20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Feb 2023 Download:Click Here Views: 23909 Downloads: 1152

(15)-مناقب

كلامِ داغؔ دہلوی

یہ دل محبوب سبحانی  کے صدقے

 محی الدین جیلانی کے صدقے

 نثارِ قبۂ انور مہ و مہر

 فرشتے قبرِ نورانی کے صدقے

 تمہاری ذات سے ہے نظمِ عالم

 جہانبانی کے سلطانی کے صدقے

میرے دل پر چلے وہ خنجرِ عشق

 مَلک ہوں جس کی قربانی کے صدقے

 تمہارے لطف پنہانی کے قرباں

 تمہارے فیض روحانی کے صدقے

 یہ دل ہو اور موج قلزم عشق

 یہ کشتی، موجِ طوفانی کے صدقے

 یہ زیبا ہے جو ہوں لوح و قلم بھی

 تمہارے اسمِ لاثانی کے صدقے

فدائے شمع ، پروانہ ہو اے داغؔ

 ہم اپنے قطب ربانی کے صدقے

کہاں تلاش کروں

نہایت مشفق وکرم فرما استاذ حضرت علامہ اسرار احمد عزیزی علیہ الرحمہ کی ناگہاں رحلت سے متاثر ہوکر

بہار علم و ہنر کو کہاں تلاش کروں

قرار اہل نظر کو کہاں تلاش کروں

وہ باغ حافظ ملت کے تھے حسین گلاب

 کمال فن کے گہر کو کہاں تلاش کروں

 بڑے شفیق تھے میرے وہ ذی حشم استاذ

میں چرخ دیں کے قمر کو کہاں تلاش کروں

 تھی ذات ان کی جلال و جمال کی پیکر

 میں شام غم کی سحر کوکہاں تلاش کروں

 تھا ان کے رشد و ہدایت میں منزلوں کا نشاں

نگاہ ناز سفر کو کہاں تلاش کروں

 عجب تھی ان کے تکلم سے آگہی مربوط

منار فتح و ظفر کو کہاں تلاش کروں

 وہ بے مثال تھے پر جوش خیر کے داعی

اب ایسے ماحی شر کو کہاں تلاش کروں

 ہزاروں علم کے اثمار کا ہے جن سے وجود

 تناور ایسےشجر کو کہاں تلاش کروں

 وہ قدسیؔ دے گئے انمٹ مفارقت کا داغ

اب ان کی راہ گزر کو کہاں تلاش کروں

کیا کیا کہوں

حضرت علامہ اسرار احمد عزیزی علیہ الرحمہ کی یاد میں

دریائے فکر وفن کا کنارا کہوں تجھے

 بوالفیض کی نگاہ کا تارا کہوں تجھے

ابناے اشرفیہ کا پیارا کہوں تجھے

میں علم و آگہی کا منارا کہوں تجھے

کیا کیا کہوں اے حضرت اسرارؔ محتشم

استاذ محترم مرے استاذ محترم

------

تدریس کے جہان میں تو با کمال تھا

مسند پہ درسگاہ میں تو پر جلال تھا

 ہر لفظ تیرا حق و صداقت پہ دال تھا

 سچ ہے کہ سادگی میں تو گدڑی کا لعل تھا

کیا کیا کہوں اے سالک جنت تری قسم اے شاہ ذوالکرم مرے استاذ محترم

------

منصف مزاج صاحب تقویٰ کہوں تجھے اسلاف کی حیات کا جلوہ کہوں تجھے

راہ عمل میں زیست کا فتویٰ کہوں تجھے

 یعنی رسول پاک کا شیدا کہوں تجھے

کیا کیا لکھوں ہے آپ پر اللہ کا کرم

افکار ذی حشم مرے استاذ محترم

------

سادہ چلن مزاج میں نرمی کی وسعتیں

 عظمت میں باوقار مروت کی رفعتیں

تھے سنگ میل سامنے دکھتی تھیں منزلیں اللہ رے وہ رُخ پہ تہجد کی برکتیں

کیا کیا کہوں میں کیسے لکھوں قصہ الم

شیداؔ شریک غم ہے اے استاذ محترم

 

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved