19 June, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia May2023 Download:Click Here Views: 13443 Downloads: 657

(12)-اظہار خیال-نقوش فکر

رئیس التحریر حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی علیہ الرحمہ کے تحریر کردہ اداریوں کا مجموعہ ”نقوشِ فکر“ جب مرتب ہوا تو حضرت نے احقر مبارک حسین مصباحی کو اس کے لیے اظہارِ خیال کا حکم دیا ، راقم نے ۷؍ ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ/۹ جنوری ۲۰۰۳ء میں کچھ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس تاثر کو بیس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے، اس مجموعے میں ماہ نامہ حجاز دہلی اگست ۱۹۸۸ء تا نومبر ۱۹۹۴ء اور ماہ نامہ کنز الایمان دہلی نومبر ۱۹۹۸ء تا جون ۲۰۰۴ء کے مکمل اداریے  ہیں۔ افسوس صد افسوس ۷ مئی ۲۰۲۳ء کا حضرت کا وصال پر ملال ہو گیا ۔ ہم قارئین اشرفیہ مبارک پور کے لیے  اپنا تاثر پیش کر رہے ہیں۔       ” گر قبول افتد زہے عز و شرف“         از: مبارک حسین مصباحی

  جنت نشان بساط ہند پر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء میں آزادی کی پہلی کرن پھوٹی اور ایثار پیشہ مجاہدین کی سرفروشانہ جد وجہد کے نتیجہ میں باشندگان ہند نے ایک پر امن اور خوبصورت مستقبل کے تصور سے اطمینان کی سانس لی اور اس کے بعد تاریخ ہند کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ جنگ آزادی کے دوران مجاہدین ہند نے حب الوطنی کے وفور شوق میں فرقہ وارانہ جذبات سے بالا تر ہو کر جس حیرت انگیز سیاسی یک جہتی اور ملکی رواداری کا مظاہرہ کیا تھا اس کی عطر بیز خوشبوؤں سے تاریخ ہند صدیوں تک مشک بار رہے گی۔ اور اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آزادی ہند کے اولین نعرۂ انقلاب سے لے کر غلامی کی زنجیریں توڑنے تک جاں باز علمائے ہند نے بالکل وہی کردار ادا کیا ہے جو قافلۂ جسم و جان کو رواں دواں رکھنے میں دل کا ہوتا ہے۔ مجاہدین ہند کو جن الفاظ نے ہمہ دم تازہ دم رکھا اور قدم قدم پر عزم و حوصلہ عطا کیا وہ ہیں انقلاب، زندہ باد، جہاد، مجاہد ہند، شہادت، شہید آزادی اور غلامی سے آزادی ! یہ سارے الفاظ علماے کرام اور اردو شعرا کی اصطلاحات وعطیات ہیں۔ اور آج بھی آزادی ہند کی تاریخ نویسی اور تاریخ بیانی کے لیے ان الفاظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان الفاظ کو نظر انداز کر کے بات کا بتنگڑ تو بنایا جاسکتا ہے لیکن ایثار و قربانی کی دل گداز داستان رقم نہیں کی جاسکتی۔

مگر افسوس ! خاک ہند کی اس مقدر زبوں حالی کو کیا کہیے کہ انگریز سامراج جاتے جاتے اس سونے کی چڑیا کے بال و پر تو اپنے ساتھ لے گئے اور اس اندیشہ کے پیش نظر کہ کہیں اس میں پھر قوت پرواز نہ آجائے فضاے ہند میں فرقہ وارانہ تصادم کا زہر قاتل گھول گئے ۔ اس کا الم ناک نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جو مختلف المذاہب جاں باز دستے حب الوطنی کی امنگوں سے سر شار قدم بہ قدم سینہ سپر ہو کر دشمن کے سامنے کھڑے تھے اب اپنے ملک ووطن کی تعمیر و ترقی کے اصل نشانہ سے انحراف کر کے الگ الگ خیموں میں تقسیم ہونے لگے  اور پھر سیاست براے مذہب اور مذہب براے سیاست کی جنگ چھڑ گئی۔ آزادی ہند کے بعد امید تھی کہ ہمارا ملک جمہوری اقدار کے سایہ میں ترقی کرے گا، امن وشانتی کی خوشگوار ہوا ئیں خاک ہند کی زرخیزی میں اضافہ کریں گی ، خوش رنگ گلوں کا یہ حسین گلدستہ اپنی عطر بیز خوشبوؤں سے ہر صحن چمن کو مہکائے گا مگر یہ خوبصورت خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ۔ اکثریتی فرقے نے اپنی طاقت و تعداد کا غلط فائدہ اٹھا کر ہند و احیا پرستی کی مہم چھیڑی اور تعلیم و تہذیب سے سیاست و صحافت تک اور تجارت و معیشت سے سماج و معاشرہ تک اسلام بیزاری کی فضا پیدا کر دی۔ دن کے اجالے میں جمہوریت و یکجہتی کے نعرے لگتے رہے اور رات کے اندھیرے میں مسلمانوں کے دینی اور قومی سرمایہ پر شب خون مارنے کے منصوبے بنتے رہے ۔ اس جمہوریت  کش اور جارحیت پسند سیاسی فکر عمل کا سب سے بڑا نقصان اسلام اور اسلامیان ہند کو پہنچا اور آج بھی یہ قیامت خیز طوفان آگ کا بگولہ بن کر مسلم آبادیوں کو خاکستر کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ ان حالات نے ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی، سماجی، ثقافتی ، ادبی صحافتی ، معاشی ، اور تجارتی میدانوں میں ایک ایسے نازک موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے کہ اپنے ہی وطن میں ان کی پیش قدمی اور ترقی کی راہیں بند نہیں تو تنگ ضرور ہوگئی ہیں۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں کے دینی اور قومی اثاثوں پر مسلسل اور پے در پے اتنی یلغار ہوتی ہے کہ اب ان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ اپنے دینی تشخص اور اپنے قومی وقار کے تحفظ کاکھڑا ہو گیا ہے۔ مسلسل ہزیمت و پسپائی کے بعد مسلم قیادت بھی انتشار اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئی اور بعض مسلم قائدین نے ذاتی منفعت پر قومی منفعت کو قربان کرنا شروع کر دیا۔ ان ہی اسباب کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کی منظم اور مستحکم قیادت کا کوئی ڈھانچہ ابھر کر سامنے نہ آسکا۔

 جہاں تک ارباب خانقاہ ، اہل مدارس اور مبلغین اسلام کی ذمہ داریوں کا سوال ہے وہ اسلام کے فروغ و تحفظ اور امت مسلمہ کی دینی و معاشرتی صلاح وفلاح میں اتنے مصروف رہے کہ انھیں حریفوں کی سازشوں سے باخبر ہونے کا موقع ہی نہ مل سکا یا ان کے سامنے دفاع واقدام کے وسائل کا فقدان رہا۔ لیکن اس فلک پیما کارنامے کا اعتراف کیے بغیر قلم آگے نہیں بڑھ سکتا کہ ان گوشہ نشیں صوفیہ اور دینی محاذوں پر سر گرم عمل علما ہی کی مخلصانہ جدو جہد کا نتیجہ ہے کہ ہماری قوم کی ایک بڑی تعداد خوش عقیدگی کے ماحول میں اسلام کے سوز وگداز سے سرشار اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ کچھ جدید تعلیم یافتہ دانشور، کچھ اہل صحافت و قیادت اور کچھ بزعم خویش روشن خیال علما جوملی محاذ پر کھڑے نظر آتے ہیں اسلام کے حوالے سے ان کی معلومات کم تھیں یا اسلام کے حقیقی جمال و کمال سے ان کے قلوب غیر مستنیر تھے اس لیے انھوں نے اسلام کی بالا دستی ثابت کرنے اور اسلام کے دفاع واقدام کی بجاے مسلمانوں کے درمیان انحراف و کج روی اور گمراہی و بد مذہبی پھیلانے کا مذموم کردار ادا کیا۔ اور اسلام کے تئیں ان کی حیثیت ایک معذرت خواہانہ داعی کی رہی جواکثر مواقع پر مؤثر ہونے کی بجاے متأثر ہو جاتے ہیں۔ سرسید احمد خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی ،مولانا عنایت اللہ مشرقی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا وحید الدین خاں جیسے حضرات کا لٹریچر پڑھ کر کچھ عجیب سا انقباض و تکدر پیدا ہوتا ہے کیوں کہ ان کے اخذ کرد ہ نتائج کا رشتہ عموما مسلک اسلاف سے منقطع نظر آتا ہے۔ دین و دانش، عشق و عرفان، اور تصلب فی الدین جیسے اوصاف کے حامل جن علما اور دانشوروں نے بساط ہند میں جہد و عمل ، تعمیری فکر و مزاج اور مستقبل شناس قائدین کی حیثیت سے اسلام کے دفاع واقدام، آثار اسلامی کے تحفظ و بقا اور امت مسلمہ کی قیادت ور ہ نمائی کا گراں قدر کارنامہ انجام دیا اور داخلی و خارجی سازشوں سے تاریخ کے کسی موڑ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا ان میں چند نمائندہ شخصیات یہ ہیں۔

 علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ فضل رسول بدایونی ، علامہ عبد القادر برکاتی بدایونی، امام احمد رضا محدث بریلوی، صدر الافاضل مولاناسیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچھوچھوی ، تاج العلما مولاناسید اولاد رسول محمد میاں مارہروی، برہان ملت مفتی برہان الحق جبل پوری، مبلغ اسلام مولا نا عبد العلیم صدیقی میر ٹھی ، مولانا حامد علی فاروقی راے پوری، مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمٰن قادری اڑیسوی، حافظ ملت مولانا عبد العزیز محدث مبارکپوری ، علامه ارشد القادری، علامہ مشتاق احمد نظامی، مجاہد دوراں سید مظفر حسین کچھوچھوی ، ریحان ملت مولانا ریحان رضا خاں بریلوی ، مولانا قمر الزماں اعظمی ، مولا نا عبید اللہ اعظمی  اور مولانا یٰسٓ اختر مصباحی ۔ ان میں کچھ وہ ہیں جنھوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور اکثر وہ ہیں جنھوں نے آزادی کے بعد امت مسلمہ کے دینی اور قومی وقار کی بحالی کے لیے زبان و قلم  اور تحریک و تنظیم کی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ موجودہ علماے اہل سنت و قائدین ملت کے درمیان ایک متوازن مفکر و صحافی اور خاموش انقلابی قائد کی حیثیت سے مفکر اسلام علامہ یٰسٓ اختر مصباحی کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔ بلند فکری ، سنجیدہ مزاجی ، مسلم مسائل سے باخبری ، معاندین اسلام کے اعتراضات کی جواب دہی ، زبان وادب پر مکمل دسترس، جماعتی مسائل میں دردمندی ،فکر انگیز اور رواں دواں تحریر ونگارش، ان کے دبستانِ حیات کے چند گل ہاے خوش رنگ ہیں ۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین اور کثیر التصانیف مصنف ہیں  اور مسلمانوں کے عالمی وملکی مسائل پر عقابی نظر رکھنے والے حساس اور مستقبل شناس صحافی ہیں۔ وہ قریب تین دہائیوں سے ماضی و حال کا تجزیہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کے محفوظ مستقبل کی حصول یابی کی فکری قلمی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی فکر و قلم سے امت مسلمہ کی نئی نسل کی خاموش ذہنی و شعوری تربیت کا جو انقلاب آفریں کا رنامہ انجام دیا ہے مستقبل کے دامن پر اس کے تابندہ نقوش آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔

موضع خالص پور قصبہ ادری ضلع اعظم گڑھ[اب مئو] میں آپ کی ولادت ۱۲ فروری ۱۹۵۳ء میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم کے بعد ہندوستان کی شہرہ آفاق درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں داخل ہوئے اور حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے زیر تربیت اساتذۂ علم وفن سے درس لیا اور علم وادب کی درخشانی سے ایک ذرۂ خا کی آفتابی ہو گیا ۔ ۱۹۷۰ء میں دستار فضیلت سے نوازے گئے ۔ سررشتہ عربی فارسی بورڈ الہ آباد سے عالم اور فاضل ادب کے امتحانات اور لکھنو سے ۱۹۷۳ء میں الاختصاص فی الادب العربی کے دوسالہ کورس کی تعمیل کی۔

جنوری ۱۹۷۴ء سے اپریل ۱۹۸۲ ء تک شیخ الادب کے حیثیت سے الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں تدریسی اور تربیتی خدمات انجام دیں۔ آپ نے اپنے عہد تدریس میں عربی زبان وادب اور شعور فکر وقلم کی جو مہم چھیڑی تھی اس کے تابندہ نقوش آج بھی چمن اشرفیہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپ بلاشبہ جامعہ اشرفیہ کے قابل فخر فرزند بھی ہیں اور قابل تقلید استاذ بھی ! آپ نے جامعہ ملیہ دہلی میں بھی ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۰ء تک اسلامیات کے استاد کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اشرفیہ مبارک پور میں آپ کی تدریسی اور تربیتی خدمات کے نتیجہ میں سیکڑوں علما پیدا ہوئے جو آج ملک اور بیرون ملک میں ارشاد و تبلیغ اورتصنیف و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۴ء تک ریاض سعودی عرب اس کے بعد آپ نے خدمت لوح وقلم، فروغ دین و دانش اور دعوت وتبلیغ کے لیے دہلی کی سرزمین کو منتخب کیا اور بلاشبہ دہلی کی سرزمین پر ۱۹۸۴ ء میں آپ کا قدم رکھنا اہل سنت و جماعت کے لیے فال نیک ثابت ہوا۔ آپ نے دہلی کی سرزمین پر جو انقلاب آفریں کارنامہ انجام دیا اس کے فکری و تعمیری اثرات برصغیر میں محسوس کیے جارہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس عہد کا سرا ڈھونڈنے کے لیے کہکشاں کے جمال کی طرح آپ رہ نوردان شوق کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ دہلی کی سرزمین پر علامہ ارشد القادری کی جدوجہد اور مولا نا یٰسٓ اختر مصباحی کے قیام واستقلال  اورثبات قدمی کے نتیجے میں اب بڑی تیزی سے عشق و عرفان اور دین و دانش کی قدریں بحال ہو رہی ہیں۔ درجنوں مدارس کا قیام عمل میں آچکا ہے ۔ سیکڑوں مساجد میں ائمہ ٔاہل سنت محراب و منبر کی زینت بن چکے ہیں ۔ قدیم خانقاہوں میں عقیدہ و عمل کی تازگی اور پختگی کی لہریں شروع ہو چکی ہیں۔ اور اشاعتی اداروں میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ زرخیز زمینوں پر دین و دانش کے گل بوٹے اگانا ایک بڑا کام ہے لیکن بنجر زمینوں میں خوش اعتقادیوں کے لالہ زارا گانا ،پتھر یلے علاقوں میں شاہراہیں تراشنے سے بھی بڑا کام ہے۔ ہمارے عہد کا تاریخ نویس کبھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ اگر حافظ ملت کے پر عزم تلامذہ نے دہلی کو اپنی فکر و عمل اور دعوت وتبلیغ کا محور نہ بنایا ہوتا تو اس تاریخی سرزمین پر ہماری جماعت کی شناخت بھی سنگین خطرات سے دو چار ہو چکی تھی۔ دین دانش ، سیاست و صحافت اور سیرت و سوانح کے مختلف موضوعات پر آپ کی تقریبا ۳۰ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔[بفضلہٖ تعالیٰ آپ کی کتابوں کی تعداد اب ۵۳ ہو چکی ہے] خطۂ ہند میں فکر رضا کے تعارف و فروغ میں سب سے بنیادی اور اہم کارنامہ آپ کے قلم نے انجام دیا۔ ایک منظم اور دور رس فکری نقطہ نظر سے رضویات پر آپ نے قلم نہ اٹھایا ہوتا تو شاید رضا بیزار حلقوں میں امام احمد رضا کی فکرو شخصیت پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی قابل ذکر لٹریچر نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے امام احمد رضا اور ردبدعات و منکرات ، امام احمد رضا ارباب علم دانش کی نظر میں ، معارف کنز الایمان ، امام احمد رضا کی محدثانہ عظمت ، امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ، امام احمد رضا اور تحریکات جدیدہ ، سواد اعظم، اور تعارف اہل سنت وغیرہ تصانیف اور درجنوں مقالات و مضامین نے عرفان رضا کا اجالا عام کرنے میں جو تاریخی اور ٹھوس کر دار ادا کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ آپ کی مشہور تصنیف امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات کی تحسین اور اعتراف خدمات کے طور پر بمبئی کے ایک اجلاس (منعقدہ ۱۹۹۱ ء)میں رضا اکیڈمی ممبئی نے آپ کے خدمت میں مبلغ گیارہ ہزار روپے کے ساتھ ایک تو صیف نامہ پیش کیا۔ اس رقم کو آپ نے اسی اجلاس میں اپنی مادر علمی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کو نذر کر دیا جو بجاے خود ایک مخلص و بے لوث عالم ربانی کا یاد گار کارنامہ ہے۔ مفکر اسلام حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی صاحب ایک ذمہ دار عالم دین اور متوازن الفکر و صاحب الراے مفکر کی حیثیت سے تنظیمی اور تعمیری میدانوں میں بھی مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں ۔ سمیناروں اور اہم کا نفرنسوں میں بھی آپ کی شرکت کا وزن محسوس کیا جاتا ہے۔ لوح وقلم کے عروج ، دین و دانش کے فروغ اور جماعتی شعور کی بیداری کے حوالے سے آپ کے کارنامے آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس داستان ہزار شب کے سنانے کی یہاں گنجائش کہاں ؟ سر دست ان اداروں اور تحریکوں کی فہرست نمائی پر ہم اکتفا کرتے رہیں جن کی آپ نے بنا ڈالی یا جن کے فروغ و استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

  • بانی رکن الجمع الاسلامی مبارک پور ،
  • نائب صدر کل ہند مسلم پرسنل لا کا نفرنس،
  • بانی رکن مسلم کنونشن اتر پردیش،
  • بانی وصدر آل انڈیا مسلم مشاورتی بورڈ ،

ان کے علاوہ درگاہ کمیٹی اجمیر شریف کے (نومبر ۱۹۹۷ ء تا نومبر ۲۰۰۲ء ) رکن اور نائب صدر رہ چکے ہیں۔ اور اس وقت دارالقلم دہلی کے بانی ومہتمم کی حیثیت سے پوری تندہی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ یہ ادارہ آپ کی جولان گاہِ فکر وعمل کی خاص آماجگاہ ہے۔ جب آپ نے پہلی بار 1991ء میں دار القلم کا فلک پیما منصوبہ ماہنامہ حجاز جدید دہلی میں پیش کیا تھا تو نوک قلم سے برپا ہونے والے انقلاب کی آہٹ پورے ملک میں محسوس کی گئی تھی ۔ اس موقع پر دارالقلم کے بانی کی قلمی ، فکری اور تنظیمی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے رئیس القلم علامہ ارشد القادری نے اپنے سحر طر از قلم کا جو خراج پیش کیا تھا اسے بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ حضرت علامہ ارشد القادری رقم طراز ہیں:

 بیرون ملک کے طویل سفر سے واپسی کے بعد (حجاز جدید ) مارچ -ا پریل (1991ء) کے مشترک شمارے کا اداریہ پڑھا۔ ہر ماہ حجاز کی زمین پر اپنے خون جگر سے جو نئے نئے گل بوٹے آپ سجاتے ہیں، دیدہ شوق کی آسودگی کے لیے وہی کیا کم تھا کہ   اس بار آپ نے دماغ کی سب سے اونچی سطح پر ایک ایسا گل کھلایا ہے جس کی خوشبو سے جذبہ و احساس ہی نہیں بلکہ کاغذ کا پیرہن تک معطر ہو گیا ہے ۔ اپنے بہت سارے ذیلی شعبوں کے ساتھ دار القلم کے قیام کا اعلان پڑھ کر میں حیران و ششدر رہ گیا ۔ آپ کے متعلق میرا سب سے بلند تصور یہ تھا کہ آپ ایک بہت اچھے صاحب قلم ، ایک فلک پیما مفکر، ایک صاحب طرز ادیب اور جذبات و احساسات کے ایک انقلابی ترجمان ہیں۔ لیکن تازہ اداریہ کے ذریعہ پہلی بار اس حیثیت سے آپ کا تعارف ہوا کہ آپ اہل سنت کے فکری اور علمی و عملی مستقبل کے بہت بڑے منصوبہ ساز بھی ہیں۔ (ماہنامہ حجاز جدید دہلی ، شمارہ ستمبر ۱۹۹۱ء)

 ۱۹۸۸ء میں آپ نے دہلی سے ماہنامہ ”حجاز جدید“ نکالا جو دین و دانش کے اعلیٰ ترجمان کی حیثیت سے نومبر ۱۹۹۲ ء تک جاری رہا۔ قرطاس و قلم کے تعلق سے جماعت اہل سنت کی روایتی بے تو جہی کے نتیجے میں افق صحافت کا یہ آفتاب عین نصف النہار کے وقت غروب ہو گیا، لیکن ڈوبتے ڈوبتے فکر وقلم کی ایسی تابشیں چھوڑ گیا جو ہمیشہ گم گشتگان راہ کے سامنے منزل کی رہنمائی کرتی رہیں گی، نومبر ۱۹۹۸ء سے رضوی کتاب گھر دہلی کے ترجمان ماہنامہ کنز الایمان دہلی کے مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے آپ اسلامی صحافت کی نمائندگی فرما رہے ہیں ۔ پیش نظر صحیفہ ٔفکر و قلم  نقوش فکر آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ماہنامہ حجاز جدید دہلی اور ماہنامہ کنز الایمان دہلی کے لیے لکھے گئے اداریوں کا دل آویز اور فکر انگیز مرقع ہے۔ ہرادار یہ ایک جہانِ دانش ہے۔ احوال و معارف اور حقائق ووقائع کا تجزیاتی دریا ہے، جسے قلم کی ساحری سے کوزے میں بھرا گیا ہے۔ اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ ان تحریروں میں دین و دانش، ادب و ثقافت اور سیاست و صحافت کے ابھرتے ہوئے مسائل کا تجزیہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا تشفی بخش جواب دیا گیا ہے۔ اسلامی مسائل کی واضح اور مؤثر تشریحات ہیں۔ تاریخی حقائق و تجربات کی روشنی میں حال و مستقبل کے خطرات کی نشان وہی ہے۔ امت مسلمہ کے لیے رہنما خطوط عمل ہیں ۔ علماے اہل سنت کی فکری اور تنظیمی صلاحیتوں کو بیدار کیا گیا ہے، بے حسی کو جھنجھوڑتے ہوئے شعور و آگہی کے میدانوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، قلم کی خفتہ صلاحیتوں کو مہمیز لگاتے ہوئے رزم گاہِ حق وباطل میں بار بار دعوت مبارزت دی گئی ہے۔ نئی نسل کو تحریر وصحافت کے آفاق پر کمندیں ڈالنے کے لیے ولولہ و شوق عطا کیا گیا ہے۔

نقوش فکر نہ ایک مربوط اور منظم پروگرام کے تحت لکھی ہوئی مستقل کتاب ہے جس میں کسی ایک موضوع کا احاطہ کیا گیا ہو، اور نہ کسی ایک فکری تسلسل کے تحت لکھے گئے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جس میں کسی ایک دور کے مخصوص مسائل پر گفتگوکی گئی ہو، اور نہ کسی ایسی ادبی نگارشات کا دل آویز گلدستہ ہے جس کی معنویت کا حسن صرف لفظوں کے حسین پیر ہن تک محدود ہو، بلکہ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے گوناگوں مسائل کا ایک تجزیاتی منظر نامہ ہے جسے ایک عالم ربانی اور حساس صحافی نے سردو گرم حالات اور برسوں کے تجربات سے کشید کیا ہے، اور یہ تحریریں دو چار نشستوں کی بحث وفکر کا نتیجہ نہیں بلکہ جیسے جیسے حالات بدلتے رہے ہیں ایک متوازن الفکر صحافی کا قلم ان کا تعاقب کرتا رہا ہے اور ہر نازک موڑ پر ایک درمند مسیحا کی طرح امت مسلمہ کی قومی مسیحائی کا فریضہ انجام دیتا رہا ہے۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ نقوش فکر افکار و موضوعات کا حد نظر تک پھیلا ہوا ایک لالہ زار ہے۔ اور اس لالہ زار کی گل گشت کے لیے جس طرف بھی رخ کر لیجیے، دیدۂ شوق منور ، دل شاد کام اور دماغ معطر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اب ذرا چند لمحے ٹھہر کر ہندوستانی سیاست و صحافت اور مسلمانوں کے پیچیدہ مسائل کے حوالے سے چند عنوانات پر ایک نظر ڈالیے۔ عنوانات کی وسعت و آفاقیت سے آپ حضرت مولانا مصباحی کی فکری بلندی اور سیاسی شعور و آگہی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

  • مسلم قیادت و صحافت کے لئے لمحہ فکریہ
  •  جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی
  • تحریک خلافت سے تحریک بابری مسجد تک
  • ہندوستانی سیاست و صحافت پر ایک نظر
  • بدایوں سے بھاگل پور تک
  • ملک کے بدلتے حالات اور ہماری ذمہ داریاں
  •  آتش چنار اور وادی کشمیر
  •  یونیفارم سول کوڈ کی تیاریاں
  •  اجودھیا اور صوبہ اتر پردیش کے تشویش ناک حالات
  •  سومناتھ سے اجودھیا تک
  • تحفظ عبادت گاہ بل کا خیر مقدم
  • تحفظ بابری مسجد کی سرگرم جد و جہد

یہ ” حجاز جدید“ کے حوالے سے چند عنوانات تھے ، اب ذرا اسی پس منظر میں ”کنز الایمان“ کے چند اداریوں پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیجیے۔

  • وحید الدین خاں اور بندے ماترم
  • عربی مدارس پر سنگھ پریوار کا شب خون
  • عالم اسلام پر امریکی و برطانوی یلغار
  • جن سنگھ سے بھاجپا تک
  • اقتدار میں شرکت اور مفادات میں حصہ داری
  • مسلم قیادت کے نئے دور کا آغاز
  • سپریم کورٹ میں نفقہ مطلقہ کے مقدمات
  • بھاجپا کی شاطرانہ پیش کش اور مسلم رد عمل
  • نصاب تعلیم کی عہد بہ عہد تبدیلی
  • اسلام کے خلاف بین الاقوامی دہشت گردی
  • بابری مسجد کے ڈھانچہ اور ملبہ پر رقص ابلیس
  • طالبان، ہندوستان ، قرآن اور مسلمان
  • ملی اور سیاسی مسائل میں اعتدال کی راہ
  • ہند و پاک مذاکرات ناکام یا نا تمام ؟
  • وزارتی گروپ کی رپورٹ اور مدارس اسلامیہ
  • افغانی کو ہسار امریکی دہشت گردی کا شکار
  • اجودھیا سے گجرات تک
  • گجرات کی گورستان یا تر ا
  • قرآن اور جہاد کے خلاف شرانگیز مہم
  • آزادی کے بعد مسلم سیاسی رجحان اور مسلم قیادت

مفکر اسلام حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی کی ایمانی بصیرت اور سیاسی شعور و آگہی کے یہ چند نقوش ہیں جو کاروان ملت کو منزل بہ منزل حالات سے باخبر کرتے ہوئے دعوت فکر و عمل دے رہے ہیں۔ اسی طرح آپ نے امت مسلمہ کو قدم قدم پر اسلام دشمنوں کی شاطرانہ فریب کاریوں سے آگاہ کیا ہے۔ اور ملی قائدین کے روایتی جمود پر قلم کی ضربیں لگائی ہیں۔ اور ان کے قومی وقار کی بحالی کے لیے متحد و منظم ہونے کی بار بار دعوت دی ہے۔

حجاز جدید دہلی کے پہلے اداریہ کا عنوان تھا ” ہوتا ہے جادہ پیما اب کارواں ہمارا“۔ اس میں فطرت انسانی کی خفتہ صلاحیتوں کو مہمیز کیا گیا ہے ۔ کارگاہ حیات میں انسان کو پر زور انداز میں دعوت فکر و عمل دی گئی ہے کہ انسان جہاں ہو جن حالات سے بھی دو چار ہو اس کا جوش عمل بیدار رہنا چاہیے اور عزم بلند کے ساتھ مسلسل تگ و دو کرنا چاہیے۔ حضرت مصباحی کی تحریر کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

”بیماری ، شباب و کہولت ، امر وز و فردا ،ان سب سے بے فکر و بے نیاز ہو کر کام اور صرف کام کرتے رہنا مرد مومن کی قیمتی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین ہے۔ جس کا کوئی وقت متعین نہیں صبح کا نشاط انگیز اور سہانا وقت ہو کہ شام کے رنگین اور کیف آگیں لمحات ، ہر گھڑی ہر ساعت اپنا کام اور اپنا مقصد پیش نظر ہو، اور اسی کی دھن میں وہ لگا رہے۔ کام کے لیے انفرادیت اور ہر موڑ پر اجتماعیت کی کوئی قید نہیں ، آدمی تنہا ہو یا اس کے ساتھ ایک جماعت اور منظم تحریک ہو، جس حال میں اور جیسے بھی ہو، اس کا سلسلۂ عمل بہر حال جاری رہے۔ کسی ایک جگہ کی بھی کوئی تخصیص نہیں بحروبر کی وسعتیں اس کے لیے جولاں گاہ فکر وعمل ہیں۔“ (حجاز جدید دہلی ، اگست ۱۹۸۸ء)

حجاز جدید کے ایک اداریہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک رخ کی نشان دہی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :

”گذشتہ سارے واقعات و حادثات کا تسلسل دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا بے حد آسان ہے کہ ایک منظم و مربوط سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں اور سرگرمیاں جاری ہیں، جن کا اصل مقصد یہ ہے کہ ان کے اندر نفسیاتی طور پر انتشار، جھنجھلاہٹ اور احتجاج کے مستقل امراض پیدا کر کے انھیں بنیادی اور تعمیری کاموں سے غافل رکھا جائے اور خوف ومرعوبیت اور احساس کمتری کا شکار بنا کر انھیں اپنے آپ کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھنے پر مجبور کر دیا جائے اور ان کے سامنے نت نئے مسائل کے انبار لگا دئے جائیں جن سے وہ نمٹتے اور انھیں سنبھالتے رہ جائیں۔

( ماہنامہ حجاز جدید دہلی ،شمارہ اگست ۱۹۸۸ء)

مصباحی صاحب نے اس اداریہ میں اپنے مدعی کو متعدد مثالوں سے ثابت کرتے ہوئے زعما، صحافیوں، علما اور مسلم دانشوروں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اور بڑے متوازن و سنجیدہ لب ولہجہ میں دعوت عمل دی ہے۔ ذیل میں فکر و بصیرت سے لبریزایک دردمندانہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔

” ایسے پر آشوب اور ہنگامہ خیز دور میں پوری سنجیدگی اور دل جمعی کے ساتھ کرنے کا کام یہ ہے کہ علماے کرام، مشائخ عظام ، زعماے ملت اور دانشوران قوم اشتراکِ عمل کے ساتھ تقسیم کار کی پالیسی اپناتے ہوئے کار پر دازانِ حکومت اور ابناے وطن کے ساتھ مخلصانہ اور ہمدردانہ تبادلۂ خیالات کریں۔ گروہ بندی و جماعت بندی کے غیر ضروری بندھنوں سے آزاد ہو کر اتحادی قوت کا مظاہرہ کریں۔ گہرے علم و مطالعہ اور جامعیت و کمال کے ساتھ متعلق موضوعات پر گفتگو کر کے اپنے موقف کو منوائیں ۔ غیر مفید شور وہنگامہ سے اجتناب کرتے ہوئے صبر وتحمل، نظم وضبط اور تدبر و بیدار مغزی سے کام لے کر اصل مسائل کو سامنے رکھیں، تعلیمی، تہذیبی اور اقتصادی ترقی کی راہ اپنائیں۔ خواص کے ساتھ عوام کے اندر بھی اپنی جڑیں مضبوط رکھیں۔ اور خطابت کے ساتھ قوتِ تحریر کا بھی استعمال کریں ......

 ملت اسلامیۂ ہند کو موجودہ خطابی و قراردادی سیاست کے علاوہ مخلصانہ وجرات مندانہ فکری و عملی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور جذبہ ولگن ، عزم وحوصلہ اور تنظیم ومنصوبہ بندی کی ساتھ جب تک ہم یہ خدمت انجام نہیں دیتے اس وقت تک اپنے قومی وجود کی طرف بڑھتے ہوئے خطرات کے صحیح ادراک و شعور سے گویا ہم ناواقف اور اپنے ملی فرائض سے غافل سمجھے جائیں گے  اور آنے والی تاریخ اس عظیم اجتماعی حادثہ کو اجتماعی خودکشی کے نام سے یاد کرے کی ۔ (ماہنامہ حجاز دہلی ، اگست ۱۹۸۸ء)

حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی اپنے خاص رنگ میں آتے ہیں تو نوک قلم سے لفظوں کا چشمۂ شیریں ابلنے لگتا ہے۔ اور فکرو معنی کی کیف آگیں طغیانی دیکھ کر قاری پر ایک حیرت انگیز وجدانی کیفیت چھا جاتی ہے ۔” آتش چناراور وادی کشمیر“ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

” کشمیر کی برف پوش وادیاں آگ اگل رہی ہیں اور لہلہاتے ہوئے سبزہ زار رفتہ رفتہ شعلۂ جوالہ بنتے جارہے ہیں ۔ امن پسند کشمیری عوام جلوس و احتجاج اور مظاہرہ و ہڑتال کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ حالات سے تنگ آکر منحرف کشمیری نوجوان جان ہتھیلی پر رکھ کر فصیل زنداں سے باہر نکلنے کے لیے بے چین و بے قرار ہورہے ہیں ، اور ان کے ہاتھ اب بندوقوں اور مشین گنوں کے خوگر ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ ان کی زبانوں پر نعرۂ جہاد ہے یا مکمل آزادی کا مطالبہ! اور اب انھیں اپنی عفت ماب ماؤں اور بہنوں سے یہ گزارش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ؂

 ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

(ادار یہ ماہنامہ حجاز جدید دہلی ، اپریل ۱۹۹۰ء)

” نقوش فکر “میں خدمت لوح و قلم کی اہمیت اور دعوت و تبلیغ کے عصری تقاضوں کے حوالے سے بھی گراں قدر تحریریں شامل ہیں۔ چند اداریے گمراہ فرقوں کے رد و انکار اور اہل سنت کے عقائد و معمولات کے اثبات واشاعت کے تعلق سے بھی ہیں ۔ چند اہم شخصیات پر تاثراتی نقوش قلم بھی ہیں ۔ اس طرح یہ صحیفۂ فکرو قلم ایک جہانِ علم و دانش اور امت مسلمہ کا فکر انگیز سیاسی منظر نامہ ہے۔ جو مختلف جہتوں سے اپنے عہد کی ایک سچی شناخت کی حیثیت سے زندہ جاوید رہے گا۔

 مبارک حسین مصباحی

خادم الصحافة والتدريس

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ۔ یوپی

۷ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ/ ۹ جنوری ۲۰۰۳ء

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved