25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 6593 Downloads: 724

(9)-یونیفارم سول کوڈ؛ ایک تجزیاتی مطالعہ

محمد شعیب رضا نظامیؔ فیضیؔ

وطن عزیز ہندوستان میں ایک عرصہ دراز سے یکساں شہری قانون(Uniform Sivil Code) نا فذ کرنے کی جدو جہد جا ری ہے اور مسلسل ملک کا ایک طبقہ جس میں بڑی تعداد ہندوؤں کی اور کچھ مسلما نوں کی ہے اسے نافذ کرنے کے لیے ذہن سازی کی سعی پیہم کررہا ہے اور موجودہ دور میں اس کے نفاذ کے لیے ہمارے ملک کا ایک سیاسی طبقہ کچھ زیادہ ہی بیقرار نظر آ رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسکی مخالفت کررہاہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یکساں سول کوڈ ہے کیا؟ اور مسلمان(خاص طورپر) اسکی شدید مخالفت کیوں کرتا ہے؟

یکساں سول کوڈ(Uniform Sivil Code) در اصل وہ قوانین ہیں جو کسی مخصوص خطہ زمین کے باشندوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت ہر فرد کی ذاتی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب،اس کی تہذیب وتمدن کا اور رسم ورواج کا خیال نہیں کیا جاتا ہے، سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے

اور رہا یہ سوال کہ مسلمان اس کی مخالفت کیوں کرتا ہے تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے مذہبی آزادی مسلوب ہو جائے گی جب کہ ہمارا ملک ایک ایسا چمن ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے بسیرا ڈالتے ہیں اور ہر مذہب کا اپنا الگ دستور ہے لہذا اگر سبھی پر ایک ہی دستور نافذ کیا جائے گا تو نہ صرف مسلم طبقہ حرج میں پڑے گا بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی بھی مذہبی آزادی چھن جائے گی۔

دیگر اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یکساں سول کوڈ کو نافذ بھی کردیا جائے تو وہ کون سا قانون ہوگا؟ کس مذہب کی ترجمانی کرے گا، کس دھرم کے مطابق ہوگا؟ یہ بات تو ظاہر کہ کسی ایک دستور میں سبھی مذاہب کی مطابقت نہیں ہوسکتی اسے صرف کسی ایک مذہب کی حمایت حاصل ہوگی اور مساوات کا نعرہ لگانے والے حضرات نے موقع در موقع اسکی وضاحت بھی کردی ہے کہ ’’یکساں سول کوڈ‘‘ وہ ’’ھندو کوڈ‘‘ ہوگا جیسا کہ سابق مرکزی وزیر قانون مسٹر پاٹسکر نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ھندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں وہ مستقبل قریب میں ھندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائے گی اگر ہم ایسا قانون بنانے میں کامیاب ہوگئے جو ہماری پچاسی فی صد آبادی کے لیے ہوتو باقی آبادی پر اسے نافذ کرنا مشکل نہ ہوگا ،اس قانون سے پورے ملک میں یکسانیت پیدا ہوگی‘‘

متذکرہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت اور حامی طبقہ یکساں سول کوڈ کے بہانے ’’ھندو کوڈ‘‘ نافذ کرنے کی فراق میں ہے اور اگر بالفرض مان لیا جائے کہ ’’ھندو کوڈ‘‘ کے بجائے ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ یا دیگر مذاہب کے پرسنل لاء کو یکساں سول کوڈ بنایا جائے گا تو اس طریقہ کار سے دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے جذبات مجروح ہونگے لہذا یہ قطعی ناپسندیدہ امر ہے کہ ملک کے غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی ختم کر دی جائے اور انکے شخصی قوانین کو مٹا کر جبراً  ان پر اسلامی قوانین یا دیگر مذہبی قوانین نافذ کیا جائے اور رہی بات کسی ایسے قانون کی جو سبھی مذہبوں کی ترجمانی کرے تو اسکے لیے یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہیں بلکہ ملک میں پہلے سے ہی الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کے لیے کچھ الگ الگ قانون بنے ہیں مثلاً ھندو میریج ایکٹ(Hindu Marriage Act)، ھندو سکسیشن ایکٹ(Hindu Succession Act)، ھندو ایڈاپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ(Hindu Adoption and Mainteenance Act) نامی کئی طرح کے الگ قانون ہیں جبکہ مسلمانوں کے لیے ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ ہے اور عیسایئوں کے لیے الگ پرسنل لاء ہے تو اب یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہی نہ رہی۔

رہنما اصول برائے قانون میں تضاد اور اسکا ممکنہ حل

پندوستانی دستور کے رہنما اصول(Directive Priciples) میں یکساں سول کوڈ کا ذکر دفعہ۴۴ (Article 44) میں کیا گیا ہے:

The state shall endeavor to secure a Uniform civil code throughout the territory of India.

یعنی ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لiے یکساں شہری قانون ہو۔

جبکہ دفعہ۲۵(Article 25) میں یہ بات بھی موجود ہے کہ:

Subject to public order, morality and health and to the other provisions of this part, all persons are equally entitled to freedom of conscience and the right freely to profess, parches and propagate religion

یعنی امن عامہ،اخلاق، صحت اور اس قسم کے دوسرے احکام کے تابع رہ کر تمام لوگوں کو ضمیر کی آزادی، مذہب کے اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسکی اشاعت کا مساوی حق ہوگا۔

مطلب یہ ہے کہ دونوں دفعات میں تضاد ہے حکومت اگر دفعہ ۴۴ پر عمل کرے گی تو دفعہ۲۵ پر عمل ممکن نہیں اور دفعہ۲۵ پر عمل پیرا ہو تو دفعہ۴۴ کی خلاف ورزی ہوگی لہذا اس تضاد کی صورت میں کوئی ممکنہ حل تلاش کرنا ضروری ہے جس سے کہ دونوں دفعات پر عمل کیا جا سکے ، جس کی ایک تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ دفعہ۲۵ کے مطابق تمام لوگوں کو مذہبی آزادی دے دی جائے اور دفعہ۴۴ کو سبھی پر یکساں نافذ نہ کرکے ہر مذہب کا الگ لیکن یکساں پرسنل لاء بنا دی جائے جس سے کہ پورے ملک میں اس مذہب کے ماننے والے سبھی لوگ اس پر عمل کریں اور رہی بات اس کے بر عکس  کی تو خیال رہے کہ جب ایوان بالا میں۱۹۵۰ء کو دستور کے رہنما اصول کی ورق گردانی ہورہی تھی اور جب دفعہ۴۴ کی خواندگی ہوئی تو کافی ہنگامہ ہوا تھا اور اسی موقع پر ڈاکٹر بی آرامبیڈکر نے یہ بات کہی تھی کہ’’یہ محض حکومت کو اختیار دیا جارہا ہے جس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مذہبی شخصی قوانین کو ختم کردینا ضروری ہوگا، خواہ ملک کے مسلمان، عیسائی یا کوئی اور فرقہ اس سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ کرے کسی کو یہ خطرہ نہیں ہونی چاہیئے کہ صرف اختیار مل جانے سے حکومت اس پر عمل کے لیے اصرار کرے گی‘‘۔

دیگر ممالک اور یکساں سول کوڈ:

یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی حمایت میں حامیان یکساں سول کوڈ کی جانب یہ حوالہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کئی ایسے ممالک(مسلمہ) ہیں جہاں یکساں سول کوڈ نافذ ہے پس جب ان دیگر ممالک(مسلمہ) میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاسکتا ہے تو ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟ اس حوالہ کی تحقیق کے لیے اولاً ذیل کا نقشہ ملاحظہ کرنا چاہیئے کہ ان ممالک کی آبادی میں اکثریت(Majority) و

  اقلیتی فرقہ  میں آبادی کا تناسب کتنا ہے؟

اسمائے ممالک

اکثریت فرقہ فیصد

اقلیت فرقہ فیصد

حوالہ جات

پاکستان

96.4%

3.6%

*est 2010

بنگلہ دیش

88.4%

11.6%

*est 2018

ملیشیا

61.3%

38.7%

*est 2010

مصر

90%

10%

*est 2015

سوڈان

73.3%

1.7% باقی لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے ہیں۔

 

Global Religious Futures

The world factbook*

مندرجہ بالا نقشہ سے صاف ظاہر ہے کہ ملیشیا کو چھوڑ کر کوئی ایسا ملک نہیں جس میں اقلیت(Minority) کا تناسب آبادی ۲۰ بیس فی صد ہو لہذا ان ممالک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے میں زیادہ حرج نہیں ہے لیکن ہمارے ملک میں اقلت۱.۲۰ بیس عشاریہ ایک فی صد ہے، جس سے بڑا حرج پیدا ہو جاتا ہے نیز ان ممالک کی کل آبادی بھی ہمارے ملک کی طرح ۱۲۵ کروڑ نہیں۔

اتحاد یا اختلاف مقصد کیا؟

ملک کی ترقی و خوشحالی کیلیے اتحاد اور قومی یکجہتی ایک اہم ضرورت ہے اور ہندوستان میں سکونت پزیر مختلف فرقوں کے درمیان دوستی، خیر سگالی اور باہمی رواداری کے جذبہ کو فروغ دینا بہترین ملکی خدمت ہے لیکن قومی یکجہتی کے نام پر مذہبی قوانین کو آڑے ہاتھوں لینا باشندگان وطن کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہے جو کہ اتحاد نہیں بلکہ اختلاف وفساد کی اہم جڑ ہے اورملک کی سالمیت کے لیے بڑا خطرہ ہے کیونکہ قومی یکجہتی اور سیکولرزم کا یکساں سول کوڈ سے ایک حد تک کوئی تعلق ہی نہیں مشاہدہ ہے کہ آج تک ملک میں کبھی دو الگ فرقوں کے درمیان نکاح،طلاق اور وراثت کا مسئلہ نہیں الجھا اس لیے کہ دو الگ فرقہ کے افراد کے درمیان نکاح اور رشتہ ہوتا ہی نہیں تو طلاق و وراثت کا مسئلہ کہاں سے پیدا ہوگا۔ لہذا حکومت اور حامیان یکساں سول کوڈ کو تنگ نظری کی بجائے وسعت فکر اور تعصب پرستی کو بالائے طاق رکھ کر سوچنا چاہیئے کہ باشندگان وطن کو کس طرح ملی وقومی مسائل میں یکجا کیا جائے نہ کہ مذہبی مسائل میں یکجا کرنے کی کوشش کر ملک کے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنا چاہیئے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved