25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Jan 2023 Download:Click Here Views: 19593 Downloads: 997

(11)-معراج، جسمانی یا روحانی؟

مولانا محمد عابد چشتی

اللہ رب العزت نے اپنے حبیب ،صاحب لولاک ﷺ کی عزت افزائی اور انسانی  رفعتوں کی آخری حد پر آپ کی عظمت کے اظہار  کے لیے آپ کو  اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا ، نتیجہ میں ’’معراج ‘‘ جیسا کائنات کا محیر العقول واقعہ رونما ہوا، جس کی تفصیلات  سن کر انسانی عقلیں آج بھی ورطہ حیرت میں ہیں کہ آخر ایک پیکر جسدی فضاؤں کا سینہ چیر کر ، کہکشاؤں کی دلکش انجم سے گذرتے ہوئے ، آسمانوں سے پرے لامکاں کی اس سرحد تک کیسے پہنچ گیا جہاں کسی پیکر خاکی تو کجا نوری مخلوق  کے گذرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ مگر جہاں عقل و خرد اپنی مادی صلاحیتوں کے ساتھ سفر معراج کی توضیح و تشریح کرنے سے عاجز و درماندہ نظر آتی ہے اور پس و پیش کے مرحلے سے گذرتے ہوئے انکار تک  پہنچ جاتی  ہے، وہیں ایک بندۂ مومن اپنے خدا کی قدرت کے اس عظیم واقعے پر بے چون و چرا سر تسلیم خم کر دیتا ہے ، اس لیے کہ وہ جانتا ہےاور یہی اس کا ایمان ہے کہ ایک امر کن سے کائنات کی حسین ترین بزم کو منصہ شہود پر لانے والی ذات کے لیے اپنے ’’بندے‘‘ کو جسمانی وجود  کے ساتھ لا مکاں تک لے جانا، یہ ایک انسان کی مادی نظر میں تو حیرت انگیز ہو سکتا ہےمگر قادر مطلق کی عظیم قدرت کے پس منظر میں، اس میں حیرت و استعجاب کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

سفر معراج : اللہ کے نبی ﷺ کے سفر معراج کو علماے محققین نے تین مرحلوں میں تقسیم کیا ہے : پہلا مرحلہ حرم مقدس سے بیت المقدس تک ، دوسرا مرحلہ بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک ، جب کہ تیسرا مرحلہ سدرۃ المنتہیٰ سے لامکاں کی پنہائیوں تک جاتا ہے ، جہاں ہر طرف لاہوتی انوار و تجلیات کی موجیں تھیں ، خداے وحدہ لا شریک کی ذات پورے جاہ و جلال اور صفات کمالیہ کے ساتھ جلوہ افروز تھی ، عنایات ربانی کے سایہ میں محبوب مکرم کے قدم  بڑھتے گئے، اور قربت حق کا وہ مقام  آیا جسے خود قرآن نے ’’قاب قوسین او ادنیٰ‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔             

پہلا مرحلہ :سفر معراج کا پہلا مرحلہ حرم کعبہ سے شروع ہوا  روایات کے مطابق آپ حضرت ام ہانی کے گھر محو استراحت تھے کہ مکین سدرہ حضرت جبرئیل امین رب کی جانب سے ملاقات کا پیام لے کر حاضر ہوئے ، اپنی نورانی پتلیوں کو مبارک تلووں سے مس کر کے حبیب مکرم ﷺ کو بیدار کیا، اور یہ روح پرور مژدہ سنایا کہ خداے قدوس آپ کو اپنی بارگاہ خاص میں بلا کر اپنے دیدار کی  لازوال نعمت سے سرفراز فرمانا چاہتا ہے ۔ حرم کعبہ میں روانگی سے پہلے نبی اکرم ﷺ  کا سینہ اقدس چاک کیا گیا اور  تجلیات کے نوری طشت اس میں انڈیل دیے گئے، پھرجنت کی تیز رفتار سواری ’’براق‘‘ پر سوار کرکے نوری پیکروں کے جھرمٹ میں آپ کو بیت المقدس لا یا گیا ، جہاں تمام انبیاے کرام دست بستہ آپ کی آمدکے منتظر ،راہ میں پلکیں بچھائے کھڑے تھے ، آپ کی سواری بیت المقدس پہنچی تو تحسین و مرحبا کے نغموں سے پوری فضا گونج اٹھی ، انبیاے کرام نے نماز کے لیے صف بندی کی   اور امامت کا شرف آپ کے حصے میں آیا،  چشم فلک پہلی اور آخری بار یہ  دل افروز منظر دیکھ رہی تھی کہ انبیا ے سابقین کی پوری جماعت حبیب کبریا کی اقتدا میں اپنے رب کے حضور سجود نیاز پیش کر رہی ہے ، اور یوں تمام انبیا پر آپ کی فضیلت کے خدائی اظہار پر سفر معراج کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا  جس کا بیان قرآن کریم نے اپنے معجزاتی اسلوب میں سورہ اسراکے اندر کیا ہے جو دل آویزی اور شیفتگی کا ایسا پہلو لیے ہوئے ہے جس سے  قاری کا دل اپنے نبی سے جڑی نسبت غلامی کا احساس کرکے  فخر سے ہم آمیز ہو جاتا ہے ، چناں چہ ارشاد ربانی ہے :

’’سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ     ‘‘

ترجمہ:  پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی تاکہ انہیں اپنی تعجب خیز نشانیاں دکھائیں ۔

خداے قدیر نے اپنے حبیب کی عظمت و شوکت کو معراج کے تناظر میں بیان کرنے کے لیےقرآن کے اعجازی لب و لہجہ میں نسبت ’’عبدی‘‘ کا جو سادہ سا رنگ بھرا ہے ،اثر آفرینی میں  القابات کا ایک رنگین جہاں بھی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا، ایسا لگتا ہے کہ اسی نسبت پر آکر عروج و ارتقا کے سارے مفاہیم سر بسجود ہو گئے ہوں  ،جس کی بلندی سے جھانکنے پر عروج کی ہر منزل پست دکھائی دیتی ہے، معراج کی رات اسی نسبت کو حبیب مکرم ﷺ کی عظمت کا جھومر بنا کر قرآن کے پاکیزہ صفحات پر آویزاں کر دیا گیا جو قیامت تک آنے والی نسلوں کو بارگاہ خداوندی میں آپ کی قربت کا سراغ دیتا رہے گا ۔ 

دوسرا مرحلہ : بیت المقدس کی فضا میں مصطفوی انوار و تجلیات تحلیل ہوئے تو پورا خطہ بقعہ نور بن گیا ، در و دیوار جمال مصطفیٰ سے دمکنے لگے اور نعلین پاک کا بوسہ لے کر ذرہ ذرہ کیف آگیں ہو گیا ۔ یہاں سے معراج کا دوسرا  مرحلہ شروع ہوا جس میں آسمانوں کی پر اسرار دنیا کی طرف جنت کی سوار ی پوری برق رفتاری سے پرواز کر گئی  اور چشم زدن میں  پہلے آسمان پر پہنچ گئی ۔ حضرت جبرئیل امین آگے بڑھے اور  آسمان اول پر مامور فرشتے سے آسمان کا دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، اس کے بعد کیا ہوا ، خود صاحب لولاک کی مبارک زبان سے یہ دل آویز روداد ملاحظہ فرمائیے:

فانطلق بی ، حتیٰ اتی السماء الدینا فاستفتح ، قیل من ھٰذا ؟ قال : جبرئیل ، و من معک ؟ قال : محمد ، قیل : قد ارسل الیہ ؟ قال : نعم ، قیل : مرحبابہ فنعم المجئی جاء۔( الحدیث)

جبرئیل امیں مجھے لے کر چلے اور جب آسمان دنیا پر آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا ، آواز آئی کون ؟ جبرئیل امیں نے جواب دیا : جبرئیل ۔ پھر کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : محمد ﷺ ۔ پھر پوچھا گیا : کیاانہیں بلایا گیا ہے ؟ جبرئیل نے کہا: ہاں ! آواز آئی : خوش آمدید ، کتنا اچھا آنے والا آیا ہے ۔

ہر آسمان پر فرشتوں نے آپ کی آمد پر مسرت و شادمانی کے شادیانے بجائے اور آپ آسمانوں کے مختلف طبقات میں موجود انبیاے سابقین سے ملاقات اور ان سے حکمت و نور کی باتیں فرماتے ہوئے  سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے جسے عالم امکاں کی آخری سر حد کہا جاتا ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں سے یک سر مو  آگے جانے کے لیے  قدسیان فلک کے بازو بھی جواب دے دیتے ہیں۔ یہاں  محبوب دو عالم نے قدم رنجاں فرمائے تو عبادت الٰہی اور فرامین خداوندی کی تکمیل و تعمیل میں لگے فرشتوں کی نورانی جماعت نے بارگاہ خداوندی میں یہ عرضی پیش کی کہ :

 کریما! ہماری نا صبور نگاہوں کو بھی اس پیکر نوری کے جلووں کے بے حجاب مشاہدے کا ایک موقع ضرور دیا جائے ، جن کے قدموں کے صدقے ان کے وجود کو نورانی قالب عطا کیا گیا ۔

اللہ رب العزت کی طرف سے اجازت ملی تو سارے فرشتے درخت سدرہ پر آکر بیٹھ گئے  اور اپنے نورانی وجود سے پورے درخت سدرہ کو ڈھانپ لیا ۔ سدرہ پر رسول اکرم ﷺ کی سواری ٹھہری تو فرشتوں نے دل کھول کر حضور کے تابناک جلووں کا نظارہ کیا اور اپنی نورانی پتلیوں میں حبیب کبریا کے نقش سراپا کو ہمیشہ کے لیے سجو کر رکھ لیا ۔

تیسرا مرحلہ :ابھی فرشتوں کی معصوم نگاہیں مچل مچل کے دہلیز حسن کے بوسے لے ہی رہی تھیں کہ حبیب اکرم ﷺ کے قدم عالم امکاں کی حدوں سے گذر کر لامکاں کی وادیوں میں داخل ہو گئے ، کچھ وحشت سی محسوس ہوئی تو ’’ ادن منی یا محمد! ‘‘ کی دل نواز خدائی آواز آئی جس پر کشاں کشاں آپ کے قدم بڑھتے چلے گئے ،اور پھر وہ مرحلہ آیا جب حضور پاک ﷺ کی نگاہ نبوت حسن مطلق کے ازلی اور ابدی جلووں کو نہار رہی تھی ،وہاں خدا اور بندے کے درمیان کے سارے فاصلے کس حد تک سمٹ گئے تھے  قرآن اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتا ہے :

’’ثم دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ  ( النجم)‘‘  ترجمہ : پھر خدا سے قریب ہوئے اور آگے بڑھے تو صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا ۔            

رسول اکرم ﷺ نے اپنے رب کی بارگاہ میں جملہ عبادات کا تحفہ نیازمندی کے تھال میں سجا کر پیش کیا تو خدا کی جانب سے سلامتی کی سوغات پیش کی گئیں ،راز و نیاز کی جو باتیں ہونا تھیں ہوئیں جنہیں ’’ فاوحیٰ الیٰ عبدہٖ ما اوحیٰ‘‘ کی مبارک تہہ میں چھپا دیا گیا  ۔ اس کے بعد امت کی ہدایت و رہنمائی اور اس کی  نجات کی فکر  آپ کو دوبارہ عالم آب و گل میں لے آئی اور وقت کی تھمی ہوئی نبض پھر چلنے لگی ۔

رسول اکرم ﷺ کی تشویش :صاحب لولاک ﷺ کا معراج پر جانا کوئی معمولی حادثہ یا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ سفر ہر جہت سے انسانی دنیا کے لیے ایک معمہ تھا ، جہاں اربوں نوری سال کا سفر اتنی قلیل مدت میں طے کرا دیا جاتا ہے کہ بستر اپنی سابقہ کیفیت پر نہیں  آنے پاتا ہے مگر خدا کی مملکت کے ہزاروں جلووں کا پوری آسودگی کے ساتھ مشاہدہ کرکے رسول اکرم ﷺ کی سواری صحن کعبہ میں اتر جاتی ہے ۔ گویا وقت کی اکائی رک جانے کے جن امکانی پہلوؤں کی تلاش میں آج کی سائنس سرگرداں ہے، چودہ سو سال پہلےخدا کی قدرت اسے حقیقت کا جامہ پہنچا چکی ہے ،اسی کے ساتھ ساتھ ایک پیکر بشری کا طبقہ زمہریریہ اور آسمانوں کی ٹھوس سطح کو عبور کر جانا بہر اس ماحول کے لیے ایک غیر مانوس اور ناقابل یقین واقعہ ہے جہاں فلسفہ و منطق کی زبان ہی سمجھی یا سمجھائی جاتی ہو اور عقل و مادیت سے ماورا چیزوں کو تسلیم کرنے کا تصور ہی نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے ہے کہ جب نبی رحمت ﷺ نورانی سفر سے واپسی پر مقام ’’ ذی طوی‘‘ میں پہنچے تو آپ نے حضرت جبرئیل ﷤ سےاپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:

’’اے جبرئیل ! سفر معراج کے متعلق اگر میں اپنی قوم کو بتاؤں گا تو میری قوم میری تصدیق نہیں کرے گی۔ اس پر مکین سدرہ حضرت جبرئیل نے عرض کیا کہ : یا رسول اللہ ! حضرت ابو بکر  آپ کی تصدیق ضرور کریں گے    اور وہ صدیق ہیں ‘‘۔

روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں :            

عن وھب مولیٰ ابی ھریرۃ قال ٓ: لما رجع رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسری بہٖ ، فکان بذی طوی ، قال : یا جبرئیل ! ان قومی لا یصدقونی ، قال : یصدقک ابو بکر و ھو الصدیق ۔ (تاریخ الخلفاء)

معراج کی صبح : غیب داں پیغمبر کی نگاہ ناز مستقبل کے جھرکوں سے جن خدشات کو ملاحظہ کر رہی تھی معراج کی صبح وہ سارے خدشات محسوس پیکر میں سامنے آنے لگے ، چناں چہ سفر معراج کا تذکر ہوتے ہی مشرکین اور منافقین نے بغلیں بجانا شروع کر دیں اور مکہ کی گلی کوچوں میں تضحیک و انکار کا نا تھمنے والا طوفان کھڑا کر دیا جس کی سب سے اہم وجہ یہ بھی تھی کہ کفار مکہ سفر معراج کے اس دعوے کے پس منظر میں اپنی طاغوتی مہم یعنی’’ تکذیب رسالت‘‘ کے لیے کامیابی کے پہلو دیکھ رہے تھے ، انہیں لگتا تھا کہ جس طرح ان کی مادیت زدہ فکروں کے کسی گوشے میں سفر معراج کی تفصیلات کو قبول کرنے کی گنجائش  دکھائی نہیں دیتی اسی طرح دامن نبوت سے وابستہ ایمان والے بھی معراج کی تفصیلات سن کر تذبذب کا شکار ضرور ہو جائیں گے جس کے نتائج انکار رسالت کی صورت میں بھی بر آمد ہو سکتے ہیں۔دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں حضرت ابو بکر صدیق ﷛نمایاں حیثیت کے مالک تھے ،لہٰذا  مشرکین مکہ کی آوارہ جماعت نے سب سے پہلے آپ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ، اس لیے کہ انہیں معلوم تھا کہ اس منزل کے سر ہو جانے کے بعد آگے کے سارے راستے خود بخود آسان ہو جائیں گے۔ چناں چہ مشرکین کا ایک گروہ فتح مندی کے تصور سے سرشار حضرت صدیق اکبر ﷛کی بارگاہ میں پہنچااور بولا کہ :

کیا تمھیں اپنے رسول کے متعلق معلوم ہے جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ گذشتہ رات انہیں بیت المقدس لے جایا گیا اور رات ہی رات وہ واپس بھی آگئے؟

انسان کی فطرت ہے کہ اگر کسی حادثہ کا سردست وہ انکار ، نا بھی کرے تو واقعہ کی نوعیت کے سمجھنے کے لیے توقف ضرور کرے گا تاکہ کسی صحیح نتیجہ تک پہنچا جا سکے ۔ شاید یہی امید کفار کو بھی تھی  ۔ مگر ان کے خوابوں کا یہ شیش محل اس وقت زمیں دوز ہو گیا جب حضرت ابو بکر صدیق ﷛نے ایک لمحہ کا توقف کیے بغیر جواب دیا کہ :

کیا میرے رسول نے یہ دعویٰ کیا ہے ؟ کفار بولے : ہاں ہاں، تو آپ نے فرمایا : اگر میرے رسول ﷺ نے یہ دعویٰ کیا ہے تووہ  اپنے دعوے میں سچے ہیں ، اور میں تو صبح و شام آنے والی اس سے زیادہ حیرت انگیز خبروں کی تصدیق کرتا ہوں‘‘

روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں :

’’جا ء المشرکون الیٰ ابی بکر ، فقالوا : ھل لک الیٰ صاحبک؟ یزعم انہ اسری بہ اللیلۃ الیٰ بیت المقدس ، قال : او قال ذلک ؟ قالوا : نعم ، فقال : لقد صدق ، انی لاصدقہ بابعد من ذلک بخبر السماء غدوۃ و روحۃ‘‘ ( تاریخ الخلفا)

  مشرکین کے سارے حوصلے پست پڑ گئے اور ان پر یہ حقیقت پوری قوت کے ساتھ منکشف ہو گئی کہ  جن کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہے وہ خدا و ر رسول کے کسی قول یا فعل کو عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے ہیں اور نہ ان کا ایمان انہیں اس کی اجازت دیتا ہے ۔

معراج جسمانی یا روحانی۔۔۔؟ : عالم اسلام میں معراج النبی کے تذکرے بہت اہتمام اور دھوم دھام سے کیے جاتے ہیں جس کے ذریعہ حضور ﷺ کی عظمتوں کا نقش مومنوں کے دلوں میں ثبت کیا  جاتا ہے ۔ مگر برا ہو تعصب و تنگ نظری اور اپنے ہی نبی کی عظمت سے چشم پوشی کےمنحوس رویوں کاجس کے چلتے کچھ لوگ سفر معراج کو محض ایک افسانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور فکری مغالطوں کا سہارا لے کر یہ باور کراتے  ہیں کہ یہ سفر جسمانی اور حالت بیداری کا نہیں تھا بلکہ ایک منامی اور روحانی سفر تھا جو آپ کو کرایا گیا اور ظاہر سی بات ہے  کہ اس سفر کو خواب کا ایک واقعہ مان لینے کے بعد معراج سے وابستہ عظمتیں خود بخود دھندھلا جاتی ہیں ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفر جسمانی اور حالت بیداری میں کرایا گیا تھا ،جس کے ثبوت میں دلائل و شواہد کاانبار لگانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے بلکہ معراج کی صبح کفار کی  ہنگامہ خیزیاں خود اس بات کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کر رہی ہیں کہ معراج جسمانی تھی نہ کہ محض ایک خواب ۔

کیا یہ بات عقل و خرد میں آنے والی ہے کہ ایک شخص رات میں کسی سفر کا خواب بیان کرے اور صبح اس کے خواب کے سفر پر پورا معاشرہ حیرت میں پڑ جائے اور اس کی تکذیب کے درپے ہو جائے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہوگا ، اور اگر کوئی اسے حیرت انگیز مانتا ہے تو اس کی عقل پر ماتم کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔جن لوگوں کو معراج کے منامی ہونے کا حد درجہ اصرار ہے وہ سب سے پہلے اس بات کا جواب دیں کہ معراج کی صبح کفار کی ہنگامہ آرائیوں کا بنیادی نقطہ کیا تھا ؟۔ یقیناً وہ اس کے علاوہ اور کوئی بنیاد تلاش نہیں کر سکتے کہ رسول اکرم ﷺ نے ان کے روبرو جسمانی معراج کا دعویٰ کیا تھا جسے سنتے ہی وہ بری طرح بدک گئے اور واویلا کرنے لگے ۔ ہم منکرین معراج کو اس پہلو پر غور کرنے لیے دعوت فکر دیتے ہیں اور امام قاضی عیاض ﷫ کے اس اقتباس پر اپنی گفتگوکا اختتام کرتے ہیں :

ذھب معظم السلف و المسلمین الیٰ انہ اسراء بالجسد و فی الیقظۃ و ھٰذا ھو الحق، و ھو قول اکثر المتاخرین من الفقہا والمحدثین والمتکلین و المفسرین ‘‘ ( الشفا)

ترجمہ: جمہور اسلاف اور اکثر مسلمانوں کا یہ مسلک ہے کہ معراج کا سفر جسمانی اور بحالت بیداری تھا اور حق بھی یہی ہے ۔ متاخرین فقہا و محدثین اور متکلمین و مفسرین کا بھی یہی قول ہے 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved