20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Sept 2023 Download:Click Here Views: 5943 Downloads: 924

(6)-جلوس عید میلاد النبی اور خرافات و محرمات

شعاعیں

محمد سبطین رضا سبطین مرتضوی

ماہ ربیع الاول کی ١٢ تاریخ وہ ساعت ہمایوں ہے جس میں، آفتاب رسالت ، مہتاب نبوت ، سید عالم ، نور مجسم ، سرورکائنات،  مختار دوعالم حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحن عالم میں قدم رنجہ فرمایا۔ یہ مقدس ساعت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایسی خوشی ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ہرسال جب بھی ربیع الاول شریف کا مبارک مہینہ آتا ہے پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، اہل ایمان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے لیے نصیحت و ہدایت لانے والی عظیم ہستی کی اس عالم میں تشریف آوری کوئی معمولی بات نہیں۔وہ اعظم و اعلیٰ شخصیت جو تمام انسانوں اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ان کی ولادت باسعادت کا دن بلاشبہ عظیم اور یادگار دن ہے جس کی یاد منانا تمام مسلمانوں کے لیے لازم و ضروری ہے۔ 

لیکن وہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اپنی تعلیمات و ہدایات کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر و شرک کی مہیب تاریکیوں کو دور کیا؛ بلکہ لہوولعب، خرافات و رسومات سے بگڑی ہوئی انسانیت کو اخلاق و شرافت، شان و شوکت اور سنت و شریعت کے زیور سے آراستہ کیا۔ آج ان کی محفل میلاد کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے ، عید میلادالنبی النبی صلی اللہ علیہ کا جلوس نکالتے وقت ادب و احترام کے حدود و قیود کا احترام نہیں کیا جارہا ہے، آج لوگ دربار مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب بھول بیٹھے ہیں، مکانوں کی کھڑکیاں اور بالکونیوں سے نوجوان لڑکیاں اور عورتیں شرکاے جلوس پر پھول وغیرہ پھینکتی ہیں۔ اوباش نوجوان خلاف اخلاق حرکتیں کرتے ہیں، مساجد میں نماز کے اوقات کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا، جلوس چلتا رہتا ہے، جلوس نکال کر حصول اجر و ثواب کے بجائے رب کے عذاب کو دعوت دیا‌جاتا ہے۔

جلوس میں ادب و احترام سے بے پروائی:

ہم‌ اپنے بچپن میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر ترتیب دئے جانے والے جلوسوں کا نظم و ضبط ، درود و سلام کے مؤدب نذرانے کے عینی شاہد ہیں لیکن آج جب ان پاکیزہ جلسوں میں ڈی جے، باجوں وغیرہ کی آلودگیاں دیکھتے ہیں تو کانپ کانپ اٹھتے ہیں کہ یہ جسارتیں مختار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر آزردہ دلی اور مالک دوجہاں کی سخت ناراضگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس خلاف شرع حرکات کے سائے میں اپنی منزل تک پہنچتے ہیں ، جن کی قلع قمع کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی تھی، یہ پے ادبی اور گستاخی کی انتہا ہے کہ عید میلاد کے جلوس ڈی جے باجوں کے شور و غل اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ خانی جیسی غلیظ حرکات سے بھرے ہوئے ہوں لیکن حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے ان چیزوں کو دیکھنے کے بعد بھی علما و مشائخ کی پیشانیوں پر عرق انفعال کا ایک قطرہ تک نمودار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان چیزوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ کیا محبت رسول ، اتباع رسول کے یہی تقاضے ہیں؟ اس طرح کی بیہودگیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پاک کو کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی اس کی بھی کسی کو خبر ہے یا نہیں؟

محافل میلاد فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں:

امام اہلسنت ، مجدد دین و ملت ، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ فتاویٰ رضویہ میں ارقام پذیر ہیں:

محافل میلاد اور جلوس میلاد وغیرہ میں ڈھول باجے وغیرہ لے جانا جائز نہیں اور جن محافل میں ایسے آلات لہو و لعب کا استعمال ہو، ان میں جانا جائز نہیں، خواہ انہیں محافل میلاد (عرس، گیارہویں وغیرہ) کا نام ہی کیوں نہ دیا جاتا ہو۔(فتاویٰ رضویہ، جلد: 23، صفحہ: 737)

فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ:مجالس کی طرح محافل میلاد میں شرکت تب ہی جائز ہے جب اس میں خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ ہو اگر وہ شرعی احکام کی خلاف ورزی اور ناپسندیدہ بدعات سے پاک نہ ہو تو اس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 133)

١٢ربیع الاول کا پیغام:

ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ١٢ ربیع الاول کا پیغام کا کیا ہے؟ ١٢ربیع الاول کا پیغام یہ ہے کہ: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنا جزو ایمان بنالیں ایمان کی کامیلت اس کے بغیر ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ مختار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر اظہار تشکر کے طور پر درود و سلام کی کثرت کی جائے۔ تعظیم و توقیر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حرز جاں بنالیا جائے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کا عزم مصمم کیا جائے اور زندگی کے تمام شعبوں کو آپ کی سیرت کے نور سے منور کیا جائے۔ مختار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف آوری کا ایک مقصد یہ بھی بتایا ہے کہ:”میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں“ لہذا ہم بھی جھوٹ، غیبت، چغلی، تکبر و انانیت ، ہوس پرستی اور اس جیسی دیگر آلودگیوں سے اپنے من کو صاف کریں اور اعلیٰ اخلاق سے متصف ہوں۔ 

عید میلادالنبی منانے والوں کی جزا:

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جزا یعنی بدلہ یہ ہے کہ اللہ پاک انہیں فضل و کرم سے سے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے، کھانے پکواتے، خوب صدقہ و خیرات ،خوب خوشی کا اظہار، اور دل کھول کر خرچ کرتے آئے ہیں۔ مسلمان اس مبارک ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے ذکر کا انتظام کرتے ہیں اور اپنے مکانوں کو سجاتے ہیں اور ان تمام نیک کاموں کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ پاک کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ (ما ثبت من السنہ، ص: 102)

عظیم عالم دین امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینے میں مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے، کھانےپکواتے اور خوب صدقہ و خیرات ،خوشی کا اظہار ،دل کھول کر خرچ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ذکر کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ چناں چہ ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت بڑے فضل اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ میلاد شریف منانے سے دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں اللہ پاک ان پر رحمتیں نازل فرمائے جہوں نے ولادت شریف کی راتوں کو عید(یعنی خوشی کا دن) بنا لیا۔ (مواہب لدنیہ، جلد: 1، ص:78)

لہٰذاجشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر انتہائی خلوص و محبت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کئے جائیں، راستے گلیوں ، کوچوں اور گھروں میں چراغاں کیا جائے ، فقراء و مساکین کے ساتھ ہمدردی کی جائے، صدقات و خیرات کثرت سے کیے جائیں، علماے امت کی کار منصبی ہے کہ وہ عوام الناس کو سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے آشنا فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی لوگوں کو تلقین کریں، اور یہ اہتمام بہرحال ملحوظ خاطر رہے کہ کوئی ایسی حرکت نہ ہونے پائے جس میں کسی فرمان الہٰی کی نافرمانی یا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہو ،ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ثواب عذاب میں بدل جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے مستفیض کرے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved