25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 6603 Downloads: 724

(12)-ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

مفتی محمد اعظم مصباحی مبارک پوری

 

نام و نسب:سیدہ زینب بنت خزیمہ بن عبد اللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصہ ہیں آپ کی وفات کے بعد نبی اکرم نے آپ کی بہن میمونہ بنت حارث سے شادی فرمائی۔ ان دونوں کی والدہ ہند بنت عوف تھیں۔

نکاح :سرورِ کائنات ، شہنشاہِ موجودات   صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالۂ عقد میں آنے سے پہلے اصح  قول کے مطابق آپ حضرت سیدنا عبد اللہ  بن جحش   رضی اللہ عنہ  کے ساتھ رشتہ ازواج میں منسلک تھیں ۔(المواہب اللدنیہ ،ج1،ص411)

حضرت عبد اللہ بن جحش یہ رسول ِ کریم ، رؤوف رحیم  کے پھو پھی زاد بھائی ہیں اور قدیم الاسلام صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان میں شامل ہیں جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِارقم (مکۂ مکرمہ )میں تشریف لے جانے سے پہلے اسلام لے آئے تھے ۔ غزوۂ بد رو احد میں شرکت کی اور احدمیں ہی جامِ شہادت نوش فرمایا۔(اسد الغا بہ،ج3،ص195)

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد آپ نے حضور اقدس  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زوجیت کا  شرف پایا اور ام المؤ منین کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئیں ۔اس وقت حرمِ نبوی میں تین ازواج ِ مطہرات حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت سودہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن  پہلے سے موجود تھیں جبکہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا  کا کم و بیش چھ برس پہلے انتقال ہو چکا تھا ۔ روایت میں ہے کہ جب سرکارِ  رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے اپنا معاملہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے سپرد کردیا ، پھر سرکارِ دوعالم   صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا اور ساڑھے بارہ اوقیہ مہرِ نکاح مقرر فرمایا۔(طبقات ابن سعد ،ج8،ص91)

جود و سخا:حضرت زینب بنت خزیمہ بعض معاملات میں دیگر ازدواج مطہرات سے آگے نظر آتی ہیں ۔ بڑی رحم دل،منکسر المزاج، اور سخی تھیں۔ ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں اور ہمیشہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتی تھیں۔اگرچہ ان کا بچپن بڑے ناز و نعم میں گزرا،لیکن اس دور کی دوسری بچیوں کی بہ نسبت حضرت زینب رضی اللہ عنہا بڑی منفرد تھیں۔ بچپن ہی سے انھیں غریبوں ، مسکینوں اور فاقہ مستوں کو کھانا کھلا نے کا بڑا شوق و ذوق تھا۔ جب تک وہ کسی کو کھانا نہ کھلا لیتیں انھیں سکون محسوس نہ ملتا تھا ۔ ان کے باپ خزیمہ کا شمار اس زمانے کے بڑے رئیسوں میں ہوتا تھا۔ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی۔باوجود اس دولت و ثروت کے حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ کے اندر بچپن ہی سے عاجزی ،انکساری اور فیاضی کی صفات پائی جاتی تھیں۔اسی وجہ سے زمانہ جاہلیت سے ہی لوگ ان کی اس صفت کی وجہ سے ان کو          ’ام المساکین‘ کے لقب سے یاد کرنے لگے تھے۔چناں چہ ابن ہشام لکھتے ہیں:

’’حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت خزیمہ کوان کی رحم دلی اور نرمی کی وجہ سے ’ام المساکین‘ . کہا جاتا تھا‘‘

الاستیعاب اور الاصابۃ میں  ہے:

’’ انہیں ام المساکین کہا جاتا تھا،کیوں کہ وہ مسکینوں کو کھانا کھلاتی تھیں اور انہیں صدقہ خیرات دیتی تھیں۔‘‘

اسی طرح کے الفاظ تاریخ الطبری اورشذرات الذہب :میں بھی ملتے ہیں ۔ طبرانی نے ابن شہاب زہری سے روایت کیا ہے کہ:

’’ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت خزیمہ سے نکاح فرمایا، اس وقت بھی ان کی کنیت ام المساکین تھی۔ یہ کنیت کثرت سے غربا اور مساکین کو کھانا کھلانے  کی وجہ سے مشہور تھی۔‘‘

بعض سوانح نگاروں نے ام المساکین کا لقب ایک دوسری  ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے منسوب کیا ہے، لیکن محققین اس کی تردید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ سیرت کے تمام مصادراور قرنِ اول کی تمام تاریخی کتابوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت خزیمہ کا لقب تھا۔

فضائل و کمالات:آپ ان صحابیات میں سے ہیں ، جنہوں نے اپنی جانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کردی تھیں اور ان کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُــْٔوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُؕ -وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَؕ (پ 22،الاحزاب:51)

ترجمہ: پیچھے ہٹاؤ اب میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ   نہیں۔چنانچہ بخاری شریف میں ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، آپ فرماتی ہیں کہ  میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کو بخش دیتی تھیں ۔  میں کہتی تھی : کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے ؟ پھر جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت اتاری تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے ۔ (بخاری ،ج3،ص303،حدیث : 4788)

وصال پر ملال: حضور سید عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے کے فقط آٹھ ماہ  بعد ہی ربیع الآخر چار ہجری میں آپ نے داعیٔ اجل کو لبیک  کہا اور اپنے آخرت کے سفر کا آغاز فرمایا ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 30برس تھی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تدفین کی ۔واضح رہے کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ میں سے صرف دو ازواج ایسی ہیں  ،جنہوں نے پیارے آقا  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیاتِ ظاہری میں انتقال فرمایا:

(1)۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبر یٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا : انہوں  نے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان المبارک  میں انتقال فرمایا۔ان کی تدفین مکہ مکرمہ میں واقع حجون کے مقام پر ہوئی جو اہل ِ مکہ کا قبرستان ہے ۔ اب اسے جنۃ المعلیٰ کہا جاتا ہے۔

(2)۔ام المؤ منین حضرت زینب بنت ِ خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور جنۃ البقیع شریف میں تدفین ہوئی ان سے پہلے جب حضرت خدیجہ  الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا تھا، اس وقت نمازِ جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا ، اس لیے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی ۔لہذا ازواج ِ مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ میں سے صرف آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور اقدس نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی ۔(طبقات ابن سعد،مواہب لدنیہ)

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved