25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9361 Downloads: 753

(20)-خیر و خبر

دور حاضر میں بڑھتے ہوئے ارتداد کا

سد باب انتہائی ضروری

 

جامع مسجد غوثیہ بھد ولی اعظم گڑھ میں منعقدہ اجلاس سے

 مولا نا مبارک حسین مصباحی کا خطاب

 

ہمیں اپنی بچیوں کو عصری علوم كےلیے کالجز  اور یو نیورسٹیوں میں روانہ کرنے سے قبل ان کو دینی ماحول سے آراسته کرنا بےحد ضروری ہے تا کہ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو اسلامی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ ہم عصری علوم کے حصول کی مخالفت نہیں کرتے ہیں، لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ہم اپنی بچیوں کی عصری علوم سے قبل مذہبی پاکیزگی کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔ آج ہمارے معاشرہ میں پھیلتے ہوئے ارتداد پر قدغن کیسے لگایا جائے ، اس پر مولانا نے اپنےتاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ارتداد کے بڑھنے کا جو نتیجہ ہے اس کے ہم بھی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم نے نکاح جیسے پاکیزہ عمل کو رسم و رواج کی زنجیر میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ نکاح آسان ہونے کے بجاے ایک پیچیدہ امر بن چکا ہے۔

 مذکورہ خیالات کا اظہار ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر مولانا مبارک حسین مصباحی نے جامع مسجد غوثیہ بھد ولی اعظم گڑھ میں منعقدہ ایک اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا نے مزید کہا کہ اپنی اولاد کو بے راہ روی اور ارتداد کے نرغے میں پھنسنے  سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھیں اور ذرہ برابر بھی اپنی تربیتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کاہلی و تساہلی نہ کریں، بلکہ تعلیم و تربیت کے انتظام و انصرام کے ساتھ اپنی اولاد کے شب وروز کا جائزہ بھی لیتے رہیں اور پھر انھیں اپنی اور اپنے دین و خاندان کی عزت و ناموس کا احساس بھی دلاتے رہیں۔ موجودہ دور انتہائی ترقی یافتہ مانا جاتا ہے، ہر شخص اس کا ایک خاص حصہ بننا چاہتا ہے۔ لیکن معاملہ اس وقت دگر گوں ہو جاتا ہے جب جدید تعلیم و ترقی سے منسلک افراد ملک وملت کے حق میں ناسور بن جاتے ہیں اور بیجا آزادی اور بے راہ روی کے نام پر کچھ ایسی غیر انسانی حرکات کر جاتے ہیں کہ وہ نہ صرف ملک و معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات دینی و مذہبی، خاندانی و علاقائی سطح پر بھی سخت انتشار اور فتنہ و فساد کا باعث بن جاتے ہیں۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور اختتام صلاۃ و سلام و دعا پر ہوا۔ اس موقع پر مولانا محمد بدر عالم اعظمی، مولانا عبد الرحیم امام و خطیب جامع مسجد غوثیہ بھدولی ، مولانا کمال الدین، حافظ محمد سیف خان، محمد انصار خاں سکریٹری جامع مسجد غوثیہ، محمد سجاد خاں، عبد الغفار  عرف جمن خاں سمیت کثیر تعداد میں دیگر افراد موجود تھے۔

(روز نامہ انقلاب اردو بنارس)-از: رحمت اللہ مصباحی

تحریک دعوت انسانیت  کے متعدد شعبوں کا افتتاح

مورخہ ۳ذی قعدہ ۱۴۴۴ھ مطابق ۲۴مئی ۲۰۲۳ءء بروز بدھ آ ستانہ عالیہ رفیقیہ ڈیرہ پور شریف کان پور دیہات میں تحریک دعوت انسانیت کے زیر اہتمام عظیم الشان تقریب افتتاح کا انعقاد ہوا، جس کی سرپرستی حضرت مفتی رحمت اللہ سابق شیخ الحدیث مدرسہ مدینۃ العلم بھدوہی اور علامہ سید انور میاں چشتی سربراہ اعلیٰ جامعہ صمدیہ دارالخیر پھپھوند شریف نے فرمائی،جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے حضرت مفتی سید اطہر میاں اور مخدوم گرامی حضرت مولانا  سید محمد مظفر چشتی قبلہ آستانہ عالیہ صمدیہ مصباحیہ  پھپھوند شریف نے شرکت فرمائی۔ 

تحریک دعوت انسانیت کے بانی حضرت علامہ مفتی محمد انفاس الحسن چشتی سجادہ نشین آستانہ عالیہ رفیقیہ ڈیرہ پور شریف کی قیادت میں منعقد اس تقریب افتتاح میں ’’دارالقضا‘‘ ، ’’دارالافتا‘‘,’’شعبہ تر بیت افتا‘‘ اور ’’حافظ بخاری لائبریری‘‘  کا افتتاح عمل میں آیا۔

حضرت مفتی رحمت اللہ قادری بلرام پوری دام ظلہ العالی نے تر بیت افتا کے طلبہ کو ’’الاشباہ والنظائر‘‘اور ’’شرح معانی الآثار‘‘ کا پہلا درس دے کر شعبۂ تر بیت افتا کا افتتاح فرمایا۔ انھوں نے قضاوافتا کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اپنے تاثراتی خطاب میں فرمایا کہ مجھ سے چالیس سالہ تدریسی دور میں سیکڑوں تلامذہ نے استفادہ کیا لیکن ان سب میں جس قدر دینی و علمی خدمات حضرت مفتی محمد انفاس الحسن چشتی کے ذریعہ انجام پائیں وہ کسی کے ذریعہ نہیں انجام پاسکیں،یہ ان پر اللہ کا خاص فضل ، ان کے مرشد گرامی حضور اکبر المشائخ  علامہ سید محمد اکبر میاں چشتی علیہ الرحمہ کی خصوصی نگہ عنایت اور مشائخ عظام کا فیضان ہے۔ تحریک دعوت انسانیت کا قیام اور اس کے ذریعہ انجام پانے والی دینی، علمی اور دعوتی خدمات انتہائی مسرت انگیز اور اطمینان بخش ہیں۔

حضرت مولانا سید مظفر چشتی قبلہ نے اپنے تاثراتی خطاب میں دارالقضا ،دارالافتا، شعبہ تربیت افتا کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دارالقضا کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، اس وقت مسلم سماج کے اکثر خاندان مقدموں اور کورٹ کے چکر میں اپنی کمائی اور طاقت صرف کررہے ہیں، جب کہ اختلافی معاملات میں ہمیں دارالقضاکی طرف رجوع کرکے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں فیصلہ حاصل کرنا چاہیے اور اسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔

بانی تحریک دعوت انسانیت حضرت مفتی محمد انفاس الحسن چشتی دام ظلہ العالی نے تمام علما ومشائخ اور مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے تحریک دعوت انسانیت کے زیر اہتمام انجام پانے والی دینی، علمی اور تبلیغی  خدمات پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے عزائم سے روشناس کرایا ۔

اس موقع پر مولانا ظفرنوری ازہری گوالیر نے بھی ایک مختصر اور اہم خطاب فرمایا۔ مولانا محمد ساجدرضامصباحی سابق استاذ جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف نے بھی تحریک دعوت انسانیت اور بانی تحریک کے حوالے تاثرات پیش کیے۔

پروگرام کی نظامت مولانا غلام جیلانی مصباحی استاذ جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف نے فرمائی، مولاناآفتاب عالم چشتی صمدی نے نعت پاک کے اشعار پیش فرمائے۔ مولانا غلام محبوب سبحانی ازہری اور مولاناعبید الحسن چشتی عرف سچے میاں وغیرہ نے نظم ونسق اور انتظام و انصرام کو بہتر بنانے میں اہم کردار اداکیا۔بیان ولادت شریف اور صلاۃ وسلام ودعا پر محفل اختتام پذیر ہوئی۔

از: شعبہ نشر واشاعت

 تحریک دعوت وانسانیت ڈیرہ پور شریف کان پور دیہات

(ص:۵۳ کا بقیہ)علما انبیا کے وارث ہیں، یہ ساری فضیلتیں حدیث شریف میں موجود ہیں ۔لہذا رب قدیر قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: جس کو حکمت مل گئی اسے خیر کثیر مل گیا ۔ (البقرہ: آیت: 269)

  ایک  عالم کی پہچان اس کے عمل اور تقوی سے ہی ہے۔ ابھی کل میرے استاد گرامی رئیس التحرير حضرت علامہ یاسین اختر مصباحی ادروی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا جنھوں نے مجھ جیسے بے ذات کو بھی شعور علم عطا کیا۔ وہ طلبہ سے بے حد محبت فرماتے اور طلبہ کی زندگی سنوارنے کے لیے شب و روز کوششیں کرتے۔ وہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ کے سابق استاذ  اورمرشدی جلالۃ العلم، ابوالفیض حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ  کے چہیتے شاگردوں میں سے تھے، حضرت  نے ان کی علمی اور تدریسی صلاحیت کی بنیاد پر انھیں اس جامعہ اشرفیہ کا استاذ منتخب فرمایا تھا، ہم لوگوں میں جو کچھ بھی علمی، ادبی اور لسانی ذوق ہے وہ سب حضرت ہی کا مرہون منت ہے۔ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ بڑی محنت سے پڑھاتے تھے، تدریس کے اوقات میں تو پڑھاتے ہی تھے، خارج وقت میں بھی طلبہ کو بلا بلا کر درس دیتے۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے کئی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا، انھوں نے عربی اردو زبان میں کثیر تصانیف اور ترجمے یادگار چھوڑے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ  کے کئی رسائل کے ترجمے کیے، ان کے بہت سے فتاوی کی تفہیم اور ترجمانی کی، سینکڑوں مضامین ومقالات لکھے۔ کئی ماہ ناموں کی ادارت کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ وہ علمی اور تحقیقی کاموں سے پہچانے ہی جاتے تھے۔ انھوں نے پوری زندگی فروغ علم اور اشاعت دین کے لیے وقف کردی تھی، تحریر و تصنیف کے میدان میں انقلاب لانے کے لیے دہلی کی سرزمین پر دارالقلم نامی ادارہ قائم کیا اور قادری مسجد کی بنیاد رکھی۔ اور پوری زندگی یہیں دین و ملت کی خدمت میں گزار دی۔ ان کی شخصیت اعتدال و وسطیت کی حامل تھی۔ انھوں نے متعدد ادارے، انجمنیں اور تنظیمیں یادگار چھوڑیں۔حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ مختلف اداروں اور تنظیموں نے ان کی تعلیمی اور تحریری خدمات کے اعتراف میں انھیں ایوارڈ پیش کیے۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ ایک سنجیدہ، باوقار، شریف النفس، حلیم الطبع، اصاغر نواز اور متواضع اور نام و نمود سے دور رہنے والے بے لوث عالم دین تھے۔

    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان، اعزا واقارب اور تلامذہ کو صبر کی توفیق رفیق عطا فرمائے  اور ساتھ ساتھ حضرت کی رفع درجات کی دعا کرتے رہنے کہ توفیق رفیق عطا فرمائے اور جماعت اہل سنت کو ان کا نعم البدل مرحمت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔         از:منظور احمد خان عزیزی

خادم التدریس جامعہ عربیہ سلطان پور

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved