20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Feb 2023 Download:Click Here Views: 23917 Downloads: 1152

(10)-ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا

محمد اعظم مصباحی مبارک پوری

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےو صال کے بعد جس خوش نصیب عورت کو سرکار کی زوجیت میں آنے کا شرف حاصل ہوا وہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ہیں ، آپ ایثار و قربانی اور اطاعت وفرماں برادری کے وصف میں  تمام ازواج سے ممتاز نظر آتی ہیں - السابقون الاولال کے مبارک زمرے میں آپ کا بھی نام آتا ہے ۔ ذیل کی سطور میں آپ کی حیات طیبہ کے مخصو ص گوشے پیش خدمت ہیں۔

نام و نسب: اسم گرامی حضرت سودہ بنت زمعہ ہے ،کنیت ام الاسودہے، نسب نامہ کچھ اس طرح ہے:

حضرت سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نضر بن مالک بن حل بن عامر بن لؤى۔

والدہ محترمہ شموس تھیں، ان کا تعلق بنو نجار سے تھا ۔ ماں کی طرف سے حضرت سودہ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:

سودہ بنت شموس بنت قیس بن زید بن عمرو بن لبيد بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار۔

 قبول اسلام: ابتداے اسلام ہی میں سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہا نےاسلام قبول کر لیا تھا اور آپ کے شوہر حضرت سکران بھی قدیم الاسلام تھے ۔

 ہجرت حبشہ : ابتداے اسلام میں اسلام کی وجہ سے مسلمانوں کو کفار مکہ بہت زیادہ تکلیفیں دیا کرتے تھے ، انھیں تشدد کا نشانہ بناتے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ حالات دیکھ کر مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی پھر بہت سارے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ حضرت سودہ بنت زمعہ نے بھی اپنی شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ اس کے بعد حضرت سودہ اپنے شوہر کے ساتھ مکہ واپس آئیں۔ حضرت سکران کی طبیعت خراب ہوئی اور کچھ دنوں کے بعد ان کا انتقال ہو گیا، حضرت سودہ کے بطن سے حضرت سکران کے ایک بیٹے پیدا ہوئے جن کا نام عبد الرحمٰن تھا ۔ انھوں نے جنگ جلولا میں شہادت پائی۔

 حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے نکاح :حضرت سکران کے مرض موت سے پہلے حضرت سودہ نے ایک خواب دیکھا کہ آپ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی ہیں اور کیا دیکھتی ہیں کہ آسمان پھٹ گیا اور چاند آپ کے اوپر آگرا ۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد حضرت سودہ اپنے شوہر کے پاس گئیں اور ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ حضرت سکران نے فرمایا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ عن قریب میں مر جاؤں گا اور تم عرب کے چاند محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نکاح میں آجاؤ گی۔

 اس کے علاوہ مورخین نے حضرت سودہ کے خواب کا ایک اور واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سودہ نے دیکھا کہ حضور تشریف لائے اور حضرت سودہ کی گردن پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا حضرت سودہ نے اس خواب کی تعبیر بھی اپنے شوہر سے دریافت کی تو انھوں نے فرمایا کہ تم نے یہ خواب دیکھا ہے تو اس کی تعبیر یہی ہے کہ میں مرجاؤں گا اور رسول کریم صل اللہ کی لی علیہ وسلم تم سے نکاح کریں گے ۔

حضرت سکر ان کے انتقال کے بعد حضرت سودہ بہت زیادہ غم گین ہو گئیں اور ان کی جدائی میں بہت رویا کرتیں، آپ کی سہیلیاں آپ کے پاس آکر آپ کو تسلی دیتیں اُدھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھی حضرت سیدہ خدیجہ کے وصال کے بعد بہت غم گین اور پریشان تھے یہ حالت دیکھ کر حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضورکے پاس گئیں اور عرض کیا کہ میری نظر میں ایک خاتون سودہ بنت زمعہ ہیں جن کے شوہر وفات پا چکے ہیں اگر حضور کی اجازت ہو تو میں ان سے رشتہ کی بات کروں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ رضامند ہے تو مجھے یہ رشتہ منظور ہے ۔ سرکار سے اجازت پانے کے بعد حضرت خولہ حضرت سودہ کے پاس  گئیں اور یہ بشارت آپ کو سنائی تو آپ کا چہرہ خوشی سے کھل گیا اور کہنے لگیں کہ میرا یہ نصیب مجھے اور کیا چاہیے۔ لیکن میرے والد سے بھی بات کر لو۔ حضرت خولہ زمعہ کے پاس گئیں اور وہ بھی رضامند ہوگئے۔ پھر سارے مراتب طے ہو گئے، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم زمعہ کے گھر تشریف لے گئے ، زمعہ نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر مقرر ہوا ۔

نکاح کے بعد سودہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی عبداللہ بن زمعہ جو اس وقت کا فرتھے انھوں نے یہ سن کر اپنے سر پر خاک ڈالی کہ کیا غضب ہو گیا میری بہن کا نکاح محمد عربی سے ہو گیا ۔ لیکن جب آپ مشرف بہ اسلام ہوئے تو اپنی اس حرکت پر ہمیشہ افسوس کرتے۔

 حضرت سودہ کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا عقد مبارک رمضان یا شوال10 ہجری میں مکہ شریف میں ہوا، اس وقت دونوں حضرات کی عمر شریف پچاس برس تھی۔

 نکاح کے بعد حضرت سودہ کی رخصتی ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے حضرت سودہ کو حضرت خدیجہ کے گھر میں ٹھہرایا جو حضرت خدیجہ کی ہی ملک تھا ۔ اس گھر میں حضرت علی کے علاوہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحب زادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا رہائش پذیر تھیں ۔

بنارت رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے محبت و شفقت: حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہما سے بے پناہ محبت کرتی تھیں اور ان کے ساتھ نہایت مشفقانہ برتاؤ کرتیں، انھیں اپنی ماں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی  کمی کا احساس نہ ہونے دیتیں ، مہربان اور شفیق ماں کی طرح ان کے ساتھ رہتیں۔ حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کی رضا جوئی کرتیں اور ان کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑ تیں ۔

 ہجرت مدینہ : رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمانے کے کچھ عرصہ بعد حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ روانہ کیا تا کہ یہ حضرات سرکار کے اہل خانہ کو مدینہ لائیں۔ چناں چہ حضرت سودہ، حضرت فاطمہ، حضرت ام کلثوم ،حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان حضرات کے ساتھ مکہ شریف سے مدینہ طیبہ تشریف لائے اور حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہمان ہوئے۔

حضرت سودہ اور آیت حجاب کا نزول : آیت حجاب کے نزول سے پہلے تمام عورتیں قضاے حاجت کے لیے باہر جایا کرتی تھیں، حضرت فاروق اعظم کو یہ بات ناگوار لگتی ،آپ یہ چاہتے کہ مسلمان عورتیں باہر نہ جایا کریں ،اس خیال کا اظہار آپ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کیا ۔حضرت سودہ چوں کہ بلند قامت تھیں اس لیے لوگ پہچان جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ قضاے حاجت کے لیے باہر جا رہی تھیں تو حضرت عمرنے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا اور فرمایا کہ اے سودہ ہم نے آپ کو پہچان لیا۔ حضرت عمر کا یہ جملہ سن کر حضرت سودہ کو ناگوار لگا اور آپ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ اس واقعہ کے بعد آیت حجاب نازل ہوئی اور مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا۔

حضرت سودہ کے لیے رخصت:۔۱۰ہجری میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو سودہ بھی ساتھ تھیں، چوں کہ وہ بلند و بالا اور فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے سے قبل ان کو چلے جانا چاہیے، کیوں کہ ان کو بھڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہوگی ۔

 روایت حدیث : حضرت سودہ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں ، جن میں بخاری شریف میں صرف ایک ہے۔ صحابہ میں حضرت ابن عباس، ابن زبیر اور یحییٰ بن عبد الرحمٰن بن اسعد بن زرارہ نے ان سے روایت کی ہے۔

فضائل وکمالات: حضرت عائشہ فرماتی ہیں: سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اس کے قالب میں میری روح ہوتی ۔

اطاعت و فرماں برداری میں وہ تمام ازواج مطہرات سے ممتاز تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا تھا  کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا ، چناں چہ سودہ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ یہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں ، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھوں گی ۔

 سخاوت و فیاضی بھی ان کا ایک اور نمایاں وصف تھا اور حضرت عائشہ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ عمررضی اللہ عنہ  نے ان کی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی ! لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ درہم،بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ کہہ کر اسی وقت سب کو تقسیم کر دیا۔ وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اس کو نہایت خوش دلی کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں۔

 ایثار میں بھی آپ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں ، وہ اورحضرت عائشہ آگے پیچھے نکاح میں آئی تھیں لیکن چوں کہ ان کا سن بہت زیادہ تھا اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں تو ان کو شبہ ہوا کہ شاید محمد صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں اورمیں شرف صحبت سے محروم ہو جاؤں ۔ اس بنا پر آپ نے اپنی باری حضرت  عائشہ کو دے دی اور انھوں نے خوشی سے قبول کی۔

 مزاج تیز تھا ، حضرت عائشہ ان کی بے حد معترف نھیں ، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس میں حریرہ بنا کر لائی اس وقت حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہا سرکار کی خدمت میں حاضر تھیں میں نے حضرت سودہ سے کہا کہ حریرہ آپ کھا لیں انھوں نے انکار کیا تو میں نے حریرہ ہاتھ میں لے کر ان کا منہ حریرہ سے بھر دیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ دیکھ کر مسکرا پڑے اور آپ نے مجھے اپنے دست مبارک سے دبایا اور حضرت سودہ سے فرمایا کہ تم بھی عائشہ کا منہ بھر دو تو حضرت سودہ نے حریرہ لے کر میرا منہ بھر دیا ۔ سرکار یہ دیکھ کر مسکرانے لگے۔

حضرت سودہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خوش کرنے کی کوشش میں رہتیں اور ایسا عمل کرتیں کہ سرکار دیکھ کر مسکر ا پڑتے،کبھی کبھی جان بوجھ کر مختلف طریقوں سے بن بن کر چلتیں جب سرکار آپ کی اس حرکت کو دیکھتے تو ہنس پڑتے۔ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں کہ آپ ہنس پڑے تھے ۔ ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتی تھی ، آپ نے اس قدر دیر تک رکوع کیا کہ مجھ کو نکسیر پھوٹنے کا شک ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی ، اس آپ اس جملہ کو سن کر مسکرا اٹھے۔

دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مزاح کے لہجہ میں کہا؛ تم نے کچھ سنا ؟ بولیں کیا ؟ کہا؛دجال نے خروج کیا ، سودہ یہ سن کر گھبرا گئیں۔ ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا فورًا اس کے اندر داخل ہو گئیں ،تو حضرت عائشہ اورحضرت حفصہ ہنستی ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور آپ کو اس مزاح کی خبر کی ۔ آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے ۔ یہ سن کر سودہ باہر آئیں تو مکڑی کا جالا بدن پر لگا ہوا تھا۔ اس کو باہر آکر صاف کیا ۔

خصوصیات :

◘آپ حضور علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اورتمام مونین کی ماں ہیں۔

◘ آپ نے کم وبیش تین برس رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کاشانۂ اقدس میں اس طرح گزارے کہ اس عرصہ میں کاشانۂ نبوت میں آپ کے سوا کوئی دوسری زوجہ مطہرہ نہ تھیں۔

◘ آپ نے رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو خوش کرنے کے لیے اپنی باری کا دن محبوبۂ محبوب رب  العالمین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کےلیے ایثار کر دیا۔

◘ آپ کا شمار ان چھ ازواج میں ہوتا ہے  جن کا تعلق قبیلۂ قریش سے تھا۔

◘ آپ قدیم الاسلام خاتون تھیں اور السابقون الاولون کے زمرۂ مبارکہ میں شامل تھیں۔

◘ آب صاحبہ الہجرتین ہیں پہلی بار اپنے پہلے شوہر حضرت سکران کے ساتھ آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور حضور علیہ السلام کی زوجیت میں آنے کے بعدمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

◘آپ کی حیات طیبہ اطاعت و فرماں برداری، تسلیم و رضا سخاوت و فیاضی، ایثار و قربانی، دین داری ، عفت و پاکیزگی ،تربیت و اصلاح ، خلوص ومحبت اور عشق رسول کی انتہائی بلندیوں پر نظر آتی ہے۔

◘سوتیلی اولاد سے محبت و پیار اور اعلیٰ تربیت کا بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔

◘ آیت حجاب کا نزول آپ کی برکت ہے کہ آیت حجاب کے نزول کا باعث بن کر پوری دنیا کی خواتین کو تحفظ نسواں کا بہترین دستور و شعور عطا فرمایا۔

وفات:حضرت سودہ کے سنہ وفات میں اختلاف ہے ، واقدی کے نزدیک انھوں نے امیر معاویہ کے زمانۂ خلافت ۵۴ہجری میں وفات پائی ، حافظ ابن حجر ان کا سال وفات 100 ھ قرار دیتے ہیں، امام بخاری نے تاریخ میں بہ سند روایت کی ہے کہ حضرت عمر کے زمانۂ خلافت میں انتقال کیا ۔ ذہبی نے تاریخ. کبیر میں اس پر اضافہ کیا ہے کہ حضرت عمر کی خلافت کے آخری زمانہ میں وفات کی ۔ حضرت عمر نے ۲۳ ہجری میں وفات پائی ہے کہ اس لیے ان کا زمانۂ وفات ۲۲ہجری ہوگا ، خمیس میں ہے کہ یہی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved