23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 6553 Downloads: 721

(13)-سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری بچیاں

بزمِ دانش

ستمبر ۲۰۲۳ کا عنوان                مساجد پر کب تک سیاست ہوتی رہے گی؟

اکتوبر ۲۰۲۳ کا عنوان                    شاعروں اور مقرروں کا متعین اوقات کی اجرت طے کرنا— شرعی نقطۂ نظر

 

اپنی بچیوں کو دینی و اسلامی ماحول میں پروان چڑھائیں

مولانا محسن رضا ضیائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’سیرتِ طیبہ‘‘ اخلاقِ حسنہ کا عظیم مظہر اور ایک انقلابی زندگی کا حسین نمونہ ہے۔گم گشتگانِ راہ کے لیے ہدایت و رہنمائی کا روشن مینار ہے تو وہیں عقیدت مندانِ توحید و رسالت کے لیے مژدۂ جاں فزا ہے۔اضطراب و بے چینی کے طوفانِ بلا خیز میں ڈوبتی انسانیت کے کے لیے پروانۂ نجات ہے تو امن و آشتی کے محافظوں اور پاسبانوں کے لیے چشمِ رحمت ہے۔

بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں نوح علیہ السلام کے داعیانہ فکر و کردار،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حلم و بردباری،موسیٰ علیہ السلام کا جوش و خروش،ایوب علیہ السلام کا صبر و تحمل،ابراہیم علیہ اسلام کی ہجرت و فرقت،اسماعیل علیہ السلام کی ایثار و قربانی،سلیمان علیہ السلام کی حکمت و دانائی اوریوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کی رعنائی یہ سب اخلاقِ حمیدہ و اوصافِ جمیلہ جو سابقین انبیا و رسولانِ گرامی علیہم الصلوۃ والسلام میں پائی جاتی تھیں، بدرجۂ اتم آپ کی سیرتِ مبارکہ میں موجود ہیں۔

سیرت رسول ﷺ کا ایک اہم اور خاص پہلو یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی بااثر اور عظیم شخصیات ہوئیں،ان کی حالات زندگی، عادات و اطوار،اعمال و افعال،افکار و خیالات اور ان کے حوالے سے اس قدر معلومات اتنے مدلل اور مفصل انداز میں صفحۂ قرطاس کی زینت نہیں بنی،جس طرح رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت و سوانح کا مکمل باب تحریری و عملی شکل میں دنیا کے سامنے ہے،یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺکی حیاتِ مبارکہ و اُسوۂ حسنہ کا ایک ایک گوشہ ا ور ہر ہر پہلو مستند سندوں او رروایتوں کے ساتھ کتبِ تاریخ و سیر میں موجود ہے۔

من جملہ یہ کہ سیرتِ رسول ﷺ ہر شخص کے لیے مشعلِ راہ اور راہ نما اصول ہے،جس پر چل کر ہر شخص اپنی دینی،سماجی، معاشی، عائلی اور خانگی زندگی میں انقلابِ عظیم برپا کرسکتا ہے۔ کیوں کہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں زندگی گزارنے کے وہ راز کارفرماہیں ،جو ایک انسان کو عظمت و بلندی اور کامیابی و کامرانی عطا کرتے ہیں۔اِس کے لیے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی زندگیوں کا طائرانہ جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق و موافق گزارا۔ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی کے بعد ان کے اندر وہ تبدیلیاں آئیں کہ ان میں کوئی پیکرِ عشق و وفابنا،کوئی فاتحِ عرب و عجم ، کوئی تاجدارِ سخاوت،کوئی فاتح خیبر ، کوئی محدث ، کوئی فقیہ تو کوئی مفسرِ قرآن بنا اوریہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بااخلاق و کردار اورپاکیزہ سیرت کا کمال و جمال تھا کہ ہر کوئی مختلف رنگوں میں رنگتا چلا گیا۔

اسی طرح صحابیاتِ مقدسہ کا بھی یہی حال تھا کہ انہوں نے بھی اپنی زندگیوں کو سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قالب میں ڈھال لیا تھا اور اپنے آپ میں گوناگوں اور مختلف تبدیلیاں پیدا کیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں کوئی فقیہ بنیں تو کوئی محدثہ اور کوئی مفسرہ بنیں۔گویاں سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ و صحابیات کا رشتہ اس قدر مضبوط اور اُستوار تھا کہ انہوں نے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نصب العین اورمقصد زیست بنالیا تھا اور تادمِ اخیر اسی سے راہ نمائی و روشنائی حاصل کرتے رہیں۔

اگر دورِ حاضر کی مسلمان بچیاں اور عورتیں بھی سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا رشتہ مستحکم کرلیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں تو یقیناً ان کی زندگیوں کی بھی کایا پلٹ سکتی ہے ۔ بلکہ یہ ایک زمینی سچائی ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو مختلف حالات کا سامنا ہے، خاص طور سے فتنۂ ارتداد کا،جو مسلم معاشرے میں اپنے بال و پر پھیلا چکا ہےاور اب تک سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مسلم بچیوں کو ارتداد وبے دینی کی اور ڈھکیلتے ہوئے انہیں اسلام سے دور و نفور کرچکا ہے۔ اب ایسے فتنہ خیز اور ایمان سوز حالات میں تو اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق گہرا کیا جائے ،اپنے اقدار و روایات ، تہذیب و ثقافت اور تمام معاملات میں سیرت رسول کو شامل کیا جائے ۔آج کے ایسے پُر فتن دور میں سیرت رسول ہی میں مسلمانوں کے تمام مسائل و حالات کا واحد حل اور ان کے دین و ایمان کا تحفظ و بقا ہے۔ لہذااغیار کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار ہوکر اپنا دین و مذہب تبدیل کرنے والی بچیوں اور خواتین کو سیرت رسول سے قریب کرکے ان کی بہتر اصلاح و تربیت کی سخت ضرورت ہے۔           

اب یہاں رسول کریمﷺ کے اس کردار و عمل کو ملاحظہ فرمائیں جو آپ نے اپنے گھر کی بچیوں اور خواتین کو اپنی سیرت اور اخلاق کے سانچے میں ڈھالااور بہ حیثیتِ معلم و مربی اپنا بنیادی اور مثالی کردار ادا فرمایا :

چناں چہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی لختِ جگر نورِ نظر خاتونِ جنت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس طرح تعلیم و تربیت فرمائی کہ آپ نہایت ہی متقیہ و پارسا، محدثہ و فقیہ، باپردہ و با حیا اور تمام خواتین میں قابلِ صد رشک بنیں۔ آپ علوم و فنون، اخلاق ومحامد اور اعمال و عبادات غرض کہ ہر معاملے میں اپنی مثال آپ تھیں۔آپ اس قدر عفت و پاکدامنی کا نمونہ تھی کہ زندگی بھر کسی غیر محرم کی طرف نگاہ اُٹھاکر نہیں دیکھا۔ علامہ حافظ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے الجامع الصغیرمع فیض القدیر میں آپ کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا کرے گا،اے اہلِ مجمع! اپنی نگاہیں جھکالوتاکہ فاطمہ بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گزریں‘‘۔اس روایت سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کس قدر باپردہ اور باحیا بنیں کہ قیامت کے دن بھی آپ کو انسانوں کے انبوۂ کثیر میں یہ شرف و افتخارحاصل ہوگا کہ وہاں بھی آپ با پردہ ہوگی۔آپ نے شہزادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے ، زوجۂ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہونے اور والدۂ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ہونے کاحق اس طرح نبھایا کہ آپ دنیا کی تمام خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بن گئیں۔ 

اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جنہیں کم عمری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔آپ بھی حیا و پاک دامنی ،شرافت و پاکیزگی اور وسعتِ علمی میں سراپا مثال تھیں۔کیوں کہ آپ کی تعلیم و تربیت بھی بارگاہِ نبوی میں ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تفقہ فی الدین اور روایت فی الحدیث میں جہاں ممتاز اور اعلیٰ مقام حاصل کیا وہیں شرم و حیا کی پیکرِ جمیل بھی بنیں۔ آ پ کو فقہ و حدیث میں اس قدر مہارت و قدرت حاصل تھی کہ کبار صحابۂ کرام بھی بعض لا ینحل مسائل اور روایتِ حدیث کے لیےآپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔

یہاں ہم نے صرف دو مثالوں پر اکتفا کیا تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر ازواجِ مطہرات اور اپنی بناتِ طیّبات کی بھی اسی طرح تعلیم و تربیت فرمائی،جو اپنے زمانے کی عورتوں میں تمام شعبہ ہاے حیات میں یکتائے روزگار بنیں۔یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی پاکباز خواتین ہیں،جن کا تذکارِ جمیل قرآن و احادیث کے علاوہ تاریخ و سیر کی کتابوں میں جابجا موجود ہے۔ ان کے علاوہ تاریخ اسلام کے روشن و سنہری اوراق ایسی کئی باکمال و مایۂ ناز خواتین کے تذکروں سے مالال مال ہیں ،جن کی زندگیوں میں سیرتِ رسول ﷺکی مکمل جھلکیاں ملتی ہیں۔

یہ تمام بناتِ اسلام آج کی تمام عورتوں کے لیے یقیناً نمونۂ عمل ہیں۔اگرآج کی عورتیں سیرت رسول کے ساتھ ساتھ تاریخ کی باکمال خواتین کی سیرت کو اپنالیں اورجس طرح انہوں نے سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو جگمگایا تو اِس وقت جو خواتین ارتداد و بے دینی ، بد عقیدگی و بے عملی اور خرافات و بے ہودگی میں گرفتار ہیں،وہ جلد ہی ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔اوراس سے نہ صرف ان کی عزت و ناموس سلامت رہے گی بلکہ ان کا ایمان و عقیدہ بھی محفوظ ہوجائے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے قوم کی بیٹیوں کے لیے مشعلِ راہ بن جائیں گی۔

یہ بھی ذہن نشین کھیں کہ جب اولاد بالغ ہوجاتی ہیں تو والدین کی ذمہ داریاں بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہیں،کیوں کہ بلوغیت کی عمر کو پہنچنے کے بعد بچے یا بچیاں گناہ کرنے پر قادر ہوجاتے ہیں۔لہذا انہیں اعمالِ شر اور افعالِ بد سے دور رکھنا والدین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوتاہے،جس سے ان کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہیں اور وہ طرح طرح کی فکر وپریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اگربچپن سے ہی اولاد کی بہتر اوراسلامی ماحول میں تربیت کی جائے تو بعدبلوغیت وہ حالات نہیں پیش آتے ہیں ،جو فکر و تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ بلکہ ان کے اوپر اسلامی ماحول کے وہ اثرات و نقوش مرتّب ہوتے ہیں ،جو مرتے دم تک باقی رہتے ہیں۔  اسی لیےوالدین اور سرپرست حضرات سے ادباً گذارش ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو دینی و اسلامی ماحول میں پروان چڑھائیں اور انہیں دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ و پیراستہ کریں۔ سیرتِ رسول کو خود بھی اپنا ئیں اور اپنی بچیوں کو بھی اس کےدروس و اسباق پڑھائیں تاکہ ان کی زندگیوں میں سیرت رسول کے تابندہ نقوش حلول کرجائیں اور پھر نہ ہی وہ اپنے دین و ایمان سے بغاوت کرے گی اور نہ ہی اپنی عزت و ناموس سے کوئی کھلواڑ کرے گی۔

رحمتِ عالم ﷺ کے خواتین پر احسانات

از:میمونہ اسلم

وہ ہر عالم کی رحمت تھے کسی عالم میں رہ جاتے

یہ  ان کی    مہربانی  ہے    کہ یہ   عالم   پسند  آیا

 اس جہان رنگ وبو میں کوئی مخلوق ایسی نہیں جو محسن انسانیت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر احسان نہ ہو۔ ہر ایک کو آپ کی رحمت والفت سے حظ وافر ملا ہے۔ آپ نے بھٹکتی ہوئی انسانیت کو ہدایت کا رستہ دکھایا، مظلوموں کی داد رسی کی، بے سہاروں کا سہارا بنے، لاچاروں کا چارہ بنے، کائنات جو جورو ستم سے بھری ہوئی تھی اسے عدل وانصاف سے بھر دیا، مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بڑا، نوجوان ہو یا بوڑھا، ہر ایک کے لیے آپ نے حقوق مقرر فرمائے۔ پھر خواتین پر آپ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اس کا کما حقہ شکریہ ادا  کرنا ممکن نہیں۔ آپ نے عورت کو پستی وذلت سے نکال کر عزت کا وہ مقام عطا فرمایا کہ کوئی مہذب سے مہذب  معاشرہ اس کی مثال نہیں پیش کر سکتا۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے کائنات سسک رہی تھی، ہر طرف ظلم و ستم، کی آندھیاں چل رہی تھیں اور خواتین کے احوال ناگفتہ بہ تھے۔ یونانی تہذیب ہو یا عرب معاشرہ، یورپ ہو یا افریقہ ہر جگہ عورت ناروا سلوک سے گزر رہی تھی، کوئی اسے انسان تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، تو کوئی اسے فتنہ کا سبب سمجھتا تھا۔ کوئی اس کی پیدائش پر ناخوش ہوتا تو کوئی اسے زندہ درگور ہی کر دیتا، کوئی اس کی پرورش کو اپنے لیے بوجھ سمجھتا تو کوئی اسے ویسے باعث عار سمجھتا۔ کسی کے شوہر کا انتقال ہو جاتا تو اولاد اسے مال  سمجھ کر منڈیوں پر لے جاکر اسے فروخت کر دیتیں۔ جاہلی معاشرہ میں اگر بالفرض شادی بھی کی جاتی تب بھی تکریم کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ نہ اس کی رضا کی کوئی حیثیت تھی۔ کبھی نکاح بعولہ ہوتا جس میں ایک شخص کئی خواتین کا مالک بن جاتا، کبھی نکاح متعہ  ہوتا  کبھی زواج بدل جس میں   بیویوں کا آپس میں تبادلہ ہوتا تھا، کبھی نکاح شغار  وٹہ سٹہ کا نکاح بغیر مہر کے عورت کے بدلے عورت دی جاتی تھی، کبھی بغیرخطبہ ونکاح کے دوستی کی شادی ہوتی کبھی نکاح البغایا ہوتا، فاحشہ عورتوں سے تعلق وغیرہ۔

 

جامعہ نقشبندیہ کنزالایمان، منڈی بہاؤ الدین جامعہ نقشبندیہ کنزالایمان، منڈی بہاؤ الدین

 

الغرض مختلف طرح کے غیر اخلاقی طریقے مروج تھے۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو تحفظ حقوق نسواں ہو گیا۔ آپ نے ایسے حقوق عطا فرمائے کہ آج بھی دنیا کی ترقی یافتہ قومیں کہلوانے والے لوگ اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکے۔ آپ نے جو احسانات  فرمائے ان میں سر فہرست زندہ درگور ہونے سے بچانا ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 

”ان اللہ حرم علیکم عقوق الامھات ومنع وھات وواد “۔

بے شک اللہ نے تم پر ماؤں میں نافرمانی ان سے مطلوبہ چیزوں سے انکار اور بے جا مطالبہ اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ٹھہرایا۔ (صحیح بخاری)

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزوں کی محبت عطا کی گئی ہے۔ خوشبو، عورت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ جہاں لوگ سمجھتے تھے کہ زندہ جانور کا گوشت کھانے میں اسے شریک کرنا جرم ہے اور اس کا ذکر قرآن  کریم میں بھی ہے۔

وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُڪُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَاۚ وَ اِنْ یَّڪُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَڪَآءُؕ

اورکہتے ہیں: ان مویشیوں کے پیٹ میں جو ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مرا ہوا ہو تو پھر سب اس میں شریک ہیں۔ وہاں اس کی پرورش پر اجر عظیم کا مژدہ سنایا۔ بیٹی اور بیٹیوں کے درمیان مساوات کا حکم دیا اور خود بیٹیوں کی طرف رغبت بھی ظاہر فرمائی۔ 

 حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی اولاد میں تقسیم میں برابری رکھا کرو اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو یعنی بیٹیوں کو بیٹوں پر فضیلت دیتا۔ اس کے علاوہ عورت کو میراث میں بھی وارث بنا دیا کہ وہ اپنے شوہر کے مال سے بھی اولاد ہو تو آٹھواں نہ ہو چوتھا حصہ پائے گی۔ اپنے بیٹے کی میراث سے چھٹا حصہ پائے گی 

اور والد کی میراث سے اگر کئی بھائی بہن ہیں تو بھائی سے نصف پائے گی۔ تو کئی طرح سے اسے وارث بنایا گیا۔ جہاں اسے اپنی ذات سے متعلق کوئی حق حاصل نہ تھا وہاں اسے حق رائے دہی عطا فرمایا۔ جہاں اس پر انسانیت سوز سلوک ہو رہا تھا وہاں اسے بھی اپنے دامن سے وابستہ ہونے کی سعادت بخشی۔ اسے خود سے بیعت فرمایا۔ ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز میں قرات کو کم کیا۔ ان کی گفتگو کو سنا ان کے لیے  وعظ کا وقت عطا فرمایا۔

 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے وعظ کا ایک دن مقرر فرما دیا اس دن آپ ان سے ملاقات کرتے انہیں نصیحت فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے ان کو احکام بتاتے۔(بخاری کتاب العلم)

جہاں گھر میں اس کی نہیں سنی جاتی تھی وہاں انتظامی ذمہ داریوں پر تقرری فرمائی۔ جہاں اس کی شادی میں اس سے اجازت نہیں لی جاتی تھی وہاں رشتہ میں مشاورت کا حکم دیا۔ پسند نا پسند کا اختیار دیا۔ اس کے لیے اس کی شایان شان مہر کا حکم دیا۔ اگر شوہر اس پر ظلم کرتا ہے۔ اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو اسے خلع کا حق دیا۔ اسے بیوہ یا مطلقہ ہونے کے بعد بھی  دربدر ہونے نہیں دیا بلکہ عقد ثانی کی اجازت عطا فرمائی اور اس کی اولاد کو اس کے ساتھ حسن سلوک کا پابند فرمایا۔ اپنے آخری خطبہ میں بھی اس کے حقوق ادا کرنے پر زور دیا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا: عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انھیں اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمات (احکام) کے تحت وہ تمہارے لیے حلال ہوئیں۔ خطبہ میں عورتوں کے حقوق پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

خبردار تمہارے لیے عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت ہے۔ کیونکہ وہ تمہاری پابند ہیں اور اس کے سوا تم کسی معاملے میں حق ملکیت نہیں رکھتے۔

 اس کے علاوہ مرد اور عورت کو برابر قانونی تشخص عطا فرمایا۔ اس کی گواہی کو بھی قبول کیا اور اس پر تہمت لگانے والوں کے لیے حد قذف مقرر فرمائی۔ ان کی تکریم کی خاطر گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت کا حکم ارشاد فرمایا۔ عورت چاہے جس روپ اور رشتہ میں بھی تھی اس کے لیے عزت کا اعلی معیار قائم کیا۔ بیٹی ہے تو کھڑے ہوکر استقبال فرمایا اور اسے دوزخ کے سامنے آڑ فرمایا، اس کی پرورش پر بہترین اجر کی بشارت عطا فرمائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو۔ 

”لاتکرھوا البنات فانھن المونسات الغالیات “

 تم بیٹیوں کو ناپسند نہ کیا کرو بے شک وہ والدین کی غمخوار اور لائق احترام ہوتی ہیں۔  (مسند  احمد بن حنبل)

بیٹیوں پر آپ کے احسانات:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، ان کی اخلاقی تربیت کی، پھر ان کی شادی کی، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہا، تو اس کے لیے جنت ہے۔ (احمد بن حنبل مسند/ 9/97) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی پر  شفقت، بیٹی کے ساتھ حسن سلوک کی اعلی مثال: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے چال ڈھال شکل و شبہات  سلیقہ عادت اور گفتگو کے انداز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے، انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے اور جب آپ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے لیے کھڑی ہوجاتیں۔ آپ کے دست اقدس کو پکڑ بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ بٹھا لیتیں۔ )ابوداؤد۔ السنن کتاب الادب۔ ماجاء فی القیام(

بیویوں کے بارے میں تاکید

زوجہ ہے تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق فرمایا: تم میں سب  سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہے۔ اسکے منہ میں لقمہ ڈالنے کو صدقہ قرار دیا۔ حضور اپنی ازواج کی دلجوئی فرماتے۔ کبھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کے شانہ اقدس پر ٹھوڑی مبارک رکھ کر کھیل دیکھا، کبھی حضور نے ان کے ساتھ دوڑ لگائی، کبھی ازواج کے ساتھ گھر کے کاموں میں شریک ہوئے۔ کبھی ان سے رازدارانہ گفتگو کی، کبھی ان سے مشورے کرکے انکی عزتوں میں اضافہ فرمایا، کبھی سفر کے جانے کے لیے قرعہ اندازی فرمائی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضور اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے۔ جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔(صحیح بخاری، کتاب الہبہ وفضلہا)

 ماں پر احسان مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے پوچھا ”من احق بحسن صحابتی“ ؟ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ حضور نے فرمایا: تیری ماں اس نے پھر پوچھ!ا یارسول الله پھر کون؟ آپ نے فرمایا: امک تمہاری ماں۔ اس نے یہی بات تیسری مرتبہ دہرائی تو حضور نے تینوں مرتبہ ماں کا نام ہی لیا۔ اس نے چوتھی مرتبہ پوچھا تو آپ نے فرمایا ،، ثم ابوک ،، پھر تمہارا باپ۔(صحیح بخاری، کتاب الادب باب من احق بحسن صحابتی)

حضرت مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا:”ان اللہ یوصیکم بامھاتکم “  

اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ماؤں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)

غیر مسلم عورتوں پر احسان مصطفیٰ:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت پائی گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی۔  (صحیح بخاری، کتاب اکجھاد والسیر، باب قتل النساء فی الحرب)

ایک موقع پر ارشاد فرمایا: مشرکین کی عورتوں اور خدمت گاروں کو مت قتل کرنا۔

لونڈیوں اور کنیزوں پر احسان مصطفیٰ

مدینہ طیبہ کی بے سہارا عورتوں میں سے اگر کوئی لونڈی اپنے کسی کام کے سلسلہ میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہیں لے جانا چاہتی تو لے جاتی آپ اس پر شفقت فرماتے اور اس کے کام کاج میں اس کا سہارا بنتے۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب) پس ثابت ہوا کل مخلوقات پر احسانات کی طرح مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس امت کی جملہ خواتین پر بھی  اتنے احسانات ہیں کہ جن کاشمار نہیں اور آپ کا سحاب کرم ہر ایک پر اتنا برسا کہ اس نے اپنا  ہی دامن تنگ پایا ہے۔

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved