25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5947 Downloads: 781

(3)-آپ کے مسائل

کیا فرماتے ہیں۔۔۔۔

مفتی محمد نظام الدین رضوی

وقف الفاظ کے ساتھ تام ہوتا ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے 3484 اسکوائر فٹ کا ایک پلاٹ ایک تنظیم کو دیا کہ جانب شمال مسجد اور جانب جنوب مدرسہ رہے گا باقی کتنے پر مسجد اور کتنے پر مدرسہ بنانا ہے آپ لوگ دیکھ لیجیے، تنظیم کے لوگوں نے ایک وقف نامہ تیار کیا کہ واقف فلاں نے 1708 اسکوائر فٹ جانب جنوب مسجد کے لیے اور 1776 اسکوائر فٹ جانب شمال مدرسہ کے لیے وقف کیا۔ وقف نامہ واقف کے سامنے پیش کیا گیا واقف نے اس کو پڑھ کر سوچ سمجھ کر دستخط کیا۔

اب جب تعمیرات کا معاملہ آیا تو وقف نامہ کے مطابق نقشہ بنایا گیا اس میں جانب جنوب مسجد اور جانب شمال مدرسہ دکھایا گیا۔ تو واقف نے کہا کہ جب میں نے مسجد و مدرسہ کی جگہ دی تھی تو اسی وقت میں نے کہا تھا کہ جانب شمال مسجد اور جانب جنوب مدرسہ رہے گا۔ آپ لوگوں نے جانب جنوب مسجد اور جانب شمال مدرسہ کر دیا ہے یہ نقشہ غلط بنایا گیا ہے اس پر جب وقف نامہ چیک کیا گیا تو اس میں جانب جنوب مسجد اور جانب شمال مدرسہ لکھا ہوا تھا۔

واقف کو بتایا گیا کہ جس وقف نامہ پر آپ نے دستخط کیا تھا اس میں جانب جنوب مسجد اور جانب شمال مدرسہ لکھا ہوا ہے تو کیا آپ نے وقف نامہ پڑھ کر سوچ سمجھ کر دستخط نہیں کیا تھا؟ تو واقف نے جواب دیا کہ میں نے وقف نامہ پڑھ کر سوچ سمجھ کر دستخط کیا تھا لیکن یہ الفاظ کہ جانب جنوب مسجد اور جانب شمال مدرسہ رہے گا اس پر غور نہیں کیا تھا کیو نکہ جب میں نے جگہ دی تھی اسی وقت کہ دیا تھا کہ جانب شمال مسجد اور جانب جنوب مدرسہ رہے گالہذا اس کو درست کیجیے اور شمال کی طرف مسجد اور جنوب کی طرف مدرسہ کیجیے۔ تو کیا اب شمال کی طرف مسجد اور جنوب کی طرف مدرسہ کر سکتے ہیں ؟

الجواب:      شمال کی طرف مسجد اور جنوب کی طرف مدرسہ نقشہ کے مطابق تعمیر کریں کہ وقف اسی طور پر ہے اور یہی غرض واقف کے مطابق ہے جس کی رعایت واجب ہے۔

   اصل وقف الفاظ و کلمات کے ذریعہ ہوتا ہے اور تحریر تو حاجت سند کے لیے اسی کے قائم مقام مانی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ فقہا وقف کے مخصوص الفاظ بیان کرتے ہیں، مثلا درمختار میں ہے:

(ورُكْنُهُ الألْفاظُ الخاصَّةُ كَ) أرْضِي هَذِهِ (صَدَقَةٌ مَوْقُوفَةٌ مُؤَبَّدَةٌ عَلى المَساكِينِ ونَحْوِهِ) مِن الألْفاظِ كَمَوْقُوفَةٍ لِلّٰهِ تَعالى أوْ عَلى وجْهِ الخَيْرِ أوْ البِرِّ-

 واكْتَفى أبُو يُوسُفَ: بِلَفْظِ "مَوْقُوفَةٍ" فَقَطْ- قالَ الشَّهِيدُ: ونَحْنُ نُفْتِي بِهِ لِلْعُرْفِ -(الدرالمختار ،کتاب الوقف)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولَوْ قالَ: أرْضِي هَذِهِ صَدَقَةٌ لِلَّهِ أوْ صَدَقَةٌ مَوْقُوفَةٌ لِلَّهِ تَعالى تَصِيرُ وقْفًا ،ذَكَرَ الأبَدَ أمْ لا ،كَذا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ وكَذا إذا قالَ: مَوْقُوفَةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ تَعالى أوْ لِطَلَبِ ثَوابِ اللَّهِ تَعالى- كَذا فِي الذَّخِيرَةِ. (الفتاوی الھندیة، کتاب الوقف ، فَصْلٌ فِي الألْفاظِ الَّتِي يَتِمُّ بِها الوَقْفُ وما لا يَتِمُّ بِها)

بہار شریعت میں ہے:

مسئلہ ٦: وقف کے لیے مخصوص الفاظ ہیں جن سے وقف صحیح ہوتا ہے مثلا :

▫️اللہ تعالی کے لیے میں نے اسے وقف کیا۔

▫️مسجد یا مدرسہ یا فلاں نیک کام پر میں نے وقف کیا۔

▫️یا فقرا پر وقف کیا۔(بہار شریعت، حصہ: ۱۰، ص: ٥٢٤، مجلس المدینہ)

وقف الفاظ کے ساتھ تام ہوتا ہے بعد کی تحریر سے کالعدم نہ ہوگا۔

     وقف ہونے  کے لیے وقف کے  یہ الفاظ ہی کافی ہیں ۔اب اگر ان الفاظ کے ساتھ تحریر بھی ضبط میں لائی جائے تاکہ وقت حاجت سند رہے تو بہتر ہے کہ تحریر الفاظ کی قائم مقام ہوتی ہے لیکن تحریر اگر الفاظ و کلمات کے خلاف مرتب ہو جائے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا کہ وقف تو الفاظ اور سپردگی کے ساتھ تام ہوگیا، بعد میں تحریر اس کے خلاف لکھی جائے تو یہ وقفِ ثابت کے خلاف ہونے کی وجہ سے کالعدم ہوگی، خود وقف اس کی وجہ سے باطل و کالعدم نہ ہوگا۔

     اب ہم کچھ فقہی جزئیات بہار شریعت سے نقل کرتے ہیں جن سے سوال کے ضروری گوشوں پر روشنی پڑے گی:

مسئلہ ۲٦: وقف صحیح ہونے کے لیے زمین یا مکان کا معلوم ہونا ضروری ہے، اس کے حدود ذکر کرنا شرط نہیں _ردالمحتار _

(بہارشریعت، حصہ: ۱۰، ص: ۵۲۹، وقف)

مسئلہ ٦٦: ایک شخص نے اپنی کل جائداد وقف کی مگر نصف ایک مقصد کے لیے اور نصف دوسرےمقصد کے لیے۔ یہ جائز ہے _ عالمگیری وغیرہ۔(بہار شریعت، حصہ: ۱۰، ص: ۵۳۹، مکتبۃ المدینہ)

     ان جزئیات سے معلوم ہوا کہ مسجد و مدرسہ کے لیے زمین کا وقف صحیح و درست ہے اور حسب حاجت کچھ کم و بیش اس کی تعیین ہو سکتی ہے۔

مسجـد اور مـدرسـہ کـے لیـے جگـہ کـی تعییـن

   واقف نے جب زبانی طور پر وقت وقف ہی یہ بتا دیا تھا کہ  ”جانب شمال مسجد اور جانب جنوب مدرسہ رپے گا، باقی کتنے پر مسجد اور کتنے پر مدرسہ بنانا ہے آپ لوگ دیکھ لیجیے“۔

     تو زمین کا شمالی حصہ مسجد کے لیے اور جنوبی حصہ مدرسہ کے لیے وقف ہو گیا اور غرض واقف کا لحاظ واجب ہے چنانچہ فقہا فرماتے ہیں:

      مراعاۃ غرض الواقفین واجبة۔ واقفین کی غرض و مقصد کا لحاظ واجب ہے۔

      اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تنظیم کو زمین دیتے وقت جب واقف نے درج بالا بات کہی تو زمین کا جانب شمال مسجد کے لیے اور جانب جنوب مدرسہ کے لیے وقف ہو گیا - دلالت حال شاہد ہے کہ اس نے مسجد و مدرسہ کو وہ زمین ہمیشہ کے لیے دی ہے اور ہمیشہ کے لیے مسجد و مدرسہ کو دینا وقف ہے۔ تو وقف نامہ مرتب ہونے سے پہلے ہی وہ زمین شمالا و جنوبا مسجد و مدرسہ کے لیے متعین اور موقوف ہو چکی اس لیے بعد میں وقف نامہ میں قصدا یا سہوا تغییر یا تصریح سے اس پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔

 نقشہ مسجد و مدرسہ کا وہی رکھیں، بس سمت بدل دیں کہ مسجد کو جانب شمال اور مدرسہ کو جانب جنوب تعمیر کریں۔ واللہ تعالی اعلم۔

کوپن خرید کر قرعہ اندازی میں حصہ لینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام  مسئلہ ذیل میں۔

 موصوف کا کہنا ہے ایک مدرسے کی جگہ خریدی گئی ہے جس میں 7 لاکھ 40 ہزار روپے کی ضرورت ہے تو اراکین مدرسہ یہ ترتیب نکالا کے ایک ہزار روپے والا کوپن بنایا جائے ایک ہزار کی تعداد میں جو لوگ اس کوپن کے ذریعے تعاون کریں گے ان لوگوں کا نام لکھ کر چپٹی بنائی جائیں قرعہ اندازی کے ذریعے اول اور دوم آنے والوں کو عمرہ کرایا جائے گا اور 3 نمبر سے 12 نمبر آنے والوں کو غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے بھیجا جائے گا کیا ان پیسوں سے عمرہ کرانا اور اجمیر شریف بھیجنا جائز ہے مدرسوں کے نام سے چندہ وصولنہ اور اس طرح لوگوں سے کہنا کے ہم آپ کو عمرہ اور اجمیر شریف کی ٹکٹ ڈینگے یہ کیا درست ہے اور اس مسئلے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے اور جو لوگ کوپن لے کر تعاون کر رہے یا کر چکے ہیں ان لوگوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے مفتی کرام رہنمائی فرمائیے،اور اگر اس کام کو کرنا ہو تو کس انداز سے کیا جائے کچھ حل بتائیے ۔ شکریہ

الجواب: (۱)  قرعہ اندازی کی شرط پر کوپن کے ذریعے روپیے جمع کرنا، کرانا کہنے کو کارِ دین ہے مگر واقع میں یہ قِمار و جوئے کا کاروبار ہے جو حرام وگناہ ہے۔

      قِمار یہ ہے کہ اپنا کچھ مال، زیادہ مال پانے کی لالچ میں یا کوئی بڑی چیز پانے کی لالچ میں اس امید موہوم پر  دیا جائے کہ قسمت نے ساتھ دیا تو وہ بڑی چیز مل جائے گی یا زیادہ مال مل جائے گا اور اگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا تو محرومی ہوگی۔ اس کاروبار میں مال نفع اور ضرر دونوں میں گردش کرتا رہتا ہے وہی بات یہاں پائی جا رہی ہے نام تو چندے کا ہے لیکن ہر شخص جو ایک ایک ہزار روپیے کا کوپن لے رہا ہے وہ ظاہر یہی ہے کہ اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے کہ قرعہ اندازی میں اس کا نام نکل آئے تو عمرہ کر لے گا یا کم از کم اجمیر شریف جانے کا موقع مل جائے گا۔ اگر قرعہ میں اپنا نام نکلنے کی لالچ اور امید موہوم نہ ہو تو ہر کوئی ایک ہزار کا کوپن نہ لے گا، اس کی مرضی وہ جتنا چاہے کم یا زیادہ دے یا نہ دے اور یہاں اگر کوئی نہ دے یا کم دے تو اسے قرعہ اندازی میں شریک نہیں کیا جائے گا، صرف ایک ہزار کا کوپن لینے والے ہی شریک کیے جائیں گے جیسا کہ یہی ظاہر ہے ،      تو یہاں عمرہ یا زیارت اجمیر کے لیے دو شرطیں ہیں:

ایکــ: ایک ہزار روپیے کا کوپن لینا۔

دوسری شرط: قرعہ اندازی میں نام نکلنا۔

ظاہر ہے کہ قرعہ اندازی میں نام نکلنا موہوم ہے یقینی نہیں۔ وہ ایک ہزار روپیے کا کوپن لے کر امید موہوم پر اپنی قسمت آزما رہا ہے اور یہی قمار و جوا ہے جس سے قرآن مقدس میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔

      افسوس کہ چندے کے نام پر یہ جوئے کا کاروبار کیا جارہاہے، فوراً اسے بند کیا جاے اور اعلانِ عام کیا جاے کہ عمرہ اور زیارت اجمیر کے نام پر کوپن والوں کے مابین قرعہ اندازی کی پلاننگ منسوخ کر دی گئ جنھوں نے اس پلاننگ کے تحت قرعہ اندازی کے لیے کوپن لیا ہو وہ اپنے روپے واپس لے لیں اور جو چاہیں خاص مدرسے کے تعاون کی نیت سے مدرسہ کے چندہ کے طور پر باقی رکھیں۔

زر کثیر جمع کرنے کے  لیے اس طرح کی پالیسیاں جدید ماہرین معاشیات بناتے رہتے ہیں اور انھیں  سوائے کسب زر کے کسی اور چیز کی پرواہ نہیں ہوتی ،اس لیے وہ حلال و حرام کا امتیاز کیے بغیر پالیسیاں بناتے اور عام کرتے ہیں ،کچھ اسی سے ملتی جلتی یہ کوپن والی پالیسی بھی ہے ،اس میں یہ فکر کار فرما ہے کہ عمرہ اور زیارت اجمیر کے شوق میں گیارہ ،بارہ سو لوگوں نے اگر کوپن لے لیا تو مثلا دو سوا دو سو افراد کے زر کوپن سے دو نفر کا عمرہ اور دس نفر کی زیارت اجمیر کا انتظام ہوجائے گا، باقی لاکھوں روپے سے مدرسہ کی زمین کا دام بھی ادا کردیں گے اور کچھ تعمیر کا بھی انتظام ہوجائے گا، مگر یہ نہیں  سوچا گیا کہ  یہ پالیسی حرام بھی ہوسکتی ہے جس سے مسلمان کو بچنا فرض ہے ،لوگوں میں صرف چندے کے لیے وہ ذوق شوق نہیں پیدا ہوسکتا جو عمرہ وغیرہ کے نام پر ہوگا اس لیے کوپن کی یہ پالیسی اپنائی گئی تو ظاہر یہ ہے کہ مقصود اولیں عمرہ و زیارت ہے اور اسی کے پیش نظر یہ حکم دیا گیا ہے اور مقصود اس کے سوا کچھ  اور ہو جو قمار بازی سے  پاک اور خالص امر خیر پر مبنی ہو تو اسے واضح کرنا چاہیے ۔انما نحکم بالظواہر واللہ یتو لی السرائر۔واللہ تعالٰی اعلم

(۲)-صرف مدرسے کے تعاون کے لیے حصول اجر کی نیت سے کوپن جاری کرسکتے ہیں کہ یہ کار دین کے لیے چندہ کی سعی ہے جو جائز و مستحسن ہے۔

       حلال تھوڑا ہو اس میں اللہ برکت دیتا ہے اور حرام بہت ہو تو وہ زیادہ کام نہیں آتا بلکہ غبار کی طرح اڑ جاتا ہے اس لیے مال حلال پر قناعت کریں اور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ واللہ تعالی اعلم۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved