20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Feb 2023 Download:Click Here Views: 23931 Downloads: 1153

(16)-صداے بازگشت

قانونی عمر سے پہلے شادیوں پر گرفتاریاں

مکرمی! آسام میں گزشتہ دس گیارہ دنوں میں ۳۰۱۵ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں نو عمرلڑ کے، اُن کے والد اور نو عمر لڑکوں کی شادی کروانے والے شامل ہیں۔ اس نئی مصیبت کے پیش نظر آسام کے عوام کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں۔ نو عمر لڑکیوں کو روتے دھوتے ، پولیس کے آگے ہاتھ جوڑتے اور یہ فریاد کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ اُن کے شوہروں کو بخش دیں۔ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بہت سی حاملہ خواتین اس ڈر سے اسپتال نہیں جارہی ہیں کہ کہیں پولیس ان کے شوہر کا نام اور پتہ حاصل کر کے گرفتار نہ کرلے۔ انڈیا ٹو ڈے کی ایک خبر کے مطابق جنوبی سالما را منکا چر ضلع کی ایک دوشیزہ نے پولیس کارروائی کے ڈر سے خود کشی کرلی۔ اس دوشیزہ کی شادی کو ابھی تین ہی ماہ ہوئے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے ڈر سے اب تک تین افراد خود کشی کر چکے ہیں جن میں دو خواتین اور ایک مرد ہے۔ جس مرد نے خود کشی کی وہ برائی باری (گوری پور تھانہ ) کا باشندہ ہے۔ چوں کہ اس کی شادی قانونی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہوئی تھی اس لیے گرفتاری کے خوف نے اُسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس شخص کے دو چھوٹے بچے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس مبینہ طور پر ان شادیوں کا ریکارڈ حاصل کر رہی ہے جو کئی سال پہلے ہوئی تھیں۔ بہ الفاظ دیگر مزید گرفتاریاں طے ہیں اور شاید اسی لیے ریاستی وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے کے جاری رہنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ یہ کارروائی ۲۰۲۶ ء کے اسمبلی الیکشن تک جاری رہے گی۔ ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ اسمبلی الیکشن کا حوالہ کیوں دیا گیا۔ کیا اس کارروائی کا مقصد سماجی اصلاح نہیں، انتخابی مفاد ہے؟

واضح رہے کہ جن کے خلاف کارروائی ہورہی ہے، وہ ایسے غریب لوگ ہیں جنہیں حالات کے جبر نے تعلیم حاصل کرنے سے روکا محنت مزدوری کے ذریعہ پیٹ پالنے والے ان لوگوں کو علم نہیں ہے کہ قانون کیا کہتا ہے۔ انہیں یہ علم نہیں ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی شادی قانو نا کس عمر میں ہونی چاہیے۔ یہ شادیاں اس لئے ہو گئیں کہ متعلقہ علاقوں میں اب تک اتنی ہی عمر میں شادیاں ہوتی رہی ہیں۔ اگر حکومت کا فیصلہ تھا کہ جو قانون ہے اُسے سختی سے نافذ کیا جائےگا تو اس کی اطلاع عام کی جانی چاہیے تھی، لوگوں کو سمجھانا اور بتانا چاہیے تھا کہ قانون کیا کہتا ہے۔ ریاستی حکومت نے قانون کے تعلق سے بیداری کی مہم نہیں چلائی ، لوگوں کو متنبہ بھی نہیں کیا اور اچانک پولیس کو حکم دے دیا کہ نوعمروں کی شادی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے۔ چوں کہ قانون موجود ہے اس لیے چارہ جوئی کا جواز ہے مگر چاہ جوئی کے کئی طریقے ہیں۔ ان لوگوں کو نوٹس دیا جا سکتا تھا یا ان سے جرمانہ وصول کیا جاسکتا تھا۔ مگر حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ سیدھے دھاوا بول دیا، گرفتاریاں شروع کر دیں اور اب اسے کسی کارنامے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ ریاستی حکومت عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ گرفتار شدگان میں بڑی تعداد اقلیتی فرقے کے لوگوں کی ہے۔ ہم اپنے ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کروا سکے مگر یہ قرین قیاس ہے۔ اس کارروائی پر وہ تنظیمیں بھی دم بخود ہیں جو قانونی عمر سے پہلے ہونے والی شادی کی مخالف ہیں۔ حکومت آسام کو سماجی اصلاح مقصود ہے تو سماجی بیداری کی مہم چلائے اور اگر انتخابی فائدہ مقصود ہے تو اس کے لیے گھر نہ اجاڑے اور ان غریب مزدوری پیشہ لوگوں کو خودکشی پر مجبور نہ کرے۔ ووٹ حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ انہیں اعتماد میں لے کر بھی ووٹ لیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت میں ڈرانا کیا معنی رکھتا ہے ؟(از: روز نامہ انقلاب)

عقیدت مندیاں در اصل آپ کی سعادت مندیاں

بملاحظہ گرامی محبی مخلصی مبارک العلما والفضلا علامہ مبارک حسین مصباحی صاحب زید مجدہ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!

  ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور   جمادی الاخری 1444ھ/جنوری 2023ء  کے شمارے کی پی ڈی ایف فائل فردوسِ نظر ہوئی ،  حسب سابق یہ شمارہ بھی       مضامین ومقالات کے حوالے سے خوب تر ہے ۔ اللھم زد فزد ۔  تفصیلی تأثر ایک دو دنوں تک حاضر کرتا ہوں ان شاءاللہ ۔

 48 ویں عرس حافظ ملت  کی مختصر روداد پڑھ کر قاری اپنے آپ کو عرس کی پر وقار تقریبات میں حاضر محسوس کرتا ہے ۔

  آپ نے نہایت انوکھے اور البیلے انداز میں ”عقیدت مندیاں“   کے عنوان پر  ایک انفرادی مقالہ لکھا ہے جو اصل میں آپ کی ”سعادت مندیاں“ تصور کیا جائے گا ۔  ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔ بہت خوب اللھم زد فزد ۔

 سہ ماہی مجلہ ”خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “(انٹر نیشنل) کے دوسرے شمارے کی ترتیب تہذیب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک آپ کی ”تحریر منیر“ نہیں پہنچی۔ نہایت ہی شدت سے انتظار ہے ۔ تمام احباب کی خدمت میں فقیر کا نیاز مندانہ سلام پہنچا دیں ۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ والسلام مع الاکرام

گدائے کوئے مدینہ شریف

احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ

برہان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان

الجامعۃ الاشرفیہ کے سربراہ اعلیٰ کا اعلان حق

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ(یوپی:الہند) برصغیر پاک وہند میں اہل سنت وجماعت کا نہایت ہی معیاری اور معروف تدریسی ادارہ ہے ۔ یہ حضور حافظ ملت علامہ الشاہ الحاج عبدالعزیز محدث مبارک پوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ علیہ  کی  تعلیمات و نظریات کا امین ہے۔  یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ آپ  ساری زندگی مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ  کے عقائد و نظریات کے  ترجمان رہے ہیں۔ اس حقیقت کو مخالفین بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ” انہوں نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی ہے“۔

 حضرت حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے الجامعۃ الاشرفیہ کے ذریعے علم و عرفان کی جس آب یاری  کا آغاز فرمایا تھا وہ اب بھی اسی برق رفتاری سے جاری و ساری ہے۔ اس ادارہ کے فارغین دنیا بھر میں علمی ، ادبی ، تحقیقی، تدریسی، تصنیفی اور تبلیغی خدمات پوری قوت و توانائی سے نہایت ہی احسن انداز میں سرانجام دے رہے ہیں اور فخریہ طور پر  اپنے آپ کو”فرزندانِ اشرفیہ“ کہلاتے ہیں۔

بدقسمتی سےاس پر فتن دور میں ہماری کئی خانقاہوں اور اداروں پر براجمان کئی شخصیات اعتقادی اور نظریاتی طور پر استقامت نہ دکھا سکے  اور وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔  اس ادارے سے بھی فارغ ہونے والے چند افراد  اعتقادی اور نظریاتی طور پر بے راہ روی کا شکار ہوئے ہیں اور طرفہ تماشا تو یہ ہے وہ ابھی تک اپنے آپ کوفرزندانِ اشرفیہ ہی میں شمار کرتے ہیں حالاں کہ اشرفیہ نے ایسے لوگوں کو ”مصباحی“ کی نسبت لگانے سے بھی روکا اور ٹوکا ہے۔اس پر  ماہ نامہ”اشرفیہ“ مبارک پور کے صفحات شاہد و ناطق ہیں۔

امسال بانئی ادارہ حضور حافظ ملت محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور کے سربراہ اعلیٰ  حضور عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی دامت برکاتہم العالیہ نے  ایک بار پھر  اپنے تشکراتی خطاب میں مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ کی پر زور تائید مزید فرما کر پوری دنیاے سنیت کا سر فخر سے بلند فرما دیا ہے۔اب اس کے باوجود بھی جو شخص اعلیٰ حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فیصلہ کن کتاب”حسام الحرمین“ کو ماننے سے پس و پیش کرے اور پھر نہایت ڈھٹائی سے اپنے آپ کو ”فرزندانِ اشرفیہ“ ہی میں شمار کرتا پھرے تو یقیناً یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبیں۔ 

حضور عزیز ملت دامت برکاتہم العالیہ کی طرح ہمارے دیگر مدارس کے سربراہان  اور خانقاہوں کے سجادہ نشینان  بھی دو ٹوک الفاظ میں ”حسام الحرمین“ کی تائید مزید میں اپنی اپنی طرف سے ایک ایک اعلامیہ جاری فرما دیں تو نہ صرف فتنۂ سراویہ بجنوریہ, بلکہ فتنۂ صلح کلیت کے غبارے سے بھی رہی سہی ہوا خارج ہو جائے گی۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہمیں اپنے اکابرین کی راہ حق پر نہایت ہی ثابت قدمی سے چلنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے۔

 آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ واولیاء امتہ وعلما ملتہ اجمعین۔

دعا گو ودعا جو: گدائے کوئے مدینہ شریف

احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ

مدیر اعلیٰ سہ ماہی مجلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(انٹر نیشنل)

برہان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved