مارہروی نے فرمایا کہ اشرفیہ تمام مدرسوں کا سردار ہے اور تمام برکاتی اشرفیہ کے لیے خون دینے کو تیار ہے، حضرت مولانا منان رضا خان بریلوی نے کہا کہ ہم اشرفیہ کی نظیر نہیں پیش کر سکتے، اشرفیہ سنیت کی جان ہے۔ تقریباً ڈھائی بجے مختلف شعبوں کے فارغین کی دستار بندی ہوئی، اس سال کے فارغین کی مجموعی تعداد سات سو گیارہ تھی، جس میں تین سو چودہ کو سند ودستار سے نوازا گیا، بقیہ کو صرف سند دی گئی، تقریباً چار بجے حضرت سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کے مختصر بیان اور دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، نظامت مولانا محمد قیصر اعظمی نے اپنے مخصوص انداز میں کی، انتظامیہ کمیٹی اور عرس کمیٹی کے اہم ارکان، ناظم تعلیمات علامہ محمد احمد مصباحی، صدر شعبہ افتا و شیخ الحدیث مفتی محمد نظام الدین رضوی، علامہ عبد المبین نعمانی، صدرالمدرسین مفتی بدر عالم مصباحی، و دیگر اساتذہ اشرفیہ بطور خاص موجود رہے، دیگر اہم شرکا میں حضرت مولانا سید حامد نقش بندی، حضرت سید شاہ حسنین اشرفی کچھوچھوی، مولانا سید غلام رسول نقش بندی، مولانا سید عبد المعبود نقش بندی سریا شریف، مولانا سید نور الدین اصدق، مولانا سید سیف الدین اصدق، الحاج قاری اسلام اللہ عزیزی ممبئی، الحاج محمد سعید نوری ممبئی، مفتی محمد صادق مصباحی، مولانا محمد عمر نظامی ممبئی، مولانا غیاث الدین مصباحی، ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی، مفتی ابرار احمد امجدی، مفتی ازہار احمد امجدی، مولانا سید صابر حسین مصباحی اندور، مفتی محمد احسن رضا رحمانی،مولانا رمضان حیدر فردوسی، قاری محمد ذاکر قادری لکھنؤ، قاری محمد جلال الدین قادری، مولانا محمد عرفان ازہری، مولانا اسلم نبیل ازہری، قاری محمد کوثر کان پوری، مفتی عابد رضا مصباحی پونے، مولانا ضیاء الدین برکاتی، مولانا محمد عاقل مصباحی وغیرہم قابل ذکر ہیں۔ نگر پالیکا مبارک پور، مبارک پور تھانہ پولس محکمہ اور اشرفیہ کمیٹی کے اراکین کی مشترکہ محنتوں اور کوششوں سے دو روزہ عرس عزیزی بہت کامیاب رہا۔
Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia
All rights reserved
05462-250092
info@aljamiatulashrafia.org