23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 51031 Downloads: 2893

(24)-خیر و خبر

برائیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوشش کی ضرورت

دار العلوم اشفاقیہ، جویا کے سالانہ اجلاس میں علما و مشائخ کا اظہار خیال

دار العلوم اشفاقیہ سنبھل  روڈ جو یا میں سالانہ جلسہ منعقد ہوا، جس میں علما و مشائخ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قاری محمد شریف پالی (راجستھان) کی نعت پاک سے ہوا۔ اس موقع پر مقررین نے معاشرے میں پھیلی برائیوں اور غلط رسم ورواج کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں مہمان خصوصی مولانا سید امین القادری مالیگاؤں نے کہا کہ معاشرے میں پھیلی برائیاں بھی زلزلے آنے کے اسباب میں سے ایک ہیں، جس میں حق داروں کے حقوق کا دبانا، جہیز کی بڑھتی لعنت ، بے حیائی و بدکرداری کا عام ہونا ہی ہماری مذہبی اور اخلاقی پستی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ان معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر مشترکہ کوشش کرنی ہوگی۔

امیر سنی دعوت اسلامی مولانا شاکر علی نوری نے کہا کہ اپنے جلسوں کو بامقصد بنا ئیں جو عوام جلسوں میں شریک ہوں وہ جلسوں سے کچھ لے کر جائے ۔ جلسہ گاہ میں علما کی تقریروں کو غور سے سنیں ، معاشرے میں اخوت و بھائی چارگی کو فروغ دیں، علم وادب سیکھیں اور اس کو زیادہ سے زیادہ عام کریں، یہی باتیں معاشرے کی خوبی ہیں۔

مولانا شمس الدین مکرانہ نے مفتی اعظم راجستھان مفتی اشفاق حسین نعیمی کی سوانح بیان کرتے ہوئے ان کی علم و تبلیغ میں کی گئی جدوجہد کے بارے میں بتایا کہ جس زمین میں ریت اور پتھر کے سوا کچھ نہ ملتا تھا سانس لیتے تو ریت پھانکا کرتے تھے یا ہاتھ بڑھاتے تو سخت مٹی ہاتھ میں آتی تھی اسی سرزمین کو مفتی صاحب نے ایسا زرخیز بنایا کہ اسی سے اب لعل و گہر پیدا ہوتے ہیں ایسے ستارے جو دنیاے سنیت کا سرمایا بنتے ہیں ۔ انہوں نے اپیل کی کہ حضرت کی زندگی سے سبق لیں اور دین کی خدمت میں قدم بڑھائیں۔

 یہ اجلاس دار العلوم اشفاقیہ کے سر براہ حاجی محمد معین الدین اشرفی کی زیر قیادت منعقد ہوا۔ انہوں نے جلسہ میں آئے مہمانوں کاشکریہ ادا کیا ۔ جلسہ کے خاص شرکا میں مفتی زاہد سلامی، مولانا منظر ، مولانا زاہد ، مفتی اسماعیل ، قاری علاء الدین، مولانا نفیس ، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برقؔ ، مولانا رجب علی ، مولانا فیاض ،مولانا عارف وغیرہ تھے، جب کہ قاری ریاست ، حاجی لعل محمد ، ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈاکٹر غلام یحیی انجم ، ڈاکٹر جیلانی ، قاری محمد یا مین چھتری والا باغ ، مولانا جمیل احمد، مولانا احسان احمد، قاری معراج احمد سمیت کثیر تعداد میں ائمہ وعلما اور مقامی لوگ شریک تھے۔       از: ڈاکٹر مہتاب امروہوی

ملیشیا ۲۰ لاکھ قرآنی نسخے دنیا میں تقسیم کرے گا

کوالا لمپور (ایجنسی) ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے اس سال کے قومی بجٹ میں سے ۰ ا؍ملین ملیشین کرسی کو قرآن  مجید کی نشر و اشاعت کے ساتھ مختص کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم پروجیکٹ قرآن مجید کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرا کے چھپوانا ہے تا کہ دنیا بھر میں موجود مختلف رنگ ونسل کے لوگوں تک ان کی اپنی زبان میں قرآن مجید پہنچ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن مجید سے ہم جس قدر محبت کرتے ہیں اس کے مقابلے میں یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے۔ بس ہماری جانب سے یہ ایک چھوٹی سی کاوش ہے۔ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے گا۔ ابراہیم نے اسلاموفوبیا سے نپٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں وہ بائبل نہیں پڑھتے ہیں اور نہ ہی اس دنیا میں بسنے والی دوسری ثقافتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام امن و امان محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔

اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں صوفیہ کا کلیدی کردار

مبارک پور میں مشاعرۂ نعت و منقبت

مبارکپور اعظم گڑھ (نامہ نگار ): اردوزبان کی ترویج واشاعت میں صوفیا نے کلیدی کردار ادا کیا ، اردو زبان کی پرورش و نشونما میں صوفیاے کرام کا خون جگر شامل ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ اس میٹھی زبان کی جائے پیدائش وطن عزیز ہندوستان ہے۔

مذکورہ خیالات کا اظہار گزشتہ شب محلہ پورہ صوفی متصل کپورہ شاہ دیوان کا باغ واقع محی الدین قوال اشرفی کے مکان پر منعقد نعتیہ و منقبتی مشاعرہ بسلسلۂ تقریب عرس مقدس اعلیٰ حضرت اشرفی میاں ، مصطفیٰ میاں محمد میاں سرکار کلاں، سید احمد میاں، میاں صاحب غلام حسین اشرفی خاکی، میاں صاحب عبد اللہ اشرفی، محی الدین قوال اشرفی، استاذ الحفاظ مشتاق احمد اشرفی میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان کا خمیر امیر خسرو نے تیار کیا، مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی، بندہ نواز گیسو دراز، بابا فرید گنج شکر و دیگر صوفیاے کرام نے اپنا خون جگر پلا کر اس زبان کی پرورش کی۔

حسب روایت اعراس اولیا کی تقریب عمل میں آئی، بعد نماز ظہر چادر پوشی اور محفل میلاد شریف بر مزار حضور میاں صاحب عبد اللہ اشرفی محی الدین قوال اشرفی و استاذ الحفاظ مشتاق احمد اشرفی واقع قبرستان شاه کا پنجہ، بعد نماز مغرب حلقۂ ذکر بر اور بعد نماز عشا نعتیہ و منقبتی مشاعرہ منعقد ہوا۔ پروگرام کی صدارت الحاج ماسٹر مظہر چشتی مبارکپوری اور نظامت ماسٹر عبدالعزیز مبارکپوری (استاد اشرفیہ انٹر کالج) نے کی۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد عبد اللہ نے تلاوت کلام مجید سے کیا، مختار احمد فائقؔ مبارکپوری نے حمدیہ کلام پیش کیا، اور شعرا نے بارگاہ رسالت و بارگاہِ صوفیاے کرام میں اپنی محبتوں کا خراج پیش کیا۔ اسد ؔمبارکپوری، امیر اشرفؔ، ماسٹر تنویر ؔمبارکپوری، بلالؔ مبارکپوری، ارشاد ؔمبارکپوری، تاج الدین دانش ؔ ادیبی کے علاوہ شاہدؔ مبارکپوری، مہتابؔ پیامی، رفیقؔ قریشی، نورؔمبارکپوری،ماسٹر زبیر ؔمبارکپوری، ساقی ؔ ادیبی ، قاری نور الہدیٰ راشد ؔ، جاویدؔ مبارکپوری،  گھائلؔ مبارکپوری، عبد الخبیردانشؔ ، فرازؔ ادیبی اور عباسؔ قوال نے کلام پیش کیے۔ پروگرام کا اختتام صلاۃ وسلام،نذرو نیاز اورقاری نور الہدیؔ راشد مبارکپوری کے دعائیہ کلمات پر ہوا، آخر میں کنوینرمشاعرہ غلام نبی قوال اشرفی نے جملہ شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔از: رحمت اللہ مصباحی

دارالعلوم اہل سنت خیریہ فیض عام مداپور،شمس پور،

گھوسی کا سالانہ جشن دستار فضیلت اور ختم بخاری شریف

شہر گھوسی المعروف بہ’’مدینۃ العلما‘‘ اکابر علما اور فقہا کی مشہور بستی ہے اس شہر کو مصنف بہار شریعت حضور صدرالشریعہ کا مسکن اور مولد ہونےکا شرف حاصل ہے یہاں مسلک اعلیٰ حضرت یعنی جماعت اہل سنت کے بڑے بڑے ادارے ہیں جیسے جامعہ شمس العلوم ،جامعہ امجدیہ رضویہ وغیرہ ان ہی اداروں  کی صفوں میں ملک وبیرون ملک میں بہت ہی مشہور ادارہ دارالعلوم اہل سنت خیریہ فیض عام مداپورگھوسی بھی ہے،مذکورہ ادارہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے دین وملت اور مسلک اعلیٰ حضرت کی بے بہا خدمات انجام دے رہاہے یہاں کے فارغین ملک کے طول وعرض میں رہ کر علم وفن کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں ۔۔

یہاں درجات پرائمری،حفظ وقرأ ت اور درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے اسی جامعہ میں ۲۳؍فروری۲۰۲۳ء بروز جمعرات صبح دس بجے سالا نہ  ختم بخاری شریف کی تقریب میں بخاری شریف کا آخری درس دینے کے لیے خلیفہ شہزادۂ حضور صدرالشریعہ شیر اعلیٰ حضرت محبوب حضور حافظ ملت حضرت مولانا مفتی عبدالمنان کلیمی مصباحی خصوصی دعوت پر تشریف لائے، آپ کا پروقار شاندار ادارہ ہٰذا کی ’’مسجد خیر‘‘میں استقبال کیا گیا،جس کے سامنے سلسلۂ نقشبندیہ کے چار عظیم المرتبت یعنی ولی کامل محبوب خدا حافظ احادیث صحاح ستہ حضرت علامہ حافظ محمدعمر اور عاشق رسول استاذ العلما حضرت علامہ الحاج الشاہ صوفی محمداکرام الحق شہزادۂ حضور اکرام ملت حضرت مولانا قمرالدین مصباحی حافظ قرآن حضرت حافظ منظور احمد رحمہم اللہ کے مزار ات مبارکہ ہیں۔

آپ نے اپنے مخصوص عالمانہ انداز میں بخاری شریف کی آخری حدیث پاک کے درس کے دوران امام بخاری رحمۃ اللہ کی سیرت طیبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ،حدیث وسنت کے درمیان فرق تعارض حدیث میں تطبیق حدیث متواتر ،فقہ اصول فقہ پر آپ نے ایسی تحقیقی گفتگو فرمائی کہ مجلس میں تشریف فرما علماے کرام نے دادوتحسین سے نوازا،حضور امین شریعت نے معمار ادارہ ہٰذا حضرت علامہ الحاج محمداکرام الحق علیہ الرحمہ کی سیرت کے اہم گوشوں کو اجاگر کیا۔اس مجلس کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ اداراہ ہٰذا کے چار علماے کرام یعنی حضرت مولانا عبداللہ بخاری فیضی ، حضرت مولانامحمد جمال اللہ فیضی ، حضرت مولانا مفتی محمداسرائیل رضوی فیضی شیخ الادب، حضرت مولانا ثناء المصطفیٰ مصباحی شیخ الحدیث دارالعلوم ہٰذاکو حضور امین شریعت نے اپنی اس اجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا جواجازت اعلیٰ حضرت کے صاحبزادے حضور حجۃ الاسلام اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت ضیاء الدین مہاجر مدنی اور مصنف بہار شریعت بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اپنے شہزادۂ اکبر حضرت علامہ مفتی عبدالمصطفیٰ ازہری اعظمی کو دیا تھا وہ تمام اجازتیں شہزادۂ صدرالشریعہ علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ سے حضرت کلیمی صاحب کودستیاب ہوئی تھیں ،یہ تمام اجازت وخلافت آپ نے مذکورہ چاروں حضرات کو عنایت فرمائی یہ مجلس بابرکت بے شمار رحمتیں وبرکتیں تقسیم کرتی ہوئی ’’.مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی ۔

  ۲۵؍ فروری۲۰۲۳ء بروز سنیچر بعد نماز عشا سالانہ عظیم الشان جلسۂ دستار فضیلت کا انعقاد ہوا جس کی صدارت شہزادۂ حضور اکرام ملت حضرت حافظ صدرالدین نقشبندی صدر المدرسین نے فرمائی اور بریلی شریف سے تشریف لائے ہوئے حضرت مولانا ظفر بزمی نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے، اس جلسہ میں خصوصی خطیب کی حیثیت سے مخدوم زادۂ گرامی حضرت علامہ الحاج سید محمداشرف کلیم اشرفی جائسی مدظلہٗ العالی اورحضرت مولانا ذکراللہ مکی بریلی شریف کی آمد ہوئی حضرت مولانا ذکراللہ نے فرمایا کہ دارالعلوم اہل سنت خیریہ فیض عام نہ صرف کسی ایک فرد کا نہ ایک جماعت کا ادارہ ہے بلکہ یہ ادارہ مسلک اعلیٰ حضرت کا سچا ترجمان ہے ہم کل بھی اپنے بزرگوں سے پیار کرتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں اوران شاء اللہ کل بھی کریں گے،اور حضور مخدوم زادۂ گرامی اپنے کرسی خطابت پر جلوہ افروز ہوکر مجمع عام سے فرمایا کہ حضوراکرام ملت رحمۃ اللہ علیہ ایک متبحر عالم دین اور فقہ وحدیث اور تصوف کے بحر ذخار تھے اور ان کے پیرومرشد حضرت علامہ مولانا حافظ محمدعمر صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے عظیم بزرگ تھے اور مزید فرمایا کہ یہاں ’’خیر ہی خیر ہے اکرام ہی اکرام ہے‘‘اور پھر مخدوم زادۂ گرامی نے خوش ہوکر شہزادۂ حضور اکرام ملت حافظ صدرالدین کو سلسلۂ اشرفیہ وچشتیہ کی اپنی اجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا،اس عظیم الشان اجلاس میں شاعر اسلام ریاض دہلوی ،فیصل ربانی بہرائچ شریف،اسلام برکاتی بریلی شریف نے شرکت فرمائی اور یہ اجلاس صلاۃ و سلام کے بعد حضور سید صاحب کی رقت انگیر دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا۔

گُل احمد صاحب پالیہ میں جشن معراج النبیﷺ

گل احمد صاحب پالیہ ، ہبور،ٹمکورمیں بروز ہفتہ بعد نماز عشا جشن معراج النبی ﷺ و چہلم حافظ و قاری محمد شفیع اللہ رضوی صاحب، مہتمم جامعہ باب العلم، ہیچ یم پالیہ، ہبور منایا گیا ،جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ، رضاا لمصطفیٰ و فد اءالمصطفیٰ نے بہترین انداز میں حمد ونعت پیش کی۔مہمان مقریر مولانا الیاس پاشاہ قادری ، سکریٹری امام احمد رضا مومنٹ علما بورڈ،بنگلور نے معراج النبی اور ایصال ثواب کو دلائل کی روشنی میں خطاب فر ماتے ہوئے کہا کہ نبی کریم کا یہ حیرت انگیز معجزاتی سفر رات میں ہوا تھا اس کو اسراء کہتے ہیں،قرآن مجید میں ہے کہ ۔پاک ہے وہ ذات جو اپنے (محبوب) بندے (محمد مصطفی ) کو لے گیا۔معراج کا واقعہ بیداری کی حالت میں سیر کرانے کا ہے،اِس لئےعظمتِ رب ذوالجلال والاکرام اور مقام مصطفیٰ کے منکروں نے جھگڑا کھڑا کردیا۔لیکن قدرت کا کمال دیکھیے کہ اگر ایک طرف منکرین انکار پر مصر ہیں تو دوسری طرف نبی کریم کے عاشق صادق حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ و اقعہ کی تصدیق کررہے اور فر ما رہے کہ میں تو اِس سے بھی بڑی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں ۔جس کی بنا پر اللہ کی طرف سے لقب صدیق حاصل کررہے ہیں۔ ایصال ثواب کے تعلق سے بھی آپ کا بیان کافی مفید رہا۔  دعاو سلام کےساتھ جلسہ کا اختتام ہوا ۔علما و عمائدین میں مولانا مجاہد رضا، قاری اسرار احمد قادری ، محمد ذکر حسین رضوی، محمد رحیم اللہ، محمد عظمت اللہ وغیرہ رہے۔ اخیر میں امام احمد رضا مومنٹ کے صدر صاحب نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔

از:شعبۂ نکشر و اشاعت، امام احمد رضامومنٹ،بنگلور

شبِ براءت میں بلوریا جامع مسجد میں پروگرام

مبارکپور اطراف میں انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ خوش گوار ماحول میں شب براءت منائی گئی۔ لوگوں نے بقدر استطاعت نفل نمازیں ادا کیں، قضاے عمری پڑھی، قرآن پاک کی تلاوت کی، کثرت سے ذکر و اذکار کیے اور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی اللہ پاک سے مغفرت طلب کی۔ خواتین بھی سامان فاتحہ تیار کرنےکے بعد رات کو گھروں میں عبادات ونوافل اور تلاوت قرآن کریم میں مصروف ہو گئیں۔ شب برات کے موقع پر جامع مسجد بلور یا پورہ صوفی مبارک پور میں جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر مفکر اسلام مفتی مبارک حسین مصباحی نے شب برات کی اہمیت و فضیلت کے عنوان پر مدلل و مفصل خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ شب براءت ایک مقدس اور بابرکت رات ہے، جس میں عبادت و ریاضت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس شب میں سو رکعت نوافل ادا کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس بار سورۂ اخلاص پڑھنے کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، ہمارے اکابر اس پر عمل پیرا رہے ہیں، جلالۃ العلم حضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہ  پابندی سے پڑھتے تھے، آپ عام طور پر یہ شب جمشید پور میں گزارتے تھ، ایک بار چاند کی رویت میں کچھ شبہہ ہوا تو آپ قدس سرہ نے دونوں شب سو سو رکعت نوافل ادا فرمائے، اللہ والوں کی شان یہی ہوتی ہے۔ ارشادِ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے: اللہ تعالیٰ اس شب میں بنو کلب ( اس دور میں سب سے زیادہ بکریاں رکھنے والا قبیلہ ) کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرما دیتا ہے۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شبِ براءت آئے تو دن کو روزہ رکھو اور رات میں عبادت میں مشغول ہو جاؤ، الخ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ، اور تمام برائیوں سے محفوظ رکھے، نیز مبارک و مقدس شب میں عبادت وریاضت، قرآن کی تلاوت اور ذکرو اذ کار کی توفیق عطا کرے۔ ان کے علاوہ  علامہ مولانا محمد اعظم مبارک پوری نے بھی شب براءت کی فضیلت پر خطاب کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا بعدہ قاری شمیم احمد نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ نظامت حافظ محمد شاہد نے کی۔ اس موقع پر احمد رضا، حاجی محمود اختر نعمانی، حاجی جمال اختر نعمانی، حاجی پرویز اختر نعمانی، ضمیر احمد الحاج نور الحق، اختر رضا نعمانی سمیت کثیر تعداد میں معزز سامعین موجود تھے۔

                          ۔۔۔۔از: رحمت اللہ مصباحی

مدنی میاں عربک کالج ہبلی میں جلسہ دستاربندی

حضور شیخ الاسلام حضرت علامہ ابوالحمزہ مفتی سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی کا قائم کردہ دینی ادارہ کلیۃ الاشراف للعلوم الاسلامیۃ مدنی میاں عربک کالج ہبلی کرناٹک میں 4 مارچ 2023ء بروز سنیچر کو قائد اعلیٰ مدنی میاں عربک کالج حضرت علامہ مولانا سید قاسم اشرف اشرفی جیلانی کی قیادت میں سالانہ دستاربندی کا جلسہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی  نے اسلام میں عورتوں کے مقام  کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کہ سب سے پہلے وحی الہی کو سننے والی ایک عورت تھی ۔اسلام میں عورتوں کے حقوق کو پامال نہیں کیا گیا  بلکہ اس کے جذبات کا خیال کرکے انہیں صحیح مقام عطا کیا ہے۔ دینی مدارس کی اہمیت بتاتے ہوے آپ نے فرمایا کہ معاشرے کی جہالت دور کرکے علم کی روشنی پھیلانے کا کام مدرسہ کے ذریعے ہورہا ہے ، معاشرہ میں آج جس طرح انسانیت سوز واقعات ہورہے ہیں ان حالات میں مدارس کی ضرورت زیادہ بڑھ گئی ہے اس لیے کہ مدرسہ میں علم کے ساتھ  اخلاق و آداب اور انسانیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ پھر سید  قاسم اشرف اشرفی جیلانی نے معرفت ربی کا تذکرہ کرتے ہوئے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ پر روشنی ڈالی اور عارفانہ خطاب فرمایا۔

ادارہ ہذا سے فارغ ہونے والے شعبہ عالمیت ، حفظ و قرات میں 30 طلبہ کی دستار بندی ہوئی۔ علما و مشائخ کے دست مبارک سے اس ادارے سے شائع ہونے والا پہلا سالانہ مجلہ مجمع الاشراف کا اجرا ہوا۔ مہتمم ادارۂ ہذا مولانا نعیم الدین اشرفی نے انتظامیہ کمیٹی، مدرسین اور طلبہ و فارغین کی جانب  سے آئے ہوئے مہمانوں اور علما و مشائخ کا شکریہ ادا کیا۔ کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اور عوام اہل سنت نے جلسہ میں شرکت کیا پھر صلاۃ و سلام کے بعد دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔              از : صدر واراکین مدنی میاں عربک کالج ہبلی

دارالعلوم محمدیہ ممبئی کا46؍ واں جلسۂ دستار فضیلت

بروزسنیچر بعد نمازعشا4؍مارچ ۲۰۲۳ء زکریامسجد، نزد حضور اشرف العلما چوک محمد علی روڈ ممبئی۔۳ میں دارالعلوم محمدیہ ممبئی کا ۴۶؍ واں سالانہ جلسہ دستار فضیلت نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منایا گیا جس میں سکیڑوں علما ومشائخ نے شرکت کی سرپرستی اور صدارت جانشین حضور اشرف العلما حضرت علامہ سید محمد خالد اشرف اورشہزادۂ حضور اشرف العلما حضرت علامہ سید محمد نظام اشرف نے کیں۔ آغاز میں سنی دارالعلوم محمدیہ کے طلبہ نے قرأت ، نعت اور تقریر سے سامعین کو محظوظ  کیا ۔ابتدا میں حضرت علامہ ظہیر الدین خان نے رسم ختم بخاری شریف کرتے ہوئے علم دین کی روشنی میں مدلل و مفصل خطاب کیااور ساتھ ہی طلبہ کو استقامت فی الدین کی نصیحت کی۔

اس کے بعد شہزادۂ سید المشائخ حضرت مولانا سید پیر زاہد اشرف اور حضرت سید عظیم اشرف اور شہزادۂ سید مناظر اشرف حضرت سید ربیع اشرف نے نعت وتقریر سے سامعین کو محظوظ کیا۔

امسال دارالعلوم محمدیہ کے شعبہ عالمیت سے۳۱ شعبہ حفظ سے۲۶  شعبہ قرأت سے ۱۱ کو سند ودستار سے نوازا گیا ۔اس پروگرام میں حضرت علامہ سید معزاشرف نے خصوصی خطاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا اہل سنت وجماعت ہی ایک صحیح جماعت ہے جس کے ذریعے اللہ ورسول کا قرب حاصل ہوسکتا ہے۔اس کے بعد حضرت علامہ سید معاذ اشرف نے قرآن و حدیث کی روشنی میں علم اور علما کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا علم دین ہی ایک ایسا راستہ ہے جس سے آدمی دین و دنیا کی خوشیاں حاصل کرسکتاہے۔

حضرت علامہ سید محمد خالد اشرف اشرفی جیلانی نے حضرت مولانا ریاض احمد ، مولانا محمد شرف الدین مصباحی ، مولانا عبدالقدوس ، مولانا اعجاز احمد کشمیری ، مولانا عبیدالرحمن، مولانا بیت اللہ حسینی صاحبان کو سلسلہ عالیہ قادریہ اشرفیہ کی خلافت و اجازت سے نوازا۔ دریں اثنا مولانا غیاث الدین کی کتاب فقہ وکلام کا اجرا حضور سید المشائخ سید محمد خالد اشرف، شہزادہ حضور اشرف الاولیا  وجانشین حضور اشرف العلما سید محمد نظام اشرف کے مقدس ہاتھوں سے ہوا ۔

شیخ طریقت حضرت علامہ سید جلال الدین قادری میاں نے اپنے خطاب میں لوگوں کو بُرائیوں سے بچنے اور امر باالمعروف کی دعوت دی ساتھ ہی آپ نے لوگوں کو کثرت سے استغفار کرتے رہنے کو کہا ۔  آپ نے سامعین کو خود احتسابی کی دعوت دی ، ادارہ کے طلبہ کو دعاؤں سے نوازا اور ادارہ کی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس عظیم الشان اجلاس میں سید مناظر اشرف، سید حمید الدین اشرف، سیداوحدالدین اشرف، مولانا شمیم اختر مالدہ، پرویز بھائی پونہ والے ،مولانا علی اصغر اشرفی ،مولانا اعجاز احمد کشمیری، مفتی سلیم اختر ، غلام مصطفی نوری ملاڈ، مولانا حکیم الدین جوگیشوری، مولانا مشتاق تیغی ، مولانا اسرار بقائی، قاری فہیم الدین ، عبید الرحمن ضیائی مولانا عبدالعزیز، حضرت مولانا سید مسعود اشرف ،مولانا جان محمد برکاتی ، مولانا غلام معصوم اشرفی ، مولانا نور الہدیٰ اشرفی، مولانا شرف الدین، مولانا عبدالقدوس ، مولانا شوکت علی حبیبی، قاری جمشید حبیبی ،قاری صدیق ، قاری اصغر علی اشرفی ،مولانا نورالاسلام اشرفی ،قاری رفیق احمد مولانا اسدعلی ، مولانا تحسین اشرفی ، سماجی رہنما سہیل کھڈوانی، عبدالواہاب مرچنٹ اور دیگرمعززین شہر موجود تھے۔ شہزادگان حضور اشرف العلماکی دعا پر جلسہ اختتام پزیر ہوا۔از: محمد شرف الدین مصباحی

ترکی میں غوثیہ اکیڈمی کی ہنگامی امداد

ترکی وملک شام میں شروع فروری میں آنے والے بھیانک زلزلے سے جہاں پوری دنیا سکتے میں ہے، وہیں زلزلے کی زاد میں آئے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد ضروریات زندگی سے محروم ہوگئے ہیں،کیونکہ زلزلے نے بنیادی ڈھانچہ اور املاک کو تباہ کر دیا، خاندان بے حال ہو گئے اور کھانے کے پانی اور رہائش کے بغیر زندگی کر نے پر مجبور ہیں۔

اس زلزلے متاثرین کی ہر ممکن مد د کی جا رہی ہے۔زلزلہ مہلوکین و متاثرین کے دکھ درد میں غو ثیہ اکیڈیمی اور ساتھی گروپس روز اول سے ہی مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اورمتحرک و فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

الحمداللہ 9فر وری سے ہی  غوثیہ اکیڈمی نے دیگر تنظیمیں کی مد د سے امدادی کام کا آغاز کیا۔خاص کر ترکی کے کہرامنماراس اور ہاتے صوبوں کے علاوہ کئی  زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں زلزلے کے متاثرین کوموبائل کچن کے ذریعے گرم کھانا، ڈبہ بند اشیا، خوردو نوش، راشن ، گرم کپڑے، کمبل ، عام کپڑے ، حفظان صحت کٹس، ادویات وغیرہ ہنگامی انداز میں کررہے ہیں۔

غوثیہ اکیڈمی ممبئی کے ذمہ دار جناب فہیم مہتے صاحب جو اپنی ٹیم کے ساتھ رات دن وہاں پر کا م کر رہے ، کہا کہ شیلٹر پراجکٹ کا کام بھی شروع کیا گیاہے جس میں ہم زلزلے سے متاثرین کو رہنے کے لہے خیمے  فراہم کر رہے ہیں جس میں بیڈ، گد ے، تکیے، چادر اور چولہا بھی دیا جارہاہے۔

 جن لوگوں نے بھی اس کارخیر میں اب تک حصہ لیا ہے ہم ان تمام لوگوں کا دل کی گہرایوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں خاص کر لائٹ انڈیا فاؤنڈیشن بنگلور، امام احمد رضا مومنٹ بنگلور، فیضان فی باقی سبیل،چنئی، جوگیشوری ہیلپنگ ہینڈ فاؤ نڈیشن ممبئی اور چھتیس گڑھ مسلم سماج وغیرہ۔ آپ کے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ان شاء اللہ امید ہے یہ سلسلہ 20مارچ تک جاری رہےگا۔

از: امام احمد رضا مومنٹ، بنگلور

بزم فروغ نعت مبارک پور کی ماہانہ  شعری نشست

اردو ادب میں نعت گوئی سب سے مشکل ترین اور پر خطر راہ سخن ہے، اس صنف خاص کے آداب ولوازم شعری کو اس کے معیار کے مطابق نباہنا آسان نہیں ہے، نعت پاک وہ صنف ہے جس میں اس ذات پاک کی مدح سرائی کی جاتی ہے جس کے لئے رب کائنات نے پوری کائنات تخلیق فرمائی ہے یہ وہ پاکیزہ مگر پر خطر رہ گزر ہے جہاں حب رسالت مآب کی وارفتگی میں دامن احتیاط وادب ہاتھوں سے چھوٹنے اور شان رسول اکرم میں لغزشوں کا خطرہ ہر آن بنا رہتا ہے۔

جس ذات مقدس کو رب کائنات نے سلسبیل و کوثرو تسنیم کی روانیاں عطا کی ہیں، ایسی عظیم المرتبت شان کمالات کی پیکر ذات والا کے حضور نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کرنا تلوار کی تیز دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔

مذکورہ خیالات کا اظہار گزشتہ شب محلہ پورہ رانی واقع ڈاکٹر محمد خالد اشرفی مرحوم کے مکان پر منعقد بزم فروغ نعت مبارک پور کی ماہانہ طرحی نعتیہ نشست میں ناظم پروگرام بلال مبارکپوری نے کیا۔

پروگرام کا آغاز قاری محمد ابدال سلمہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، صدارت الحاج شاہد مبارکپوری اور نظامت بلال مبارکپوری نے کی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے الحاج اظہار احمد و سید محمد فہیم سابق استاذ دار العلوم قادریہ لیڈی اسمتھ ساؤتھ افریقہ نے شرکت فرمائی، اس کے بعد  مصرع طرح "آسماں زیر قدم ان کے بچھا جاتا ہے" کے تحت شعرا نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، پسندیدہ اشعار نذر قارئین ہیں۔

ذات ایسی ہے جمال ایسا ہے منصب ایسا

بہر تعظیم سر کعبہ جھکا جا تا ہے

شاہدؔ مبارکپوری

جو ہے شیدائے شہ دیں یہ بتائے گا وہی

ہجر کے درد کو کس طرح سہا جاتا ہے

اسدؔ مبارکپوری

 

اشک سے داغ گناہوں کا دھلا جاتا ہے

پاک اللہ کی رحمت سے ہوا جا تا ہے

بشر ؔمبارکپوری

میری مرضی میں انھیں بعد خدا جو بھی کہوں

آپ سے کیا ہے غرض آپ کا کیا جاتا ہے

مہتابؔ پیامی

غیب سے مشکلیں آسان ہوا کرتی ہیں

نام سرکار جو مشکل میں لیا جاتا ہے

رفیقؔ قریشی مبارکپوری

آپ کی داد رسی کا ہوا سکہ رائج

شہر بے داد کا بازار گرا جاتا ہے

امیر اشرفؔ

اس در پاک پیمبر کی عطا کیا کہیے

چھوٹا آتا ہے یہاں بن کے بڑا جاتا ہے

بلال ؔمبارکپوری

ایک دو پل میں مکمل کیا صدیوں کا سفر

یہ کمال شہ معراج کہا جاتا ہے

نورؔ مبارکپوری

دعوۂ عشق بنی اور عمل کچھ بھی نہیں

عشق سرکار میں سر پیش کیا جاتا ہے

ثاقبؔ مبارکپوری

مصطفیٰ سنتے ہیں رکھو یہ عقیدہ مضبوط

جب درود اور سلام ان پہ پڑھا جاتا ہے

ساقیؔ ادیبی

ان کے علاوہ مظہرؔ چشتی، ارشادؔ مبارکپوری، سفرؔ اعظمی، فرازؔ ادیبی، خبیرؔ مبارکپوری، ملتؔ لوہیاوی، فخر عالمؔ، ساگرؔ ادیبی، فیضاؔن مبارکپوری، احمرؔ مبارکپوری، رئیسؔ مبارکپوری، گھائلؔ مبارکپوری، مقبولؔ مبارکپوری، صغیر ؔعزیزی، عارفؔ اعظمی، حاذق ؔمبارکپوری، جاویدؔ مبارکپوری ،اظہر ؔابراھیم پوری، حافظ محمد خلیل چشتی نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔

آخر میں کنوینر مہتابؔ پیامی و ارشاد مبارکپوری نے جملہ شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ ماہ کے لیے مصرع طرح ”ہم کو نبیوں کا تاجدار ملا“ کا اعلان کیا، پروگرام کا اختتام صلوٰۃ وسلام و مولانا محمد فہیم کے دعائیہ کلمات پر ہوا۔

اس موقع پر حامد رضا، شفیق احمد، صوفی رئیس احمد، منور قریشی، غلام نبی قوال اشرفی، مختار احمد فائق، انوار احمد، صلاح الدین، حاجی جمال احمد نعمانی(نعمانی دواخانہ) و عبدالسلام کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔             از: شمس الدین ساقیؔ

 

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved