25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5951 Downloads: 781

(16)-سفرِ آخرت

آہ! حضرت مولا محمد فاروق عزیزی مصباحی رحمہ اللہ تعالیٰ

مفتی بدر عالم مصباحی

---------------------------------------------------

مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد فاروق عزیزی مصباحی رحمہ اللہ تعالیٰ دار العلوم اشرفیہ کے قدیم فضلا سے تھے ، ۲۳ جون ۲۰۲۳ء جمعہ مبارکہ کی رات گزار کر تقر یبا ۳ بجے شب داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

 مولانا موصوف حضور حافظ ملت کے قدیم تلا مذہ میں ایک  مخلص و جاں نثار کی حیثیت سے جانے جاتے ، محبت وعقیدت کا عالم یہ تھا کہ حضور حافظ ملت ہی سے مرید بھی ہو گئے اور تاحیات اسیر حافظ ملت بن کر ان کے مشن سے وابستہ رہے ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے والہانہ لگاؤ تھا ، جامعہ اشرفیہ کی ملازمت سے الگ ہونے کے باوجود پوری وفاداری کے ساتھ جامعہ اشرفیہ کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہے ۔ جامع اشرفیہ کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہ کرتے ۔ مذہب اہل سنت مسلک اعلیٰ حضرت پر سختی سے کار بند رہ کر دوسروں کو بھی اسی مسلک پر قائم رہنے کی تلقین کرتے اور مخالفین کو منہ توڑ جواب دیتے ، اپنی اولاد کی تربیت بھی اسی انداز سے کی کہ ان کے اندر بھی  جامعہ اشرفیہ کی محبت و وفاداری، مسلک اعلیٰ حضرت کی حمایت کا جذبہ کامل طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

ع:           ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے

 مولا کریم انہیں اپنے جوار قدس میں جگہ عطا فرمائے ، پسماندگان کو صبر جمیل کی برکات سے نوازے۔ ان کی دینی خدمات کو شرف قبول عطافرمائے اور بہترین جزا عطا فرمائے ۔ حضرت مولانا  موصوف کی نماز جنازہ کے بعد فوراً موسلا دھار بارش ان کے لیے نیک فال ہے ۔

دعا ہے کہ مولا تعالیٰ ان کے فرزندوں کو مذہب اہلی سنت مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے ۔ اور دین و دنیا کی فلاح و بہبودگی سے نوازے۔ آمین

بدر عالم المصباحی

خادم دار العلوم اشرفیہ

مبارک پور اعظم گڑھ (یو پی)

مبلغ اشرفیہ حضرت مولانا محمد فاروق مصباحی علیہ الرحمہ

مبارک حسین مصباحی

---------------------------------------------------

دنیا میں جو بھی آتا ہے اسے ایک دن جانا بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:کُلُّ نَفۡسٍ ذَائِقَۃُ الۡمَوۡت ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ مبلغ اشر فیہ حضرت مولانا محمدفاروق مصباحی۵ ذی الحجہ ۱۴۴۴ھ/۲۴ جون ۲۰۲۳ء بروز پنجشنبہ بشب ۳ بجے، اعظم گڑھ کے ایک ہاسپیٹل میں  وصال فرما گئے ، آپ کے وصال کی المناک خبر ہر طرف پھیل گئی ۔ ہم نے دعاے مغفرت کرنے کا شرف حاصل کیا ، موصوف موضع دیولی خالصہ کے باشندے تھے، یہ موضع جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے متصل ہے ۔سند کے اعتبار سے آپ کی ولادت یکم فروری ۱۹۵۶ء ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد پرائمری کی تعلیم دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں حاصل کی اور اس کے بعد  درس نظامی کی تعلیم کے لیے بھی اسی ادارہ  میں داخل ہوئے ۔ آپ پر جلالۃ العلم حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ کی خاص نگاہ تھی ، آپ نے حضور حافظ ملت سے صرف درس نظامی کی کتا بیں ہی نہیں پڑھیں بلکہ آپ سے معرفت کے جام بھی پیے اور آپ سے مرید ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ کے نامور عالم دین اور مصباحی فاضل کہلائے ۔ آپ کے مرید ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ حضور حافظ ملت  نور اللہ مرقدہ  بغیر فوٹو کے حج و زیارت کے لیے نکلنے والے تھے تو آپ اور حضرت قاری جمیل احمد عزیزی دامن سے وابستہ ہوئے۔

یوں تو آپ برسوں سے شوگر وغیرہ کے مریض تھے اور اب تو عام طور پر اس قسم کے امراض لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔لوگ علاج کراتے رہتے ہیں گرتے اور سنبھلتے رہتے ہیں ۔ آپ نے اپنے وصال سے قبل دو وصیتیں کی تھیں، ہماری نماز جنازہ حضرت سر براہ اعلیٰ پڑھائیں گے اور ہماری قبر قبرستان میں ہما رے والد صاحب مرحوم کی قبر سے جانب پچھم  بنا ئیں۔ خیر نماز عصر کے بعد آپ کی نماز جنازہ عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی سر براہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ نے پڑھائی اور آپ کی قبر بھی آپ کے والد مرحوم کی قبرسے متصل آبائی قبرستان میں بنی، نماز جنازہ  میں کثیر علما اور عوام تھے سب نے بصد حسرت و غم آپ کو سپردِ لحد کیا اور مغفرت کے لیے خوب خوب دعا کی گئی ۔

آپ حضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہ اور الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے حد درجہ محبت و عقیدت رکھتے تھے ۔ خاندان کے دیگر  افراد کو بھی ٹوٹ کر چاہتے تھے ۔ دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں آپ کے دیگر اساتذہ میں مرتب فتاویٰ رضویہ حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی، اشرف العلما حضرت مولانا سید حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی ، قاضی شرع حضرت مولانا محمد شفیع مبا رک پوری، بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان اعظمی مبارک پوری، حضرت علامہ مظفر حسن ظفر   ادیبی مبارک پوری، شیخ القرا حضرت مولانا قاری محمد یحییٰ مبارک پوری اورسعدیِ وقت حضرت مولانا سید شمس الحق گجہڑوی وغیرہ تھے ۔ آپ محنت سے پڑھتے مضبوط عزم و ہمت کے فرد فرید تھے۔ آپ کی فراغت۱۰ شعبان  المعظم ۱۳۸۹ھ / ۲۳ اکتوبر ۱۹۶۹ءمیں ہوئی ۔

آپ پنج وقتہ نمازوں کے سخت پابند تھے ، تہجد اور دیگر اوراد و وظائف بھی آپ کی حیات کے حصے تھے، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، تعلقات بنانے اور نبھانے کا فن خوب جانتے تھے۔حضور حافظِ ملت  نے آپ کو دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری سونپی ، علاقے کے دیہاتوں اور قصبوں میں آپ خوب معروف تھے، بد عقیدوں کو ایک نظر دیکھنا گوارا نہیں تھا  ، اپنے علم و حوصلے کے مطابق تقریریں بھی خوب کرتے تھے ، عام طور پر بد عقیدوں سے ٹھنی رہتی تھی، مناظرانہ دماغ رکھتے تھے  ۔ عقد مسنون  کیا آپ کی اہلیہ محترمہ نیک اور صالحہ ہیں آپ کی اولاد میں چار فرزند  جناب عثمان غنی، جناب صہیب رومی، مولانا تحسین رضا نقش بندی، محمد ارقم  عزیزی اور تین صاحب زادیاں ہیں۔ باقی پورا خاندان ، اعزہ واقارب اور متعلقین ہیں ۔ ہم بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہیں۔ مولا تعالیٰ  انھیں جنت الفردوس میں بلند مقام  عنایت فرمائے اور پسماندگان کو صبر و شکر کی توفیق ارزانی فرمائے آمین یا رب العالمین بجا سید المرسلین  علیہ الصلاۃ والتسلیم۔

حضرت مولانا اسرار الحسن انصاری اشرفی علیہ الرحمہ

مبارک حسین مصباحی

---------------------------------------------------

19 جون کی شب میں 11 بج کر ۳۰ منٹ پر قائد ملت حضرت مولانا اسرار الحسن انصاری اشرفی محلہ پورہ رانی اپنی رہائش گاہ پر انتقال فرما گئے ، آپ عرصۂ دراز سے زیر علاج تھے۔ آپ قصبہ مبارک پور کی معروف دینی اور سیاسی شخصیت تھے ، آپ کے والد ماجد محترم امین گرہست  مرحوم تھے ، خاندانی رکھ رکھاؤ بھی خوب تھا، بلند اخلاق ، حالات کے مد و جزر پر نگاہ رکھنے والے تھے۔ کامیابی اور نا کامی تو اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے مگر آپ محنتی اور جفاکش تھے ، بلند اخلاق اور ملنسار تھے ۔ آپ جب بھی ملتے خوش ہوتے اور دل جمعی کے ساتھ مصافحہ کرتے ۔آپ سے مبارک پور میں بارہا ملاقاتیں ہوتی رہیں ایک بار سریا شریف خانقاہ میں ملاقات ہوئی، بعد میں معلوم ہوا کہ آپ شیخ طریقت  حضرت سید حامد حسن میاں قادری نقش بندی سجادہ نشین خانقاہ قادریہ نقش بندیہ سریا شریف کے خلیفہ ہیں۔

آپ یتیم خانہ مدرسہ اسلامیہ اشرفیہ اور مدرسہ جامعۃ الزہرا نسواں کے بانی ہیں اور تا حیات ان کے نگراں اور سربراہ بھی رہے۔ بزم احباب کے زیر اہتمام ہونے والے نعتیہ مشاعرے کی آپ نے 25 برس صدارت فرمائی ، نیز دیگر اداروں کے ذمہ دار بھی رہے۔

آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحبزادے مولانا حافظ عبد اللہ نے پڑھائی اور محلہ حیدر آباد شاہ کا پنجہ میں تدفین عمل میں آئی۔ نماز جنازہ  میں عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، نعیم ملت حضرت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی،  جامعہ اشرفیہ کے ناظم اعلیٰ الحاج سرفراز احمد، سابق چیرمین ڈاکٹر شمیم احمد، حاجی سلیمان اختر شمسی ، حاجی محمو د اختر نعمانی وغیرہ اہم شخصیات تھیں۔

آپ مبارک پور سے دو بار ایم ایل اے کے امیدوار تھے، آپ ۱۹۸۹ اور 1991 میں الیکشن لڑے مگرفتحیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے۔ اسی طرح مبارک پور سے دو بار ۱۹۸۸ اور ۲۰۲۰ میں چیئر مینی کا الیکشن لڑے مگر اس میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ آپ سیاسی اعتبار سے مختلف پارٹیوں سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ آپ کی بے شمار سماجی خدمات ہیں، آپ کی رحلت قوم وملت کا عظیم خسارہ ہے ۔ آپ کے وارثین میں چار لڑکے مولانا حافظ عبد اللہ، عبد الرحمٰن، محمد احمد، محمد حسنین اور چھ لڑ کیاں ہیں۔

 اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہیں مولا تعالیٰ تو اپنے فضل سے ان کی مغفرت فرما اور پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے سرفراز فرما۔ آمین

آہ! کاتب تنویر احمد ٹانڈوی بھی نہیں رہے

مبارک حسین مصباحی

---------------------------------------------------

المناک خبر یہ ہے کہ کاتب تنویر احمد ٹانڈوی کلرک دفتر تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبار کیور رما ہاسپیٹل، اعظم گڑھ میں 3 جولائی 2023، صبح ۶؍ بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ یہ جانکاہ خبر دلوں پر بجلی بن کر گری ، جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران ، اساتذہ اور طلبہ کے چہرے فق ہو گئے، سب نے کلمات استرجاع پڑھے اور سب نے ان کی روح کو ایصال ثواب کیا۔

پس منظر یہ ہے کہ ہمارے کاتب صاحب قریب تیس برس سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں خدمت انجام دے رہے تھے ، ابتدا میں ہم نے انھیں ماہنامہ اشرفیہ کی کتابت کے لیے مدعو کیا تھا ، پھرکاتب کے امور کمپیوٹر انجام دینے لگا ، ہم نے موصوف سے بار بار کہا کہ آپ کمپیو ٹر چلانا سیکھ لیں مگر وہ یہی کہتے رہے کہ مشہورہ تو اچھا ہے ہم ضرور سیکھیں ہے مگر بات آئی گئی ہوتی رہی ،انتظامہ کی نظرِ انتخاب پڑی اور  آپ آفس میں بیٹھنے لگے دفتر تعلیمات کے بہت سے تعلیمی امور آپ کے حوالے کر دیے گئے ، پھر آپ گورنمنٹ سروس میں آگئے۔

آپ رمضان المبارک اور دیگر چھٹیوں کے اوقات حسب دستور جامعہ اشرفیہ میں گزارتے ، عید قرباں کے موقع پر انتظامیہ کلرک حضرات و غیره کو چمڑا گودام میں تحریری امور کے لیے روکتی ہے ۔  حسب سابق آپ بھی چمڑا گو دام میں خدمات انجام دے رہے تھے ، ٹھیک عید الاضحیٰ کے پہلے دن شام کو سات بجے کے بعد آپ آٹو سے جامعہ اشرفیہ کے باب حافظ ملت پر اترے، اندر داخل ہونے کے لیے گیٹ پر پہنچنے سے پہلے کسی بندۂ خدا کی کال آئی آپ نے موبائل سے بات کرنا شروع کی اور روڈ کے کنارے کھڑے ہو کر محوِ گفتگو ہو گئے ، آپ کے دوسرے ہاتھ میں دستی بیگ تھا، اتنے میں ایک برق رفتار بائک والے نے اپنی بد حواسی میں سائڈ میں کھڑے کاتب صاحب  کو ٹکر مار دی ، ضرب اتنی شدید تھی کہ آپ دور جا کر گرے، ایک پیر فریکچر ہو گیا سینے میں بھی چوٹ لگی مگر آپ اچانک گرے جس کی وجہ سے آپ کے سر میں شدید چوٹ آئی اور آپ پر غشی طاری ہو گئی، اتنے میں کافی لوگ جمع ہو گئے، الحاج ماسٹر فیاض احمد عزیزی نے بتایا کہ میرے پاس پو نے آٹھ بجے کال آئی کہ کاتب صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا آپ اسی وقت آجائیے ، ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ میں نے ڈائننگ ہال سے آکر ابھی کرتا اتارا ہی تھا کہ اتنے میں ایکسیڈنٹ کی خبر مل گی، فرمایا ،میں نے فون کرنے والے سے کہا کہ بغل میں اشرفیہ ہاسپیٹل ہے وہاں لے کر چلو میں بھی آرہا ہوں۔ ماسٹر صاحب اشرفیہ ہاسپیٹل پہنچے تو کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا ،کا تب صاحب کی ٹانگ فریکچرہوگئی تھی اور وہ بے ہوش تھے ، آپ نے ڈاکٹر محمد فہیم عزیزی سے رابطہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ انھیں آپ اعظم گڑھ لائف لائن ہاسپیٹل لے جائیے ۔

الحاج ماسٹر فیاض احمد عزیزی اور دو طالب  علم محمد فضیل احمد گڑھوا اور غلام جیلانی کٹیہار آپ کو لائف لائن لے گئے ۔ اس کے بعد الحاج سرفراز احمد ناظم اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، الحاج جمال احمد نواده اور ماسٹر صدر عالم بھی پہنچ گئے ، وہاں سٹی اسکین اور ایکسرے وغیرہ کیے گئے رپورٹ میں آیاکہ ان کے دماغ میں کانی چوٹیں ہیں اسی وقت آپر پیش ضروری ہے۔ ہمارے یہاں بروقت آپریشن کرنے والا ڈاکٹر نہیں ہے اس لیے انہیں کسی دوسرے ہاسپٹل میں لے جائیں ، ناظم اعلیٰ نے ڈاکٹر محمد فہیم عزیزی سے رابطہ کیا انھوں نے رماہاسپیٹل اعظم گڑھ کا مشورہ دیا اور خود بھی ہا سپیٹل بات کر لی ، یہ لوگ وہاں لے کر پہنچے۔ ناظم اعلیٰ صاحب نے گفتگو کی ۔ انھوں نے کہا کہ صورت حال انتہائی نازک ہے، آپریشن تو ہم کر دیں گے بس آپ دعا کریں۔ رات کے ایک بجے ہوں گے، آپریشن سے ۱۵ منٹ پہلے کا تب مرحوم کے گھر سے بڑے صاحب زادے احمد رضا اوربرادر صغیر آفتاب احمد وغیرہ ہاسپیٹل پہنچ گئے، بر وقت دو بوتل خون کی ضرورت تھی مرحوم کے برادر نسبتی محمد حسن  ٹانڈوی اور ابو سعد ٹانڈوی نے ایک ایک بوتل خون دیا ، ان حضرات نے کاتب مرحوم کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ڈاکٹروں نے کہا اب مریض کو دکھانا انتہائی مشکل ہے آپریشن تھیٹر میں لے جائیں گے تو آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ خیر دیکھا گیا ، بقول ما سٹر فیاض عزیزی قریب ساڑے تین گھنٹے آپریشن جاری رہا، جب ڈاکٹر فارغ ہو کر نکلے تو ساڑھے تین بج چکے تھے ڈاکٹر کا کہنا تھا سر کی باریک رگوں میں خون جم چکا تھا، صورت حال انتہائی مشکل تھی ،اب 72 گھنٹے کے بعد صحیح صورت حال کا اندازہ ہو گا ۔ اس دوران لوگوں کا آنا جانا لگا رہا ۔ موت کا ایک وقت معین ہے ۔ 3 جولائی 2023 کو صبح سات بچے الحاج ماسٹر فیاض عزیزی کے پاس ہاسپیٹل سے کال آئی کہ آپ ہاسپیٹل آجائیے۔ خیر آپ جامعہ اشرفیہ کی گاڑی سے رما ہاسپیٹل اعظم گڑھ پہنچے، آپ کو اندر لے گئے اور کہا کہ افسوس آپ کے مریض صبح چھ بجے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے، ہزار کوشش کے باوجود ہم انھیں بچا نہیں پائے  ۔ اسی دن جامعہ اشرفیہ عید قرباں کی تعطیل کے بعد کھلا تھا بہت سے اساتذہ صبح ہی اپنی قیام گاہوں سے واپس آئے تھے ، آٹھ بجے کے بعد ماسٹر صاحب جامعہ اشرفیہ واپس آئے، صبح سے کاتب صاحب کے تعلق سے باہم غم و افسوس کی گفتگو ہو رہی تھی، اب ماسٹر صاحب کا چہرہ دیکھ کر سب اساتذہ صورت حال جاننے کے لیے بے چین تھے ۔ آپ اسٹاف روم میں تشریف لائے اور یہ اندوہناک خبر سنائی، سب کے چیرے فق ہو گئے اور سب نے کلمات استرجاع پڑھے اور مرحوم کے لیے اپنے اپنے طور پر دعاے مغفرت کی  اشرفیہ ہاسپیٹل کی ایمبولنس سے مرحوم کو ٹانڈہ روانہ کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا کا دور ہے ہر طرف خبر عام ہوگئی ہم نے بھی کاتب مرحوم کے وطن ٹانڈہ متعدد حضرات سے گفتگو کی، معروف ادیب و شاعر جناب انس مسرور سے گفتگو ہوئی ، انھوں نے کہا ہمیں اس الم ناک حادثے کی کوئی خبر نہیں ہم تو منتظر تھے کہ کاتب تنویر صاحب  آئیں گے تو ملاقات ہوگی مگر آہ !وہ تو ہمیشہ کے لیے اپنےمالک حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئے، انھوں نے دعاے مغفرت کرتے ہوئے بات ختم کی جب کہ ان سے پہلے حضرت مفتی عبید الرحمٰن ٹانڈوی سے گفتگو ہو چکی تھی ۔ابھی انھیں بھی وصال پر ملال کی کوئی خبر نہیں تھی ، پھر محترم ابو طلحہ عطاری سے شرف ہم کلامی حاصل کیا ،انھوں نےکہا ہمیں خبر مل چکی ہے ہم دعوت اسلامی کی جانب سے ایک ٹیم کو غسل دینے کے لیے بھیجیں گے ، انھوں نے ہی بتایا کہ شام تین بجے نماز جنازہ کا اعلان ہو چکا ہے۔

 جامعہ اشرفیہ میں ہر طرف موصوف شہید مرحوم کی یادوں کے چراغ روشن تھے ، ہر مجلس میں ان ہی کے المناک ذکر خیر کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، جامعہ اشرفیہ سے خاصے اساتذہ نے آخری رسو مات میں شرکت کی سعادت حاصل کی ، پانچ گاڑیاں نکلیں ، محب گرامی حضرت مفتی زاہد علی سلامی مد ظلہ العالی نے فرمایا لگ بھگ ایک ہزار کا مجمع رہا ہوگا جن میں مقامی اور بیرونی علما ، حفاظ اور طلبہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت فرمائی ۔ نماز جنازہ جانشین حضور حافظ ملت حضرت عزیز ملت علامہ شاه عبد الحفيظ عزیزی سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ نے پڑھائی ، دیگر اہم شر کا میں صدر المدرسین حضرت مفتی بدر عالم مصباحی، نعیم ملت حضرت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی ، حضرت مولانا مسعود احمد برکاتی اور الحاج فیاض احمد عزیزی وغیرہ تھے ۔

قرآن حکیم میں ہے:”وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ-  فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ “ (الاعراف:۳۴)

اور ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے جب وہ میعاد پوری ہو جائے گی تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکیں۔ گے اور نہ ایک گھڑی آگے ہو سکیں گے۔

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا کام حرام کیے ہیں اور اس میں بتا دیا کہ اس کی زندگی کا ایک وقت معین ہے اور جب وہ وقت آجائے گا تو اس پر لا محالہ موت آجائے گی اور اس کی موت کا وقت بتا یا نہیں گیا ہے اس لیے ہر وقت وہ موت کا منتظر رہے اور حرام کاموں سے بچتا رہے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حرام کام میں مشغول ہو اوراس کی موت کا وہی وقت مقرر ہو۔

بلاشبہ ہمارے کا تب مرحوم جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے تعاون چرم قربانی کے نظم و نسق میں لگے ہوئے تھے ۔ اپنے وطن سے دور  دین و دانش کے فروغ سے جڑے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل و کرم  سے انھیں  غریق رحمت فرمائے ۔

آپ کی ولادت قصبہ ٹانڈہ محلہ سکر اول پورب گوٹھ ضلع امبیڈکر نگر میں ہوئی۔ گھر گھرانہ دینی اور مذہبی ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے کتابت کی مشق شروع کی اور ماشاء اللہ تعالیٰ اچھے کا تب ہوگئے، پہلے آپ اہلِ سنت کے معروف ڈائجسٹ ماہ نامہ استقامت کان پور کی کتابت سے منسلک تھےمبارک پور آنے کے بعد اپنے کانپور آنے جانے کی روداد بھی سناتے تھے ، ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ سے رابطہ کیا ،خیر آپ تیار ہو گئے ، یہ کوئی تیس برس قبل کی بات ہے۔ آپ نے مبارک پور جامعہ اشرفیہ میں قدم رنجہ فرمایا اور حسب گفتگو ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور  کی کتابت شروع فرمادی ۔ یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا ۔

آپ لفظوں کے لکھنے میں بڑی گہری نگاہ رکھتے تھے ۔ عام طور پر لوگ کس طرح لکھتے ہیں صحیح املا کیا ہے، قدیم رسم الخط کیا تھا اور جدید رسم الخط کیا ہے۔ ماہرین کتابت کے درمیان اس کا املا مختلف فیہ ہے مگر راجح یہ ہے ۔ اسی دوران 1332 صفحات کے ضخیم سید ین نمبر کی کتابت شروع ہوئی۔ سیدین سے مراد خانقاہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے دو حقیقی برادران  سید العلما حضرت علامہ سید آل مصطفےٰ قادری برکاتی قدس سرہ العزیز اور احسن العلما حضرت شیخ طریقت حافظ سیدمصطفیٰ حیدر حسن میاں قادری برکاتی سابق سجادہ نشین خانقاه قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ ۔ خیر آپ نے بڑی عقیدت و محبت سے کتابت کی خدمت انجام دی ، مختلف انداز سے دیدہ زیب عنوانات، اہل قلم اور قارئین کے دلوں کو بھانے والی دلکش کتابت ، ہر دو چار صفحےکے بعد جلیل القدر خوش نویسوں  کے بنائے ہوئے طغرے لگائے ، ورق پلٹتے جائیے اور دل و دماغ فرحت و انبساط سے جھومتے چلے جاتے ہیں ۔ سیدین نمبر کے بعض مضامین کی کتابت معروف کا تب زرق الماسی رام پوری نے بھی کی، 2003 ء میں عرس قاسمی کے موقع پر ہم محترم کا تب تنویر احمد مرحوم کو مارہرہ مطہرہ لے کر گئے ، آپ جانتے ہیں کہ عرس قادری برکاتی قاسمی کے زرین موقع پر مارہرہ مطہرہ میں بھی کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ مگر ہم نے آپ کو زحمت نہیں ہو نے دی، حضرت رفیق ملت سید نجیب حیدر قادری برکاتی دامت برکاتہم القدسیہ سے شرف نیاز بھی حاصل کر ایا ہم نے حضرت کی بارگاہ میں چند جملے نمبر کی کتابت اور تزئین کاری کے حوالے سے عرض کیے ، حضرت نے فرحت و انبساط کا مظاہرہ فرمایا اور کچھ تبرک بھی عطافرمایا ۔ اور ہم سب کو ڈھیر ساری دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔

شہید کا تب تنویر احمد مرحوم بڑے اوصاف و کمالات کے حامل تھے ، گول نورانی چہرا ،چہرے پر مسنون  داڑھی، اوقات اور ذمہ داریوں کے پابند، نمازوں کا اہتمام دیگر دینی اور اخلاقی امور کی رعایت ،نزافت اور پاکیزگی میں اپنی ایک شناخت رکھتے تھے ۔ ماہنامہ اشرفیہ سے حددرجہ لگاؤ رکھتے تھے ، تقریباً ہر ماہ اداریے پر اظہار مسرت فرماتے ، فرماتے تھے کہ میں سب سے پہلے آپ کا اداریہ پڑھتا ہوں اس کے بعد دیگر مضامین ، آپ صرف پڑھتے ہی نہیں تھے بلکہ اسلوب بیان ، لفظوں کے انتخاب اور مفاہیم اور معانی پر گفتگو فرماتے تھے ، ہم نے بارہا آپ سے عرض کیا؛ آپ صرف زبانی اظہار مسرت فرماتے ہیں کم از کم چند سطریں لکھ کر بھجوا دیجیے ، فرماتے؛ آپ صحیح فرما رہے ہیں تحریری چیزیں محفوظ رہتی ہیں۔ چند ماہ پہلے فرمایا: ہم نے لکھنا شروع کر دیا ہے بہت جلد آپ تک پہنچ جائے گا۔ ہم موصوف سے بڑے بے تکلف تھے کبھی بھی ان کے آفس میں پہنچ جاتے ماشاء اللہ آپ چائے وغیرہ پلواتے آفس میں بنی کالی بے شکر کی لیمو والی چائے دل خوش کر دیتی، کبھی ٹانڈہ کے شناسا حضرات پر تبادلۂ خیالات  ہوتا، کبھی دار العلوم منظر حق ٹانڈہ کا ذکر ہوتا ۔ معروف شاعر فیاض احمد ٹانڈوی بھی کبھی کبھی اپنے کلام آپ کے توسط سے ارسال فرماتے، موصوف شاعر مرحوم  بڑی بلند اخلاق اور ملنسار شخصیت تھی ، آپ کے اشعار میں افکار کی وسعت اور خیالات کی ندرت ہوتی تھی، بحروں اور لفظوں  کےانتخاب میں بھی اپنی انفرادیت رکھتے  تھے، آپ کے متعدد مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ پروگر اموں کے سلسلے میں ہمارا ٹانڈہ اور اسی سے متصل مبارک پور آنا جانا بہت ہوا ہے۔ ایک بارمحب گرامی  حضرت قاری ابوذر مصباحی مبار ک پوری استاذ جامعہ اشرفیہ نے اپنے عہدِ طالب علمی میں ہمیں مبارک پور کے اجلاس کے لیے مدعو کیا تو آپ اپنے رفیق سفر کے ساتھ مبارک پور تشریف لے آئے اور بڑی دیر تک اپنی شاعری اور فکر وفن کے موضوع پر گفتگو فرماتے رہے ۔ آپ کے بھتیجے  حضرت مولانا مختار احمد مدظلہ العالی دار العلوم منظرِ حق ٹانڈہ میں استاذ رہے، وہ بھی متعدد بارہ اپنے چچا مرحوم شاعر کے تعلق سے گفتگو کرتے رہے ہیں ۔

حضرت مولانا عقیل احمد مصباحی معروف استاذ دار العلوم منظر حق ٹانڈہ نے بھی متعددبار مدعوکیا، ایک بارعرس حضرت حقانی شاہ  کے موقع پر مدعو کیا عرس کا زبردست اجلاس تھا ، اس میں خاص بات ہم نے یہ دیکھی کہ شر کا  قرآن کریم کی تلاوت بڑے پر شوق انداز سے کر رہے ہیں، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بزرگ ایک دن کے  حافظ قرآن ہیں۔انھیں تیس طلبہ نے ایک ایک پارہ سنایا اور آپ کو وہ پارے حفظ ہو گئے، یہ کرامت تھی ان طلبہ کے استاذ کی اور جن طلبہ نے وہ پارے سنائے ان کے حافظے سے غائب ہو گئے، انھوں نے بعد میں انھیں حفظ کیا ۔ حضرت شاہ حقانی علیہ الرحمہ کی برکت سے قرآن عظیم بہت جلد حفظ ہو جاتا ہے ۔ شاید ٹانڈہ کا کوئی گھرانہ ہو جہاں دو ایک حافظ قرآن نہ ہوں ، جو حضرات حفظ کر کے بھولنے لگتے ہیں وہ ان کے مزار شریف پر یاد کرتے ہیں تو بہت جلد یاد ہو جاتا ہے ۔ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ بھی اسی مزار شریف پر آکر اپنا حفظ شده قرآن عظیم مزید پختہ کیا کرتے تھے۔

حضرت مفتی عبید الرحمٰن دام ظلہ العالی اپنی معروف کتاب ”شہرِ اولیا کے تاج دار حضرت حقانی شاہ رحمۃ اللہ علیہ“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :

”مجھے یاد ہے حضرت علامہ ومولا نا مفتی جلال الدین صاحب امجدی اوجھا گنجوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود مجھ سے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ میں حافظ قرآن ہو گیا لیکن اکثر تلاوت کرتے ہوئے بھول جایا کرتا تھا۔ کچھ عقیدت مند لوگوں نےمشورہ دیا کہ ٹانڈہ چلے جاؤ اور دربار حقانی میں بیٹھ کر قرآن پاک یاد کرو ۔ حضرت حقانی شاہ کا فیضان آج بھی جاری و ساری ہے چنانچہ حضرت علامہ امجدی صاحب نے ٹانڈہ کا رخ کیا۔ اور در بار حقانی شاہ میں بیٹھ کر قرآن پاک پڑھنا شروع کیا۔ ایک سال کے عرصہ میں اس طرح قرآن پاک حفظ ہوا کہ آج پچاسوں سال کا عرصہ ہوا مجھے قرآن پاک زیر وزبر کے ساتھ یاد ہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ آج میں ہندوستان میں قرآن پاک پر اتھارٹی سمجھا جاتا ہوں “۔

حضرت مفتی عبید الرحمن ٹانڈوی اور معروف شاعر وادیب انس مسرور صاحب کی کتابیں بھی کا تب مرحوم لاتے رہے ۔ پیش نظر کتاب” شہر اولیا کے تاجدار حضرت حقانی شاہ رحمۃ اللہ علیہ “بھی آپ لے کر آئے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ۲۳۲ صفحات کی یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ آپ انس مسرور انصاری کی کتاب ”دھوپ اور سائبان“ بھی لے کر آئے تھے۔ایک بار حضرت مفتی صاحب کی کتاب پر پیش لفظ لکھوا کر لے گئے تھے ۔

شہید کاتب تنویر احمد مرحوم ایک دین دار گھرانے کی یاد گار تھے ۔ آپ کے وصال کے بعد پس ماندگان میں دو فرزند جناب احمد رضا، تسلیم رضا اور تین بچیاں ہیں ، اہلیہ محترمہ کے علاوہ دو بھائی۔ ایک بڑے جلیس احمد اور ایک چھوٹے آفتاب احمد ہیں ۔ آپ کے متعلقین اور محبین کی بھی لمبی تعداد ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں مولا تعالیٰ تو اپنے خصوصی فضل و کرم سے ان کی مغفرت فرما دے اور جنت الفردوس میں بلند مقام سے سرفراز فرما اور تمام پسماندگان کو صبرو شکر کی توفیق ارزانی فرما، آمین یا رب العالمین بجاہ سيد المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم ۔

مولانا ناظم علی مصباحی جموئی

مبارک حسین مصباحی

---------------------------------------------------

فاضل نوجوان عزیز القدرمولانا ناظم علی مصباحی، جموئی بہار نے 17 جون 2023 ءمیں اپنے وطن جموئی میں آخری سانس لی، آپ چند برسوں سے زیر علاج تھے ۔ مولانا ابھی جوان تھے عزم و حوصلے بھی جوان تھے۔ 2020 ء میں آپ کی جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے فراغت ہوئی تھی۔مولانا  نیک طینت ، ملنسار اور خوش اخلاق تھے، اساتذہ کا حد درجہ ادب و احترام آپ کی عادت میں شامل تھا۔ اکہرا بدن، نستعلیق رہن سہن  اور آنکھوں پر چشمہ لگاتے تھے۔ دراصل ایک برس قبل آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوا، آپ پر اس کا بھی کسی قدر اثر تھا۔ جب انسان خوداعتمادی کے ساتھ صبرو شکر کے مراحل سے گزرتا ہے تو حادثات کے غموں کو بھی سہ لیتا ہے ۔ آپ کاعقد مسنون ہو چکا ہے ایک بچی آپ کی یادگار ہے ۔ آپ کے وصال کا ہمیں بھی شدید غم ہے ۔ ہم دعا کرتے ہیں مولا تعالیٰ تو اپنے خصوصی فضل و کرم سے ان کی مغفرت فرما اور پسماندگان اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرما، آمین۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved