25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5953 Downloads: 781

(7)-خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے علمی آثار

انوار حیات      (آخری قسط)

مولانا محمد طفیل احمد مصباحی

پروفیسر خلیق انجم صاحب آپ کی شاعرانہ حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں  : 

حضرت خواجہ بندہ نواز فارسی کے بڑے اچھے شاعر تھے ۔ ان کا فارسی دیوان گلبرگہ سے شائع ہو چکا ہے ۔ دکنی میں بھی شعر کہا کرتے تھے ۔ ان کی ایک نظم " چکی نامہ " ادارہ ادبیات اردو میں موجود ہے ، جس کی نقل میرے کرم فرما جناب محیی الدین صاحب قادری زور نے میری درخواست پر ارسال فرمائی ہے ۔ اس نظم کے علاوہ بھی کچھ کلام ملتا ہے ۔ میں نے تمام دکنی کلام کو یکجا کر دیا ہے ۔ حضرت کا فارسی میں کوئی خاص تخلص نہیں تھا ........ القاب اور کنیت کے ساتھ ان کا پورا نام " صدر الدین ابو الفتح سید محمد حسینی گیسو دراز " تھا ۔ ان میں جو مناسب سمجھا ، مقطع میں استعمال کر لیا اور ایک غزل کے مقطع میں یہ سب الفاظ ( اسما ) جمع کر دیے ہیں ، چنانچہ فرماتے ہیں  : 

اے ابو الفتح محمد صدرِ دیں گیسو دراز

مختصر کن چند نالے قصۂ خود  گرد آر

لیکن اس کے برعکس دکنی شاعری میں ان کا تخلص " شہباز " تھا ۔ آپ کا دکنی کلام یا تو بیماریوں کے علاج کے مختلف طریقوں پر مشتمل ہے یا پھر صوفیانہ ہے ۔ ( مقدمہ معراج العاشقین ، مرتبہ : خلیق انجم ، ص : 84 ، ناشر : مکتبہ شاہراہ ، اردو بازار ، دہلی )

حضرت خواجہ بندہ نواز چوں کہ " ہر فن مولیٰ " واقع ہوئے تھے ، اس لیے آپ کے اندر شعر و سخن کا ملکہ بھی موجود تھا ، لیکن اس فن سے آپ کو زیادہ دلچسپی نہیں تھی ۔ ہاں ! جب کبھی شاعری کی طرف طبیعت کا میلان ہوتا اور جذبۂ عشقِ صادق سے مغلوب الحال ہو جاتے تو غزلیہ اشعار زبان پر مچلنے لگتے اور نہایت قادر الکلامی کے ساتھ اشعار موزوں فرماتے ۔ آپ کے فارسی مجموعۂ غزلیات " انیس العشاق " کے نام سے موسوم ہے ، جس میں کُل 327 / غزلیات ، 26 / اشعار کی ایک مثنوی اور 9 / رباعیات ہیں ۔ آپ کی فارسی و دکنی شاعری زبان و ادب کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے ۔ آپ کی شاعرانہ حیثیت ، ادبی مہارت اور آپ کے فارسی و دکنی کلام کے ادبی و فنی محاسن پر پی . ایچ . ڈی . کی جا سکتی ہے ۔ اللہ کرے کوئی نیک بندہ سامنے آئے اور اس مرحلۂ شوق کی تکمیل فرمائے ۔ 

" اس مرحلۂ شوق کی تکمیل ہو یارب "

 دیوان کا آغاز حمدِ الہیٰ سے ہوتا ہے ۔ لیکن اس سے پہلے عربی زبان میں ایک کلام ہے ، جو حمد و نعت اور منقبتِ خلفائے راشدین پر مشتمل ہے ۔ بعد ازاں آپ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی منقبت ہے ۔ اس کے بعد حروفِ تہجی کے اعتبار سے غزلیہ کلام کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ راقم الحروف کا مقصد آپ کے کلام تجزیہ کرنا نہیں ، بلکہ بحیثیتِ شاعر آپ کا تعارف کرانا اور نمونۂ کلام پیش کرنا ہے ۔ چند نمونۂ کلام ملاحظہ کریں  : 

تعالیٰ اللہ عن قیل و قال

و عن حد و رسم والمثال

قریب ذاتہ من کل شیئ

و لٰکن لیس یوصف باتصال

بعید  ذاتہ  ایضاً  و  لٰکن

بلا وصف التفرق و انفصال

تنزہ  عن  مکان  حال  منہ

و لا یوجد مکان عنہ خال

صلوٰۃ و السلام علی رسول

حمید احمد حسن الخصال

کریم ، راحم ، برّ ، رؤف

شریف ، شافع اھل الضلال

علیٰ اصحابِہ تسلیم عبد

ذلیل خاضع ذی الابتذال

( انیس العشاق ، ص : 5 ، مطبوعہ : گلبرگہ )

اے خداوندے کہ از جودش جہانے را وجود 

اے خداوندے کہ از بودش ہمہ عالم بہ بود 

اے خداوندے کہ او ذراتِ عالم را محیط 

عالم و آدم ہم از وے یافتہ یک یک شہود 

اے خداوندے کہ عینِ ما بعین العین است عیاں 

 اے ابو الفتح ! او بیامد عین ما را در ربود 

( انیس العشاق ، ص : 6 ، مطبوعہ : گلبرگہ شریف )

 خواجہ بندہ نواز کو حضرت شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ سے بے پناہ عقیدت تھی ۔ ان کی ایک مقبول ترین غزل کا مطلع ہے  : 

منزلِ عشق از جہانِ دیگر است

مردِ معنیٰ  را نشانِ  دیگر است

اسی غزل کی طرز پر اسی بحر اور ردیف و قافیہ میں خواجہ بندہ نواز کی بھی ایک غزل " انیس العشاق " میں موجود ہے ۔ ضیافتِ طبع کے لیے دو اشعار نذرِ قارئین ہیں  :

مردِ معنی از جہانِ دیگر است

گوہرِ لعلش ز کانِ  دیگر است

کُشتگانِ   غمزۂ  عشاق   را 

ہر زماں از لطف جانِ دیگر است

علاوہ ازیں مندرجہ ذیل اشعار سلاست و روانی ، نفاست و برجستگی اور وارفتگی و شیفتگی کا بے مثل نمونہ ہیں  : 

صباحے ، دلربائے ، مرحبائے 

مبارک مطلعے میموں لقائے 

لبِ میگوں او یارب چہ لعلے است 

 کہ ہر دم می چکد از وے صفائے 

اگر تو پند گوئی نیک خواہی 

مزیدِ  درد  ما را  کن صفائے 

بخواں الحمد و بر دل زن بفرما 

 مبادا  دردِ  ایں دل  را  دوائے 

ہمیشہ بودہ ام معشوقِ خوباں 

 کنوں عاشق شدم دیدم بلائے 

نمی خواہد خداوندا محمدؔ

 کہ بیند عشقِ خود را انتہائے

آپ کی دکنی شاعری میں " چکی نامہ " خاصی مشہور نظم ہے ، نمونے کے طور اس کے بھی چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

دیکھو واجب تن کی چکی

 پیو  چا تر  ہو  کے  سکی 

سوکن ابلیس کھنچ کھنچ تھکی

کے یا  بسم  اللہ  ہو ھو ھو  اللہ 

 

الف اللہ  اس  کا  دستا

میانے محمد ہو کو بستا

پہنچی طلب یوں کو دستا

کے یا بسم اللہ  ھو ھو اللہ

( دیباچہ معراج العاشقین ، مرتبہ : خلیق انجم ، ص : 86 )

" معراج العاشقین " اردو کی پہلی تصنیف  : 

خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے اکثر کتب و رسائل فارسی زبان میں ہیں اور بعض عربی میں ۔ لیکن " معراج العاشقین " آپ کا تحریر کردہ وہ واحد رسالہ ہے ، جسے آپ نے اردو زبان میں تحریر فرمایا ہے اور یہ اردو زبان کی سب سے پہلی کتاب تسلیم کی جاتی ہے ۔ خواجہ بندہ نواز کی طرف اس کے انتساب کو اگر چہ بعض محققین شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ آپ کی تصنیف ہے اور اردو زبان کی پہلی با ضابطہ تصنیف ہے اور چوں کہ یہ اردو زبان میں لکھی گئی پہلی تصنیف ہے ، اس لیے اردو کے بڑے بڑے محققین و ناقدین نے اپنی عنانِ تحقیق و تنقید اس کی جانب مبذول کی ہے ۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق ، پروفیسر گوپی چند نارنگ اور پروفیسر خلیق انجم کی تصحیح و تصویب اور تحقیق و ترتیب کے ساتھ یہ متعدد بار شائع ہو چکی ہے ۔

بابائے اردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں  : 

حضرت گیسو دراز صاحبِ تصانیفِ کثیرہ تھے ۔ آپ کی کتابیں زیادہ تر فارسی میں ہیں اور بعض عربی میں ۔ یہ بھی مشہور ہے کہ انھوں نے عام لوگوں کی تلقین ( اصلاح و ہدایت ) کے لیے بعض رسالے اپنی زبان ( دکنی ) میں بھی لکھے ۔ ان کا ایک رسالہ " معراج العاشقین " میں مرتب کر کے شائع کر چکا ہوں ۔ اس کا سنِ کتابت 906 ہجری ہے ۔ ( اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام ، ص : 23  مطبوعہ : انجمن ترقی اردو ، کراچی ، پاکستان )

اردو زبان کے قدیم کتب و رسائل ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔ لیکن خواجہ بندہ نواز کی " معراج العاشقین " کو اس لیے اہمیت و فوقیت حاصل ہے کہ یہ اردو کے پہلے مصنف اور پہلے نثر نگار کی پہلی اردو تصنیف ہے ۔ اس کی نثر اردو نثر کا اولین نمونہ سمجھی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے بعد ہی سے اردو نثر نگاری اور اردو کتب نویسی کا با ضابطہ آغاز ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر سید مبارز الدین رفعت اپنے تحقیقی مضمون " شکار نامہ " میں لکھتے ہیں  : 

گلبرگہ کو تنہا یہی شرف حاصل نہیں کہ وہ ایک قدیم تاریخی مقام ہے اور دکن کی پہلی اسلامی ریاست کا صدر مقام رہا ہے ، اس کی خاک میں مختلف مذاہب کے بڑے بڑے پیشوا آسودۂ خاک ہیں ۔ بلکہ اس سر زمین کو یہ بھی افتخار حاصل ہے کہ اسی سر زمین پر اردو نے پہلی بار عام بول چال کی زبان سے بڑھ کر ادبی روپ اختیار کیا اور اسی کی گود میں اردو کا اولین نثر نگار ( خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ) آسودۂ خاک ہے ۔ حضرت مخدوم ابو الفتح صدر الدین سید محمد حسینی خواجہ گیسو دراز بندہ نواز کو ہم سب ایک ولیِ کامل اور ایک ہادیِ اعظم کی حیثیت سے جانتے اور مانتے ہیں ۔ اکثر لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ بہت بڑے عالمِ دین اور عربی و فارسی زبانوں کئی بلند پایہ کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ لیکن کم ہی لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ آپ نے اردو زبان میں بھی کئی رسالے تصنیف فرمائے ہیں اور آپ کے لکھے ہوئے یہی رسالے اردو نثر کے اولین نمونے سمجھے جاتے ہیں ۔ اردو زبان کے لیے یہ بڑی فالِ نیک رہی کہ آج سے تقریباً چھ سو سال پہلے اس کی ادبی نثر کی ابتدا خواجۂ دکن جیسی مطہر اور مقدس ہستی کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی ۔ یہ آپ ہی جیسے ولیِ کامل کے پاس انفاس کی برکت کا نتیجہ رہا کہ یہ زبان آگے چل کر خوب پھلی پھولی اور ہندوستان کی زبانوں میں اسے ایک اونچا اور با عزت مقام حاصل ہوا ۔

( ماہنامہ شہباز ، گلبرگہ شریف ، جنوری و فروری 1962ء ، ص : 9 )

اردو کی پہلی کتاب اور اردو نثر کا ابتدائی نمونہ ہونے کی وجہ سے " معراج العاشقین " کو لسانی حیثیت سے اردو کی اہم ترین کتاب مانی گئی ہے ۔ اسی اہمیت و قدامت کے سبب یہ کتاب عرصۂ دراز سے دہلی یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے ۔ اس کتاب کا موضوع تصوف ہے اور اس میں تصوف کا بنیادی نظریہ پانچ تن یعنی واجب الوجود ، ممکن الوجود ، عارف الوجود ، ذکرِ جلی اور ذکرِ الہٰی پر خصوصیت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔ جناب مشتاق فاروق ( ریسرچ اسکالر یو نیور سٹی آف حیدر آباد ، تلنگانہ ) اپنے مضمون میں لکھتے ہیں  : 

اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ہنوز " معراج العاشقین " اردو کی قدیم ترین نثری تصنیف مانی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے مصنف دکن کے مشہور و معروف اور بلند پایہ صوفی بزرگ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ہیں ۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کو عربی ، فارسی اور دکنی زبان پر کافی دسترس حاصل تھی ۔ انہوں نے کئی رسائل اور کئی کتابیں تخلیق کی ہیں ۔ ان کے جملہ رسائل و کتب کی تعداد مختلف محققین نے مختلف بتائی ہے ۔ لیکن ان تمام تصانیف کا موضوع تصوف ، مذہب اور احکام شریعت ہے ۔ لیکن ان کی تمام تصانیف میں سب سے زیادہ شہرت ومقبولت " معراج العاشقین " کو حاصل ہوئی ہے ۔یہ ایک رسالہ ہے اور تصوف اس کا بنیادی محور و مرکز ہے ۔ یہ کتاب دلیّ یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں بہت عرصے سے شامل ہے ، جس سے اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اس رسالے میں قرآن و احادیث کے ذریعے مسلک تصوف کو بہتر طور پر سمجھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تصوف کے ایک مخصوص نظریہ پانچ تن یعنی واجب الوجود ، ممکن الوجود ، عارف الوجود ، ذکر جلی اور ذکر حق کے ذریعے ایک انسان کس طرح واجب الوجود تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ " معراج العاشقین " اردو کی پہلی نثری کتاب تسلیم کی جاتی ہے ۔ اسے سب سے پہلے مولوی عبد الحق نے مرتب کر کے مع مقدمہ 1343 ھ مطابق 1927ء میں دو قلمی نسخوں کی مدد سے شائع کیا ہے ۔ 

بہرکیف ! اس مختصر سے مقالے میں " معراج العاشقین " پر تفصیلی روشنی ڈالنا ممکن نہیں ، مقصد صرف تعارف پیش کرنا ہے ۔ یہاں نمونے کے طور پر کتاب کے آغاز و اختتام کی عبارت پیش کی جاتی ہے ، تاکہ کتاب میں موجود اردو کے اولین نثری نمونے کا اندازہ ہو سکے ۔ 

نمونۂ نثر   : 

( الف ) قال نبی علیہ السلام  ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )  :  کہے انسان کے بوجنے کوں پانچہ تن ۔ ہر ایک تن کوں پانچ دروازے ہیں ۔ ہور پانچ دروازے ہیں ۔ پیلا تن : واجب الوجود ، مقام اس کا شیطانی ۔ نفس اس کا امارہ یعنی واجب کے آنک سوں غیر نہ دیکھنا سو ۔ حرص کے کان سوں غیر نہ سنا سو ۔ حسد تک سوں بد بوئی نہ لینا سو ۔ بغض کے زبان سوں بد بوئی نہ لینا سو ۔ کینا کے شہوت کوں غیر جا کا خرچنا سو ۔ پیر طبیب کامل ہونا نبض پچہان کو دوا دینا ۔ 

طبیب عشق را دکّان کدام است

علاجِ جاں کند او را چہ نام است

پیر منع کئے سو پرہیز کرنا ۔ مراقبہ کی گولی مشاہدے کے کانسے میں میکائیل کے مدد کے پانی سوں ۔ جلی کا کاڑا کر کو پیلانا ۔ سگُن کا کاڑا دپنا ۔ نرگُن ہوا تو شفا پاوے گا ۔ طبیب فرمائے ، تیوں پرہیز کرے ۔

( ب )   قال نبی علیہ السلام  : علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۔ او معنا میری امت کے بوجنے سو لوں گا ان کے پیغمبراں اسے اچھیگے ۔ 

خلافِ  پیمبر  کسے  رہ  گزید

کہ ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید

اس کا معنی نبی جیوں بوجے بغیر نا انپڑے وطن کوں ۔ اے عزیز ، مریدِ صادق ! اچھے پیر کے ہوا کون امر خدا ہور رسول پیدا کیا ہے ۔ اپنے بوج کوں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ۔ یہی ہے نصیحت کرنے کوں ۔ (معراج العاشقین ، ص : 61 / 81 ، مطبوعہ : شاہراہ ، اردو بازار ، دہلی (

علما و مشائخ و مصنفین کے تاثرات و اعترافات  : 

صاحبِ مرأۃ الاسرار شیخ عبد الرحمٰن چشتی قدس سرہ ( متوفیٰ : 1094 ھ ) لکھتے ہیں

آں معدنِ عشق و ہمدمِ وصال ، آں کلیدِ مخزنِ ذو الجلال ، آں مستِ الست ، نغماتِ بے ساز ، محبوبِ حق حضرت سید محمد گیسو دراز قدس سرہ بن سید یوسف الحسینی دہلوی ۔ آپ حضرت شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے بزرگ ترین خلفا میں سے تھے ۔ سید ہونے کے علاوہ آپ علم اور ولایت میں بھی ممتاز تھے ۔ آپ شانِ رفیع ، مشربِ وسیع ، احوالِ قوی ، ہمتِ بلند اور کلماتِ عالی کے مالک ہیں ۔ مشائخِ چشت کے درمیان آپ ایک خاص مشرب رکھتے ہیں ۔ اسرارِ حقیقت میں آپ کا طریق مخصوص ہے ۔ ( مرأۃ الاسرار مترجم ، ص : 975 ، مطبوعہ : لاہور )

مشہور محقق و مصنف مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیں  : 

از عظمائے اولیائے حق بیں و کبرائے مشائخِ متقدمین و خلیفۂ راستین شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی است ۔ جامع در میانِ سیادت و نجابت و کرامت و ولایت ، شانِ رفیع و مراتبِ منیع و کلامِ عالی داشت ۔ او را در مشائخِ چشت اہل بہشت مشرب است خاص در بیانِ اسرارِ حقیقت و طریقے است مخصوص در بیانِ معرفت ۔ ( خزینۃ الاصفیاء ، جلد اول ، ص : 381 ، مطبوعہ : منشی نولکشور ، کان پور )

خزینۃ الاصفیاء کی مذکورہ بالا عبارت " اخبار الاخیار " سے لی گئی ہے ۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے بعینہٖ یہی بات لکھی ہے اور خواجہ بندہ نواز کے فضل و کمال کا شایان شان تذکرہ کرتے ہوئے ان کی علمی جلالت اور روحانی فضل و کمال کا اعتراف کیا ہے ۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز بلا مبالغہ بحرِ شریعت و طریقت کے غواص تھے ۔ دینی علوم کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو آپ کی دسترس سے باہر ہو ۔ قرآن و حدیث اور تفسیر و فقہ میں مہارتِ تامہ حاصل تھی اور جہاں تک علمِ سلوک و تصوف کی بات ہے تو اس میں آپ کو درجۂ اختصاص بلکہ اجتہادی مقام حاصل تھا ۔ " جوامع الكلم " میں مختلف علوم و فنون سے متعلق آپ نے ایسے ایسے دقیق مباحث اور نکات و غوامض بیان کیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور آپ کی علمی مہارت کے آستانے پر جبینِ فکر و قلم سجدہ ریز ہوتی نظر آتی ہے ۔ " نزھۃ الخواطر " کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں اور خواجہ بندہ نواز کی عظمت و رفعت اور بلند و بالا مقامِ علمیت کا اندازہ لگائیں  : 

آپ ایک بہت بڑے عالم ، صوفی ، عارف ، قوی النفس ، عظیم الہیئت اور جلیل الوقار تھے ۔ شریعت و طریقت کے جامع تھے ۔ بڑے متقی ، پرہیزگار ، عابد و زاہد اور حقائق و معارف کے سمندر میں غوطہ لگانے والے بزرگ تھے ۔ فقہ ، تصوف ، تفسیر اور دیگر علوم و فنون کی ترویج و اشاعت میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔)نزہۃ الخواطر  ) 

سید صباح الدین عبد الرحمٰن لکھتے ہیں  : آپ صوفیائے کرام میں قطب الاقطابِ ، قامعِ بیخِ کفر و بدعت ، مقصودِ خلقتِ عالم ، معدنِ عشق ، ہمدمِ وصال ، کلیدِ مخازنِ حضرت ذو الجلال ، مستِ الست ، نغماتِ بے ساز ، محبوبِ حق وغیرہ جیسے بھاری بھرکم القاب و آداب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔ حضرت سید گیسو دراز کے عظیم المرتبت ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدر بزرگ بھی ان کی خدمت میں روحانی استفادہ کے لیے تشریف لائے ۔)بزمِ صوفیہ ص : 507 / 508 ، مطبوعہ : دار المصنفین شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ (

وفاتِ حسرت آیات  : 

افسوس کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک دعوت و تبلیغ ، رشد و ہدایت اور تصنیف و تالیف کی گراں خدمات انجام دینے والے اس بزرگ کا ایک سو چار سال کی عمر میں 825 ھ میں وصال ہو گیا اور سلسلۂ چشتیہ کے آسمان کا یہ چمکتا دمکتا سورج پورے جاہ و جلال کے ساتھ اپنی شعائیں بکھیرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ " مخدومِ دین و دنیا " سے تاریخِ وفات بر آمد ہوتی ہے ، جو حقیقت پر مبنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے ہم سب کو مالا مال فرمائے ۔ آمین !!!

تعلیمات و ارشادات:

بزرگانِ دین کی تعلیمات و ارشادات اور اقوال و ملفوظات ، مادی و روحانی اعتبار سے بڑی اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں ۔ ان نفوسِ قدسیہ کی زبانِ فیض ترجمان سے ادا ہونے والے مبارک جملے ، حیات بخش فقرات ، نصیحت آمیز کلمات اور انقلاب آفریں الفاظ و حروف بڑے مؤثر اور دل پذیر ہوا کرتے ہیں ۔ لہٰذا حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمہ کے مختصر احوال و آثار کے ذکر کے بعد آپ کے کچھ اقوال و ارشادات نذرِ قارئین کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

  1. ایک بندہ حقیقت و طریقت کو شریعت کی ضد نہ سمجھے ۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کا خلاصہ تصور کرے ۔ جس طرح اخروٹ کا مغز اخروٹ کے چھلکے سے بظاہر مختلف معلوم ہوتا ہے ، پھر بھی مغز کا جز چھلکے میں اس طرح ملا ہوتا ہے کہ اس سے بھی تیل نکالا جاتا ہے ۔ اسی طرح حقیقت و طریقت اور شریعت تینوں ایک ہی ہیں ۔
  2. رات کے وقت بستر پر انسان کو سوچنا چاہیے کہ اس نے دن میں کون کون سا کام کیا اور دن میں سوچنا چاہیے کہ رات کو کیا کیا ۔ اپنے کاموں کا محاسبہ کرو ۔ اگر دینی کام اور اچھے کام زیادہ کیے ہیں تو خدا کا شکر ادا کرو اور اس پر استقلال برتو اور اگر دین کے کاموں میں کچھ غفلت برتی ہے تو توبہ کرو اور جہاں تک ممکن ان کی تلافی کرو ۔
  3. اگر پیر ، مرید کو نا مشروع کاموں کاموں کی دعوت دیتا ہو تو مرید ایسے پیر کو چھوڑ دے ، لیکن اس طرح کہ پیر کو معلوم نہ ہو کہ اس نے بد اعتقادی کی وجہ سے علاحدگی اختیار کی ہے ۔
  4. جب تک ایک شخص تمام دنیاوی چیزوں سے فارغ نہ ہو جائے ، راہِ سلوک میں قدم نہ رکھے ۔
  5. روزہ ارکانِ تصوف میں سے ہے ۔ اس لیے صوفی کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے ۔ روزے سے نفس مغلوب رہتا ہے اور اس میں عجب اور غرور پیدا نہیں ہوتا ۔ 
  6. اگر ایک سالک کمالات کے اعلیٰ درجہ پر بھی فائز ہو جائے تو بھی وہ اپنے اوراد و وظائف کے معمولات کو ترک نہ کرے ۔ 
  7. زوال کے وقت قیلولہ کریں ، تاکہ شب بیداری میں آسانی ہو ۔
  8. سالکوں کو ہمیشہ با وضو رہنا چاہیے ۔ ہر فرض نماز کے لیے تازہ وضو کرنا بہتر ہے ۔ وضو کے بعد تحیۃ الوضو ادا کریں ۔
  9. دل سے ہوس کو دور کریں اور اگر دور نہ ہو تو اس کے لیے مجاہدہ و ریاضت کرتے رہیں ۔ 
  10. کسی بھی حال میں اپنے نام کو شہرت نہ دیں ۔ بازار صرف شدید ضرورت کے وقت جائیں ۔ 
  11. گرسنگی و تشنگی ( بھوک پیاس ) اور شب بیداری کو دوست رکھیں ۔ 
  12. اپنے پاس لوگوں کی زیادہ آمد و رفت نہ ہونے دیں ۔ 
  13. نفس کی شکستگی کے لیے فاقہ ضروری ہے ۔ 
  14. امیروں کی صحبت سے دور و نفور رہیں ۔ 
  15. مصیبت کے وقت مضطر اور مضطرب نہ ہوں ۔ کسی بھی حال میں نہ روئیں اور روئیں بھی تو اس لیے کہ کہیں منزلِ مقصود تک پہنچنے سے پہلے اس کو موت نہ آ جائے ۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved