21 July, 2024


تازہ ترین معلومات


عرس عزیزی کی دوسری شب میں جشن دستار بندی اور قل شریف

موت کسی وجود کے پوری طرح ختم ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک دنیا سے دوسری دنیا میں منتقلی ہے، موت کسی زندگی کی انتہا نہیں جس طرح پیدائش کسی زندگی کی ابتدا نہیں۔ موت ایک لذت کا چکھنا ہے، پھر ایک دوسری زندگی شروع ہوتی ہے جسے برزخی زندگی کا نام دیا گیا ہے۔ جب کوئی پاک روح نکالی جاتی ہے تو اسے عرش اعظم کے قریب لے جا کر سجدہ کرایا جاتا ہے، اللہ کے جلووں کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے، پھر قبر میں حساب شروع ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا ہے۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اس پاک روح والی انتہائی پاک ذات کا نام ہے، جو قرآن کی روشنی میں عالم ربانی ہیں، منکسرالمزاج ہیں، متقی اور نیک سیرت ہیں، وہ مقدس روح پردے کے پیچھے ہے لیکن اس کے تقدس کی بے شمار نشانیاں آج چمکتی دمکتی دکھائی دیتی ہیں اور میرے مربی کی عظمتوں کا اعلان کرتی ہیں، الجامعۃ الاشرفیہ کی یہ فلک بوس عمارتیں، اشرفیہ کے مختلف شعبے، علوم قرآن و احادیث کی تدریس و تحقیق سب دلیل اور نشانی ہیں اس مرد قلندر کی علمی و روحانی کمال کے۔ انھوں نے اشرفیہ کی شکل میں ایک بڑا صدقہ جاریہ، تلامذہ اور کتابوں کی شکل میں علم نافع اور حضرت عزیز ملت دام ظلہ العالی کی شکل میں ولد صالح چھوڑا ہے جو ان کے وصال کے بعد سے تاحال اشرفیہ کو اوج ثریا کی بلندیوں پر پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔"
یہ فکر انگیز باتیں ملک ہندوستان کے مشہور خطیب سابق ممبر آف پارلیمنٹ علامہ عبید اللہ خان اعظمی نے عرس عزیزی کی دوسری شب کے اجلاس میں کہیں۔ اشرفیہ کیمپس میں منعقدہ انچاسویں عرس عزیزی کا آخری اجلاس بعد نماز عشا ہندوستان کے مشہور قاری محمد صداقت حسین مصباحی ازہری کی تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوا، آج کا پروگرام کئی جہتوں سے کافی اہم تھا، یہ قل شریف کی شب تھی، دستار بندی کا موقع تھا، حضرت عزیز ملت سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ نے خود اس کی سرپرستی فرمائی، صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات اشرفیہ نے صدارت فرمائی، شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا مفتی محمد نظام الدین رضوی نے بھی اپنی شرکت درج فرمائی، صدر المدرسین اشرفیہ مفتی بدر عالم مصباحی، مولانا نعیم الدین عزیزی، مفتی زاہد علی سلامی، مولانا مسعود احمد برکاتی اور دیگر اساتذۂ اشرفیہ نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ پروگرام کا نظم و ضبط سنبھالا۔ برطانیہ کی سرزمین پر خدمت علم اور فروغ دین میں مصروف دو مصباحی فضلا حضرت مولانا محمد ارشد مصباحی اور مولانا محمد نظام الدین مصباحی پٹیل کو حضرت سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کے ہاتھوں تنظیم ابناے اشرفیہ کا حافظ ملت اعزاز اور سپاس نامہ دیا گیا، مزید اشرفیہ کے تین اہم معاون الحاج وصی احمد خان، ممبئی، الحاج غلام یسین رضوی، ناگپور اور الحاج مختار صفی عرف مسٹر بھائی کو سپاس نامہ اور اشرفیہ ایوارڈ دیا گیا۔ ساتھ ہی ملک و بیرون ملک دینی و علمی خدمات انجام دینے سرکردہ علما کو شال دی گئی۔ اجلاس کی کامیاب نظامت مولانا محمد قیصر اعظمی نے کی۔ حافظ حسان مبارک پوری، عارف رضا مصباحی، کوثر حسین عزیزی، قاری صلاح الدين ادروی، اشفاق عالم لکھنؤ، مشاہد رضا شاہجہاں پوری، قاری نورالہدی مصباحی، قاسم ندیمی بھدوہی، قاری نظام الدین ابراہیم پوری، اور حافظ عبد الوکیل چھپراوی نے نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ مقررین و خطبا میں قاری برہان رضا فیضی، کاٹھ مانڈو، نیپال، مولانا جمیل احمد گجراتی، مفتی منظور احمد عزیزی سلطان پور، مولانا فیض احمد مصباحی ساوتھ افریقہ، مولانا محمد ارشد مصباحی برطانیہ اور مولانا محمد ہاشم اشرفی کان پوری کا نام شامل ہے۔ گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل ہوا، مختلف قرا نے قرآن مجید کی تلاوت اور حضرت جانشین حافظ ملت و سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ نے شجرہ خوانی کے بعد خصوصی دعا فرمائی۔ علامہ عبید اللہ اعظمی کی تقریر کے بعد اشرفیہ سے مختلف شعبوں میں فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی ہوئی، تحقیق فی الحدیث میں 5، تحقیق فی الفقہ میں 5، تحقیق فی الادب میں 4، فضیلت میں 167، فضیلت خصوصی میں 70، اور درجہ حفظ میں 8 بچوں کو دستار دی گئی اور شعبہ قراءت، مولویت اور عالمیت میں 297 بچوں کو سند جائے گی، اس طرح امسال کے فارغین کی مجموعی تعداد 556 ہوجاتی ہے، تقریباً ساڑھے تین بجے شب میں یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ عوام الناس کا جم غفیر اور ہند و بیرون کے بے شمار علما و مشائخ نے اس عرس میں شرکت کی، اساتذۂ اشرفیہ کے علاوہ مشہور شرکا میں مولانا سید حیات ربانی خانقاہ ربانیہ باندہ، مفتی عبدالمنان کلیمی مرادآباد، قاری محمد اسلام اللہ عزیزی ممبئی، مولانا سید لئیق میاں نقش بندی، مولانا سید انیس اشرف بسکھاری، سید محی الدین اشرف کچھوچھوی، سید خلیق اشرف، مفتی منظر وسیم مصباحی افریقہ، مولانا خا لد ایوب مصباحی راجستھان، مولانا محمد میاں مالیگ برطانیہ، غلام مصطفیٰ رضوی مالیگاؤں، مفتی شیر محمد برکاتی لکھنؤ، قاری محمد شرف الدين مصباحی ممبئی، مولانا محمد ارشد مصباحی، اعظم گڑھ، مفتی سید صابر حسین مصباحی اندور، مولانا تنویر القادری، فیروز آباد، حافظ جمیل احمد عزیزی، مولانا نعیم اختر مصباحی، مبارک پور، مولانا بدرالدجی رضوی خیرآباد، قاری محمد جلال الدين قادری، گورکھپور، مفتی محمد شاہد رضا مصباحی، جمشید پور، مولانا سلمان رضا فریدی عمان، مفتی محمد ضیاء المصطفی مصباحی، جمشید پور، مفتی صباح الدین مصباحی باندہ وغیرہم شامل ہیں۔ مجلس انتظامیہ جامعہ اشرفیہ، انتظامیہ عرس کمیٹی، پولس محکمہ، نگرپالیکا مبارک پور نے بڑی مستعدی کے ساتھ عرس کا نظم و ضبط سنبھالا۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved