25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Jan 2023 Download:Click Here Views: 19591 Downloads: 997

(2)-ایک آیت کے کئی معنی

ایک آیت کے کئی معنی

مولانا حبیب اللہ مصباحی

لفظ اگر مشترک ہو، یا مجاز کا احتمال رکھتا ہو تو کئی ایک معانی کی گنجائش نکل سکتی ہے، لیکن قرآن کریم کا حیرت انگیز اعجاز دیکھیے کہ محض سیاق و سباق سے مخصوص ربط، اور جداگانہ وقف کی بنیاد پر ایک آیت کے کئی ایک معانی سامنے آتے ہیں، اور سب صحیح بھی ہوتے ہیں، ذیل میں اس کے کچھ نظائر ملاحظہ فرمائیں:

1 – ارشاد باری ہے:الٓمّٓۚ۰۰۱ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ  فِيْهِ١ۛۚ  هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠. [سورۂ بقرہ:۲]یعنی اس کتاب میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، یہ کتاب تقوی شعار بندوں کے لیے سراپا ہدایت ہے۔

   اس آیت مبارکہ میں اگر لَا رَيْبَ١ۛۖۚ  فِيْهِ١ۛۚ   پر وقف کیاجائے اور هُدًى سے آغاز کیا جائے تو وہی معنی ہوگا جسے ابھی ہم نے اوپر بیان کیا،      اور اگر لَا رَيْبَ١ۛۖۚ پر وقف کردیا جائے، اور فِيْهِ١ۛۚ  هُدًى سے آغاز کیا جائے تو معنی ہوگا: یہ کتاب لاریب ہے، اسی کتاب میں متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔  سبحان اللہ ! آیت ایک ہی ہے، لیکن ما سبق سے ملائیں تو الگ معنی، اور ما بعد سے ملائیں تو الگ، اوردونوں ہی صحیح ومعروف۔ امام رازی فرماتے ہیں:

   الوقف على فِيْهِ هو المشهور، وعن نافع وعاصم أنهما وقفا على لَا رَيْبَ، ولا بدّ للواقف من أن ينوي خبراً، ونظيره قوله: قَالُوا لا ضَيْرَ، وقول العرب: لا بأس، وهي كثيرة في لسان أهل الحجاز، والتقدير: لَا رَيْبَ فِيْهِ، فِيْهِ هُدًى. واعلم أن القراءة الأولى أولى؛ لأنه على القراءة الأولى يكون الكتاب نفسه هدى، وفي الثانية لا يكون الكتاب نفسه هدى، بل يكون فيه هدى، والأول أولى لما تكرر في القرآن من أن القرآن نور وهدى والله أعلم.

     مذکورہ آیت میں فِيْهِ پر وقف کیا جائے، یہی مشہور ہے، حضرت امام نافع اور امام عاصم سے منقول ہے کہ انھوں نے لَا رَيْبَ پر وقف کیا، اس صورت میں وقف کرنے والے پر لازم ہوگا کہ وہ خبر کو محذوف منوی مانے، کلام الہی میں اس کی نظیر  لَا ضَيْرَ اور کلام عرب میںلابأس ہے، اور اہل حجاز کی زبان میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں، اس صورت میں تقدیری عبارت اس طرح ہوگی، اس کتاب میں کوئی شک نہیں، اسی میں متقی بندوں کے لیے ہدایت ہے۔

واضح رہے کہ پہلی قراءت زیادہ بہتر ہے،  کیوں کہ پہلی قراءت میں معنی ہوگا کہ قرآن ہی ہدایت ہے، جب کہ دوسری قراءت میں معنی ہوگا کہ قرآن ہدایت نہیں، بلکہ  قرآن میں ہدایت ہے، پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، کیوں کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر وارد ہوا کہ قرآن نور اور ہدایت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

اس عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ دونوں جگہ وقف درست، اور دونوں معانی صحیح ہیں، لیکن فِيْهِ پر وقف زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ یہی مشہور ہے، اور قرآن کریم کی بہت سی آیتیں اسی معنی کی تائید کرتی ہیں جو معنی فِيْهِ پر وقف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔   

2- اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ۰۰۷ [سورۂ آل عمران: ۷]

یعنی اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا، جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، اور بعض متشابہ، جن کے دلوں میں کجی  ہوتی ہے وہ فتنہ پردازی کے لیے متشابہات کی تاویل میں پڑے رہتے ہیں، حالاں کہ ان آیات متشابہات کی تاویل اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم، جو علم میں رسوخ رکھتے ہیں وہ تو یہی کہتے ہیں کہ ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں، سب کو من جانب اللہ مانتے ہیں، اور نصیحت تو عقل مند ہی  حاصل کرتے ہیں۔

  اس آیت مبارکہ میں وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُپر وقف کردیا جائے، اور وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ سے آغاز کیا جائے تو وہی معنی ہوگا جو ابھی ہم نے بیان کیا کہ آیات متشابہات کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے، اور راسخ فی العلم  سب پر ایمان رکھتے ہیں، اور سب کو من جانب اللہ مانتے ہیں۔ اور اگر وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُپر وقف نہ کیا جائے اور سب کو ملا کر پڑھا جائے تو معنی ہوگا کہ ان آیات کی تاویل  اللہ جانتا ہے، اور راسخ فی العلم جانتے ہیں، جو سب پر ایمان رکھتے ہیں اور سب کو من جانب اللہ مانتے ہیں۔

     غور فرمائیں آیت ایک ہی ہے، لیکن ما سبق سے جوڑیں تو الگ معنی ہے، اور ما بعد سے جوڑیں تو الگ، اور دونوں ہی معانی صحیح ومتداول ہیں، کتب تفاسیر میں اس آیت کے محل وقف کے سلسلے میں دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں، اور ہر قول کے تائید میں دلائل اور جوابات بھی ملتے ہیں، چوں کہ آیات متشابہات کی تقسیم اور ان کے معنیٰ مراد کی تفویض وتاویل کے بارے میں شروع سے متقدمین اور متاخرین کے مسالک اور مواقف مختلف رہے ہیں، اسی لیے اس معاملے میں ایک قول کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔      

3 – اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: فَكَيْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِيْقًا۰۰۶۲۔ [سورۂ نساء: 62]یعنی کیا حال ہوگا جب ان کے کرتوتوں کے بسبب ان پر  مصیبت آپڑے گی، پھروه آپ کے پاس اللہ کی قسم کھاتے ہوئے آئیں گے کہ ہم نے تو بہتری اور اتحاد کا قصد کیا تھا۔

    اس آیت  کو ملا کر پڑھا جائے تو وہی معنی ہوگا جو  ابھی ہم نے اوپر بیان کیا، اور اگر يَحْلِفُوْنَپر وقف کر دیا جائے، اور بِاللّٰهِ سے شروعات کی جائے تو معنی ہوگا کہ وہ لوگ حلف اٹھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بخدا ہم نے خیر اور صلح کا قصد کیا تھا۔

     یعنی وصل کی صورت میں قسم کا افادہ ہورہا ہے اور وقف کی صورت میں قسم کے ساتھ ساتھ الفاظ قسم کی بھی  تعیین ہو رہی ہے، یہاں پر  بھی بات وہی ہے کہ آیت تو ایک ہی ہے، لیکن وصل کی صورت میں الگ معنی ہے، اور وقف کی صورت میں الگ۔ 

4 – قرآن کریم میں  حضرت شعیب ﷤ کی بیٹی کے آنے اور اپنے والدِ گرامی كا پیغام پہنچانے کا ذکر کچھ اس انداز سے ہے:

 فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍقَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۲۵۔[سورۂ قصص: 25 ]یعنی شعیب کی دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی، اور کہا کہ میرے والد ہمیں پانی پلانے کا صلہ دینے کے لیے آپ کو بلارہے ہیں۔

     اگر اس آیت میں تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ١ٞپر وقف کیا جائے، اور قَالَتْ سے شروع کیا جائے تو وہی معنی ہوگا جو اوپر بیان ہوا، اور اگر سب کو ملا دیا جائے، یا عَلَى اسْتِحْيَآءٍ١ٞ قَالَتْپڑھا جائے تو معنی ہوگا کہ شرماتے ہوئے کہا۔یعنی پہلی صورت میں معنی ہوگا کہ شرماتے ہوئے آئی، اور دوسری صورت میں معنی ہوگا کہ شرماتے ہوئے کہا، اور ایسی عفت مآب خاتون سے یہی توقع  کی جائے گی کہ شرماتے ہوئے آئی، اور شرماتے ہوئے کہا۔ بہر صورت آیت ایک ہی ہے، لیکن ما سبق اور ما بعد سے مخصوص ربط کی بنیاد پر معنی میں تنوع پیدا ہوجاتا ہے، اور دونوں معانی واقع کے عین مطابق ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے تفسیر رازی کی طرف رجوع کیا جائے

5 – اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۳۔[ سورۂ لقمان: 13]یعنی اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

    اس آیت کریمہ میں اگر لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِپر وقف کیا جائے تو معنی وہی ہوگا جو ما سبق میں بیان ہوا، اور اگر لَا تُشْرِكْپر وقف کر دیا جائے، اور بِاللّٰهِ سے آغاز کیا جائے تو اب معنی ہوگا: اللہ کی قسم شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر بیضاوی میں ہے:

ومن وقف على لَا تُشْرِكْ  جعل  بِاللّٰهِ قسما. یعنی لَا تُشْرِكْ پر وقف کر دیا جائےتو بِاللّٰهِ قسم کے لیے ہوجائےگا۔  

          یعنی پہلی صورت میں باللہ  شرک کا متعلق ہوگا، جب کہ  دوسری صورت میں بِاللّٰهِ قسم کے لیے ہوگا، بہر دو صورت آیت ایک ہی ہے، لیکن معانی مختلف اور جداگانہ۔

6 – اللہ تعالیٰ قیامت کے بارے میں فرماتا ہے: اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى۰۰۱۵۔ [سورۂ طہ: 15] بے شک قیامت آنے والی ہے،  میں اسے مخفی رکھوں گا تاکہ ہر انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔

اُخْفِيْهَا،خفا بمعنی پوشیدگی سے بنا ہے، لہٰذا اخفاء کا معنی ہوگا: پوشیدہ رکھنا ، اور یہ بھی یاد رہے کہ کلمہ اخفا اضداد کی  قبیل سے ہے، کیوں کہ اس کا معنی جہاں پوشیدہ رکھنا ہے وہی ظاہر کرنا بھی ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ   بسا اوقات باب افعال کا ہمزہ سلب ماخذ کے لیے بھی آتا ہے ، اور یہاں پر  افعال کا ہمزہ  تعدیہ کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور سلب کے لیے بھی لہٰذا جب تعدیہ کے لیے ہو تو معنی ہوگا:  پوشیدہ رکھوں گا، اور جب سلب کے لیے ہو تو معنی ہوگا: پوشیدگی دور کروں گا، یعنی ظاہر کردوں گا۔

    پیش نظر میں آیت میں اُخْفِيْهَا کے دونوں  معانی درست ہو سکتے ہیں، ایک معنی ما سبق کے اعتبار سے اور ایک ما بعد کے اعتبار سے،  اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ میں   تین باتیں بیان کی گئی ہیں:

 (۱) - قیامت آۓگی۔ (۲) -  اللہ قیامت کے وقت کو پوشیدہ رکھےگا۔ (۳) -  ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جاۓگا۔

آیت میں سب سے پہلے قیامت کے آنے کا ذکر ہے،اور  سب سے اخیر میں بدلے کا ذکر ہے،  درمیان میں اخفا یعنی پوشیدہ رکھنے کا ذکر ہے۔  اگر اخفا  سے مراد    پوشید گی  ہو تو ما سبق سے مربوط ہوجاۓگا، اس صورت میں معنی ہوگا کہ  قیامت آۓگی ، لیکن  میں اس کا وقت اپنے بندوں سے پوشیدہ رکھوں گا، اور اگر اخفا  سے مراد   ظاہر کرنا  ہو تو یہ ما بعد سے مربوط ہوجاۓگا،  اور  معنی ہوگا کہ قیامت آۓ گی، اور میں اسے اپنے بندوں پر ظاہر کروں گا، تاکہ ہر ایک کو  اس کے عمل کا بدلہ  دوں ۔

یعنی قیامت آۓگی، لیکن اس  کا وقت پوشیدہ رکھوں گا، جب اس کا وقت آجاۓ تو اسے ظاہر کروں گا، اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دوں گا۔ یہاں پر بھی دیکھیں کہ آیت ایک ہی ہے ، لیکن درمیانی جز کو ماسبق سے مربوط کرکے دیکھیں تو  الگ معنی  سامنے آرہاہے، اور مابعد سے مربوط کرکے دیکھیں تو الگ معنی واضح ہورہا ہے، اور دونوں ہی معانی صحیح ہیں، بلکہ ان دونوں معانی سے حقیقت نہایت واضح اور منقح ہوکر سامنے آجاتی ہے، اور اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ یہ کلام الٰہی کا اعجاز ہے، جس کی نظیر قرآن کریم کے علاوہ کہیں اور نہیں مل سکتی۔

قرآن پاک میں ایسی آیات کو پڑھنے کے بعد دل کے ہر ہر گوشے  سے یہی آواز آتی ہے کہ: وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌۙ۰۰۴۱ لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۰۰۴۲ ۔

 بے شک  یہ معزز کتاب ہے، اس میں باطل نہ آگے سے آسکتا ہے  نہ پیچھے سے، یہ اس رب کا نازل  کردہ کلام ہے جس کے لیے حکمت  ، اور حمد وثنا ہے۔ *

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved