25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9321 Downloads: 753

(4)-نصاب مدارس میں تصوف اور صوفیاے کرام کی تعلیمات

بلال احمد نظامی مندسوری 

مدارس اسلامیہ دینی علوم کی ترویج و اشاعت اور دعوت وتبلیغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں،انھیں مدارس کی بدولت آج چمن اسلام ہربھرا ہے،کیوں کہ یہی مدارس قوم کی دینی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں، علما، خطبا، ائمہ،مؤذنین،مدرسین،مبلغین اور مصنفین انھیں مدارس کے فارغ التحصیل وفیض یافتہ ہوتےہیں۔انھیں مدارس سےایسےافراد نکل کر میدان عمل میں آتےہیں جو دعوت وتبلیغ،اصلاح معاشرہ اورتزکیۂ نفوس کرتےہوئےپیغام الٰہی و پیغام رسول ﷺ کو گھر گھر تک پہنچانےکی کوشش کرتےہیں۔مدارس کا یہ سلسلہ صرف اِس دور کا نہیں ہےبلکہ کسی نہ کسی شکل و صورت میں زمانۂ     رسالت مآب ﷺ سے آج تک یہ سلسلہ برقرار ہے،اگرکسی ملک یا علاقےمیں مدارس کے وجود کوختم کیاگیاتو وہاں کےدینی حالات افسوس ناک حد تک ابتر ہو گئے۔

انھیں مدارس کےپروردہ وفیض یافتہ افراد انقلابِ زمانہ کا سبب بنے،اگر آپ کا احساس و ادراک کام کرے،تو بڑی بڑی انقلابی شخصیات کےاحوال پر غور کریں وہ انھیں مدارس کےفیض یافتہ و پروردہ تھے۔ مثلا: غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی (۴۷۰ ۵۶۱ھ)، امام غزالی (م۵۰۵ھ) شیخ شہاب الدین سہروردی (م۶۳۲ھ)، برصغیر  میں کفرستان کو نوراسلام سےمنور کرنےوالی شخصیت معین الدین حسن خواجہ غریب نواز(م ۶۳۳ھ) اور مجدد الف ثانی(م ۱۰۳۴ھ)  وغیرہ علیہم الرحمہ۔

اگرحالات کاصحیح معنوں میں تجزیہ کریں تو موجودہ دور میں مدارس سےایسی انقلاب آفریں شخصیات پیدا نہیں ہورہی ہیں،اور نہ مدارس کی تعلیمات کےاثرات دور رس و نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ اس سےیہ نہ سمجھاجائےکہ مدارس بالکل ہی ناکارہ ہوچکےہیں،بلکہ مدارس سے انقلاب کی جو کرنیں پھوٹنی چاہیےتھیں وہ کہیں دب کر رہ گئی ہیں۔جس کی وجہ سےاپنوں میں تبلیغ دین اور غیروں میں دعوت دین کاکام جس رفتار سےہوناچاہیےتھاوہ بالکل ہی مفقود ہے۔

اگراسباب و علل پر غور کریں توآج مدارس میں تزکیۂ نفس اور صفاےقلب یعنی تصوف کا کوئی نظام نہیں ہےحالانکہ تصوف اور تعلیمات صوفیہ مدارس کی روح ہیں اورانھیں کےذریعےمدارس کااستحکام ہے۔

اللہ رب العزت نےقرآن مقدسہ میں اپنےمحبوب ﷺ کابہ حیثیت معلم ذکر کرتےہوئےارشاد فرمایاہے:

 يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ   وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞

 آپ ﷺ ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتےہیں اور ان کے باطن کو صاف کرتے ہیں اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔(سورہ آل عمران،۱۶۴)

 معلم انسانیت ﷺ اپنےشاگردوں (صحابہ) کو درس گاہ نبوت میں کتاب وحکمت کی تعلیم کےساتھ ساتھ ان کی تزکیۂ نفس اورصفاےقلب بھی فرمایاکرتےتھے،بایں وجہ آپ کےتلامذہ نے دنیامیں ایک مختصرسی مدت میں وہ انقلاب پیداکیاکہ اہل دنیاورطۂ حیرت میں پڑگئےکہ یہ انسان ہیں یاکوئی اورمخلوق جورکنےاور تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ بعدکےادوار میں درسگاہیں یاتو خانقاہوں کی رونق کودوبالاکرتیں یا مساجد میں آراستہ ہوتیں۔ موجودہ زمانے کے مطابق درسگاہوں کےلیےدیدہ زیب،جاذب نظر اور بلند عمارتیں نہیں تھیں لیکن مسجدوں اور خانقاہوں میں زیورتعلیم سےآراستہ کرتے ہوئے تزکیۂ نفس اور صفاےباطن کابھی اہتمام فرماتےتھے،جب علوم متداوِلَہ سےفراغت پاتےتو تربیت کےلیےچندسال کسی شیخ کی صحبت اختیار فرماکر علم وحکمت اور تزکیۂ نفس و صفاےقلب میں بھی کمال حاصل کرتے،جیسےامام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نےسیدناامام جعفر صادق علیہ الرحمہ کی صحبت اختیار کی۔

 زمانۂ قدیم کےنصاب پر غور کریں ان میں واضح طورپر کتب تصوف کےدرس کابھی اہتمام پائیں گے۔شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کےتعلق سےمنقول ہےکہ آپ طلبہ کوعوارف المعارف کادرس دیاکرتےتھے،مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ کے ملفوظات کےمطالعےسےاندازہ ہوتاہےکہ آپ معمول کےمطابق عوارف المعارف کےدرس کااہتمام فرماتے،اسی طرح دیگرمشائخ بھی اپنی اپنی درس گاہوں میں کتب تصوف کےدروس کااہتمام فرماتے تھے۔

اٹھارہویں صدی عیسوی سےقبل دینی مدارس کے نظام تعلیم میں اہم اور بنیادی مضامین چار تھے۔

۱۔تفسیر        ۲۔حدیث    ۳۔فقہ     ۴۔تصوف

دینی مدارس میں تصوف کی تدریس اہم مضمون کے طور پر کم و بیش سات سوبرس تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ ملا نظام الدین سہالوی(متوفی ۱۷۴۸ء)نے اٹھارویں صدی میں موجودہ درس نظامی کے نصاب سے تصوف کو بطور مضمون خارج کردیا۔ اس کاسبب یہ ہوسکتاہےکہ مدارس کا ماحول بذات خود عملا تصوف کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تصوف تعلیمات رسولﷺ،اخلاق حسنہ اور قرآن و حدیث پرعمل کرنےکانام ہے۔علاوہ ازیں جوکمیاں رہ جاتی تھیں انھیں کسی مرشد سےوابستہ ہوکر دور کرلی جاتی تھیں؛لیکن اب اس امرکاشدت سےاحساس کیاجارہاہےکہ تصوف اور تعلیمات صوفیہ کو نصاب کاحصہ بنایاجائےکیوں کہ موجودہ تعلیمی نصاب سےطلبہ علم نبوت سےسرفراز ضرور ہورہےہیں لیکن نور نبوت اور نور علم سےتہی دامن ہیں۔اسی لیے صاحبان محراب و منبر اور ارباب مسند تدریس کی اکثریت،خشیت الہی سے دور، ایقان ویقین سےخالی اورحب جاہ، حرص وطمع میں مبتلاہوکر دین پر دنیاکو ترجیح دےرہےہیں۔

علامہ شرف قادری اس جانب توجہ دلاتےہوئے لکھتےہیں :

”لمبےچوڑےنصاب پڑھنے،کئی کئی گھنٹوں پر پھیلی ہوئی تقریریں سننےکاکیا فائدہ؟اگرخداوند قدوس کےکارسازاور رزاق مطلق ہونےکاہمیں یقین نہیں ہے،اگرہمارےدل خشیت الہی سے معمور نہیں ہیں،اگرہمیں ایک ایک عمل پر اللہ تعالی کی بارگاہ میں جواب دہ ہونے کااحساس نہیں ہے۔اگرہمارےاندر قوت عمل بیدار نہیں ہوتی اور اگرمؤذن کی آواز ہمیں عملا لبیک کہنےپرمجبور نہیں کرتی۔“

نصاب سےتصوف کوخارج کرنےکےنقصانات کے بارے میں لکھتےہیں:”ایک وقت تھاجب مشائخ تصوف کی کتابیں سبقا پڑھایا کرتے تھے،آج ہمارےنصاب سےتصوف کو خارج کردیا گیا، ایسے میں ذوق عبادت اور جذبۂ اطاعت کہاں سےپیداہوگا؟ ہمیں احیاء العلوم،کشف المحجوب،الفتح الربانی،رسالہ قشیریہ،ارشاد المسترشدین اور مکتوبات امام ربانی،ایسی کتابوں کو شامل درس کرناپڑےگا۔ورنہ ہم خشک ملّا تو تیار کرسکیں گے،ایسےافراد ہرگز تیار نہ کرسکیں گےجن کی گفتگو میں اپیل کرنےوالی صلاحیت،جوتقوی و طہارت کےپیکر ہوں اور جن کی نجی محفلیں اللہ تعالی اور اس کےحبیب اکرم ﷺ کےذکر اور تعلیمات کےبیان سےآراستہ ہوں۔(مقالات شرف قادری،ص: 357)

اہل سنت وجماعت کےایک بزرگ اور جہاں دیدہ عالم دین نےجس انداز میں مرض کی تشخیص اور دوا تجویز فرمائی ہےیہ انھیں کاحصہ ہے،لیکن ان کی آواز بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئی اور کسی نےکان دھرنےکی کوشش نہیں کی،امیدہےکہیں نہ کہیں تو ان کےیہ افکار اور درد بھرےالفاظ اثرانداز ہوں گے۔

نصاب تعلیم میں تصوف: مذکورہ تحریر سے یہ اندازہ ہو گیا ہےکہ مدارس صحیح معنوں میں اُسی وقت کامیاب ہوسکتےہیں جب تک تعلیمات صوفیہ اور صوفیانہ اقدار کےحامل نہیں ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ تزکیۂ نفس، صفاےقلب، تعمیر سیرت،داعی دین،مبلغ اسلام اور تشکیل کردار جیسے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے مشائخ متقدمین کی تصوف پرمشتمل کتابیں، ملفوظات اور ان کے باطنی اشغال اور روحانی معاملات و کیفیات سے اکتساب فیض ازحد لازم وضروری ہے۔ تو آئیے نصاب مدارس میں تعلیمات صوفیہ اور داعی دین کےلیےچندتجاویزپر غور وفکر  کرلیتےہیں۔

طریقۂ کار:نصاب میں تصوف اور تعلیمات صوفیہ کی شمولیت کی ضرورت کےبعد اس کےطریقۂ کار پرروشنی ڈالتےہیں۔

۱۔ ابتدائی طلبہ کےلیے آسان اور عام فہم کتب تصوف جن میں اعمال کےسلسلےمیں ترغیب و ترہیب کا اسلوب اپنایاگیا ہو، شامل نصاب کی جائے۔

مثلا: جماعت اولیٰ میں منہاج العابدین۔جماعت ثانیہ میں مکاشفۃ القلوب۔جماعت ثالثہ و رابعہ میں احیاء العلوم کےضروری حصے۔

مذکورہ کتابوں کو خارجی مطالعےمیں شامل کیا جائے،اور امتحان میں کامیابی کےلیےداخلِ نصاب کتابوں کےبرابر درجہ دیا جائے۔

۲۔منتہی درجات کےطلبہ لیےقوت القلوب از شیخ ابوطالب مکی، کشف المحجوب از سید علی ہجویری، عوارف المعارف از شیخ شہاب الدین سہروردی،رسالہ قشیریہ از امام قشیری،مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی،تذکرۃ الاولیا از شیخ فرید الدین عطار علاوہ ازیں اولیاءاللہ کےملفوظات وسوانح پر مشتمل کتابیں بھی شامل نصاب کرسکتے ہیں۔ مذکورہ کتب میں سےبعض کتابیں سبقاسبقاپڑھائی جائیں نیز ایسی کتب شامل نصاب کی جائیں جن میں فن تصوف اور تاریخ تصوف پر کلام کیاگیاہو۔

یہ بات بھی ذہن نشیں رہےکہ محض کتب تصوف کادرس دینےیامطالعہ کرنےسے دلوں کی دنیانہیں بدلےگی بلکہ عملابھی طلبہ کو ایسےماحول میں ڈھالناہوگا کہ انھیں ڈانٹ ڈپٹ کر یاڈنڈےکےزور پر نماز یادیگر اعمال صالحہ کےلیےبلانا نہ پڑے بلکہ اذان ہوتےہی یادیگر اعلانات پرطلبہ ازخود عمل پیرا ہونےکےلیےآگےبڑھیں

اس کےلیےبھی چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔

۳۔بعدنماز فجر ایک پارہ تلاوت قرآن کو لازمی کیاجائے۔

۴۔بعد نماز عشامختصر وقت کےلیےحلقۂ ذکر کااہتمام کیاجائے۔

۔نوافل نمازوں کی بھی ترغیب دلائی جائےکہ یہ قرب الہی کاذریعہ ہیں۔

۶۔ہفتےمیں ایک دن اجتماعی طورپر تصوف کی کسی ایسی کتاب سے جودل پر گہرا ا نقش چھوڑ ےدرس دیاجائے،بعد درس حلقۂ ذکر اور پھر رقیق القلبی کےساتھ رقت انگیز دعاکی جائےتاکہ یہ ماحول طلبہ کےدلوں پراثرانداز ہو۔

۷۔مہینےمیں ایک بار کسی نیک متقی اور صاحب دل بندے سے طلبہ کےدرمیان مؤثرانداز میں بیان کروایاجائے۔

۸۔طلبہ کو اللہ والوں کی صحبت میں بٹھایاجائے،ان سے گفت و شنید کےمواقع فراہم کیےجائیں،یہ نہ ہوسکےتو کسی اللہ والے کے مزار پر حاضری دلوائی جائےاور اکتساب فیض کے طریقے بتائے جائیں۔

اس بات کابھی خصوصی التزام کیاجائےکہ اساتذہ بھی پابند شرع اور نیک صالح ہوں کیوں کہ اساتذہ کی حرکات وسکنات طلبہ پراثرانداز ہوتی ہیں۔

دعوت دین:مدارس اسلامیہ کے بنیادی مقاصد میں سےایک اہم مقصد یہ ہےکہ ایسےافراد تیار کیےجائیں جوبعد فراغت تبلیغ دین اور دعوت دین کےفرائض بہ حسن وخوبی انجام دے سکیں،لیکن حالات پر نظر رکھنےوالےبہ خوبی جانتےہیں کہ مدارس کےفارغین کاتبلیغ دین اور دعوت دین میں کیاکردارہے،یہ بات بھی قابل غوروفکر ہےکہ مدارس کےبنیادی مقصد کی تکمیل کے لیے شاید ہی کوئی کتاب نصاب میں شامل ہے، میرےخیال میں شاذونادر ہی کسی مدرسےکے نصاب میں کوئی ایسی کتاب شامل ہوجوبنیادی مقاصد کےتقاضےکوپورا کرتی ہو۔ اس لیےمدارس میں جہاں تصوف اور تعلیمات صوفیہ کو شامل نصاب کیاجائےوہیں موجودہ حالات کے تقاضوں کوپیش نظر رکھتے ہوئے ایسی کتاب بھی شامل نصاب کی جائے جس میں دعوت و تبلیغ کے اصول و ضابطےنیز اسلوب دعوت کے طریقہ کار، نبوی اسلوب ِ دعوت اور صوفیانہ اسلوب دعوت کوبیان کیا گیاہو۔ ساتھ میں دعوت وتبلیغ کےلیےعملی تربیت کابھی اہتمام کیاجائے۔

طریقہ کار یہ ہوکہ بعد فراغت ایک سال دعوت وتبلیغ کے لیے مختص کیاجائے،جس میں طلبہ کو عملا اپنوں اور غیروں سے ڈائلاگ کاطریقہ سکھایاجائے،مناظرانہ اسلوب کی بجاےداعیانہ اسلوب پر توجہ دی جائے، طلبہ کو باربارمشق کرائی جائے۔اور اگر طلبہ کےپاس وقت کی کمی ہوتو انھیں سال فضیلت ہی دعوت وتبلیغ کےشعبےسےگزاراجائےتاکہ جب یہ ممبرومحراب کےفرائض سنبھالیں  توان سے کسی انقلاب کی توقع کی جاسکے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved