20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5745 Downloads: 762

(4)-امت کے مسائل کا حل اور امت کا رویّہ

فکر امروز

 مولانا پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی

آج کل جب امت کو درپیش مسائل کے حل کی بات کی جائے تو اسے دو خانوں میں بانٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ ایک مخصوص دینی وضع قطع میں رہنے والے اور شریعت اسلامیہ کی ہمہ گیریت پر یقین رکھنے والے حضرات کا بیان کردہ حل۔ دوسرا عصری معلومات کا ذخیرہ رکھنے والے اور دین کی جدید تعبیر و تشریح کے دعوے دار افراد کا وضع کردہ حل۔ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا لبرل سیکولر حل بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔ تینوں قسم کے حل ایک دوسرے سے مختلف اور جداگانہ تدابیر پر مشتمل ہوتے ہیں۔

جدت پسند دانشوروں اور لبرل سیکولر مسلمانوں کا حل علماء کے حل سے تو کافی مختلف ہوتا ہے مگر دونوں کا آپسی تقابل کیا جائے تو تقریباً چولی دامن کا رشتہ ہے۔ لبرل سیکولر حل کا خلاصہ یہ ہے کہ امت کی فلاح کا اکلوتا راستہ یہ ہے کہ جتنا اسلام؛ جدید سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے موافق آتا ہے؛ اتنا بخوشی لے لیجیے اور باقی ماندہ تمام قدامت پرستی پر مبنی امور کو خدا حافظ کہہ کر نئی دنیا اور نئے زمانے میں؛ نئے صبح و شام تلاش کرنے کے لیے نکل پڑیے۔ عصری معلومات والوں کا حل بھی تھوڑے سےاختلاف کے ساتھ تقریباً اسی قسم کا ہوتا ہے۔ ان کا بیان کردہ حل امت میں مذہبی جنون کم کرنے، علماء کی اجارہ داری )ان کے زعم کے مطابق( ختم کرنے اور دورِ جدید کی رعایت میں اجتہاد کا درجہ کم سے کم لیاقت والوں پر کھول دینے کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہ دونوں حل ماخذ کے لحاظ سے عقل اور یورپ کی فکری غلامی پر مشتمل ہوتے ہیں اور تجزیہ کے لحاظ سے محض مرعوبیت پر، چاہے جدید عالمی نظام سے مرعوبیت ہو یا جدید مغربی تہذیب سے۔

رہا علماے اسلام کا پیش کردہ حل تو علمائے اسلام کا انتہائی سادہ اور بہت مؤثر طریقہ یہ رہا ہے کہ ہر دور کے علمائے ربانیین؛ اسلامی اصولوں کو سامنے رکھ کر اپنے زمانے کے حالات اور امت مسلمہ کو در پیش مسائل(Problems) کا خالص شرعی حل نکالتے ہیں اور اہل اسلام کو اسی کے نفاذ کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا بیان کردہ حل؛ مرجع کے لحاظ سے قرآن و سنت کی آیات و احادیث سے ماخوذ ہوتا ہے اور تجزیہ کے اعتبار سے امت کے موجودہ احوال کے گہرے مشاہدہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسلامی اصولوں پر اعتماد؛ انہیں فکری غلامی و مرعوبیت سے؛ محفوظ رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر علماء کے بیان کردہ حل میں حرام کاری کے قدیم و جدید ذرائع سے اجتناب کرنے اور جدید وسائل کے ذریعے نیکی کے راستوں کو کشادہ کرنے کی طرف بلایا جاتا ہے۔ وہ ایک عام مسلمان کو ترقی یافتہ انسان کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان کے طور پر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ علما اپنے بیان کردہ حل میں ایمان و استقامت کے ساتھ ہر قسم کی فکری و عملی ترقی کو نہ صرف یہ کہ پسند کرتے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ چوں کہ شریعتِ اسلامیہ کمال کو پہنچی ہوئی، تمام ادیان کی ناسخ اور تمام انسانوں کو دائمی کفایت کرنے والی شریعت ہے؛ جس کے احکام خالقِ زمانہ کے نازل کردہ اور خاتم النبیین کے بیان کردہ ہیں؛ لہٰذا ایسی شریعت کی روشنی میں نکالا گیا خالص شرعی حل ہمیشہ ہر زمانے میں مفید و کارآمد ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر تمام انسانی حلوں سے زیادہ آسان و قابل عمل(Practical) ثابت ہوتا ہے۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے میں اہل اسلام؛ علمائے ربانیین کے عطا کردہ حل پر عمل کر کے عروج پاتے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی کے مستحق ٹھہرتے رہے ہیں۔ علما کے حل میں اپنی اصل کے لحاظ سے آج بھی یہ برکت موجود ہوتی ہے بشرطیکہ وہ مخلص اور خیر خواہ ہوں۔

غیروں کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کردہ حل سے ویسے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا، نہ ہی ہم انہیں اس پر عمل کا پابند کر سکتے ہیں، لیکن آج خود مسلمانوں کا اپنا حال یہ ہے کہ انسانی حیات کے مقاصد بلکہ خود مسلم امہ کو درپیش مسائل کے سلسلے میں؛ قرآن و سنت کے اصولوں کے ماہرین اور احوال زمانہ سے واقفیت رکھنے والے مخلص و خیر خواہ حضرات کی جانب سے بیان کیا جانے والا حل؛ پہلے تو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اگر اس پر عمل کی طرف کوئی انہیں لے ہی آئے تو آخری درجے میں بے دلی کے ساتھ اپناتے ہیں، وہ بھی محض دلجوئی کے لیے، اِس یقین کے ساتھ نہیں کہ یہی ہمارے غموں کا مداوا ہے۔ پھر اُس حل پر عمل کی یہ حالت کہ "یومنون ببعض و یکفرون ببعض" کی طرح؛ کچھ مانا کچھ جھٹلایا، کچھ اپنی مرضی کا اپنایا اور بہت کچھ جو نفس کے خلاف تھا اسے چھوڑ دیا۔

صورت حال یہ ہے کہ شروعاتی مراحل میں اپنے مسائل کے حل کے سلسلے میں لبرل سیکولر ایجنڈے کی پیروی کی جاتی ہے، پھر ناکامی ہاتھ آنے پر تجدد پسندوں کی اتباع کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور جب فسادِ قلب و نظر کے سبب نتائج بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں تو مجبوراً آخری درجے میں بادِلِ ناخواستہ علماے اسلام کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ پہلے خود اپنے ہاتھوں سے مول لی ہوئی مصیبتوں کا وبال اور غلط روی سے بڑھایا ہوا منازل کا بوجھ؛ علماء کے سر ڈال کر انہیں سینکڑوں طعنوں اور الزامات سے نوازتے ہیں، پھر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے خادمانہ انداز اپنانے کی بجائے حاکمانہ لہجے میں اپنے پرابلمز کا حل مانگ کر آپ بھی شرمسار ہوتے ہیں اور انہیں بھی شرمسار کرتے ہیں۔

ہمارے زمانے میں وحی سے زیادہ اعتماد اپنی عقل پر کیا جا رہا ہے اور ایک عام انسان؛ نبی سے زیادہ دیگر انسانوں کو اپنا خیر خواہ سمجھے بیٹھا ہے۔ اس فکر کا اچھا خاصا اثر مسلمانوں کے اذہان پر بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ موجودہ دنیا میں اہل اسلام کا بڑا طبقہ؛ اب اہل کفر کی عقل پر اعتماد بلکہ انحصار کرتے ہوئے اپنے حال اور مستقبل کو ان کی رائے کے سپرد کر بیٹھا ہے۔ جو فرد جمہوری ہتھکنڈوں اور سرمایہ دارانہ حربوں کو جتنا زیادہ جانتا ہے وہ ان کے نزدیک اتنا ہی زیادہ مقدس ہے، چاہے بد عقیدہ ہو، کافر ہو، مرتد ہو یا پھر ملحد۔ اِس طبقے کو مسائل کے حل سے مطلب ہے، اُس حل کا ماخذ کیا ہے اور اس کے ذریعے ایک چیز حل ہونے سے دوسری کتنی خرابیاں اور کتنی تباہیاں ہوں گی اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ خدائی وعدوں کے مقابلے میں بندوں کی گارنٹیوں، اعداد و شمار کی فہرستوں بلکہ متوقع نتائج کے بلند بانگ دعووں پر آس لگانے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتا۔

اس صورت حال کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک علماء میں پائی جاتی ہے اور دوسری عوام مسلمین میں۔

علما کی طرف سے اصل ذمہ دار علماے سوء ہیں، چاہے وہ دور اندیشی اور خیر خواہی سے خالی صاحب علم کی شکل میں ہوں یا کم علمی و کوتاہ نظری کا شکار کسی صاحب منصب کے روپ میں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے اپنے دور کے مسائل کے بے شمار؛ بے سرو پا حل؛ پیش کیے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا بڑا طبقہ حقیقی علما کی رہنمائی پر سے اعتماد کھو بیٹھا اور خود بخود غیروں اور غیروں کی گود میں کھیلنے والوں کے آدھے ادھورے، غیر سنجیدہ اور ضرر رساں حلوں کے پر پیچ راستوں پر نکل پڑا۔ علمائے سوء میں کچھ تو غیروں کے ہاتھ پر بکے ہوئے دانا دشمن ہیں اور کچھ نادان دوست کہ پہنچانا چاہیں فائدہ اور کر بیٹھیں نقصان۔

عوام مسلمین کی طرف سے پائی جانے والی بڑی وجہ خواہشات کی طرف ان کا جھکاؤ ہے۔ خواہش کی پیروی میں ان کا معیار یہ بن چکا ہے کہ جس حل کے اندر زیادہ سے زیادہ خواہشات پر عمل کی چھوٹ ہو اور جس حل کے نتیجے میں زن، زر، زمین سب کچھ مل جائے وہ حل پہلے اپنایا جائے۔ اب ظاہر ہے کہ علمائے ربانیین تو ایسا کوئی حل دینے سے رہے، اس لیے کہ جب قرآن و سنت میں اوامر کے ساتھ نواہی یعنی بہت سے کاموں کے کرنے کے ساتھ بہت سے کاموں سے رکنے کا حکم موجود ہے تو اس سے لیا گیا حل بھی کرنے اور نہ کرنے کے درمیان مشترک ہی ہوگا۔ رہے علمائے سوء تو ان کے بے سروپا حل؛ قومی مفاد میں کم اور ذاتی مفاد میں زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے عام مسلمان چاہ کر بھی اسے اپنانے سے گریز کرتے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناقابل نفاذ اور نتیجے کے اعتبار سے بے سود ہوتے ہیں اس لیے ان کی طرف التفات ہی نہیں کیا جاتا۔ اس کے بعد تجدّد پسندوں کے یہاں بھی اچھی خاصی چھوٹ مل جاتی ہے اور لبرل سیکولر حل میں تو خواہش کی تکمیل اصل کا درجہ رکھتی ہے جب کہ اسلام پر عمل دوسرے نمبر آتا ہے۔ وہاں تو انسان کی خواہش پر حکمِ خداوندی کی بَلی چڑھا دینا ہی دانشمندی کی معراج ہے۔ اب طور پر مسلم عوام؛ خواہش کی اتباع میں؛ آخری دو میں سے کسی ایک کو چنتی ہے، اور وہاں سے پھر وہی چکر شروع ہوتا ہے جو بالآخر علما کے لیے بدگمانی و بدکلامی پر آ کر ختم ہوتا ہے

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved