25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Jan 2023 Download:Click Here Views: 19571 Downloads: 995

(7)- خواجۂ ہند و دربار ہے اعلیٰ تیرا

حافظ افتخار احمد قادری

ہندوستان کی مایہ ناز شخصیت جسے دنیائے سنیت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کے نام سے جانتی پہچانتی اور مانتی ہے- سرکار خواجہ غریب نواز کی ذات ایسی ذات ہے کہ جس کے عرفان و آگہی کی داستانیں چمن چمن میں پہنچ گئی ہیں- موج قرطاس سے گزر کر ان کے فیوض وبرکات کا چراغ کشور دل کے شبستانوں میں جل رہا ہے- یہی وہ عظیم الشان شخصیت ہے جس کے شام وسحر اور شب وروز کا ایک ایک لمحہ دینی ومذہبی مہمات میں اس درجہ مصروف تھا کہ خیال غیر کی کوئی باریابی نہیں ہو تی-  سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کے خون جگر کی سرخی سے ویرانوں میں دین کے گلشن لہلہا اٹھے، عشق وایمان کی روح ان کے وجود کے رگ رگ میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اپنے محبوب پاک کے جمال کے لیے ہر وقت بے چین و بیقرار رہتے اور جب دیدارِ مصطفیٰ سے آنکھیں سیراب ہوئیں تو چہرے سے تابانی چھلکتی تھی- ایسا کیوں نہ ہوتا آخر وہ خاندان رسول ہی کے تو ایک فرد تھے

تاریخِ ہند کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جب ہندوستان کفرستان بنا ہوا تھا معبود بر حق کی عبادت وبندگی کرنے کے بجائے خود تراشیدہ پتھروں، بےجان مورتیوں کو اپنا پالنہار و خالق مان کر اس کی پرستش کر رہے تھے، ہندوستان کے اخلاق و اطوار بگڑ چکے تھے، ظلم وستم کا بازار گرم ہو چکا تھا، وحشت وبربریت پھیلتی جارہی تھی، لوٹ گھسوٹ، چوری، عیاشی اور شراب نوشی میں لوگ منہمک تھے، حقوق العباد، غصب کرنا عام طور پر ضروری بن چکا تھا جگہ جگہ انتشار تھا جگہ جگہ بے چینی و بے قراری تھی گویا ہندوستان کی تہذیب اپنی شمع گل کر چکی تھی- ایسے وقت میں آپ کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے یہ ہندوستان جو کفرستان بنا ہوا تھا تکبیر ورسالت کی دلنواز صداؤں اور ملکوتی ترانوں سے گونج اٹھا- اس قدسی صفت بزرگ کی چھوٹی سی مجلس رشد وہدایت اور نور ایمان بن گئی- کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے لاکھوں باشندگان ہند اسلام کے اس چشمہ شیریں کی جانب دوڑنے لگے اور کفر کے مجسمے جام ہدایت پی پی کر اسلام میں سرشار ہونے لگے-

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کو پورے عالمِ اسلام کے مسلمان انتہائی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ اور اسلام کے آفاقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے تعلق سے آپ کو تقدیم و اولیت حاصل ہے اس کفرستان ہند میں اسلام کا چراغ اگرچہ آپ سے جل چکا تھا اور اسلامی مبلغین و مصلحین آچکے تھے لیکن اسلام کو قبولیت عام نہ مل سکی تھی، آپ کی تبلیغ نے ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا اور لوگ بہت تیزی کے ساتھ اسلام کے دامن میں پناہ لینے لگے، اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت وتبلیغ اور رشد وہدایت کا نتیجہ ہیں کیونکہ آپ کے گلشنِ ہدایت کی جو ہوا چلی تو بساطِ ہند میں نور اسلام سے چراغاں ہی چراغاں ہو گیا- یہی وجہ ہے کہ ہر شخص آپ کا قدردان ہے- بد عقیدگی کا سیلاب بھی آپ کی عظمت و رفعت کو متاثر نہ کر سکا اور انشاء اللہ صبحِ قیامت تک متاثر نہ کر سکے گا- آپ کے عقیدت مند آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے رہیں گے اور بد عقیدگی کے چہرے پر لعنت و ملامت کے تیر برساتے رہیں گے- سرکارِ خواجہ غریب نواز ﷛کی نگاہ ولایت سے دل بھی بدلے آپ کے خلفاء ومتوسلین خاک ہند کے جس خطے پر پہنچے تو اسلام کا بول بالا ہوتا اور نور ہدایت پھیلتا اور کفر کا اندھیرا چھنٹتا چلا گیا-

تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ آپ نے اجمیر شریف میں گوشہ نشینی اختیار کی اسلام کا چراغ جلایا ہندوستان کے ہر دور کے خوش عقیدہ مسلمان اس مقدس دربار گہربار میں حاضر ہوتے رہے ہیں- اور ان کے وسیلے سے دل کی مرادیں پاتے رہے- اس بارگاہِ اقدس میں سلاطین ہند بھی پاپیادہ حاضر ہوتے رہے ہیں اور مشائخ طریقت بھی گردنیں خم کر رہے ہیں اساطین علم و دانش بھی با ادب آتے رہے ہیں اور کج کلاہان زمانہ بھی خمیدہ نظر آتے رہے ہیں کیوں کہ آپ کی نگاہ جس پر پڑھتی دل کی دنیا بدل جاتی، آپ کی بارگاہ میں جو بھی آتا فیضیاب ہو جاتا، رہزن آتا رہبر بن جاتا، قاتل آتا محافظ بن جاتا، شقی آتا سعید بن جاتا، نا اہل آتا اہل بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا کافر آتا مسلمان ہو جاتا فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہو کر عامل قرآن بن جاتا

حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی سے کسی نے سوال کیا کہ جو مقبولیت سلطان الہند کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں جو ان کے مزار پرانوار پر جاتا ہے ان پر فریفتہ اور دیوانہ ہو جاتا ہے- اس کی وجہ کیا ہے؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قدرے توقف کے بعد فرمایا:

ایں  سعادت بزورِ  بازو  نیست

تانہ   بخشد  خدائے    بخشندہ 

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ آپ کے عرس کے مبارک موقع ہے لاکھوں عقیدتمند دور دراز سے سفر طے کر کے آتے ہیں آنے والوں کا جم غفیر ہے ہما ہمی کا عالم ہے اجمیر کی مقدس گلیوں کوچوں میں دھوم دھام ہے سب کے چہروں پر مسرت و شادمانی کے آثار نمایاں ہیں آخر یہ سب کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ خدا کے برگزیدہ بندے اور مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے مقدس شاہزادے کا عرس ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے ہم تمام مسلمانوں پر سرکارِ خواجہ غریب نواز کے فیضان کی موسلادھار بارش نازل فرمائے-

خواجہ غریب نواز

--------------------------------------

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

 

ہندوستان کی مایہ ناز شخصیت جسے دنیائے سنیت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کے نام سے جانتی پہچانتی اور مانتی ہے- سرکار خواجہ غریب نواز کی ذات ایسی ذات ہے کہ جس کے عرفان و آگہی کی داستانیں چمن چمن میں پہنچ گئی ہیں- موج قرطاس سے گزر کر ان کے فیوض وبرکات کا چراغ کشور دل کے شبستانوں میں جل رہا ہے- یہی وہ عظیم الشان شخصیت ہے جس کے شام وسحر اور شب وروز کا ایک ایک لمحہ دینی ومذہبی مہمات میں اس درجہ مصروف تھا کہ خیال غیر کی کوئی باریابی نہیں ہو تی-  سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کے خون جگر کی سرخی سے ویرانوں میں دین کے گلشن لہلہا اٹھے، عشق وایمان کی روح ان کے وجود کے رگ رگ میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اپنے محبوب پاک کے جمال کے لیے ہر وقت بے چین و بیقرار رہتے اور جب دیدارِ مصطفیٰ سے آنکھیں سیراب ہوئیں تو چہرے سے تابانی چھلکتی تھی- ایسا کیوں نہ ہوتا آخر وہ خاندان رسول ہی کے تو ایک فرد تھے

تاریخِ ہند کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جب ہندوستان کفرستان بنا ہوا تھا معبود بر حق کی عبادت وبندگی کرنے کے بجائے خود تراشیدہ پتھروں، بےجان مورتیوں کو اپنا پالنہار و خالق مان کر اس کی پرستش کر رہے تھے، ہندوستان کے اخلاق و اطوار بگڑ چکے تھے، ظلم وستم کا بازار گرم ہو چکا تھا، وحشت وبربریت پھیلتی جارہی تھی، لوٹ گھسوٹ، چوری، عیاشی اور شراب نوشی میں لوگ منہمک تھے، حقوق العباد، غصب کرنا عام طور پر ضروری بن چکا تھا جگہ جگہ انتشار تھا جگہ جگہ بے چینی و بے قراری تھی گویا ہندوستان کی تہذیب اپنی شمع گل کر چکی تھی- ایسے وقت میں آپ کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے یہ ہندوستان جو کفرستان بنا ہوا تھا تکبیر ورسالت کی دلنواز صداؤں اور ملکوتی ترانوں سے گونج اٹھا- اس قدسی صفت بزرگ کی چھوٹی سی مجلس رشد وہدایت اور نور ایمان بن گئی- کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے لاکھوں باشندگان ہند اسلام کے اس چشمہ شیریں کی جانب دوڑنے لگے اور کفر کے مجسمے جام ہدایت پی پی کر اسلام میں سرشار ہونے لگے-

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کو پورے عالمِ اسلام کے مسلمان انتہائی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ اور اسلام کے آفاقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے تعلق سے آپ کو تقدیم و اولیت حاصل ہے اس کفرستان ہند میں اسلام کا چراغ اگرچہ آپ سے جل چکا تھا اور اسلامی مبلغین و مصلحین آچکے تھے لیکن اسلام کو قبولیت عام نہ مل سکی تھی، آپ کی تبلیغ نے ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا اور لوگ بہت تیزی کے ساتھ اسلام کے دامن میں پناہ لینے لگے، اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت وتبلیغ اور رشد وہدایت کا نتیجہ ہیں کیونکہ آپ کے گلشنِ ہدایت کی جو ہوا چلی تو بساطِ ہند میں نور اسلام سے چراغاں ہی چراغاں ہو گیا- یہی وجہ ہے کہ ہر شخص آپ کا قدردان ہے- بد عقیدگی کا سیلاب بھی آپ کی عظمت و رفعت کو متاثر نہ کر سکا اور انشاء اللہ صبحِ قیامت تک متاثر نہ کر سکے گا- آپ کے عقیدت مند آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے رہیں گے اور بد عقیدگی کے چہرے پر لعنت و ملامت کے تیر برساتے رہیں گے- سرکارِ خواجہ غریب نواز ﷛کی نگاہ ولایت سے دل بھی بدلے آپ کے خلفاء ومتوسلین خاک ہند کے جس خطے پر پہنچے تو اسلام کا بول بالا ہوتا اور نور ہدایت پھیلتا اور کفر کا اندھیرا چھنٹتا چلا گیا-

تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ آپ نے اجمیر شریف میں گوشہ نشینی اختیار کی اسلام کا چراغ جلایا ہندوستان کے ہر دور کے خوش عقیدہ مسلمان اس مقدس دربار گہربار میں حاضر ہوتے رہے ہیں- اور ان کے وسیلے سے دل کی مرادیں پاتے رہے- اس بارگاہِ اقدس میں سلاطین ہند بھی پاپیادہ حاضر ہوتے رہے ہیں اور مشائخ طریقت بھی گردنیں خم کر رہے ہیں اساطین علم و دانش بھی با ادب آتے رہے ہیں اور کج کلاہان زمانہ بھی خمیدہ نظر آتے رہے ہیں کیوں کہ آپ کی نگاہ جس پر پڑھتی دل کی دنیا بدل جاتی، آپ کی بارگاہ میں جو بھی آتا فیضیاب ہو جاتا، رہزن آتا رہبر بن جاتا، قاتل آتا محافظ بن جاتا، شقی آتا سعید بن جاتا، نا اہل آتا اہل بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا کافر آتا مسلمان ہو جاتا فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہو کر عامل قرآن بن جاتا

حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی سے کسی نے سوال کیا کہ جو مقبولیت سلطان الہند کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں جو ان کے مزار پرانوار پر جاتا ہے ان پر فریفتہ اور دیوانہ ہو جاتا ہے- اس کی وجہ کیا ہے؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قدرے توقف کے بعد فرمایا:

ایں  سعادت بزورِ  بازو  نیست

تانہ   بخشد  خدائے    بخشندہ 

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ آپ کے عرس کے مبارک موقع ہے لاکھوں عقیدتمند دور دراز سے سفر طے کر کے آتے ہیں آنے والوں کا جم غفیر ہے ہما ہمی کا عالم ہے اجمیر کی مقدس گلیوں کوچوں میں دھوم دھام ہے سب کے چہروں پر مسرت و شادمانی کے آثار نمایاں ہیں آخر یہ سب کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ خدا کے برگزیدہ بندے اور مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے مقدس شاہزادے کا عرس ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے ہم تمام مسلمانوں پر سرکارِ خواجہ غریب نواز کے فیضان کی موسلادھار بارش نازل فرمائے-

خواجہ غریب نواز  کے مختصر حالات :

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ﷛کی ذاتِ والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں- آپ ظاہری و باطنی فضائل و کمالات کی جامع اور شریعت و طریقت، معرفت و حقیقت اور رشدوہدایت کے بحر بیکراں تھے- آپ روحانی کمالات و تصرفات فیوض و برکات کے سبب اولیاے ہند کے پیشوا اور مقتدائے اعظم ہیں- آپ کے قدوم میمنت لزوم کی نسبت و برکت سے ہندوستان کی تاریک فضا اسلام و ایمان کے نور سے منور ہو گئی اس ہندوستان میں اجمیر ہی وہ مقدس شہر ہے جس کو خواجہ خواجگان سرکارِ خواجہ غریب نواز ﷛نے اسلام و ایمان کی تبلیغ واشاعت کے لیے مرکز رشد و ہدایت اور روحانی راجدھانی قرار دیا اور اسی مبارک شہر سے بغیر کسی مادی دباؤ یا مالی ترغیب و تحریص کے اسلام کی حقانیت و صداقت ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اشاعت پذیر ہوئی نیز یہی وہ محبوب شہر ہے جہاں روحانیت و عرفانیت کا وہ ابدی چشمہ پھوٹا جس نے ہندوستان کی سرزمین کو حقیقت و طریقت کے گلہائے رنگا رنگ سے رشکِ چمن بنا دیا- آپ کا اسم گرامی ،،معین الدین حسن،، اور والد ماجد کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین محمد ہے- آپ نجیب الطرفین سید ہیں- آپ کے جدِ اعلیٰ بنی عباس کے مظالم سے تنگ آکر اپنے وطن اصفہان سے ہجرت فرما کر سنجر نامی قصبہ میں اقامت پذیر ہو گئے- سنجر ایک مردم خیز قصبہ ہے جو ایران و خراسان کے کنارے تہران سے ڈیڑھ سو میل دوری پر واقع ہے اسی مبارک قصبہ میں بتاریخ 14رجب المرجب 535ہجری بروز دو شنبہ حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی- ابھی آپ سات برس کے تھے کہ تاتاریوں نے آپ کے وطن پر حملہ کردیا آپ کے والد بزرگوار مع اہل و عیال عراق منتقل ہو گئے اور وہیں بغداد شریف میں آپ کا وصال ہوگیا- اس کے بعد دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ آپ خراسان جاکر اقامت گزیں ہوگئے، سرکارِ خواجہ غریب نواز ﷛کا بچپن اور زیادہ وقت خراسان میں گزرا ابھی چودہ سال ہی کے تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا کچھ عرصہ کے بعد والدہ ماجدہ بھی وصال کر گئیں- ترکہ پدری میں ایک باغ اور پن چکی ملی قصبہ سنجر کی طرح تاتاریوں کے ہاتھ قتل و غارتگری ظلم و بربریت خراسان میں بھی نازل ہوگئی- حضرتِ خواجہ غریب نواز ﷛کے حساس قلب و ضمیر نے بہت زیادہ رنج و ملال محسوس کیا دنیا سے دل اُچاٹ کھا گیا ،آپ کے مبارک قلب میں عرفان و روحانیت کا احساس پیدا ہوا ہی تھا کہ بحکمِ رب ایک مجذوب صادق حضرتِ ابراہیم ﷫ آپ کے باغ میں آگئے آپ نے تازہ انگور کے خوشوں سے تواضع کی فقیر نے عادتاً کچھ کھا لیا- آپ کی تواضع سے خوش ہو کر اپنی جھولی سے روٹی یا کھل کے سوکھے ٹکڑے نکال کر چبائے اور لقمہ بناکر فرمایا کہ کھا لو آپ نے بلا تامل کھالیا جس سے آپ پر غیر معمولی تجلیات و کیفیات کا ظہور ہوا آپ کے روحانی قوی ایک دم شگفتہ ہو گئے اور غلبہ وعشق الٰہی سے متاثر ہو کر تلاش حق میں نکل پڑے، سب سے پہلے سن شعور کو پہونچ کر باقاعدہ علومِ اسلامیہ دینیہ کی تحصیل و تکمیل کے لیے آپ بلخ سمر قند تشریف لے گئے مختلف علما و محدثین کے زیر درس رہ کر دو سال کی مدت میں قرآن مجید، تفسیر، حدیث، فقہ، معارف اسرار وغیرہم علومِ حقیقیہ و فنونِ حکمیہ میں آپ نے پوری مہارت و سبقت حاصل کرلی اور اپنے معاصر علما و فضلا سے ممتاز ہوگئے علوم متداولہ سے فارغ ہو کر بہت سے اولیاء اللہ سے افاضہ و استفادہ کرتے رہے مکمل روحانی تعلیم و تربیت کے لیے آپ سیدنا خواجہ عثمان ہارونی ﷫ کی خدمتِ اقدس میں بغداد شریف حاضر ہوکر مرید ہوئے اور اپنے شیخ کی مراد ہوگئے- 20سال تک اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر علومِ روحانی و فیوض باطنی میں درجہ کمال حاصل کیا- حضرتِ خواجہ عثمان ہارونی ﷫ نے آپ کو 562 ء میں شرفِ خلافت و اجازت سے سرفراز فرما کر اپنے تبرکات عصا، خرقہ، تسبیح، مصلی، نعلین عطا فرمائے اور اسم اعظم کی خصوصی تعلیم دے کر رخصت کیا- بخارہ سے سیر و سیاحت و سفر حج کے بعد 588ء میں آپ نے سرزمین ہندوستان کو قدم بوسی کا شرف عطا فرمایا- بروایت مختلف 589عیسوی میں دارالخیرات اجمیر شریف تشریف لائے اور تقریباً 45سال تک قیام فرمایا۔کثیر غیر مسلم آپ کے دت مبارک پر داخل اسلام ہوئے۔(ہند الولی غریب نواز صفحہ،13/14)

وصال خواجہ غریب نواز :

٦٣٣ہجری شروع ہوتے ہی حضرت خواجہ غریب نواز ﷛ کو علم ہو گیا کہ یہ آخری سال ہے- آپ نے اپنے مریدوں کو ضروری ہدایتیں اور وصیتیں فرمائیں جن لوگوں کو خلافت دینی تھی..

ان کو خلافت سے سرفراز فرمایا اور ساتھ ہی حضرتِ خواجہ بختیار کاکی ﷫ کو اجمیر بلا بھیجا- حضرت خواجہ غریب نواز ﷛ایک روز اجمیر شریف کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے مقربین اور احبابِ خاص حاضر خدمت تھے- آپ ملک الموت سے باتیں کر رہے تھے کہ معا شیخ علی سنجری سے مخاطب ہوئے اور ان سے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ﷫ کی خلافت کا فرمان لکھوایا قطب صاحب حاضر خدمت تھے حضرت خواجہ غریب نواز نے اپنی کلاہ مبارک قطب صاحب کے سر پر رکھی اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا خرقہ اقدس پہنایا عصا مبارک ہاتھ میں دیا مصلی کلامِ پاک اور نعلین مبارک مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا: یہ نعمتیں میرے بزرگوں سے سلسلہ بہ سلسلہ فقیر تک پہنچی ہیں اب میرا آخری وقت آ پہنچا ہے یہ امانتیں تمہارے سپرد کرتا ہوں- حق امانت حتیٰ الامکان ادا کرنا تاکہ قیامت کے دن مجھے اپنے بزرگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے- پھر اور کئی نصیحتیں فرمائیں اور آپ کو رخصت کر دیا- وصال سے چند روز قبل آپ نے اپنے بڑے صاحب زادے حضرت خواجہ سید فخر الدین کو نصیحت فرمائی: دنیا کی تمام چیزیں مٹنے والی ہیں اور فنا ہونے والی ہیں ہر دم خدا کی خوشنودی طلب کرتے رہنا اور کسی چیز پر بھروسا نہ رکھنا- تکلیف و مصیبت کے وقت صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا

٦٣٣ہجری  میں،٥ اور٦ رجب کی درمیانی شب کو حسبِ معمول عشا کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرے میں داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کر کے یاد خدا میں مشغول ہو گئے رات بھر درود اور ذکر کی آواز آتی رہی- صبح ہونے سے پہلے ہی یہ آواز بند ہو گئی- جب دروازہ نہیں کھلا تو خدام نے دستکیں دیں اس پر بھی کوئی جواب نہیں ملا تو پریشانی بڑھ گئی- آخر مجبوراً دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں اور آپ کی نورانی پیشانی پر سبز اور روشن حروف میں لکھا ہوا ہے:

” هذا حبيب الله مات فى حب الله “

حضرت  خواجہ غریب نواز ﷛کے انتقال پر ملال کی خبر فوراً شہر کے گلی کوچوں اور مضافات میں پھیل گئی لوگ محبت کے آنسوں بہاتے ہوئے اپنے محبوب کے جنازے پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے آپ کے بڑے صاحب زادے خواجہ سید فخر الدین ﷛نے نمازِ جنازہ پڑھائی جس حجرے میں آپ نے انتقال فرمایا تھا اسی حجرے میں آپ کو دفن کیا گیا تب ہی سے آپ کا آستانہ مبارک تمام ہندوستان کا روحانی مرکز بنا ہوا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک بنا رہے گا 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved