25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9357 Downloads: 753

(2)-علمِ الٰہی قرآنی آیات کی روشنی میں

مولانا حبیب اللہ بیگ

اللہ سمیع وبصیر ہے، علیم وخبیر ہے، علیم بذات الصدور ہے،  علام الغیوب ہے، عالم الغیب والشہادہ ہے،  یعنی وہ قریب وبعید کو سنتا ہے، ظاہر وباطن کو دیکھتا ہے،قلیل وکثیر کو جانتا ہے، دلوں کے احوال سے باخبر ہے، کائنات کے اسرار ورموز سے واقف ہے،اس کا علم ہر شی کو محیط ہے ، اور کائنات کا کوئی ذرہ اس سےمخفی نہیں،فرمایا: 

وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ۔[سورۂ یونس: ۶۱]

 آسمان وزمین کا کوئی ذرہ  تمھارے رب  کے علم سے باہر نہیں۔

علم الٰہی پر سب سے واضح دلیل قرآن ہے،قرآن کریم نے جا بجا علم الٰہی کی وسعتوں  کا ذکر کیا،  بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ذکر کیا،قرآن مقدس  میں علم  باری کے اثبات کے لیےپچاس  سے زائد کلمات  ذکر کیے گئے ، اور کم وبیش  سات سو مقامات پر ذکر گئے، جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کا علم ہر شی کو محیط ہے، اور اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں،قرآن کریم کے جو کلمات صراحت کے ساتھ علم باری پر دلالت کرتے ہیں ان کی اجمالی فہرست یہ ہے: 

*بَصِيْرٌ- ۲۷ مرتبہ    *الْبَصِيْرُ-۴  مرتبہ

*بَصِيْرًا-۱۱  مرتبہ     *حَافِظٌ-۱ مرتبہ

*حٰفِظًا-۱ مرتبہ           *حَفِيْظٌ-۳ مرتبہ

*حَكِيْمٌ-۳۷ مرتبہ     *الْحَكِيْمُ-۳۸ مرتبہ

*حَكِيْمًا-۱۶ مرتبہ     *خَبِيْرٌ-۲۶ مرتبہ

*الْخَبِيْرُ-۶ مرتبہ          *خَبِيْرًا-۱۲ مرتبہ

*الرَّقِيْبَ-۱ مرتبہ     *سَمِعَ-۲مرتبہ

*سَمِيْعٌ- ۲۳مرتبہ     *السَّمِيْعُ- ۱۹ مرتبہ

*سَمِيْعًا-۳ مرتبہ         *الشّٰهِدِيْنَ-۲ مرتبہ

*شَهِيْدٌ-۹ مرتبہ       *شَهِيْدًا-۱۰ مرتبہ

*عَلِيْمٌ-۹۸ مرتبہ         *الْعَلِيْمُ-۳۲ مرتبہ

*عَلِيْمًا-۲۲ مرتبہ     *عالم-۱۳ مرتبہ

*عالمين-۲ مرتبہ     *عَلِمَ-۸ مرتبہ

*عَلِمْتَهٗ--۱ مرتبہ     *عَلِمْنَا-۴ مرتبہ

*يَعْلَمُ-۶۳ مرتبہ      *تَعْلَمُ-۲ مرتبہ

*اَعْلَمُ-۵۰ مرتبہ      *نَعْلَمُ-۶ مرتبہ

*لَنَعْلَمُ-۴ مرتبہ       *نَعْلَمُهُمْ-۱ مرتبہ     

*عَلَّمَ-۳ مرتبہ        *عَلَّمَهٗ-۴ مرتبہ      

*عَلَّمَكَ-۱ مرتبہ       *عَلَّمَكُمْ-۲ مرتبہ

*عَلَّمَنِيْ-۱ مرتبہ      *عَلَّمْنٰهُ-۳ مرتبہ

*عَلَّمْتَنَا-۱ مرتبہ      *عَلَّمْتُكَ-۱ مرتبہ

*لِنُعَلِّمَهٗ-۱ مرتبہ      *عَلَّامُ-۴  مرتبہ

*مُّحِيْطٌ -۴  مرتبہ     *مُحِيْطًا-۲ مرتبہ

*نَبَّاَنِيَ-۱ مرتبہ       *نَبَّاَنَا-۱ مرتبہ

*يُنَبِّئُهُمْ-۶ مرتبہ      *يُنَبِّئُكُمْ -۸مرتبہ

*اَحْصٰى اور اس کےمشتقات-۵مرتبہ

*اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا-۱ مرتبہ

*لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ-۲ مرتبہ

*لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ-۳ مرتبہ

*وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا-۳ مرتبہ

*وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اور اس کے مشابہ-۱۰ مرتبہ

ان کے علاوہ اور بھی کلمات ہیں جنھیں ہم نے طوالت کے پیش نظر چھوڑ دیا ہے، بہر حال جو کلمات ذکر کیے گئے ان  کی مجموعی تعداد ۶۲۴ہے، یہ کلمات  کسی تاویل وتخصیص کی گنجائش نہیں رکھتے، اور  صراحت کے ساتھ اس بات  پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ ہر شی سے با خبر ہے، اور اسےہر وقت ہر ذرے کا تفصیلی علم حاصل ہے، فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔        [سورۂ فاطر:۳۸]

اللہ آسمان و زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، بے شک وہ دلوں کے احوال سے واقف ہے۔

صوفیاے کرام فرماتے ہیں کہ عالم دو ہیں، عالم صغیر، عالم کبیر، انسان کی ذات وصفات، عقائد ومعمولات، جذبات وخیالات، اور صلاحیت ومصروفیات کی دنیا عالم صغیر کہلاتی ہے، آسمان وزمین اود دوسری مخلوقات کی دنیا عالم کبیر کہلاتی ہے، اس آیت مبارکہ میں آسمان وزمین اور خطرات قلب کو ایک ساتھ جمع کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ اللہ ہر شی کو جانتا ہے،انسان اپنے اور دوسروں کے بارے میں جو سوچ بھی نہیں سکتا اللہ اسے ازل سے جانتا ہے، اور واقع کے مطابق جانتا ہے، فرمایا: 

اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ  وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ۔          

[سورۂ ملک:۱۴]

 کیا وہ بھی نہیں جانتا جس نے پیدا کیا، وہ بڑا باریک بیں ہے اور ہر شی سے باخبر ہے۔

ابھی علم باری پر دلالت کرنے والے کلمات کی ایک اجمالی فہرست گزری، اس فہرست کو دیکھ کر کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہی چند کلمات علم باری پر دلالت کرتے ہیں اور بس، نہیں، بلکہ اول تا آخرپورا  قرآن علم باری پر روشن دلیل ہے، اس لیے کہ قرآن علوم ومعارف کا بحر زخار ہے،اور اس کتاب حکمت میں کو جو کچھ بیان کیا گیا سراسر حق وصواب اور  مبنی بر حقیقت ہے،  قرآن کریم میں ذکر کیے گئےواقعات ، سابقہ اقوام کے معمولات، ہدایت یافتہ قوموں پر ہونے والے انعامات، گمراہ قوموں کو در پیش مشکلات، مذاہب عالم کے عقائد ونظریات، اسلامی عقائد و احکامات ، اخلاقی تربیت واصلاح سے متعلق ہدایات، تزکیہ قلب سے متعلق  مواعظ وارشادات، حیات بعد الممات کی تفصیلات،نیز  قیامت، حساب وکتاب اور جنت ودوزخ  کے احوال  بتانے والی آیات کو پڑھنے کے بعد عقل سلیم رکھنے  والا ہر فرد بشر یہی کہے گا کہ یہ جس رب کا کلام  ہے اسے ہر شی کا   تفصیلی علم  حاصل ہے، اور کائنات کا کوئی ذرہ اس کے علم محیط سے باہر نہیں،  اسی لیےفرمایا:

لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ ۚ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ١ ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔     [سورۂ نساء:۱۶۶]

لیکن اللہ اس پر گواہ ہے کہ  اس نے جو آپ کی جانب اتارا اسے علم کے ساتھ اتارا، اور اس پر ملائکہ گواہ ہیں، اور گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔

علاوہ ازیں اگر ذات باری سے  کسی ایک  معمولی ذرے کےعلم کی نفی کی جائے تو اس کے لیے جہل لازم آئے گا، جو کسی حال میں اللہ کے لیے ممکن نہیں، اس لیے کہ جہالت عیب اور نقص ہے، اور اللہ ہر عیب ونقص سے پاک ہے ، لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک ذرہ بھی اس کے علم محیط سے باہر ہو، فرمایا:

وَ مَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ١ ؕ وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔

[سورۂ یونس: ۶۱]

اے نبی! آپ جس حال میں رہتے ہیں اور جو بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اور اے مسلمانو! تم جو بھی کام کرتے ہو ہم تم سے باخبر رہتے ہیں، اور آسمان وزمین کا کوئی ذرہ تمھارے رب سے پوشیدہ نہیں، اور اس ذرے سے چھوٹی یا بڑی ہر چیز  لوح محفوظ میں ہے۔

اللہ وحدہ لاشریک کے علم مطلق کے بارے میں تفصیلی گفتگو سے پہلے اس بات کی  بھی وضاحت ضروری ہے کہ بندوں کے علم کو اللہ کے علم سے کوئی نسبت نہیں، کیوں کہ

۱ – اللہ کا علم ازلی ہے، اور بندوں کا علم حادث ہے، حادث کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے کسی چیز کا علم نہیں ہوتا، بعد میں حاصل ہوتا ہے، جب کہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ازل ہی سے سب کچھ جانتا ہے، اور اس کے علم کو جہالت سے کوئی نسبت نہیں۔

۲ – اللہ کا علم لامتناہی اور غیر محدود ہے، جب کہ بندوں کا علم محدود اور متناہی ہے، ارشاد باری ہے:

وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ۔

    [سورۂ بقرہ:۲۵۵]

وہ اس کے علم سے بس اتنا ہی حاصل کرتے ہیں جتنا وہ چاہتا ہے۔

۳ - اللہ کا علم ہر شی کو محیط ہے، جب کہ بندوں  کا علم ایسا نہیں، فرمایا:

وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا۔[سورۂ اسرا: ۸۵]

تمھیں تھوڑا ہی علم دیا گیا۔                

۴ – اللہ کا علم ذاتی اور قدیم ہے، بندے کا علم کسبی اور حادث ہے۔

۵ – اللہ کا علم اسباب ووسائل اور آلات کا محتاج نہیں، کیوں کہ اللہ کسی شی کا محتاج نہیں،جب کہ بندوں کوعلم حاصل کرنے کے لیے کتاب اور استاد کا سہارا  لیناضروری ہے، اور اس سے پہلے سننے، دیکھنے، پڑھنے اور یاد کرنے کے لیے کان، آنکھ، زبان اور دل ودماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔

۶ – اللہ کے علم میں زوال، نسیان، اشتباہ اور کمی بیشی کی گنجائش نہیں، کیوں کہ یہ حوادث کی صفات ہیں، اور اللہ امکان وحدوث کی صفات سے پاک ہے، اس کے بالمقابل بندوں کے علم میں کمی بیشی ہوتی ہے، اشتباہ اور نسیان ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات بندوں کا علم  سلب بھی ہوجاتا ہے۔

۷ – بندوں کے علم کو اللہ کے علم سے وہی نسبت ہے جو ایک قطرے کو سات سمندر سے ہے، بلکہ اس سے بھی کم، بخاری شریف کی ایک طویل حدیث پاک میں ہے:

وجاء عصفور فوقع على حرف السفينة فنقر في البحر نقرة، فقال له الخضر: ما علمي وعلمك من علم اللہ  إلا مثل ما نقص هذا العصفور من هذا البحر.(امام بخاری، الجامع الصحیح، کتاب التفسیر، حدیث نمبر: ۴۴۴۸)

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام ایک کشتی میں سوار تھے، اسی دوران ایک پرندہ کشتی کے ایک کنارے آکر بیٹھا، اور اس نے سمندر میں اپنی چونچ ڈالی، حضرت خضر نے فرمایا: علم الہٰی کے مقابلے میں ہمارے اور تمھارے علم کی وہی حیثیت ہے جو اس سمندر کے مقابلے میں پرندے کی چونچ میں آنے والے پانی کی ہے۔

یہ تمثیل کے طور پر ہے، ورنہ اس حقیقت سے کسے انکار ہوسکتا ہے کہ بندوں کے علم کو اللہ کے علم سے کوئی نسبت نہیں ہے، بندوں کا علم حادث، عطائی اور محدودہے، اسباب وآلات کا محتاج ہے، تجربات ومشاہدات اور مشق وممارست کی بنیاد پر مستحکم ہوتا ہے، اور غفلت وبے توجہی کے باعث کمزور اور نا قابل اعتبار ہوجاتا ہے، جب کہ اللہ کے علم کی شان ہی نرالی ہے، اللہ کا علم قدیم ہے، ازلی ہے، ذاتی ہے، ہر شی کو محیط ہے، اور کسی بھی طرح کی کمی بیشی، اختلاط والتباس، ذہول ونسیان اور زوال وفنا سے پاک ہے، یہی اسلامی عقیدہ ہے، اور  قرآنی آیات سے اسی عقیدےکی تائید وتوثیق ہوتی ہے، جیساکہ عنقریب آپ دیکھیں گے۔  

قرآن مجید میں علم الٰہی کا ذکر دو طریقے سے کیا گیا ہے، کہیں اجمالاً ذکر کیا اور فرمایاکہ اللہ عالم الغیب ہے، اور اسے آسمان وزمین کی ہر شی کا علم ہے، اور کہیں تفصیلاً ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ آسمان وزمین کی تہوں میں چھپی ہر چیز کو جانتا ہے، اور وہ ماضی کے واقعات، مستقبل کے احوال، کائنات کے اسرار ورموز اور بندوں کے دلوں میں گزرنے والے خیالات سے بھی واقف ہے۔

قرآن کریم میں علم باری کا تفصیلی ذکرنے والی آیتوں کی ایک لمبی فہرست ہے، اسی لیے ہم  یہاں ان میں سے چند آیات کا انتخاب کریں گے، اور انھیں مختلف موضوعات کے تحت تقسیم کریں گے، پھرہر ایک کی مختصراور اطمینان بخش توضیح کریں گے، امید ہے کہ  اس طرح علم الہٰی کے سلسلے میں قرآنی تعلیمات کا خلاصہ ہمارے قارئین کے ذہنوں میں بآسانی محفوظ ہوجاے گا۔  

۱ - اللہ کے پاس خزانۂ غیب کی کنجیاں ہیں

اللہ وحدہ لاشریک کو ہر خشک وتر کا علم ہے، فرمایا:

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۰۰۵۹ وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَؒ۰۰۶۰ ۔                  [سورۂ انعام: ۵۹-۶۰]

اللہ کے پاس  غیب کی کنجیاں ہیں،  جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، خشکی اور سمندر  میں جو کچھ ہےاسے وہ جانتا ہے،  جو  بھی پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں جو دانہ چھپاہے، اور جو کچھ خشک وتر میں ہے سب ایک  روشن کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ وہی ہے جو رات  میں تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے، اور جو تم  نے دن میں کیا اسے جانتا ہے،  پھر دن میں تمھیں اٹھاتا ہے ، تاکہ مقررہ مدت پوری ہوجائے،  پھر اسی کے حضور  تمھاری واپسی ہوگی، تو وہ تمھیں بتائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔                                          (جاری)

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved