23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 51081 Downloads: 2893

(5)-الحاد کی بڑھتی ہوئی رفتار ایک واہمہ

ایک بات جسے بار بار ملحدین کی جانب سے تحریر و تقریر کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارم سے بار بار دہرایا جاتا ہے یہ ہے کہ انسان آج جب کہ اپنی قوت تخلیق سے آگاہ ہوا ہے اور نئے دور کی ایجادات نے اسے خدا کا وجود ماننے سے بے نیاز کرتے ہوئے اپنی ذات پر انحصار اور اپنی صلاحیت پر اعتماد بخشا ہے؛ ایسے میں مذہب کے نام پر کھڑی کی گئی وہ تمام دیواریں منہدم ہوتی جا رہی ہیں جو انسان کو مخصوص معتقدات، اعمال اور اخلاقیات کا پابند کرتی تھیں۔ جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے وہ الحاد کی معقولیت کا قائل ہو کر یا الحاد کی معقول توجیہات سے متاثر ہو کر مذہب کا دامن چھوڑتا جا رہا ہے۔یہ بات مسلسل دہرائی جا رہی ہے کہ الحاد اپنی نوعیت میں بہت معقول (Rational)، مذہب کا بہتر متبادل اور انسان کے لیے تسکین کا باعث ہونے کی وجہ سے مسلسل اپنا دائرہ وسیع کر رہا ہے اور انسان زیادہ سے زیادہ تعداد میں الحاد کی طرف مائل ہو کر اسے قبول کر رہے ہیں۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملحدین یا ان کے معاونین کے اِس قسم کے دعووں میں کس حد تک سچائی ہے؟ کیا واقعی الحاد کی معقولیت نے دنیا کی بڑی آبادی کو اپنے سحر میں لے کر مذہب سے بے نیاری کا خواب دکھایا ہے؟ یا پھر یہ ایک قسم کا واہمہ(Delusion) ہے جسے مسلسل ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کے ذہن میں ڈال کر انہیں مرعوب کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اپنی مذہبی اہمیت کا اندازہ نہ لگا سکیں اور ایک خاص قسم کے پروپیگینڈا کا شکار ہو کر الحاد کو بطور معقول نظریہ نہیں تو فیشن سمجھ کر ہی قبول کر لیں؟

  اِس سلسلے میں موجودہ حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں الحاد کے بڑھنے میں اس کی معقولیت سے زیادہ اس کے فریب کا دخل ہے۔ بلکہ سرے سے جدید الحاد کی تحریک میں معقولیت ہے ہی نہیں، صرف خواہشات کی پیروی پر ابھارنے اور تشہیری پروگینڈوں پر جدید الحاد کی یہ پوری عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ آج کے انسان کو اس کی نجی مصروفیات میں قید کر کے کسی بھی قسم کی حقیقی معلومات سے آشنا ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ ایسے میں جو کچھ بھی تشہیری مہم کے ذریعے اسے باور کرا دیا جائے وہی وہ مانتا چلا جاتا ہے۔ اسے اصطلاحی زبان میں Mind Programming کہتے ہیں۔

مائنڈ پروگرامنگ اور زمینی حقیقت:

  ایسی کسی بھی مائنڈ پروگرامنگ سے ہٹ کر زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو ملحدین کے Rational افکار کے سبب مقبول ہونے کے سارے بلند بانگ دعووں کا کھوکھلا پن اور ان کی سطحیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ 2001ء میں شروع ہونے والی جدید الحاد کی تحریک کا صرف پانچ سال کے اندر اندر کیا حشر ہوا اس کا اندازہ ڈیوڈ ولسن کے درج ذیل تبصرہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ڈیوڈ ولسن خود ایک الحاد زدہ ارتقائی نظریہ کے حامیوں میں شمار کی جانے والی شخصیت ہے۔

6 نومبر 2015 ء کو New Republic نے ’’ Is the New Atheism dead?‘‘کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا ہے۔ جس میں David Sloan Wilson نے لکھا ہے:

"The world appears to be tiring of the New Atheism movement، which burst upon the scene about five years ago"

’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا جدید الحاد کی تحریک سے عاجز آ چکی ہے، جو تقریباً پانچ سال قبل منظر عام پر آئی تھی۔‘‘

ڈیوڈ کی پوری عبارت یوں ہے:

The world appears to be tiring of the New Atheism movement، which burst upon the scene about five years ago with the so-called Four Horsemen: Sam Harris، Richard Dawkins، Daniel Dennett، and the late Christopher Hitchens. [David Wilson]

بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خود وِلسن نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ عقلیت کے نام پر بپا کی گئی جدید الحاد کی یہ ساری چمک دمک ایک خام خیالی سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ جدید الحاد کے پاس چند مفروضوں کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں جسے معقول کہہ کر کسی کو اس کی طرف دعوت دی جا سکے۔لہٰذا معقولیت کی وجہ سے الحاد کا دائرہ وسیع ہونا یہ ایک فریب ہے۔ وِلسن نے اسی مقالے میں مزید لکھا ہے:

How about the new atheism of our day? I wish I could report otherwise، but it has all the hallmarks of a stealth religion، including a polarized belief system that represents everything as good، good، good or bad، bad، bad، the unquestioned authority of its leaders، and even the portrayal of bad ideas as like demons (parasitic memes) that need to be cast out (“breaking the spell”).

[David Wilson]

’’آج کے جدید الحاد کی کیا حالت ہے؟ کاش! میں کچھ اور کہہ سکتا! مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا کا سارا جدید الحاد کا ڈھکوسلہ مذہب کی نقل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ایک ایسا بگڑا ہوا نظریاتی نظام جس میں ایک طرف سب کچھ اچھا اچھا اور اچھا ہے جب کہ دوسری طرف سب کچھ برا برا اور برا ہے۔ ان کے لیڈرز کا کسی کو جواب دہ نہ ہونا اور ان کے بچکانہ شیطانی منصوبے ایسے ہیں جنہیں اٹھا کر پھینک دینا چاہیے۔‘‘

یہ تو 21ویں صدی کے شروع میں دھوم دھام سے شروع کی گئی جدید الحاد کی تحریک کی صرف ابتدائی ناکامی کا حال تھا۔ اب ذرا مزید پانچ سال یعنی کہ ایک دہائی بعد کی صورت حال جیمس ووڈ کی زبانی سنیے اور سوچیے کہ زور و شور سے جس جدید الحاد کا آغاز ہوا تھا اور میڈیا جس کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کے راگ الاپتے نہیں تھکتا، فروغِ الحاد کا وہ منصوبہ اپنی غیر معقولیت اور انسانی فطرت سے متصادم ہونے کے سبب ایک دہائی میں کہاں جا پہنچا اور اتنی مختصر سی مدت میں عقلیت کا سارا شور کیسے سرد پڑ گیا۔ جیمس نے اپنے مقالے The modern novel and the New Atheismمیں لکھا ہے:

Now that almost a decade has passed since the events of 9/11، and the New Atheism has had time to establish itself as more than simply reactive، some of its intellectual and theological weaknesses have become more clearly apparent. (James wood )

’’آج جب کہ 9/11 کے واقعے کو تقریاً ایک دہائی کا وقت گزر چکا ہے اور جدید الحاد نے اتنا وقت بھی پا لیا ہے جتنے میں عام طور پر کوئی بھی نظریہ اپنے آپ کو مستحکم کر لیتا ہے۔ اتنے عرصے میں جدید الحاد کی بہت سی عقلی اور نظریاتی(فلسفیانہ) کمزوریاں واضح طور پر سامنے آ چکی ہیں۔‘‘

یعنی مذہب کے خلاف عقلیت کے نام پر شروع کیے جانے والا جدید الحاد کا پروگرام دس سال کے عرصے میں ایسا Expose ہوا کہ اس کی معقولیت کی ساری مٹی پلید ہو گئی اور خود عقلیت زدہ روشن خیال لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ الحاد؛ احمقوں کی ایک فکری جنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اسی ضمن میں لیڈن کے فلسفیاتی ادارے (Leiden institute for Philosophy) کے لکچرار تھامس ویلس کی ایک بات بھی ملاحظہ کرتے چلیے۔ تھامس نے اپنے مقالے Why I am not Atheist? میں لکھا ہے:

The fundamental problem with all this is that the New Atheists have failed to break the intellectual chains of religion and haven't even realised it.) Why I am Not an Atheist by Thomas Wells(

’’اس سب کے ساتھ سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ جدید ملحدین مذہب کی معقولیت کا سلسلہ توڑنے میں ناکام رہے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ انہیں اپنی ناکامی کا احساس بھی نہیں ہے۔‘‘

ملحدین عقلیت کی بنیاد پر اپنا نظریہ پھیلانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اِس فریب کے بادل؛ مذکورہ دلائل کی تیز ہوا سے چھٹ چکے ہیں اور مذہب کی معقولیت کا آسمان صاف نظر آنے لگا ہے۔ اب ذرا ایک اور مکر کا جالا صاف کرتے ہیں۔ اپنی معقولیت کے علاوہ دوسری صفت جس پر ملحدین کو بڑا مان ہے وہ ہے الحاد کا متبادل ہونا یعنی کہ الحاد مذہب کا متبادل ہے۔ ان کے خیال میں جدید دور کا انسان مذہب کو چھوڑنے کے بعد اپنی زندگی الحاد کے سائے میں اطمنان سے گزار سکتا ہے۔ معقولیت کی حقیقت تو اوپر کھل چکی، اب ذرا متبادل ہونے کے زعم کی سطحیت بھی دیکھ لیجیے۔

سائنس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے آسٹریلیا کے مشہور صحافی ٹیم ڈن نے اپنے مقالے God is Dead Now What? میں لکھا ہے:

Abandoning religion، even with good cause، is not to be done lightly. So with what to replace it? Atheism? Unfortunately، Atheism is fundamentally a negative thesis: it simply states that there is no God or gods. Atheism doesn't make any positive claims about how to live one's life، except to say that to do so under the impression there's a God is to live in error. (God is dead now what by Team dean)

’’مذہب کا انکار کرنا، اگر چہ اچھا بہانہ تراش کر کیا جائے، اتنا آسان نہیں ہے۔ کیوں کہ سوال یہ ہے کہ آپ مذہب کے متبادل کے طور پر کیا پیش کریں گے؟ الحاد؟ بدقسمتی سے الحاد ایک منفی نظریہ ہے۔ جو سادہ سے انداز میں یہ بتاتا ہے کہ کوئی خدا یا ماورائی طاقت نہیں ہے۔ الحاد کوئی ایسا مثبت پہلو نہیں رکھتا جو یہ بتاتا ہو کہ ایک فرد کو اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ خدا کے وجود کو مان کر گزاری جانے والی زندگی غلط ہے۔(مگر صحیح زندگی کیسے گزارنی ہے اس کا کوئی جواب الحاد کے پاس نہیں)‘‘

  ٹیم ڈن نے مزید لکھا ہے:

Even if the so-called "New Atheists" are right، and all that's left of God is a chalk outline، that's far from the end of the story. Sadly، religion can't simply be surgically extracted from our lives، our culture and our society that easily. God's absence leaves a sizable void that needs to be filled by something. And atheism isn't it.

’’فرض بھی کر لیا جائے کہ نام نہاد جدید ملحدین کی بات ٹھیک ہے اور خدا کے ہاتھ خالی ہیں تب بھی بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مذہب کو آسانی سے دھکے مار کر ہماری زندگیوں سے نہیں نکالا جا سکتا، نہ ہی ہماری تہذیب سے، نہ ہی ہمارے معاشرے سے۔ خدا کی غیر حاضری (اس کے وجود کا انکار)ہمارے لیے ایک ایسا خلا پیدا کر دے گی جس کو پر کرنا لازم ہوگا۔ اور سچ یہ ہے کہ الحاد میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ اس خلا کو پر کر سکے۔‘‘

’’الحاد ایک معقول نظریہ ہے اور وہ مذہب کا متبادل بن سکتا ہے، اسی لیے الحاد کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے‘‘ یہ بات کتنی سچ ہے اور کتنی جھوٹ یہ آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔دونوں جہت سے قلعی کھل جانے کے بعد بھی اگر کوئی ملحد یہ سوچ کر خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ ہم نے انسانوں کو الحاد کے ذریعے ایک پر سکون زندگی دی ہے جس میں انسان ذہنی و قلبی بے چینی سے نجات پا لیتا ہے۔ اسی سکون کی طلب میں نئی دنیا کا انسان الحاد کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ تو جان لینا چاہیے کہ یہ خالص خوش فہمی ہے جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر بھی تسکینِ قلبِ ملحد کے لیے ذرا اِس خوش فہمی کا بھی نقاب ہٹاتے ہیں اور الحاد کے چہرے پر ایک اور بدنما داغ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیمبرج سے وابستہ سماجی مسائل پر کام کرنے والے فل زکرمین نے اپنے ایک سروے کی رپورٹ میں لکھا ہے:

In a global study on atheism، sociologist Phil Zuckerman noted that though there are positive correlations with societal health in many countries where the atheist population is significantly high، countries with higher number of atheists also had the highest suicide rates compared to countries with lower numbers of atheists.{Zuckerman، Phil (2007). Martin، Michael (ed.). The Cambridge Companion to Atheism. Cambridge Univ. Press. pp. 58}

’’الحاد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ میں سماج وادی فل زکرمین نے واضح کیا ہے کہ بہت سے وہ ممالک جہاں ملحدین کی تعداد زیادہ مقدار میں ہے وہاں اگر چہ سماجی زندگی کا معیار بلند ہے ، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جن ممالک میں ملحدین کی تعداد زیادہ ہے وہاں ان ممالک کی بنسبت جہاں ملحدین کی تعداد کم ہے، خود کشی کا گراف بھی کافی اونچا ہے۔‘‘

بات بالکل واضح ہو گئی کہ جیسے الحاد معقولیت سے خالی اور متبادل بننے کی صلاحیت سے عاری ہے ایسےہی الحاد کے ذریعے ذہنی و قلبی سکون کے ساتھ اطمینان بخش زندگی ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ مذکورہ پوری گفتگو سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ الحاد نہ تو اپنی معقولیت کی بنیاد پر اپنا دائرہ پھیلا رہا ہے، نہ ہی متبادل کی حیثیت سے اسے قبولیت حاصل ہو رہی ہے، نہ ہی اس میں انسانی زندگی کے اطمینان کا کوئی سامان موجود ہے۔ جب یہ تینوں وجہیں باطل ہو گئیں تو ظاہر ہو گیا جو کچھ مائنڈ پروگرامنگ کے راستے سے الحاد کے بڑھتے ہوئے خناس کا ڈر دکھایا جاتا ہے وہ ایک فریب، ایک دھوکہ، ایک آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات اور ایک بے بنیاد واہمہ ہے۔

اب آئیے! ذرا یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ مذہب کو مات دے دینے یا معاشرے سے نکال دینے یا اس کے بغیر انسانی زندگی کو اعتدال کے ساتھ چلانے جیسے جتنے بھی خیالات ملحدین کے ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر جو یہ دعوے ہو رہے ہیں کہ اب مذہب کا تو خدا حافظ اب انسان نے الحاد کو چن کر خدا کی موت کا اعلان کر دیا ہے اور اپنی دنیا میں اپنی جنت آپ تعمیر کرنے  کا فیصلہ کرتے ہوئے خدا کی ضرورت کا انکار کر دیا ہے۔ یوں مذہب اور الحاد کی جنگ میں الحاد غالب آ رہا ہے اور مذہب پسپا ہوتا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اعلان مذہبی افراد کے لیے تکلیف دہ ہے اور ملحدین اسے سن کر پھولے نہیں سماتے۔ مگر اس اعلان میں کتنا دم خم ہے اور زمینی سطح پر کیا امکانات اور اندیشے ہیں ان کے بارے میں مشہور ایگنوسٹک(Agnostic) جون گرے کا ایک اقتباس ہی پڑھ لیجیے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ The Gaurdian نے 3 مارچ 2015ء کو مقالہ شائع کیا ہے۔ جس میں John Grey نے What scares the new atheist? کے عنوان کے تحت کہا ہے:

There is no sign anywhere of religion fading away، but by no means all atheists have thought the disappearance of religion possible or desirable.)What scares the new atheists by John Gray Tue 3 Mar 2015 06.00 GMT (The Gaurdian)

’’اس بات کی کوئی علامت نہیں نظر آ رہی کہ مذہب اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ مگر تمام ملحدین بلا وجہ ہی یہ گمان لیے ہوئے ہیں کہ مذہب کا ختم ہو جانا ممکن ہے یا مطلوب ہے۔‘‘

Team Dean نے زیادہ واضح الفاظ میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ

Religion is more than just a vehicle of worship. Religion is one of the pillars of our society. Religion is a glue that binds a community together. It's a support network that lifts you when you're down. It's a centre of education، a hub of culture، a place where we're encouraged to consider things greater than our own petty concerns. {God is dead now what?}

’’مذہب محض صرف ایک عبادت کی گاڑی نہیں ہے۔ مذہب ہمارے سماج کا ایک ستون ہے۔ مذہب ایک گوند ہے جس سے معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہ ایک دستگیری کا نظام جو آپ کو اس وقت اٹھاتا ہے جب آپ گر چکے ہوتے ہیں۔ یہ ایک تعلیم کا مرکز، ایک تہذیب کا گہوارہ اور ایک ایسا مقام ہے جہاں ہم معاملات کو ذاتی خدشات سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔‘‘

نمبر گیم اور زمینی حقیقت:

اِس سب کے بعد مرحلہ آتا ہے اُس نمبر گیم(Number Game) کا جس کے ذریعے الحاد کے گراف کو مسلسل اوپر کی طرف جاتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ اگر الحاد غیر معقول، تبادلہ کے لیے نااہل اور اطمینان سے خالی ہے تو آخر دنیا بھر کی رپورٹز اور جدا جدا سروے میں؛ دن بہ دن ملحدین کی تعداد میں جو اضافہ دکھایا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ سوال اہم ضرور ہے مگر زیادہ مشکل نہیں۔ الحاد نے جب تینوں محاذ پر اپنے آپ کو پسپا ہوتے دیکھا تو اخیر میں نمبر گیم جیتنے کے لیے ایک خاص حربہ استعمال کیا۔ وہ حربہ یہ ہے کہ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے الحاد کے آقاؤوں نے سرے سے الحاد کی تعریف ہی بدل دی۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ جب ملحدین نے دیکھا کہ الحاد کی عام تعریف یعنی کہ مطلقاً خدا کے انکار کو معیار بنایا جائے تو بہت کم لوگ اس کے زمرے میں آئیں گے اور کم ہی لوگ ہوں گے جو ایسی دعوت کو قبول کر کے اپنے مذہب سے بیزاری کا اعلان کریں گے۔ ایسے میں دنیا کو یہ باور کرانا بہت مشکل ہوگا کہ الحاد چوں کہ عقل پر مبنی ہے لہٰذا اس کا دائرہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور اب ہر عقلمند کو مذہب چھوڑ کر الحاد کی طرف آ جانا چاہیے۔

اس مشکل سے نجات کی راہ یہ نکالی گئی کہ الحاد کی تعریف میں تبدیلی کر دی جائے۔ پہلے کہا گیا تھا ’’Believing there is no God‘‘ یہ الحاد ہے۔ پھر تعریف بدل کر یوں کر دی گئی کہ ’’Lack of belief‘‘ کا نام الحاد ہے۔ یعنی خدا کے انکار سے شروع کیا جانے والا الحاد کا پروپیگینڈا اپنی ناکامی کے سبب مذہبیات میں کسی قسم کے ادنیٰ شبہ پر آ کر رکا۔ پہلے خدا کو نہ ماننا الحاد تھا اب مذہب کے کسی ایک مسئلے میں شک پیدا ہونا بھی الحاد ٹھہرا۔ بالفاظ دیگر شروعات میں تو مطلقاً انکار خدا کا نام الحاد تھا مگر اب محض ضعف اعتقاد کو الحاد مان لیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کا دوہرا فائدہ ہوا۔ ایک طرف تو ملحدین کی تعداد کے نام پر بڑے نمبر سامنے لانے میں سہولت ہو گئی جسے دکھا کر عام آدمی کو مرعوب کیا جا سکے اور دوسری طرف یہ حقیقت چھپانے میں بھی آسانی ہو گئی کہ الحاد اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عام آدمی کو متاثر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اِس ساری صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرینک لکھتے ہیں:

If lacking a belief in God is the definition of “atheism”and not “there is no God”—then “atheism” is true even if God really exists. How is that reasonable? If not “atheism،” what word should we use for the belief that there is no God? (Stealing from God by Frank turek)

’’اگر محض خدا پر یقین میں کمزوری ہونا یہی الحاد ہے، خدا کے وجود کا انکار یہ الحاد کی تعریف نہیں، تو ایسی صورت میں تو الحاد کا اطلاق درست ہوگا خدا کا وجود ماننے کے باوجود بھی۔ اور یہ کتنی بڑی احمقانہ بات ہے؟ اگر یقین میں کمزوری کا نام ہی الحاد ہے تو پھر ہم خدا کے انکار کو کیا نام دیں گے؟‘‘

کیا یہ حقیقت نہیں؟؟؟

یہاں ایک شبہ ذہن میں آ سکتا ہے کہ پچھلی دو دہائیوں سے ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو دین کے حوالے سے شک میں مبتلا ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں ایسے لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جو کھل کر اپنے ملحد ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ خود مسلمانوں میں بھی طارق فتح سے لے کر جاوید اختر اور ابن الوراق تک یعنی کہ برصغیر سے لے کر عرب دنیا تک؛ ہر جگہ ایسے لوگ سامنے آئے ہیں جو دین سے بے زاری کا اعلان کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔ لہٰذا سرے سے الحاد کے بڑھتے ہوئے اثر کا انکار کر دینا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کل کے مقابلے میں آج الحاد کے قدم ہمارے یہاں بھی زیادہ مضبوطی سے جمتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی طور پر الحاد کی طرف انجانے ہی میں سہی مگر مائل ضرور ہے؟

اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ ہمیں اس بات کا انکار نہیں کہ الحاد اپنے پاؤوں پسار رہا ہے اور مسلم دنیا بھی اس سے محفوظ نہیں۔ ہم تو مذکورہ بالا سطور میں یہ باور کرا رہے ہیں کہ جس تیز رفتاری کا ڈھونگ کر کے ملحدین اپنا قد بڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کی زمینی حقیقت عشر عشیر کے برابر بھی نہیں۔ رہی یہ بات کہ کل کے تناسب میں آج ایسے الحاد زدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے تو بلا شبہ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اپنے اسباب ہیں، جن میں الحاد کے معقول ہونے، متابدل ہونے یا اطمینان بخش ہونے کا کوئی دخل نہیں۔

در اصل مسلم معاشرے میں ایک طبقے پر الحاد کا رنگ چڑھنے میں کئی ایک عناصر کار فرما ہیں جن کا محرک خارجی کم اور داخلی زیادہ ہے۔ یعنی ہماری نظریاتی ساخت کا جتنا نقصان الحاد کے داعی ’’دانا دشمنوں‘‘ نے نہیں کیا  ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان نام نہاد اسلام کے مدعی ’’نادان دوستوں‘‘ نے کیا ہے۔ خارجی محرکات تو تقریباً وہی ہیں جس کا شکار ہر مذہب کی نئی نسل ہو رہی ہے۔ یعنی فلموں، ڈراموں، ماہانہ فحش رسالوں،  خواہش نفس کو بھڑکانے والے ناولوں اور دنیا بھر کے ابلاغی سسٹم کے ذریعے انڈیلا جا رہا  وہ غلیظ فکری مواد جس کا دائرہ گھریلو انتشار پر مشتمل سیریَلز سے لے کر عریاں فلموں تک پھیلا ہوا ہے۔ جہاں تک مسلم معاشرے میں بڑھتے ہوئے الحاد کے داخلی محرکات کا سوال ہے تو ان کو اسباب کی درج ذیل فہرست سے کسی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔

  1. اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بے خبری۔ اس طور پر کہ علم دین سیکھنے کی عمر(6 سے 20 سال تک) ساری عصری تعلیم کے حصول میں گزر جاتی ہے اور دین کے نام پر وہ صرف دیکھ کر عربی زبان پڑھنا سیکھ لیتا ہے۔ آخر کار آدھی عمر کو پہنچنے کے باوجود وہ اپنی زندگی اور اپنے گرد کی کائنات سے متعلق اسلامی نظریات سے، اتنا ہی بے خبر ہوتا ہے جتنا کہ پیدائش کے وقت تھا۔
  2. دین کی تعلیم لاشعور کی عمر میں اجنبی ز بان میں محض دیکھ کر پڑھنے حد تک حاصل کرنا اور جب شعور کی عمر میں زندگی جینے کا طریقہ سیکھنے کی باری آئے تو مانوس زبان میں شعوری طور پر الحاد کے لٹریچر کا سہارا لینا۔ اسلام سے ناواقف خالی ذہن چوں کہ نفسانی خواہشات سے گھرا ہوتا ہے اور الحاد چوں کہ ایسی خواہشات کی بے جا تکمیل کی حسین راہ ہے، اس لیے وہ بہت جلد اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔
  3. علماے اسلام سے دوری و تنفر۔ دین کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف ہونے کے باوجود امید کی ایک کرن جو دین کے ساتھ قلبی لگاؤ کا ذریعہ ہوتی ہے وہ ہے دین جاننے والے لوگوں سے رابطہ۔ کم نصیبی سے آج کی نسل کا تعلق علمائے ربانیین کے ساتھ نا کے برابر رہ گیا ہے۔
  4. دین سے جہالت کے سبب چند رسمی امور کو مکمل دین کا خلاصہ یا مقصد سمجھنا۔ مثلاً عبادات کو زندگی سے الگ کوئی مخصوص یا ماورا رسمی عمل جاننا۔ اسی طرح چند ثانوی، نفل یا مستحب درجے کے امور کو انجام دے کر دین کا حق ادا کر دینے کی سوچ کے ساتھ زندگی کے باقی تمام معاشی، معاشرتی، سیاسی و اخلاقی معاملات کو نجی زندگی کے طورپر یا موجودہ عالمی نظام کے مطابق گزارنے میں خوش رہنا بلکہ اس پر فخر محسوس کرنا۔
  5. دین کو نظام حیات اور اپنی زندگی کے  ہر لمحہ کے لیے کار آمد نہ سمجھنا بلکہ یہود و ہنود کی طرح محض مسلمان دِکھنے کی کوشش کرنا۔
  6. جدیدیت کے لبادے میں پیش کیے جانے والے مخصوص قسم کے مسائل کو دین سمجھنا۔ یہ سبب خاص طور پر مسلمانوں کے امیر طبقے سے متعلق ہے۔ وہ اپنی تمام تر ماڈرن مصروفیات اور بے لگام خواہشات پر دین کا لیبل لگ جانے ہی کو کامیابی سمجھتے ہیں اگر چہ بتانے والے نے اسلام کی روح اور اس کی اساس کے خلاف ہی راہ نکالی ہو۔
  7. جدید سائنسی تعلیم میں تھوڑا سا درک پیدا ہو جانے پر مادیت ہی کو سب کچھ سمجھ لینا اور روحانیت سے منہ موڑ لینا۔ پھر محض دنیاوی تعلیم کے باوجود اپنی ہمہ دانی کے زعم میں دین کے حوالے سے بے تکی رائے دینا۔
  8. دین کے علم سے بے خبر مولویوں اور دین پر عمل سے بے تعلق صوفیوں کا مسلم معاشرے پر غلبہ پا لینا۔ نتیجۃً ان کے ماننے والوں کا اسلام کی حقیقی تعلیمات سے محروم رہتے ہوئے اپنی فکری ساخت کو جہالت کے نام کر دینا۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب پر بیٹھے چند سر پھرے نوجوان یا بے روزگار ایکٹوسٹ مذہبی رہنما کے طور پر مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔
  9. اسلام کی طرف سے لازم کردہ معاشرتی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنا اور جب اس کا وبال سامنے آئے تو اپنا جرم چھپانے کے لیے اپنے دین یا اس کی نمائندگی کرنے والے علمائے ربانیین کو کوسنا۔
  10. بچوں کی اسلامی تربیت کا فقدان۔والدین کا خود دین سے غافل و جاہل ہونا اور بچوں کی دینداری کے لیے بھی کوئی فکر نہ کرنا بلکہ انہیں ٹیلی ویژن یا موبائل کے حوالے کر کے اپنی نجی زندگی میں مصروف ہو جانا۔
  11. حقوق اللہ اور حقوق العباد کے دینی تصور سے بے خبر ہو کر محض انسانیت نوازی یا ہیومنزم کا راگ الاپنا۔ بالفاظ دیگر تمام تر برائیاں بحیثیت مسلمان کرنا اور سارے اچھے کام انسانیت کے نام پر کرنا یعنی بدی اسلام کے کھاتے میں اور نیکی ہیومنزم کے کھاتے میں ڈالنا۔

اسباب کی اِس مختصر فہرست کو سامنے رکھ کر الحاد کا چور دروازہ بند کرنے کے لیے کچھ عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، اہل اسلام کا ہر طبقہ اپنے طور پر اپنے اپنے حصہ کا کام کرے تو بہت آسانی سے فتنہ الحاد کا مقابلہ بلکہ خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔***

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved