23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 51063 Downloads: 2893

(14)-منفی سوچ کے برے اثرات

مفتی محمد ساجد رضا مصباحی

غور وفکراور حساسیت انسانی فطرت ہے ، حالات وواقعات اور تجربات و مشاہدات  کے سلسلے میں مثبت یا منفی  راے قائم کر نا   بھی انسانی جبلت ہے، بنی نوع آدم میں بعض  بےحد حساس ہو تے ہیں اور  بعض   انتہائی درجہ کے بےحس، بے حس انسان  پر گرد وپیش کے حالات کا کوئی اثر نہیں ہو تا ، انھیں اپنے سود وزیاں کا  بھی ادراک نھیں ہو تا،ایسے لوگوں کی زندگی  ندی کے  دھارے کی طرح ہو تی ہے جو اپنے رُ خ پر بہتی جاتی ہے ۔

حساس لوگوں میں بعض مثبت فکر وخیال اور تعمیری  ذہن  ودماغ کے حامل ہو تے ہیں ، وہ ہر کام میں مثبت پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں،  نامساعد حالات وواقعات میں بھی انھیں خیر کا پہلو نظر آجاتا ہے ، وہ قنوطیت کی تاریکیوں میں  امیدوں کے چراغ روشن کر لیتے ہیں،ایسے لوگ زندگی کے کسی موڑ پر ناکام نہیں ہوتے ، بڑے سے بڑے مسائل  ان کی کام یابی کے سفر میں  رکاوٹ  نہیں بنتے ، وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں، اور دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ،  کسی کی خوشی یا کسی کی کامیابی ان کے  اندر حسد وکینہ  پیدا نہیں کرتی  ، وہ نقد بے جا سے بھی پر ہیز کرتے ہیں ،  بد ظنی وبد گمانی    کے گناہ سے بھی محفوظ رہتے  ہیں ۔

دوسری جانب  انسانوں کا ایک طبقہ  منفی  فکر وخیال کی خطر ناک بیماری میں مبتلا ہوتاہے ،منفی سوچ کی  یہ بیماری ان کے ذہن و دماغ کو  کمزور کردیتی  ہے ، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے ، ان کے فکر وخیال کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے ، کائنات کی وسعتیں  ان  کے لیے تنگ ہو جاتی ہیں ، ایسے لوگوں  کی دنیا بہت چھوٹی ہو تی ہے،منفی سوچ کے حامل افراد کو کسی میں اچھائیوں سے زیادہ برائیاں اور خامیاں نظر آتی ہیں۔

گندی اور غلیظ ذہنیت، گستاخانہ و متعصبانہ رویہ،غیر اخلاقی خیالات،  تخریبی رجحانات، نفرت وعداوت،  طنز و توہین، شک و شبہہ، دھوکا و فریب، ذہنی انتشار و انتشار پسندی، افسردگی و مایوسی ، بے رغبتی و لاپرواہی، حوصلہ شکنی، عدم اطمینان، عدم تحفظ، عدم استحکام ، عدم یقین، عدم تعاون  وغیرہ  اوصاف منفی سوچ وفکر کے حامل لوگوں کے اندر بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں ۔در اصل منفی سوچ ڈر، خوف، شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بد مزاجی، مایوسی، پریشانی، غیبت، چغل خوری،  کینہ، بغض، حسد، تعصب اور دوسروں کو نیچا دکھانے یا ذلیل کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔

 ایسے لوگ سماج  ومعاشرہ کے لیے انتہائی خطر ناک ہو تے ہیں ، ان کی  وجہ سے پوری کمیونٹی  بدنام ہو تی  ہے ، پوری تحریک و تنظیم متاثر ہوتی ہے ، ایسے لوگ بنے بنائے کام آسانی سے بگاڑ دیتے ہیں ، اچھے خاصے پڑھے لوگوں کو بھی یہ طبقہ گمراہ کر  نے  میں کام یاب ہو جاتا ہے ۔ بعض لوگوں کی منفی سوچ صرف ان کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن بعض اپنی منفی اور متعصبانہ و حریصانہ سوچ سے دوسروں کی زندگی میں زہر بھر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ’’ منفی لوگ‘‘ [Negative People] یا ’’زہریلے لوگ‘‘ [Toxic People]  بھی کہتے ہیں۔ایسے لوگ سماج کے لیے زہریلا ہو نے کے ساتھ شرعی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی مذموم  ہو تے ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد فر مایا گیا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ١ٞ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۲[ الحجرات /۱۲]

ترجمہ:اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو،بےشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا اوراللہ سے ڈروبے شک  اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

در اصل بدگمانی منفی طرزِ فکر کی پیداور ہے جب کہ حسن ظن  مثبت فکر وخیال  کا لازمی تقاضاہے ۔ مثبت فکر و خیال کا حامل شخص کبھی بھی بدگمانیوں میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔احادیث مبار کہ میں بھی ایسے لوگوں کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔

حدیث پاک  میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيث۔[صحیح البخاري ، كتاب النكاح، باب لا يخطب علیٰ خطبۃ أخیہ حتی ينكح أو يدع برقم]

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ ﷛سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گمان سے بچو کیوں کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔

  سر کار دوعالم ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے  تو یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ نے  ہمیشہ مثبت طرز فکر  کو اختیار کیا، تبلیغ دین کی راہ میں کفار ومشرکین  نے آپ  پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے ، لیکن آپ  نے ہمیشہ  مثبت طرز عمل کو اپناتے ہوئے ان کی ہدایت کے لیے دعائیں کیں ،فتح  مکہ کے موقع پر جب ہر طرح  اسلام غالب  اور کفر مغلوب ہو چکاتھا ،آپ نے  مکۃالمکر مہ کے کفار  ومشرکین  کی گستاخیوں اور چیرہ دستیوں  کو یک لخت معاف فر ماکر جو طرز عمل  پیش فر مایا  وہ یقینا  رہتی دنیا تک  پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ  ہے ، طائف کی گلیوں  میں آپ کو لہو لہان کیا گیا ، رب  کائنات کے حکم سے  پہاڑوں کا فرشتہ آپ  کی خدمت میں عرض گزار ہوا  کہ  اجازت ہو تو ان پر پہاڑ گراکر ہمیشہ  کے لیے نیست نابود کردیں ، آپ نے   منع فر مایا اور ارشاد فر مایا :

’’بل أرجو أن یخرج اللہ تعالیٰ من أصلابھم من یعبداللہ وحدہ ولایشرک بہ شیئا.‘‘

 امیدہے اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیداکرے گاجوصرف اللہ کی عبادت کریں گے اوروہ شرک نہیں کریں گے۔ [صحیح مسلم ، ج:۲، ص:۱۰۹] بلاشبہہ یہ سر کار دوعالم ﷺ کے مثبت فکر وخیال کاایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

اب ذیل میں ہم منفی فکر وخیال کے چند اہم  دینی ودنیاوی نقصانات پر قدرےتفصیل کے ساتھ  روشنی ڈالیں گے :

منفی سوچ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے:

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے اور انسان کے اندر خوداعتمادی پیدا کرتی ہے ، جب کہ  منفی فکر  رکھنے والے لوگ ہمیشہ تذبذب  کے شکار ہو تے ہیں ، کسی بھی مسئلے میں وہ صحیح نتیجے تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں  اور غلط نتیجے اخذ کر کے اپنی زندگی تباہ وبر باد کر لیتے ہیں ،ہمارے گرد وپیش ایسے بے شمار لوگ ہو تے ہیں جن کے منفی رویوں سے ان کی پہچان آسانی سے  ہوسکتی ہے،وہ کسی پرو جیکٹ کو شروع کر نے سے قبل ہی  خدشات اور امکانات  کے بھنور میں پھنس کر قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں ، ہر کام میں انھیں ناکامی کا ڈر ستانے لگتا ہے ،   وہ مفادات سے زیادہ مضرات پر غور  کرتے ہیں ،مثلا: انھیں کو ئی بزنس شروع کر ناہے تو  طرح طرح کے خیالات دل میں لاتے ہیں ، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس بزنس  کے ذریعہ کتنے لوگوں  نے معاشی ترقی کی  بلندیوں تک پہنچنے میں کام یابی حاصل کی  بلکہ وہ  اس پر زیادہ ریسرچ کرتے ہیں کہ  اس بزنس میں کتنے لوگ ناکام ہو کر  معاشی تباہی کے شکار ہو ئے ۔اس طرح وہ اپنا ارادہ  وہیں ترک کردیتے ہیں اور معاشی ترقی کا ایک سنہرا موقع گنوا دیتے ہیں ۔ یہ   بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے کام بہت سے لوگ صرف اس منفی سوچ کی وجہ سے نہیں کرپاتے کہ ہمارے پاس اس کام کے لیے سرمایہ اور وسائل نہیں ،یا ہمارے پاس ویسی توانائی نہیں جو اس کام کی تکمیل کے لیے ضروری ہے ،ایسی منفی سوچ احساس محرومی کو بڑھاتی ہے اور ہم موجود وسائل کو بھی اپنے کام کے لیے  بروے کارنہیں لاپاتے۔

منفی سوچ رکھنے والے لوگ ہر کام میں کوئی  منفی پہلو نکا ل لیتے ہیں ،مثلا ایک مصنف کسی منفی سوچ رکھنے والے  کے پاس اپنی کتاب  لے کر   چلاجائے تو  وہ ان سے کہے گا ، آج کل کتا بیں کون پڑھتا ہے،سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ، لوگ موبائل اور ٹیلی ویژن میں مصروف رہتے ہیں ، یا یہ بھی کہہ سکتا ہے  کہ کتاب کا موضوع  بہت پرا نا ہے  اس پر تو سیکڑوں کتا بیں لکھی جا چکی ہیں ، وہی کتا بیں پڑ ھنے کے لیے کافی  ہیں ۔اس کتاب کی کیا ضرورت تھی۔اس طرح  منفی سوچ رکھنے والے نہ صرف اپنا مستقبل تباہ کرتے ہیں  بلکہ  اپنے  گرد وپیش کے لوگوں کی حوصلہ شکنی میں بھی  اہم کردار دا کرتے ہیں ۔

منفی سوچ رشتوں کی پامالی کا باعث ہے :

منفی سوچ رکھنے والے افراد  رشتوں کو نبھانے میں اکثر نا کام  رہتے ہیں، بد ظنی اور بد گمانی ان کی گھٹی میں پڑی ہوتی  ہے ، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے  خطرناک نتائج نکال لیتے ہیں ، مثلا ایک منفی سوچ رکھنے والا شخص اپنے دوست کو فون کرتا ہے ، اتفاقاً وہ باتھ  رو م میں ہو تا ہے ، باہر آکر آفس  جانے کی عجلت میں  اپنے دوست کے فون کو بھول جاتا ہے، آفس کے کاموں کے دوران پھر فون آتا ہے ،لیکن آفس کے اصول وقوانین کا پاس ولحاظ کرتے ہو ئے وہ فون ریسیو نہیں کر پاتا ، ادھر منفی سوچ رکھنے والا دوست  کئی کئی طرح کی بد گمانیاں دل میں پیدا کر لیتا ہے ، وہ سوچتا ہے کہ  میرا دوست مجھے اہمیت نہیں دے رہا ہے ، جان بوجھ کر میرے فو ن کو نظر انداز کر رہاہے ، مرے دوست کو پیسوں کا گھمنڈ ہو گیا ہے ، میرا دوست مجھ سے دوستی برقرار نہیں رکھنا چاہتا، میرے دوست کو کسی نے بہکا دیا ہے۔پھر اسی  طرح بد گمانیوں  کی بنیاد پر وہ شکوہ  وشکایت کی  ایک پوری عمارت کھڑی کر لیتا ہے ، دھیرے دھیرے  دوستی کا یہ پاکیزہ رشتہ ٹوٹنے لگتا ہےاور  منفی سوچ  برسوں کی دوستی  کو تہ وبالا کر دیتی ہے۔

شوہر اور بیوی کے مابین  تعلقات کی ناخوش گواری میں بھی منفی سوچ  اور اس کے نتیجے میں پیدا ہو نے والی بد گمانیوں کا بڑا دخل ہو تا ہے ،غلط اور منفی  سوچ سگے بھائیوں اور بہنوں میں دشمنی ، ساس بہو میں لڑائی ، میاں بیوی کے درمیان  ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی پھر لڑائی اور بالآخر طلاق اور جدائی  کی نوبت آجاتی ہے۔

لہذا   ہمیں اپنے تمام  احبا ب سے ہمیشہ گزارش  کر نی چاہیے کہ   اگر  کبھی کوئی  شکوہ ہو تو  براہ راست  رابطہ کریں ، شیطانی اثرات سے پیدا ہو نے والی بد گمانیوں   کی وجہ سے  کوئی منفی خیال دل میں  نہ بسائیں، اچھے تعلقات  اور رشتے داریاں اللہ کی نعمت ہیں ، ان کو اس طرح پامال کر نا   نعمتوں کی ناقدری کے مترادف ہے۔  

منفی سوچ   تخریب  کو فروغ دیتی ہے :

منفی سوچ رکھنے والے تعمیر ی فکر سے کوسوں دور ہو تے ہیں ، ایسے لوگ کسی سماج میں ہو ں یا کسی تحریک وتنظیم میں ، وہ ہمیشہ  نقد بے جا کے عادی ہوجاتے ہیں ، ہر معاملے میں ان کی تنقید کا نشتر چلتا رہتا ہے  جو  ماحول کو پرا گندہ کر نے اور تخریبی عناصرکو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتاہے ، ایسے  افراد ہزاروں خوبیوں کے بیچ  چھپی ہوئی معمولی  خامیوں کو بھی  ڈھونڈ  نکالتے ہیں ، پھر ان بے شمار خوبیوں کا چر چا کر نے کی بجاے اس خامی کو ہائی لائٹ کر کے  خوبیوں  پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ،حالاں کہ ایسے لوگوں کی کوششیں  اکثر کام یاب نہیں ہو تی ہیں اور وہ ذلیل وخوار ہو تے ہیں۔ایسے لوگ کسی اچھے  کام پر حوصلہ افزائی کے دوبول بولنے کی بجاے اس کام کے اثرات کو زائل کر  نے اور اس کے خلاف راے عامہ ہمورا کر نے میں  مصروف ہو جاتے ہیں،   ان کی زندگی انھی کاموں میں گزر جاتی ہے،اچھے اور مثبت لوگ ایسے لوگوں کے سایہ سے بھی دور بھاگتے ہیں ، منفی فکر والے دنیا میں تو مبغوض رہتے ہی ہیں  دنیا سے رخصت ہو تے  ہوتے   بد نامیوں  کا تمغہ بھی  ساتھ لیے  جاتے ہیں۔

منفی سوچ ذہنی وجسمانی بیماریوں کا باعث ہے:

منفی سوچ اور جذبات جسمانی و دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں ان میں بیمار رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ خوش رہتے ہیں اور ہر بات کو  مثبت نظریے سے دیکھتے ہیں  وہ خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ آج مغربی ممالک میں بے شمار لوگ منفی سوچ کی وجہ سے ڈپریشن ، ذہنی دباؤ[ [Stres، ذہنی تناؤ[ [Tension، ذہنی انتشار [Mental disturbances] وغیرہ میں مبتلا ہیں جس کی علاج کے لیے موٹیویشنل اسپیکرز [Motivational Speakers] اور لائف کوچز [Life Coaches] وغیرہ انہیں منفی سوچ ختم کرنے اور مثبت سوچ اپنانے کی ذہنی تربیت دیتے ہیں۔

 طبی تحقیقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منفی سوچ رکھنے  والے دل  کی بیماریوں میں کثر ت سے مبتلا ہو تے ہیں ۔

 منفی سوچ رکھنے والے  لوگ عموماً اداسی، غم ، غصہ ، خوف ، دباؤ  اور تناؤ  جیسی کیفیات میں مبتلا ہو تے ہیں جو جگر اور معدہ کی خطر ناک بیماریوں کا باعث ہیں، ذہنی دباؤ آپ کے دماغ اور دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ فالج کے شکار ہونے والے  اکثر افراد ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔

UK کے ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جو لوگ بھی مینٹل ہیلتھ پرابلمز کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے اکثر کی وجہ منفی سوچ ہوتی ہے ، ان کی سب سے بڑی پرابلم یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے صرف منفی رویوں کو ہی یاد رکھتے اور ان چیزوں کو سوچتے رہتے ہیں،پھر بالآخر ایسے افرادذہنی طور پر پریشر، اسٹریس ، ڈپریشن ، گھبراہٹ ، اعصابی بیماریوں اور پاگل پَنکے شکارہوجاتے ہیں۔

 ایک کامیاب انسان کے لیے اس کے خیالات کا  مثبت اور پاکیزہ ہو نا انتہائی ضروری ہے، حسن ظن  انسان کو بہت  ساری دشواریوں سے بچاتا  ہے ، احادیث مبارکہ میں بھی حسن ظن رکھنے اور ذہن ودماغ میں منفی خیالات پیدا کر نے کی ممانعت وارد ہے :

عن جابر رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل وفاته بثلاث يقول :لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللهِ الظَّنَّ۔[  متفق علیہ]

ترجمہ :تم سے ہرگز ہرگز کسی کی موت نہ ہو مگر وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

ہمیں چاہیے کہ  ہمیشہ  مثبت فکر وخیال کے حامل رہیں ، منفی سوچ اور منفی سوچ والوں سے دور رہیں ، ور نہ  ان کے  منفی رجحانات سے ہمارے  کام بھی متاثر ہو سکتے ہیں  اور ان  کی نحوستوں سے   ہمارے حوصلے بھی پست ہو سکتے،ہمیں ہمیشہ یہ سمجھنا چاہیے  کہ سوچ ایک مقناطیس کی طرح ہے۔ اچھی سوچ  سےاچھے نتائج اور بُری سوچ  سےبُرے نتائج  ظاہر  ہو تے  ہیں 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved