20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Feb 2023 Download:Click Here Views: 23933 Downloads: 1153

(1)-جنوبی ترکی اور شام میں قیامت صغریٰ

مبارک حسین مصباحی

اس وقت جنوبی ترکی اور شمالی  شام میں ہلاکت خیز زلزلوں کاالم ناک ہنگامہ ہے، 7.8 کے تباہ کن جھٹکوں نے دونوں ملکوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ترکی کے دس شہروں میں قیامت صغریٰ کا منظر ہے۔ ترکی اور شمالی شام میں زبردست نقصانات ہوئے ہیں۔ ہر طرف ہاہاکار کا عالم ہے ۔ انڈیا اور دیگر کثیر ملکوں سے ادویات، راحت رسانی کے سامان اور ریسکیو ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جب کوئی ناگہانی مصیبت اور بلا آتی ہے تو مظلوموں کی مدد کرنا عین سعادت کی بات ہے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دونوں زلزلہ زدہ مقامات سے زندگی کے آثار بارہ دن بعد تک زنده افراد کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے ٹی آرٹی کے مطابق امدادی کارکنان نے بتایا کہ ہیلن نامی بچے کی حالت ٹھیک ہے اور اسے طبی یونٹ کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح آدیامان صوبے میں سرچ اور ریسکیو ٹیم نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا۔

 متحدہ عرب امارات کے گیلنٹ نائٹ ۲ آپریشن کے تحت قہرمان مرعش صوبے میں پانچ گھنٹے کی تلاش اور امدادی کارروائی کے بعد ماں، بیٹے اور دو بیٹیوں پر مشتمل ایک شامی خاندان کو ان کے گھر کے ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ اماراتی طبی ماہرین نے خاندان کو ہسپتال لے جانے سے پہلے فوری مدد فراہم کی۔

 زلزے کی تباہی کے ساتھ ہی قدرت بھی اپنے کرشمے دکھا رہی ہے۔ شام میں قیامت خیز زلزلے نے ہر طرف تباہی مچادی ،عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اسی ملبے تلے  ایک بچی نے جنم لیا لیکن پیدا ہوتے ہی یتیمی ملی اور اپنوں کا ساتھ چھوٹ گیا۔ زلزلے سے جہاں زند گیاں ختم ہو رہی تھیں وہیں ٹنوں ملبے تلے ایک نئی زندگی کا جنم ہوا اور دو روز قبل ملبے تلے دبی خاتون نے ایک بچی کو جنم دیا تھا تا ہم وہ خود جہان فانی سے کوچ کر گئی تھی۔ عرب میڈیا کے مطابق اس زلزلے میں نومولود بچی کی والدہ عفرا، والد عبداللہ المیحان، چار بھائی اور خالہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹوں کی جدو جہد کے بعد نوزائیدہ بچی کو ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا۔ بچی کے جسم پر متعددزخم اور خراشیں تھیں اور شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا ہو گیا تھا۔ ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت اب مستحکم ہے۔

 زلزلے کے ملبے تلےسے نوزائیدہ بچی کا زندہ نکل آنا اور ایک والد کا اپنی مردہ بیٹی کا ہاتھ تھامے رکھنے جیسے مناظر ترکیہ اور شام میں آنےوالے بدترین زلزلے کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زلزلہ زدہ اضلاع میں حالات اور امدادی کاروائیوں کا جائزہ لیا۔ ترک حکومت ان لوگوں کی رہائش کے لیے سخت جدو جہد کر رہی ہے جن کے مکانات منہدم ہو گئے ہیں، یا آفٹر شاکس کی وجہ سے ان کا وہاں رہنا بہت زیادہ خطرناک ہے۔ لاکھوں افراد نے رات ہاسٹل، اسکولوں، مساجد اور دیگر عوامی عمارتوں میں گزاری۔ ان افراد کو خوراک اور دیگر بنیادی امداد کی فراہمی ایک چیلنج بن گیا ہے۔ موسم سرما میں آنے والی اس تباہی نے علاقے کی سڑکوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اس کے علاوہ بہت سے مقامی ہوائی اڈے بند ہیں۔

نشریاتی ادارے سی این این ترک نے رپورٹ کیا کہ امدادی کارکنان نے آج ترکیہ میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے سےایک خاتون سیبل کا یا کو زندہ نکال لیا چار دن بعد ملبے تلے دبے چار دن کے بچے اور اس کی ماں کو زندہ نکالنے پر رضا کاروں کے حوصلے بلند ہو گئے اور لوگوں کے زندہ ملنے کی امید یں جاگ اٹھیں ۔ جیسے ہی ملبے کے ڈھیر سے کسی زندہ شخص کا نکالا جاتا ہے فضا اللہ اکبر اور الحمد اللہ کے نعروں سے گونج اٹھتی ہے۔ ہر چہرے پر خوشی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ معذور ہونے والوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ زلزلے میں چند نوزائیدہ بچے ملبے کے ڈھیر میں دبنے کے باوجود زندہ حالت میں نکالے گئے۔ یہ مناظر دیکھ کر ہر ایک کی آنکھ اشکبار ہوگئی۔

ٹنوں وزنی ملبے تلے ایک ایسے باپ کی لاش بھی ملی جسے ملبے سے نکالا گیا تو اس کی گود کی حصار میں ایک زندہ بچہ ملا۔ باپ نے خود کو قربان کر کے اپنے بچے کو بچا لیا تھا۔ زلزلے کے چار دن بعد ایک عمارت کے ملبے سے ۱۰دن کے نوزائیدہ بچے کو بھی زندہ نکالا گیا اور خوش قسمتی سے اس کی ماں بھی زندہ تھی۔ دنوں ایک اور زندگی پانے پر بے پناہ خوش تھے۔ پہلی منزل پر ملبے میں آدھے دبے اور آدھے لٹکے بیٹے کو بچاتے باپ کو دیکھا گیا۔ بیٹا جب دم توڑنے لگتا ہے تو باپ اسے کلمہ پڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

ابرار کالونی میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے ملبے تلے سخت محنت کے بعد ۸ سالہ بچے کو بچالیا۔ صوبہ حطائے کے ضلع انتا کیا میں تباہ شدہ اپارٹمنٹ کے ملبے کے نیچے ایک خاتون کو ۱۱۶ گھنٹے کے بعد بچا لیا گیا۔ قاہر امان ماراش میں ٹیموں نے سخت محنت کے نتیجے میں ۲۰ سال کے نوجوان اور ۵۱ سالہ شخص کو ۱۱۲ گھنٹے بعد ملبے سے بچالیا گیا۔ قاہر امان ماراش کے اسی محلے میں ملبے میں تلاش اور بچاؤ کا کام جاری رکھتے ہوئے ٹیموں نے ۳۴ سالہ شامی شہری حسن کو ۱۱۷ گھنٹے بعد ملبے سے نکال لیا۔  جاں بحق ہونے والوں کی اجتماعی تدفین کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل کے لیے تھراپیز بھی کروائی جائیں گی۔ زلزلے کے اثرات آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے۔ عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو جائیں گی ، شہر آباد ہو جائیں گے۔ رونقیں بھی بحال ہو جائیں گی لیکن یہ نا قابل فراموش نا گہانی آفت جن کے پیاروں کو نگل گئی وہ زندگی بھر ایک خلش محسوس کرتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے۔ آسمان کو چھوٹی عمارتوں اور کنکریٹ کے جنگل آباد کرنے کے بجائے مکانوں کی تعمیر کے لیے ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں جانی نقصان کم سے کم ہو۔

حطائے میں ، اردن کے بچے اور اس کی ماں کو زلزلے کے ۹۰ گھنٹے بعد ملبے سے بچالیا گیا۔ غازی اینتپ میں ملبے تلے دبے ۱۷ سالہ عدنان نامی نوجوان کو ۹۴ گھنٹے بعد بچا لیا گیا۔ ۸۰ گھنٹے بعد جنوبی ترکی کے شہر انطاکیہ میں ۱۲ سالہ میلڈا اتاس زندہ پائی گئیں۔   باب الحوا کراسنگ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی قافلے نے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی شام میں ترکیہ کی سرحد عبور کی، یہ زلزلے کے بعد اس علاقے میں پہلی ترسیل ہے۔ الحوا کراسنگ شامی حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں سے گزرے بغیر اقوام متحدہ کی امداد یہاں کے شہریوں تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔

ترکیہ میں ملبے تلے دبے ایک شخص کو ۱۰۴گھنٹوں بعد اس حال میں زندہ نکالا گیا کہ قرآن پاک کی روشن آیات اس کے زبان پر مسلسل جاری تھیں،   ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر جب اس تک پہنچے تو اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ ملبے میں بری طرح دبے ہونے کے باوجود تلاوت کلام پاک میں مشغول تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے ۴۷ سالہ شخص کو بحفاظت نکالا اور ہسپتال منتقل کر دیا جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بچاؤ کی ایسی ہی ایک اور کارروائی ہفتہ کے روز اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوئی ، جب ریسکیو ٹیموں نے ترک صوبے غازی انتپ میں پانچ دن سے اپنے منہدم گھر کے ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے پانچ افراد پر مشتمل ایک پورے خاندان کو زندہ بچالیا۔

اب تک دونوں ملکوں میں مرنے والوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد پہنچ چکی ہے ، میڈیائی رپورٹ کے مطابق ترکی میں چالیس ہزار سے زائد ہے اور شام میں چھ ہزار سے زائد ہے ۔ جیسے جیسے ملبوں کو ہٹایاجا رہا ہے کچھ نہ کچھ لاشیں مل رہے ہیں۔ دونوں ملکوں میں زندہ افراد کے ملنے کی تعداد آٹھ ہزار سے آگے ہے ۔ دونوں ملکوں میں ستر لاکھ سے زائد بچے ہیں جن میں کچھ جاں بحق، اکثر یتیم اور کچھ بے گھر ہیں۔ دونوں ملکوں میں 84  ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان بتایا جا رہا ہے۔

دنیا بھر میں ترکی اور شام کے تباہ کن اور قیامت خیز زلزلوں کا ہنگامہ ہے ۔ یہ بلا شبہ عذاب الٰہی ہے ۔ سائنس داں زلزلوں کے اسباب پیش کرتے ہیں، مگر یہ طے شدہ ہے کہ اصل سبب ذات الٰہی ہے وہ جہاں چاہتا ہے آندھی، طوفان تباہ کن بارش، جان لیوا بیماریاں، حدنظر امڈتی موجوں سے سیلاب ، زمینوں کا دھنسنا اور پھٹنا ، چھوٹی اور بڑی عمارتوں کا تہس نہس ہو  جانا، ہوٹلوں اور مولوں کا ریزہ ریزہ  ہو جانا،ناقابلِ برداشت   شدید سردی اور گرمی ہونا ، کھانے اور پینے کے سامانوں سے محروم ہو جانا، زندگی کے لوازمات کا ختم ہو جانا، اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی اہل خانہ کا گرتی عمارتوں میں دب جانا ،  ماں باپ کا آفتوں کا شکار ہو جانا ،ان ہی کی آنکھوں کے سامنے چہیتی اولاد کا کسی ناگہانی بلا کا شکار ہو کر جان دے دینا ۔زنا کاریوں اور بدکا ریوں کا عام ہو جانا ، نیم برہنہ رہنا اور نت نئے خلاف شرع فیشن اختیار کرنا، کھلے عالم رقص وسرود کی گندی محفلیں جمانا، بد کاری اور حرام خوری میں مبتلا ہو جانا، سوددینے اور لینے میں افراد کا ملوث ہونا ، جوا کھیلنا اور حرام کام کی عادت ڈالنا وغیرہ ۔

زلزلے  نے چالیس سیکنڈ میں ہزاروں بوڑھوں ، بچوں اور جوانوں کو پلک جھپکتے ہی موت کے شکنجوں میں کس دیا ، لاکھوں لوگ آرام کی نیند سوئے ہوئے تھے ، گھر کے سامان گرنے لگے ، لگتا تھا طویل عمارتوں اور لاکھوں ٹن کی بلڈنگوں کو کوئی جھو لا جھلا رہا ہے ۔ بے شمار بچے یتیم ہوگئے، ازدواج کے رشتے ٹوٹ کر بکھر گئے ، دوستیوں کے بندھن ٹوٹ گئے ، بہنوں سے بھائیوں کا ساتھ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا ۔ اس دوران کئی کئی بلڈ نگوں کے مالک بے یار و مدد گار پڑے ہیں ۔ ہوٹلوں کے مالک دبے کچلے ہوئے ہیں ۔ بڑے بڑے دولت مند ہزاروں ٹن کی بلڈنگوں کے بوجھ کے نیچے آخری سانس لے رہے ہیں ۔ عجیب و غریب ہو کا عالم ہے۔ ہر طرف موت کا سایہ ہے ۔ جو کسی طر ح بچ گئے ہیں سخت سردی نے ان کے اوسان خطا کر دیے ہیں، نگاہوں کے سامنے اعزہ و اقارب وزنی بلڈ نگوں میں کراہ رہے ہیں مگر خود میں بھاری وزن اٹھانے کی سکت نہیں، مدد گاروں کے لیے چیخ پکار جاری ہے۔

 اب آئیے اسلامی نقطہ نظر ملا حظہ فرمائیے ۔ قرآن عظیم اور احادیث نبو یہ میں قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں پیش کی گئی ہیں۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہم بس چند احادیث پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

امام بخاری نے اپنی کتاب الصحیح البخاری کتاب الاستسقاء باب ماقیل فی الزلازل والآیات میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک علم کو اٹھا نہیں لیا جاتا۔ اس وقت کثرت سے زلزلے آئیں گے۔ ایک زمانہ دوسرے کے قریب تر ہوگا، فتنہ و فساد ظاہر ہوگا، ہرج میں اضافہ ہوگا یہاں تک کہ مال و دولت کی فراوانی اس طر ح ہوگی جیسے ابل پڑے گی۔

جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے مروی دوسری حدیث میں رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرب قیامت کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مال غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے، امانت میں خیانت کی جائے، زکوٰۃ کو بوجھ سمجھا جائے، دینی تعلیم دنیا کے لئے حاصل کی جائے، آدمی بیوی کی اطاعت کرنے لگے، اولاد ماں کو ستانے لگے، دوستوں کو قریب اور والدین کو دور کردیا جائے، انسان سے ڈر کر اس کی عزت کی جانے لگے، گانے بجانے والی عورتیں اور سامان تعیش کی کثرت ہوجائے، شرابیں پی جانے لگیں، امت کے بعد میں آنے والے لوگ پہلے لوگوں پر لعنت ملامت کرنے لگیں تو پھر اس زمانے میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو اور زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور دیگر آفات و بلیات اور نشانیوں کا انتظار کرو جو اس طرح ظاہر ہوں گی جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو لگاتار اس کے دانیں گرتے رہتے ہیں۔

صحابی رسول حضرت سیدنا انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ صدیقہ کائنات ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ زلزلہ کیوں آتا ہے؟ ام المومنین نے فرمایا جب لوگ زنا کو حلال کرلیں، شراب پینے لگیں اور گانے بجانے کے مشغلہ کو اپنالیں تو پھر اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور زمین کو حکم ہوتا ہے کہ زلزلہ بپا کردے۔ اگر اس علاقے کے لوگ توبہ و استغفار کرلیں اور اپنی بداعمالیوں سے باز آجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے ورنہ ان کے لئے ہلاکت ہے۔

فقیہ امت حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ کوفہ میں زلزلہ آیا تو انہوں نے اعلان عام کیا کہ اے لوگو! یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا ہے اگر اس کی رضا مندی چاہتے ہو تو فوری اس کی طرف رجوع کرو اور اجتماعی توبہ کرو وگرنہ اسے یہ پرواہ ہرگز نہیں ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔

مقام افسوس یہ ہے، ہم سب کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں، اس کی بارگاہ میں رو کر گڑگڑا کر دعا کریں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ، حقوق اللہ بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی مقدس بارگاہ میں سر بسجود ہو کر اپنے جرائم پر مسلسل استغفار کریں ، رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے خدائے بزرگ کی بارگاہ میں قلبی التجائیں پیش کریں ، اللہ تعالیٰ نے  اپنے آخری رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کورحمۃ للعالین بنا کر مبعوث فرمایا ہے ۔ آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دنیا کے ہر انسان پر رحم فرماتے ہیں، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ اب بھی رحم فرمائیں گے۔۔

 آج کل یہ خبریں بھی گشت کر رہی ہیں کہ بہت سے لوگ تباہ شدہ افراد و خواتین کی دولت پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں اور بہت سے شاطر الیکٹرانک ذرائع سے ترکی اور شام کے نام پر رقوم جمع کر رہے ہیں  ان کا مقصد صرف اپنی جیبیں بھرنا ہے ۔ چوری ،فراڈ اور غلط طریقے سے دولت جمع کرنا انتہائی بد ترین عمل ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق خیر سے سرفراز فرمائے ۔

 بلا شبہ مظلوموں کی مدد کرنا، گرتوں کو اٹھانا، بھوکوں پیاسوں کو کھلانا اور صاف پانی دینا بڑا اچھا عمل ہے ۔ سردی سے ٹھٹھرتے بچوں اور بوڑھوں کے لیے گرم لباس اور بستروں کا انتظام کرنا انتہائی نیک عمل ہے ۔ ہمیں خوشی ہے دنیا بھر کے افراد لمبی  رقوم مہیا کر رہے ہیں ، مظلوموں کا سہارا بن رہے ہیں ، اہل ترکی نے اپنے مکانوں کو ضرورت مندوں کے لیے کھول دیا ہے ۔ اسی طرح دیگر اہل خیر بھی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved