30 November, 2025


تازہ ترین معلومات


حافظ ملت کا اشرفیہ دینی و عصری علوم و فنون کا مرکز ہے

حافظ ملت کا اشرفیہ دینی و عصری علوم و فنون کا مرکز ہے... مفتی احسن رضا رحمانی

مبارک پور
حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ نے اشرفیہ جیسی عظیم دانش گاہ قائم فرماکر امت مسلمہ پر بڑا احسان کیا ہے، دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں کے شعبوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن الجامعۃ الاشرفیہ کے مختلف شعبہ جات کتنے اہم اور افادیت سے بھرپور ہیں اس کا اندازہ ان شعبوں کے فارغین سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، یہ اس درس گاہ کی عظمت ہے، اشرفیہ کے اساتذہ و منتظمین حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اس قول پر قائم ہیں کہ ہر مخالفت کا جواب کام ہے، ورنہ وہ ہر مخالفت کا جواب اپنی زبان و قلم سے دینے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن ان کا خاموش کردار ان کے علمی و تعلیمی کاموں کو اہم بناتا ہے۔ یہ باتیں نبیرہ سرکار محبی مفتی محمد احسن رضا رحمانی نے عرس عزیزی کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، انھوں نے الجامعۃ الاشرفیہ کے تمام اقدامات اور منصوبوں کو سراہا، یہ اجلاس بعد نماز عشا اشرفیہ کیمپس کے وسیع و عریض صحن میں شہزادہ حافظ ملت علامہ شاہ عبد الحفيظ عزیزی سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کی سربراہی، مفتی بدر عالم مصباحی پرنسپل اشرفیہ کی صدارت اور نبیرہ حافظ ملت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی کی نگرانی میں منعقد ہوا، دیگر اساتذۂ اشرفیہ ان کے دست و بازو تھے، قرآن مجید کی تلاوت قاری محمد معاذ مبارک پوری نے کی، پھر یکے بعد دیگرے محترم محمد صفتین رضا، ساجد رضا زنگی پوری، مولانا حیدر رضا برکاتی، مولانا مناظر حسین نیپال، معراج زمن ادروی، فیضان رضا، قاری محمد جابر مبارک پوری، سفیان نوری، دانش ندیم، محمد یعقوب بریلوی، محمد عادل مصباحی، فرقان رضا، حافظ شہباز رضا مصباحی، تبریز اکرم اعظمی، حافظ محمد عاصم اعظمی اور حافظ عبدالوکیل چھپراوی نے نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا، اشرفیہ کے طلبہ میں حافظ محمد انس، مولوی محمد سیف، مولانا فیضان رضا، مولانا نعمان ازہر سنبھلی اور مولانا محمد افضل نے مختلف اہم موضوعات پر تقریریں کیں، دیگر مقررین میں مولانا دلکش ضیائی، مولانا محمد اذعان مصباحی مرادآباد، مولانا کمال مصطفیٰ ازہری رچھا بریلی، مفتی شہنواز عالم مصباحی ازہری کوشامبی، مولانا محمد عاقل مصباحی مرادآباد، مولانا قاری محمد شرف الدین مصباحی ممبئی، مولانا وقار احمد عزیزی بھیونڈی اور مفتی محمد احسن رضا رحمانی کے اسما شامل ہیں، جامعہ اشرفیہ کے فارغین و دیگر مصنفین کی تحریر کردہ تقریباً پچاس کتابوں کی رسم اجرا حضور سربراہ اعلیٰ کے ہاتھوں عمل میں آئی، تقریباً ڈیڑھ بجے شب میں حضرت جانشین حافظ ملت کے ناصحانہ کلمات اور دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا، اجلاس کی نظامت مولانا محمد قیصر اعظمی نے انتہائی پرجوش انداز میں کی. خصوصی شرکا میں علامہ عبدالمبین نعمانی چریا کوٹ، مفتی محمد نظام الدین رضوی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا اشرفیہ، مفتی عبد المنان کلیمی، مولانا مسعود احمد برکاتی، مفتی زاہد علی سلامی، مولانا اختر کمال قادری، مفتی نسیم احمد مصباحی، مولانا ناظم علی مصباحی، مولانا نفیس احمد مصباحی، مولانا محمد صدر الوریٰ قادری، مولانا ساجد علی مصباحی، قاری جلال الدین قادری، مفتی محمد ناصر حسین مصباحی، مولانا جنید احمد مصباحی، مولانا نور احمد مصباحی، مولانا جمیل اختر مصباحی، مولانا کلیم اللہ برکاتی، مولانا شبیر ملک مصباحی، مولانا ارشاد احمد مصباحی، مولانا توفیق احسن برکاتی، قاری محمد ابوذر قادری، قاری عبد الرحمن مصباحی، حافظ نور الحق مصباحی، حافظ عبد القیوم برکاتی وغیرہ کا نام شامل ہے۔ دن کے مختلف اوقات میں قصبہ مبارک پور کی مختلف تنظیموں نے چادریں پیش کیں، کچھ سیاسی رہنماؤں نے بھی مزار حافظ ملت پر چادر نذر کی، مبارک پور نگر پالیکا، مبارک پور تھانے کی پولس نے حالات اور آنے جانے والوں پر گہری نگاہ رکھی اور انتظامیہ کمیٹی وعرس کمیٹی اور مجلس خیر خواہ کے ممبران نے نظم و نسق کو بڑی عمدگی سے سنبھالا، ان شاء اللہ دوسری شب کے آخری اجلاس میں فارغین اشرفیہ کی دستار بندی ہوگی اور گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل شریف ہوگا.

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved