20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Sept 2023 Download:Click Here Views: 5955 Downloads: 925

(7)-مسئلہ رفع یدین کی توضیح و تشریح

نقطۂ نظر

مفتی محمد صابر رضا محب القادری نعیمی

 علم و دانش سے شغف رکھنے والوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عربی قواعد(.گرامر) علم نحو وصرف،فصاحت وبلاغت، معانی وبیان، حقیقت ومجاز، ایجاز واطناب ،محاورات، استعارات وکنایات،تفسیر، اصول تفسیر، فقہ، اصول فقہ اور قرآن مجید سے متعلق دیگر ضرروری علوم مثلاً آیات کا شان نزول ،ناسخ ومنسوخ ،مقدم وموخر آیات، لغات قرآن کریم کی مصطلحات اور آیات کے باہم ربط وتعلق وغیرہ کے بغیر قرآن سے مسائل کا استخراج واستنباط اور اس کے درست مفاہیم تک رسائی ممکن نہیں، ان علوم کی تحصیل کے بغیر اپنی راے سے کسی آیت کی تفسیر بتانا جائز نہیں حضور اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ارشادفرمایا:

"مَن قال في القرآنِ برأيہ، فليتَبوَّأْ مَقعدَہُ مِن النَّارِ،رواہ عبد اللہ بن عباس فی السنن للترمذی والنسائی فی سننہ.“

یعنی جس نے اپنی راے سے تفسیربیان کی اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:”من قال في القرآن برأيہ فأصاب فقد أخطأ“(رواہ أبو داود والترمذي)

یعنی اپنی راےسے تفسیر کرنے والا اگردرست تفسیر بھی کرے پھر بھی وہ گنہ گار ہے۔بعینہ یہی حال احادیث کریمہ کا بھی ہے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کے قول وفعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔

قول: حضور کے ارشادات، فعل: اعمال اور تقریر :کسی صحابی نے کوئی عمل کیا ،آپ نے نکیر نہ فرمائی بلکہ سکوت فرماکرثابت فرمادیا۔

احادیث کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے اور ان میں احکام احادیث کی تعداد تین ہزارکےآس پاس ہے ہر شئی کے حکم کے بارے میں متضاد (بظاہرمتضاد)اور صحیح احادیث موجود ہیں اوران سے مختلف متضاد احکام ثابت ہوتے ہیں۔

گویا حدیث بھی کوئی معمولی شربت نہیں جو بغیر کسی محنت شاقہ انسان بس پی لے اور اپنے مطلب کے معنی مفہوم گڑھ لے قرآن حکیم کی طرح احادیث میں بھی حقیقت ومجاز، استعارات وکنایات، محکم ومتشابہ ، خاص وعام اور مشترک ومؤول احادیث ہیں ان کے درجات اور اقسام بھی ہیں. جب تک عربی قواعد اور احادیث سے متعلق سارےعلوم خاص کر اصول حدیث اور اصول جرح وتعدیل وغیرہ پر کامل عبور نہ ہو یہ طے کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں کہ احکام میں سے کس قسم کی احادیث سے وجوب، کس قسم سے استحباب، کس سے اباحت اور کس سےحرمت اور کراہت وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے، اسی طرح ناسخ ومنسوخ کیا ہے؟ اور ظاہری تضاد میں تطبیق وتوفیق کی صورت کیا ہوگی؟ 

اس سے معلوم ہواکہ صرف اردو یا معمولی درس نظامی پڑھ کے قرآن وحدیث سمجھناہرکس وناکس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے لیےدرجنوں علوم پڑھنے اور ان میں عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن افسوس کہ آج کانام نہاد اہل حدیث وہابیہ غیر مقلدین جو سطحی ذہن کے ہوتے ہیں تقلید سے چڑتے ہیں اور مٹھی بھر تعداد میں ہوکردنیا بھرکے مسلمانوں پر مشرک وبدعتی ہونے کے سنگین الزامات عائد کرتے نہیں تھکتے، بلاتفریق ان کی جماعت کا عالم ،غیر عالم سب اجتہاد کی کرسی لگائے بیٹھے ہیں قرآن واحادیث کی تفہیم سے متعلق سارے اصول وضوابط اورشرائط کو پس پشت ڈال کر محض اردو تراجم پڑھ کر خرافات پھیلانے میں مصروف ہیں اور اب تو جنابِ گوگل کے سہارے یہ سلسلہ زور پکڑا جارہا ہے،مذکورہ نیا فرقہ بظاہر تو خود کو تقلید سے آزاد گردانتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہیں ناکہیں وہ علمائے سو کے مقلد ہیں،تجربہ شاہد ہے کہ یہ نام حدیث کا لیتے ہیں لیکن دو چار منٹ بحث ومباحثہ میں ٹھہر اکے دیکھیے تو البانی، ابن باز اور ابن عثیمن کے نظریات کا پرچار اور ان کی تقلید کا گن گانا شروع کردیتے ہیں۔ 

قارئین! یوں تو ہمارے اور غیر مقلدین کے درمیان بہت سے اصولی ،بنیادی اور اعتقادی اختلافات ہیں اور جزوی فروعی مسائل میں بھی بہت سے اختلافات ہیں خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اعتقادات ونظریات کے باب میں غیر مقلدیت سراسر ظلمت وضلالت کا نام ہے اور ان کے بہت سارےعقائد کفریہ بھی ہیں لیکن یہاں سردست ان کے دیگر اختلافات سے قطع نظر مسئلہ رفع یدین(تکبیر تحریمہ کے علاوہ کانوں تک دونوں ہاتھ کا اٹھانا) جوکہ ایک فروعی جزوی مسئلہ ہے اس حوالے سے اہلسنت کا نظریہ اور تعامل بیان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

وجہ یہ ہے کہ محبی حافظ وقاری شہباز رضا دالکولہ اتردیناجپور بنگال نے بتایا کہ ان کے یہاں چند غیر مقلد نوجوان سنی حنفی نوجوانوں کے ذہن میں رفع یدین کی غلط تشریح ڈال کر اپنے باطل مسلک کا خوب پرچار وپرسار کررہے ہیں، ان کا احمقانہ دعویٰ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین کیا عدم رفع یدین ثابت نہیں رفع یدین پر ان کی ضد اور اصرار سے سنی نوجوانوں کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز کے دیگر مقامات پر بھی رفع یدین کرنا گویا واجب اور ضروری ہے۔

نوجوان ہوشیار رہیں!اہلسنت ائمہ اربعہ مجتہدین کا موقف یاد رکھیں اور انہی میں سے کسی ایک کے ہمیشہ کےلیے مقلد بن جائیں.اہل سنت وجماعت احناف کےنزدیک نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے رفع یدین اورعدم رفع یدین دونوں ثابت ہے، احناف اس کے منکر نہیں، کچھ احادیث سے رفع یدین کا ثبوت ہوتا ہے اور کچھ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بعد میں آپ نے رفع یدین کرنا چھوڑ دیا تھااور چوں کہ بعد والا عمل ہی سنت ہواکرتا ہے اسی لیے احناف کے یہاں رفع یدین نماز میں نہ کرنا سنت ہے اور رفع یدین والی احادیث منسوخ ہیں.اب بھی اگر کوئی رفع یدین کررہا ہے تو وہ ترک شدہ عمل پر عمل کررہا ہے. ترکِ رفع یدین پر احادیث پیش کرنے سے پہلےسمجھنے کے لیے مجددِ دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قدس سرہ کا ایک مختصر مدلل اور جامع فتویٰ یہاں نقل کررہا ہوں کوئی غیر مقلد وہابی اسے صرف امام احمد رضا کا فتویٰ ہونے کے نظریے سے نہ دیکھے بلکہ اس میں مندرج دلائل پر بھی اپنی نظر مرکوز رکھے اور تعصب وعناد اورکج فہمی کی فصیل سے نکل کر نفس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرے، اگر ایسا کرے گا تو ان شاء اللّٰہ ان پر حق آشکارا ہوجاےگا۔

اعلیٰ حضرت سے پوچھا گیاکہ رفع یدین رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا یا نہیں؟ اور کب تک کیا؟ یہ بات ثابت ہے کہ ہمیشہ آپ نے کیا؟ اور مسلمانوں کو کرنا چاہیے یا نہیں؟ مکمل ارشاد فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ جواباً ارشادفرماتے ہیں: رسول اللّٰہ ﷺ سے ہرگز کسی حدیث میں ثابت نہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا بلکہ رسول اللّٰہ ﷺ سے اس کاخلاف( رفع یدین نہ کرنا) ثابت ہے، نہ احادیث میں اس کی مدت مذکور ہاں حدیثیں اس کے فعل وترک(کرنے نہ کرنے) دونوں پر وارد ہیں۔”سنن ابی داؤدوسنن نسائی وجامع ترمذی“وغیرہا میں ایسی سند سے ہے جس کے رجال (روایت کرنے والے ) رجال صحیح مسلم ہیں۔ 

بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الأسود عن علقمہ، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی:”قال الا اخبرکم بصلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال :فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد“

یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: کیا تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور پرنور ﷺ نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ یہ کہ کر نماز میں کھڑے ہوئے توآپ نےصرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھایا پھر دوبارہ نہ اٹھایا، امام ابوعیسی ترمذی نے اس حدیث پاک کی تخریج کے بعد حکم بیان کرتے ہوے فرمایا :

”حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث حسن، وبہ یقول غیر واحد من اھل العلم من أصحاب النبی ﷺ والتابعين وھوقول سفیان واھل الکوفہ.“

یعنی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ حدیث حسن ہے، یہی متعدد اصحاب رسول ﷺ اورتابعین کرام کا قول ہےاور یہی إمام سفیان ثوری اور علمائے کوفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کا مذہب ہے۔ 

مسند امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے:

 حدثنا حماد عن ابراھیم عن علقمہ والاسود عن عبد اللّٰہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ” ان رسول اللّٰہ ﷺ کان لایرفع یدیہ الا عند افتتاح الصلوۃ ولا یعود لشئی من ذٰلک.“

 ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ صرف نماز کے شروع میں رفع یدین فرماتے پھراس کے بعد کسی جگہ ہاتھ نہ اٹھاتے،

امام جعفر طحاوی رحمۃ اللّٰہ علیہ ”شرح معانی الآثار“ میں فرماتے ہیں:

"حدثناابوبکرۃ قال:حدثنا مؤمّل قال:حدثنا سفیان عن المغیرۃ قال:قلت لإبراہيم حدیث وائل انّہ رأی النبی ﷺ یرفع یدیہ إذا افتتح الصلاۃ واذا رکع واذا رفع راسہ من الرکوع، فقال:ان کا وائل رآہ مرۃً یفعل ذٰلک فقد رآہ عبداللّٰہ خمسین مرۃً لا یفعل ذٰلک.“

 ترجمہ: حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم نخعی سے حدیث وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت دریافت کیا کہ انہوں نے حضور پرنور ﷺ کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا، ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پچاس 50بار دیکھا ہےکہ حضور نے رفع یدین نہ کیا۔ 

صحیح مسلم شریف میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا”مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔ ترجمہ:کیا ہواہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھ رہاہوں. ایسا لگ رہا ہے کہ تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دم ہیں. نماز میں قرار اور سکون سے رہو۔

اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عمومِ لفظ کا ہے نہ خصوصِ سبب کا اور حاضر مبیح پر مقدم ہے ہمارے ائمہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے احادیثِ ترک پر عمل فرمایا، حنفیہ کو ان کی تقلید چاہیے، شافعی وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی پیروی کریں کوئی محل نزاع نہیں ہاں وہ حضرات کہ تقلید ائمہ دین کو شرک و حرام جانتے ہیں اور بآنکہ علمائے مقلدین کا کلام سمجھنے کی لیاقت نصیب اعداء! اپنے لیے منصب اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین واثارت فتنہ بین المومنین کرنا چاہتے بلکہ اسی کو اپنا ذریعہ شہرت وناموری سمجھتے ہیں ان کے راستے سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہیے-مانا کہ حدیث رفع ہی مرجح ہوں تاھم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں غائت درجہ اگر ٹھرے گا تو ایک امر مستحب ٹھرے گا کہ کیا تواچھا نہ کیا تو کچھ برائی نہیں مگر مسلمانوں میں فتنہ اٹھانا دوگروہ کردینا نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تک پہنچانا شاید آھم واجبات سے ہوگا اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے: وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ“فتنہ قتل سے بھی اشد ید ترین ہے،

خود ان صاحبوں میں بہت لوگ صدہا گناہ کبیرہ کرتے ہونگے انہیں نہ چھوڑنا اور رفع یدین نہ کرنے پر ایسی شورشیں کرنا کچھ بھلا معلوم ہوتا ہوگا اللہ سبحانہ تعالیٰ ہدایت فرمائے آمین واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔(فتاویٰ رضویہ،ج:4، ص:598،کتاب الصلاۃ) 

قارئین! مجدداعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اس پورے فتویٰ کو پڑھیں، دلائل کے ساتھ ان کی دیانت کو بھی دیکھیں انہوں نے دونوں طرح کی احادیث و روایات کا ذکر فرمایا اور پھر اخیر میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے قول وفعل سے استدلال کرتے ہوئے احناف کا موقف بتایا کہ یہاں ترک رفع یدین پر عمل ہے،اس پر سنن نسائی،جامع ترمذی،مسند الامام ابو حنیفہ،شرح معانی الآثار،صحیح مسلم جیسی عظیم معتبر کتب احادیث کے حوالے دیے اور اپنے فتویٰ میں شافعیہ وغیرہم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہ اپنے ائمہ کی تقلید کریں سبحان اللّٰہ کتنی پیاری بات ہے آگے فرماتے ہیں کوئی محل نزاع نہیں مطلب رفع یدین کا کرنا نہ کرنا نزاع (جھگڑا) کا محل نہیں یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ لوگ باہم دست وگریبان ہوجائیں۔

ہاں آپ نے خود ساختہ مجتہدین فہم وبصیرت سے عاری غیر مقلدین سے متعلق یہ ضروری تنبیہ فرمائی کہ لوگ مسلمانوں میں تفریق گروہ بندی کا زہر گھولنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں سے دور وہوشیار رہنا چاہیے، اخیر میں فرماتے ہیں اگر حدیثِ رفع یدین ہی کو راجح مان لیں تو بھی کسی کے نزدیک یہ ایسا کرنا واجب نہیں ہے زیادہ سے زیادہ مستحب ٹھہرے گا۔

وہابی غیر مقلدین جو خود کو اہل حدیث بھی کہتے ہیں شعور ونظر سے کام لینا چاہیے اگر وہ واقعی میں اہل حدیث ہیں تو پھر ترک رفع یدین پر جواحادیث وروايات موجود ہیں ان کا کیا ہوگا تقاضا تو یہ ہےکہ اہل حدیث ہونے کی حیثیت سے دونوں پر عمل کریں لیکن میں جانتا ہوں یہ کہنے کو اہل حدیث ہیں جو حقیقتاً نفس پرستی، انانیت، ضد اور ہٹ دھرمی کا استعارہ ہے ان سے دونوں پر عمل نہ ہوسکے گا اور یہ بھی طے ہے کہ ان کے بڑے سےبڑا عالم مندرجہ احادیث کا انکار نہیں کرسکتا انکار نہ کرنے کی صورت میں پھر یہ اپنے علمائے سو کی معنوی تقلید کرتے ہوئے جیسے تیسے جواب دے کر راہ فرار اختیار کریں گے یہ ہزار تقلید کے منکر ہوں ان کا اقرار انکار دونوں انہیں تقلید تک لے جائےگا۔

مسلمان ہوشیار رہیں شورش پھیلانا مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا ائمہ حق کی تقلید کو حرام بتانا یہ ان کا شیوہ ہے.ان سے بچیں۔

وہ احادیث جن میں رفع یدین سے منع کیا گیا:

(1) -عن جابر بن سمرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ ﷺ فقال: ”مالِی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ.“

یہ حدیث تمیم بن طرفہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔

حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لے آئے(ہم لوگ نماز میں تھے اور رفع یدین کررہے تھے) تو حضور نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو چنچل گھوڑوں کی دموں کی طرح رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں نماز سکون کے ساتھ پڑھو۔“(صحیح مسلم ج:4،کتاب الصلاۃ)

نماز کیسے پڑھی جائے اس حوالے سے بڑی مشہور حدیث ہے :"صَلوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي“

 تم ویسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔(صحیح البخاری،کتاب الاذان، باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ والاقامۃ)

 صحابہ حضور ہی کے طریقے پر نماز پڑھتے تھے انہوں نے حضور کو رفع یدین کرتے دیکھا تھا اس لیے وہ بھی کررہے تھے جب منع فرمادیا تو چھوڑچکےجیساکہ مسلم شریف کی مندرجہ بالا حدیث میں واضح ہے اور خاص کر "اسکنوافی الصلوۃ" اس بات کا تقاضا کررہا ہے کہ نماز میں رفع یدین نہ کیاجائے،گویا یہ حدیث ناسخ اور باقی احادیث اس سے منسوخ ہوگئیں عمل ،منسوخ پر نہیں ناسخ پر ہوگا۔ 

 اور یہ بھی ہے کہ کتب احادیث میں میں رفع یدین والی احادیث فعلی ہیں قولی نہیں اور یہ امر مسلم ہے کہ قولی اور فعلی میں تعارض ہوتو عمل ،حدیث قولی پرہوتا ہے اور بخاری شریف کتاب الأذان میں امام بخاری کے استاذ امام عبداللّٰہ بن زبیر حمیدہ کی ایک روایت موجود ہے فرماتے ہیں کہ عمل نبی کریم ﷺ کے آخری فعل پر ہوتا ہے اور ابھی آپ نے دیکھا۔

ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور اقدس ﷺ کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس ﷺ کو پچاس 50بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہیں فرمایا۔

(2) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں :”ان رسول اللہ ﷺ کان اذا افتتح الصلاۃ رفع یدیہ الی قریب من أذنیہ ثم لایعود.“

 ترجمہ:بےشک رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے مبارک کانوں کے قریب اٹھاتے پھر (اس کے بعد اخیر نماز تک دونوں ہاتھوں) کو نہ اٹھاتے۔(سنن أبی داؤد، باب مالم یذکر الرفع عند الرکوع) 

(3)-صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے دیکھا تو فرمایا: لاتفعل فان ھذا شئی فعلہ رسول اللہ ﷺ ثم ترکہ) تم یہ کام نہ کرو؛ کیوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے پہلے کیا تھا پھر بعد میں چھوڑ دیا،(عمدۃ القاری جلد5)

(4)-حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"ما رایت ابن عمر، یرفع یدیہ إلا في أول ما یفتتح.“

 ترجمہ:میں نے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :"فہذا ابن عمر قد رأی النبي ﷺ یرفع، ثمَّ قد ترک ہو الرفع بعد النبي ﷺ فلا یکون ذلك إلا وقد ثبت عندہ نسخ ما قدرأی النبي ﷺ فعلہ و قامت الحجة علیہ بذلك.“

پس یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو ہاتھ اٹھاتے دیکھا پھر اسی ہاتھ اٹھانے کو نبی کریم ﷺ کے بعد ترک کر دیا، تو یہ نہیں ہوا ہوگا مگر اس وقت کہ ان کے نزدیک حضور ﷺ کے فعل سے اس (رفع یدین) کا منسوخ ہونا ثا بت ہوچکا ہوگا اور (ان کے نزدیک) رفع یدین کے منسوخ ہونے پر دلیل قائم ہوچکی ہوگی۔(شرح معانی الآثار، باب التکبیر للرکوع و التکبیر للسجود، ج: 1)

قارئین اس طرح کی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں مزید دلائل کے لیے سنن نسائی، سنن ابوداود، جامع ترمذی، موطا امام محمد، السنن الکبریٰ، مسند ابویعلی اور شرح معانی الآثار دیکھا جاسکتا ہے.اخیر میں یہ کہ کر اپنا قلم اٹھاتا ہوں کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ لوگ آپس میں لڑیں بھڑیں مقلدین ان مسائل کے باب میں اپنے اپنے ائمہ کی تقلید کریں رہی بات غیر مقلدین کی تو اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved