25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5929 Downloads: 781

(6)-مجدد الف ثانی كے فضائل و كرامات

انوار ولایت     (قسط:۱)

مولانا غلام مصطفیٰ مجددی (پاکستان)

ابتدائى حالات:

قطب المجد دین غوث الکاملین ، غیاث العارفین، امام ربانی سید نا مجدد الف ثانی الشیخ احمد سرہندی قدس سره ۹۷۱ھ کو (بتاریخ ۱۴ شوال) دار العرفان سرہند شریف میں پیدا ہوئے ۔( زبدة المقامات صفحہ ۱۹۰ )

 آپ کا شجرہ نسب ۳۱ واسطوں سے خلیفۂ ثانی مرادِ رسول حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ( مقامات خیر، ص: ۳۳)۔

آپ کے والد ماجد مخدوم الاولیا حضرت شیخ عبدالاحد بلند پایہ عالم دین اور عظیم المرتبت صوفی تھے، حضرت شیخ رکن الدین علیہ الرحمہ (متوفی ۹۸۳ھ) سے سلسلہ عالیہ قادریہ و چشتیہ میں خلافت حاصل کی ۔ (زبدة المقامات،ص: ۱۴۳)

 حضرت مجددالف ثانی قدس سرہ نے بیشتر علوم اپنے والد گرامی سے حاصل کیے۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا کمال کشمیری، حضرت مولانا یعقوب کشمیری اور قاضی بہلول بدخشی علیہم الرحمہ سے بھی علم حاصل کیا۔ (جواہر مجدد یہ ص: ۲۳)

 ۹۹۸ھ میں آگرے کا سفر اختیار کیا، وہاں درباری علما شیخ ابوالفضل و شیخ ابوالفیض فیضی سے تعلقات قائم ہوئے ، یہ دونوں بھائی آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔

۱۰۰۸ھ میں زیارت حرمین کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں دہلی رُکے، وہاں حضرت خواجۂ خواجگاں باقی باللہ علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت خواجہ علیہ الرحمہ نے آپ کو اپنے پاس روک لیا چنانچہ آپ نے تین ماہ وہاں رہ کر وہ کچھ حاصل کیا جسے اور لوگ برسوں کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ حضرت خواجہ علیہ الرحمہ آپ کو اپنی مراد سمجھتے تھے۔ فرماتے ہیں:

 ”جب فقیر کے شیخ طریقت خواجہ امکنگی علیہ الرحمہ نے فقیر کو ہندوستان جانے کا حکم دیا تو خود کو اس سفر کے لائق نہ دیکھتے ہوئے فقیر نے کچھ پس و پیش کیا۔ خواجہ موصوف نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شاخ پہ طوطا بیٹھا ہے ۔ دل میں یہ خیال آیا ، اگر یہ طوطا شاخ سے اُڑ کر ہاتھ پر آبیٹھے تو اس سفر میں کچھ سہولت ہو جائے ، معاًوہ طوطا اُڑ کر فقیر کے ہاتھ پر آبیٹھا۔ فقیر نے اپنا لعاب ِدہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس نے فقیر کے منہ میں شکر ڈالی، اس خواب کی تعبیر خواجہ موصوف نے یہ فرمائی کہ طوطا ہندوستانی پرندہ ہے۔ ہندوستان میں تمہارے دامن سے ایک ایسا عزیز وابستہ ہو گا جس سے عالم منور ہوگا اور تم بھی اس سے مستفیض ہو گے “۔( زبدة المقامات صفحہ ۱۹۰)

 حضرت خواجہ کی تعلیم و تربیت کے فیضان نے آپ کو ملت اسلامیہ کا پاسبان بنادیا۔ آپ نے اپنی جرأت و استقامت سے اکبری و جہانگیری طوفانوں کے رُخ موڑ دیے اور کفرستان ہند میں اسلام کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیا۔ اس بات پر مورخینِ کرام کا اجماع ہے کہ اگر آپ کی ذاتِ مقدسه سرزمین ہند میں جلوہ افروز نہ ہوتی تو دین الٰہی کی تاریکی اسلام کے اجالوں کو چاٹ جاتی۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے کیا خوب لکھا:

آج جو مساجد میں اذانیں دی جارہی ہیں، مدارس سے قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ کی دل نواز صدائیں بلند ہو رہی ہیں اور خانقاہوں میں جو ذکر و و فکر ہو رہا ہے اور قلب و روح کی گہرائیوں سے جو اللہ کی یاد کی جاتی ہے یالا اله الا اللہ کی ضر بیں لگائی جاتی ہیں ان سب کی گردنوں پر حضرت مجدد کا بارِ منت ہے۔ اگر حضرت مجدد اس الحاد و ارتداد کے اکبری دور میں اس کے خلاف جہاد نہ فرماتے اور وہ عظیم تجدیدی کارنامہ انجام نہ دیتے تو نہ مساجد میں اذانیں ہوتیں، نه مدارس دینیہ میں قرآن، حدیث، فقہ اور باقی علوم کا درس ہوتا اور نہ خانقاہوں میں سالکین و ذاکرین اللہ اللہ کے روح افزا ذ کر سے زمزمہ سنج ہوتے۔ الا ماشاء ا اللہ “۔ ( سیرت مجددالف ثانی ، تقدیم ، ص : ۱۰)

 آپ قیومیت کے منصب پر فائز ہوئے ، قطب الارشاد اور مجددالف ثانی کے مقام پر پہنچے، ہندوستان اور دیگر بلاد اسلامیہ میں آپ کا فیض ابر رحمت کی طرح برسا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےشمار ظاہری و باطنی خوبیوں سے مزین فرمایا تھا۔

ليس على الله بمستنكر           ان يجمع العالم في واحد

 ذیل کی سطور میں ہم آپ کے مختلف اوصاف و خصائل کا ذکر کرتے ہیں جنھیں پڑھ کر دل کے نہاں  خانے سے یہ آواز نکلے گی:

اور بے مثال کی ہے مثال وہ حسن             خوبیٔ  یار کا جواب کہاں

علم و فضل :

حضرت مجددالف ثانی قدس سرہ علم و فضل میں اپنی مثال آپ تھے۔ حافظ قرآن تھے، اسرار قرآنی پر زبر دست عبور حاصل تھا، حروف مقطعات سے واقف تھے، فہم متشابہات سے مالا مال تھے ۔( حضرات القدس ص: ۲/ ۶۸)

 علم حدیث میں بہت بلند مقام حاصل تھا۔ خود فرماتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مجھے طبقۂ محدثین میں شامل کر لیا گیا ہو ۔

( زبدۃ المقامات،صفحہ ۱۳۰)

 مسائل فقہ میں پورے طور پر مستحضر تھے اور اصول فقہ میں بھی بہت زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ ( زبدة المقامات) ۔علم کلام میں تو مجتہد تھے۔ فرماتے ہیں: مجھے تو سط حال ایک رات جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم علم کلام کے ایک مجتہد ہو۔ اس وقت سے مسائل کلامیہ میں میری رائے خاص اور میرا علم مخصوص ہے۔ ( مبدا و معاد شریف )

 آپ نے ” شاهق الجبل“ جیسے مسائل اپنے بصیرت افروز اجتہاد سے حل فرمائے اور بھی اجتہادات کلامیہ، مکتوبات شریفہ کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں۔ آپ کے خلیفہ حضرت علامہ ہاشم کشمی علیہ الرحمہ نے ارادہ بھی کیا کہ آپ کے اجتہادات کو اکٹھا کیا جائے ۔( زبدة المقامات صفحہ ۳۵۵)

 آپ کو آسمانوں کا علم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عطا فرمایا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے علم لدنی سے نوازا (ایضا) ۔

 آپ کو علم سے خصوصی لگاؤ تھا۔ طلب علم کو صوفیانہ مجاہدات پر ترجیح دیتے تھے۔ مولانا بدر الدین سے فرمایا کرتے : سبق لاؤ اور پڑھو۔ جاہل صوفی تو شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے۔ (حضرات القدس ص: ۹۷)

 آپ نے خود علم کی تلاش میں دور دراز کا سفر اختیار کیا۔ آگرے میں فیضی و ابوالفضل جیسے علما آپ کے علم وفضل کا لوہا مانتے تھے۔ علامہ ہاشم کشمی علیہ الرحمہ نے ایک واقعہ لکھا ہے:

”ایک دن حضرت مجددی ابوالفیض کے گھر آئے ۔ وہ غیر منقوط تفسیر لکھنے میں مصروف تھا۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو خوش ہوا اور کہا آپ خوب تشریف  لائے ۔ تفسیر میں ایک مقام آیا کہ اس کی تفسیر و تاویل غیر منقوطہ الفاظ کے ذریعے مشکل ہوگئی۔ میں نے بہت دماغ سوزی کی لیکن دل پسند عبارت دستیاب نہیں ہوئی۔ حضرت مجدد نے گو کہ بے نقطہ عبارت کی مشق نہیں کی تھی لیکن کمال بلاغت کے ساتھ مطالب کثیرہ پر مشتمل ایک صفحہ لکھ دیا ، جس سے وہ حیرت میں پڑ گیا ۔“ (زبدة المقامات ، صفحہ ۱۶۴)

ایک فاضل مکرم نے حضرت مجدد کے کلمات طیبہ کے متعلق اہلِ زمانہ کے قیل وقال کو سنا تو کہا: حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں کے مزاج اور ان کی فطرت ان بزرگوار کے حقائق و دقائق کو سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔ ان عزیز کو چاہیے تھا کہ اگلے زمانہ میں ہوتے کہ لوگ ان کے کلام کی قدر جانتے اور متاخرین ان کے کلام کو کتاب میں بطور استشہاد کے بیان کرتے ۔( زبدة المقامات ، صفحہ ۲۹۶)

فكر وعرفان:

حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے جو آپ کو ”عرفان کا مجتہد اعظم“ قرار دیا ہے۔ آپ کے رشحات قلم کا مطالعہ کرنے سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ آپ نے تصوف کے میدان میں ایسے فکر و عرفان کا اظہار کیا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی ۔ فکر وعرفان کی ان جولانیوں کے بارے میں خود لکھتے ہیں :

” حق جل سلطانہ کے انعامات کے متعلق کیا لکھا جائے اور کس طرح شکر ادا کیا جائے ، جن علوم و معارف کا فیضان خداوند جل شانہ کی توفیق سے ہوتا ہے، ان میں سے اکثر قید تحریر میں آتے ہیں اور اہل نا اہل کے کانوں تک پہنچتے ہیں، لیکن جو اسرار و دقائق ممتاز ہیں ان کا ایک شمہ بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ رمز و اشارہ کے ذریعے بھی ان کے متعلق بات نہیں ہو سکتی، بلکہ اپنے عزیز ترین  فرزند ( جو اس فقیر کے معارف کا مجموعہ اور مقامات سلوک کا نسخہ ہیں) کے سامنے بھی ان اسرار کی باریکیوں کا ذکر نہیں کرتا۔ معانی کی باریکیاں زبان کو پکڑتی ہیں اور اسرار کی لطافت لب کو بند کرتی ہے ویضیق صدری وینطق لسانی. (زبدة المقامات ، صفحہ ۳۰۳)

 یہ حقیقت ہے کہ آپ نے مقام وجود و شہود کے متعلق جو معارف بیان فرمائے ہیں، آپ کا ہی حصہ ہیں۔ علامہ بدرالدین سرہندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

” تعین وجودی کہ جس کے متعلق آج تک کسی عارف نے لب کشائی نہیں کی تھی ، آپ پر ظاہر کیا گیا اور اس عالی مقام کے اسرارو برکات سے آپ کو ممتاز فرمایا گیا، جیسے دفتر سوم کے مکتوب ۸۹ میں تفصیل آئی ہے۔ “(حضرات القدس، جلد دوم، ص: ۸۲ )

 اسی طرح عین الیقین اور حق الیقین کے متعلق فرماتے ہیں:

” یہ فقیر کیا کہے اور اگر کہے تو کون سمجھ سکے اور کیا حاصل کر سکے، یہ معارف احاطۂ ولایت سے خارج ہیں اور علماے ظاہر کی طرح ارباب ولایت بھی ان کو سمجھنے سے قاصر و عاجز ہیں۔ یہ علوم انوار نبوت کی مشکوٰۃ سے ماخوذ ہیں کہ دوسرے ہزار سال والی عبدی بیعت اور وراثت کی وجہ سے تازہ ہوئے ہیں۔ (مکتوبات ۴/۲)

ذَالِكَ فَضْلُ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء

محبت رسول صلى الله عليه وسلم:

  دین اسلام کا دارو مدار محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ یہ جذ بہ نہیں تو بقول اقبال سب کچھ ”بت کدۂ تصورات“ میں ڈھل جاتا ہے۔ حضرت مجددالف ثانی قدس سرہ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیجیے ، ہر پہلو اس جذبے سے سرشار دکھائی دے گا۔ فرماتے ہیں:

ایک وقت درویشوں کی جماعت بیٹھی تھی۔ اس فقیر نے اپنی محبت کی بنا پر جو آں سرور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے ہے، ان سے اس طرح کہا کہ آں  سروروہ کیسے ہیں؟ میں نے کہا کہ میں ان کے باطنی احوال کیا بیان کر سکتا ہوں، البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظاہر و غائب میں جس طرح وہ سنت اور اس کی باریکیوں کی رعایت فرماتے ہیں، اگر اس زمانے کے تمام مشائخ بھی جمع ہو جا ئیں تو اس کا دسواں حصہ بھی ادا نہیں کر سکتے ۔ شیخ فضل اللہ علیہ الرحمہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ جو کچھ اسرارِ حقیقت یہ قطب الاقطاب فرماتے ہیں اور لکھتے ہیں وہ سب صحیح اور حقیقی ہیں، اور وہ اس معاملے میں بالکل سچے ہیں اور متحقق بھی ہیں ، کیونکہ قول کی سچائی اور حال کی بلندی محض حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال اتباع کی وجہ سے ہوتی ہے۔“ (حضرت القدس ص: ۶۲ ، جلد دوم)

حضرت مجدد علیہ الرحمۃ خود فرماتے ہیں :

 ہم نے خود کو شریعت میں ڈال دیا ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سنت کی خدمت میں قائم ہیں ۔(حضرات القدس ص : ۱۷۰)

احتياط و تقوى:

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ تمام امور شریعہ میں از حد احتیاط و تقویٰ کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے مثلاً آپ کے وضو کرنے کا طریقہ ہی پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی احتیاط اور تقویٰ فقط آپ کو شایاں ہے۔ آپ کی نماز آپ کی کرامت تصور کی جاتی تھی۔ اس لیے کہ آپ نماز کے فرائض واجبات ،سنن و مستحبات کو نہایت احتیاط و تقویٰ سے ادا فرماتے تھے۔ مولانا بدر الدین سرہندی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”میں آپ کی نماز دیکھ کر بے اختیار ہو جاتا اور یقین رکھتا تھا کہ آپ ہمیشہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھتے ہیں اور اسی طریقے کے مطابق آپ نماز ادا کرتے ہیں اور یوں تو اس حقیر نے دوسرے علما و مشائخ کو بھی دیکھا ہے لیکن ایسی نماز کسی کی نہیں دیکھی۔“

فرماتے ہیں کہ : ”اسی لیے یہ حقیر بلکہ ایک کثیر جماعت آپ کی نماز ہی کی وجہ سے آپ کی معتقد ہوئی تھی ۔“ ( حضرات القدس ص : ۹۹ / جلد دوم)

آپ کا ارشاد ہے: ” لوگ ریاضت و مجاہدات کی ہوس کرتے ہیں حالانکہ کوئی ریاضت و مجاہدہ آداب نماز کی رعایت کے برابر نہیں“، نیز فرمایا کہ ” بہت سے ریاضت کرنے والے اور متورع کو دیکھا جاتا ہے کہ رعایتوں اور احتیاط میں مشغول ہیں لیکن آداب نماز میں سستی برتتے ہیں۔ “( زبدة المقامات ، صفحہ ۲۸۸)

زکوۃ کی ادائیگی میں یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی آمدنی اور نذر آتی تو آپ سال کو ختم ہونے کا انتظار نہ فرماتے بلکہ رقم کے آتے ہی فورا حساب کر کے زکوٰۃ ادا کر دیتے تھے۔ (حضرات القدس ،ص: ۹۹ / ج۲)

 دیگر مسائل و احکام میں بھی احتیاط و تقویٰ آپ کا شعار تھا؛ مثلاً رفع سبابہ کے متعلق فرماتے ہیں: ”حنفیہ سے بھی بعض روایات اس کے جواز کے متعلق منقول ہیں، لیکن جب اچھی طرح تلاش اور جستجو کی گئی تو احوط اور مفتیٰ بہ اس کا ترک معلوم ہوا کہ بہت سے علما نے حرام و مکر وہ بھی کہا ہے اور جب کوئی امر حلت اور حرمت کے درمیان دائر ہو تو اس کا ترک اولیٰ ہے۔“

 اور کبھی احتیاطاً نوافل میں احتمال سنت کی بنا پر یہ عمل کرلیا کرتے تھے۔ (زبدة المقامات صفحہ۲۸۹)

 اور نماز جمعہ کے بعد ظہر کے فرض کو چار سنت کے بعد آخر ظہر کی نیت سے احتیاطاً ادا فرماتے کہ بعض فقہا کے قول کے مطابق شرائط جمعہ نہیں پائی جاتیں۔ (حضرات القدس، ص: ۹۳ /ج۲ )

نماز کی امامت خود کراتے کہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی اور فقہاے شافعیہ و مالکیہ کے مذہب پر بھی عمل ہو جائے گا۔ ( زبدة المقامات)

 ذوق عبادت :

آپ بہت بڑے عبادت گزار ریا ضت پسند تھے۔ علامہ بدرالدین سرہندی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ:

” ایک امیر وقت کو حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے معاملے میں کچھ تر ددہوا۔ اس نے وقت کے قاضی القضاۃ ( جو آپ کا ارادت مند تھا) سے دریافت کیا کہ اس طائفے کے باطنی احوال ہمارے ادراک و فہم سے باہر ہیں۔ البتہ اس قدر جانتا ہوں کہ آپ کے احوال و اطوار کو دیکھ کر متقدمین اولیا کے احوال و اطوار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم نے جب اگلے وقتوں کے بزرگوں کا حال کتابوں میں پڑھا تھا تو دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ ان کی سخت ریاضتوں اور عبادتوں کا ذکر ان کے مریدوں نے مبالغے سے کیا ہوگا لیکن اب جو ہم نے حضرت مجدد علیہ الرحمہ کو دیکھا تو تردد جاتا رہا بلکہ ان بزرگوں کے احوال لکھنے والوں سے ہم کو شکایت ہے کہ انھوں نے کم لکھا ہے“۔ (حضرات القدس ص: ٢/٢٣)

آپ فرماتے ہیں: ”شرم آتی ہے کہ انفرادی نماز میں قوت و استطاعت کے باوجود رکوع و سجود میں کم تسبیحات پڑھی جائیں ۔

(حضرات القدس ،ص:۲/۲۳ )

مجاهده:

شہزادہ داراشکوہ آپ کے بارے میں لکھتا ہے :

” متاخرین میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔ آپ صاحب مجاہدہ درویش تھے“۔ (سفینۃ الاولیا ، ص: ۲۳۳)

حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ بہت کم کھاتے ۔ کھانے کے وقت دیکھا گیا کہ اکثر وقت درویشوں، عزیزوں اور خادموں میں کھانا تقسیم کرنے میں گزر جاتا اور اس اثنا میں کبھی تین انگلیوں سے کوئی نوالہ لے لیتے اور بھی طبق پر ہاتھ پہنچا کر منہ پر رکھ لیتے اور صرف ذائقہ چکھ لیتے ۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کو کھانے کی حاجت نہیں ہے محض اس لیے کھاتے ہیں کہ کھانا سنت ہے۔ انبیا ےکرام نے کھانا ترک نہیں فرمایا ۔ ( حضرات القدس میں : ٢/٩٠)

 آپ کے مجاہدات سنت مطہرہ کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ ہمیشہ عزیمت پر عمل فرماتے۔ آپ فرماتے ہیں:

”سالک اتباع جس قدر شریعت میں راسخ اور ثابت قدم ہوگا، اسی قدر ہوائے نفس سے زیادہ دور ہوگا۔ پس نفس امارہ پر شریعت اور امر و نہی کے بجالانے سے زیادہ دشوار کوئی چیز نہیں ۔ ( مکتوب ۲۲۱، دفتر اول)

شانِ تمكين:

حضرت علامہ ہاشم کشمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

” آپ کی صحبت اکثر خاموشی کی حالت میں گزرتی اور کبھی مسلمانوں کے عیب اور غیبت کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ آپ کے ساتھیوں کو آپ کی ہیبت، بہت زیادہ ادب اور خشوع کی حالت میں رکھتی تھی اور ان کو کھلنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آپ کی تمکین اس درجہ کی تھی کہ ان عظیم احوال کے وارد ہونے کے باوجود تلوین کے آثار آپ پر نمودار نہیں ہوتے تھے ۔ شور، چیخ بلکہ بلند آواز سے آہ بھی ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ دو سال کی مدت تک بندہ حاضرِ خدمت رہا لیکن اس مدت میں تین چار بار دیکھا گیا کہ آنسو کے قطرے چہرۂ مبارک پر گرے اور اس کے علاوہ تین چار بار معارف عالیہ بیان کرتے وقت آپ کے چشم و رخسار میں سرخی اور دونوں مبارک گالوں پر حرارت کا پسینہ دکھائی دیا۔“ ( زبدۃ القامات، صفحہ ۲۸۲)                     (جاری)

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved