20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Sept 2023 Download:Click Here Views: 5949 Downloads: 925

(2)-علمِ الٰہی: قرآنی آیات کی روشنی میں

 

چوتھی قسط

مولانا حبیب اللہ بیگ اہری

۴ - اللہ کو بندوں کے احوال کا علم ہے۔

اللہ اپنے بندوں کے احوال سے با خبر ہے، وہ اپنے بندوں کے دلوں میں چھپے ایمان وکفر، توحید وشرک، اخلاص ونفاق، اور تقوی و فسق کو جانتا ہے، لہٰذا کوئی بھی شخص تصنع اور ریا کاری کے ذریعے اللہ کو فریب نہیں دے سکتا، قرآن کریم نے بندگان خدا کو مختلف طبقات میں  تقسیم کیا،اورفرمایا کہ اللہ انھیں دیکھ رہا  ہے، اور ان کے کرتوتوں سے باخبرہے، قرآن کریم کے مطابق عقائد واعمال کے اعتبار سے انسانوں کو چھ خانوں کو تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱ – گمراہ۔ ہدایت یافتہ۔ ۳ –سرکش۔ ۴ – ظالم۔ ۵- مفسد۔ ۶- جہنمی۔

۱ / ۲- گمراہ اور ہدایت یافتہ طبقے کے بارے میں فرمایا:

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۔ [ سورۂ نحل:۱۲۵]

بے شک تمھارا رب ان کو بھی جانتا ہے جو راہ راست سے بھٹک گئے، اوران کو بھی جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں۔

۳ – سرکش لوگوں کے بارے میں فرمایا: اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ۔ [سورۂ انعام:۱۱۹]

بے شک تمھارا  رب سرکشی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ 

۴ – ظالموں کے بارے میں فرمایا: وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِيْنَ۔[سورۂ انعام:۵۸]

 اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۵ – فساد مچانے والوں کے بارے میں فرمایا: وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ۔[سورۂ یونس:۴۰]

 اور تمھارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔

۶– جہنم کے حق داد لوگوں کے بارے میں فرمایا: ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا۔[سورۂ مریم:۷۰]

 پھر ہم انھیں اچھی طرح جانتے ہیں جو جہنم میں داخلے کے زیادہ حق دار ہیں۔

ان آیات مبارکہ میں بنی نوع انسان کو ان کے اعمال کے اعتبار سے مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا،اورہر ایک طبقے کو اس بات کی تنبیہ کی گئی کہ ہم تمھیں اچھی طرح جانتے ہیں،تمھارے اعمال وافعال سے باخبر ہیں، لہٰذا یہ ہرگز مت سمجھو کہ خلائق کی بھیڑ میں تمھارا کوئی بھی عقیدہ  یا عمل ہم سے پوشیدہ  رہ  جائےگا، نہیں ہرگز نہیں،اللہ ہر خشک وتر کو جانتا ہے، لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ ہماری دی ہوئی مہلت کو غنیمت جانتے ہوئے  اپنے عقائد واعمال کی اصلاح کرو، اور ہماری کی طرف رجوع لاؤ۔ 

 ۵ -اللہ رب العزت خطرات قلب سے واقف ہے

دنیا ظاہر بیں اور ظاہر پرست ہے، اسی لیے وہ ظاہر پر یقین رکھتی ہے، ظاہر حال کے مطابق فیصلے کرتی ہے،  اور اسی اعتبار سے مراتب کا تعین کرتی ہے،لیکن اللہ کی بارگاہ میں ظاہر سے زیادہ باطن کی اہمیت ہے، اسی لیے اس نے ایمان بالغیب کو لازم کیا، اعمال کی قبولیت کا دار ومدار حسن نیت اور اخلاص پر رکھا،اصلاح باطن اور تزکیہ نفس کو ضروری قرار دیا، جس کے بہ سبب زہد و ورع اور تقوی جیسی عظیم نعمت حاصل ہوتی ہے، اور بندہ  اپنے رب کی بارگاہ میں محبوبیت کے مقام پر فائز ہوتا ہے، اور اخروی کامیابی سے سرفراز ہوتا ہے، لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب بندہ خود کو ہمہ وقت اپنے پروردگار کے حضور حاضر جانے، اور اس بات پر یقین کامل رکھے کہ اللہ اس کے ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے، اس کے دل پر گزرنے والے خطرات سے واقف ہے، شاید اسی یقین کو قوت واستحکام عطا کرنے کے لیے پرودگار عالم نے جا بجا اس بات کا ذکر کیا کہ وہ بندوں کے ذہن وفکر میں گردش کرنے والے خیالات، دلوں میں پیدا ہونے والے خطرات ووساوس اور تمام قلبی اعمال اور تغیرات کو جانتا ہے، فرمایا:         

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ۔[سورۂ نمل:۷۴]

اور تمھارے رب کو اچھی طرح  معلوم ہے جسے ان کے دل چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔            

اسی کے مثل ایک دوسرے مقام پر ہے، فرمایا:اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَيْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ۔ [سورۂ ممتحنہ: ۱]

مجھے معلوم ہے جو تم نے چھپا یا اور ظاہر کیا۔

تخلیق آدم کے معاملے میں اسی کے مثل فرشتوں سے  فرمایا:وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۔[سورۂ بقرہ:۳۳]

 اور میں جانتا ہوں جسے تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔

بندوں کے دلوں میں پوشیدہ ارادوں اور نیتوں کے بارے میں فرمایا:

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ  وَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ  شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔

[آل عمران:۲۹]

آپ کہہ دو کہ تم اپنے دلوں کی بات چھپاؤ یا ظاہر کر و اللہ اسے جانتا ہے، اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کو جانتا ہے، اور اللہ ہر شی پر قادر ہے۔

 اس آیت میں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ دلوں کے احوال کو جانتا ہے، لیکن ایک دوسری آیت میں یہ بھی فرمایا کہ وہ ان احوال پر محاسبہ کرنے پر قادر ہے، واقعی کیا شان ہے علم الہٰی کی! خیالات بندوں کے دلوں پر گزرتے ہیں، قریب میں بیٹھے افراد کو  معلوم نہیں ہوتاکہ ہم نشیں کے دل میں کیا ہے، اور تھوڑا وقت گزر جائے تو خود بندے کو یاد نہیں رہتا کہ ابھی کیا خیال گزرا،  کون سی بات ذہن میں آئی اور چلی گئی، لیکن اللہ  بندے کے ہر خیال کو جانتا ہے، اوربندوں کے خیالات علم الہٰی میں اس طرح محفوظ رہتے ہیں کہ چاہے تو قیامت کے دن  ہر شی نگاہوں کے سامنے حاضر کردے،اور ان پر محاسبہ فرمادے، فرمایا:  

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ    فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [سورۂ بقرہ: ۲۸۴]

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے، تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ سب پر تم سے محاسبہ فرمائے گا، پھر جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر شی پر قادر ہے۔

اللہ ہر خیال خام کو جانتا ہے، اور ہر نیک ارادے سے واقف ہے، لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ نیک ارادے پر  ایک نیکی عطا فرماتا ہے، اور نیک کام پر دس گونا ثواب عطا فرماتا ہے،  برے ارادے پر در گزر فرماتا ہے، اور برائی سر زد ہوجائے تو ایک گناہ لکھا جاتا ہے، اور وہ بھی سچی توبہ واستغفار کے بعد معاف ہوجاتا ہے،جیساکہ صحیح احادیث  میں ہے۔

 واضح رہے کہ علم باری کی وسعتوں کو سمجھانے کے لیے ہم  نےیہ آیت درج کی ہے،  اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ خطرات قلب اور غیر ارادی خیالات پر بھی محاسبہ فرماے گا، ورنہ یہ آیت اگلی آیت سے منسوخ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔

اگر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کے دلوں پر گزرنے والے خیالات کو جانتا ہےتو ہمیں اس بات پر یقین رکھنا ہوگا کہ ہر بندے کے دل کیفیت مختلف ہوتی ہے، اور زمان ومکان کے اختلاف کے ساتھ دل کی کیفیات بھی بدلتی رہتی ہیں،اور اللہ رب العزت ہر بندے کی جداگانہ کی کیفیت کو جانتا ہے، اور اسی اعتبار سے اس کے ثواب وعقاب کا فیصلہ فرماتاہے، قرآن کریم میں احوال قلب سے آگاہی کی بے شمار نظیریں پیش کی گئی ہیں، جن میں سے ہم یہاں بعض کا ذکر کریں گے۔

۱ - رسول اقدس ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام کی ہجرت تاریخ اسلام کا روشن باب ہے، انصار مدینہ نے جس شان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیا اورصحابہ کرام کا تعاون کیا تاریخ انسانیت میں اس کی نظیر نہیں ملتی، قرآن کریم نے انصار صحابہ کے جذبہ ایثار اور مہاجرین کی تئیں ان کی نیک خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:    

وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَوَ الْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَايَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ [سورۂ حشر: ۹]

یہ مال ان لوگوں کے لیے ہے جو مہاجرین سے پہلے دار ہجرت اور ایمان میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں، جو اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں، اور اپنے دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو مہاجرین کو دی گئی ہے، اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں، اور جو اپنے نفس کی بخالت سے بچا لیا گیا وہی فلاح یاب ہے۔

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انصار صادق الایمان ہیں، مہاجرین سے محبت کرتے ہیں،ایک دفعہ نادار مہاجر صحابہ کو مال غنیمت سے کچھ زائد حصہ ملا تو انصار صحابہ کے دلوں میں کوئی خلش نہیں ہوئی، کیوں کہ ان کے دلوں میں ایثار اور خیر خواہی کے جذبات ہیں، ان کے اندر بخالت اور دنیا طلبی نہیں ہے۔ اس طرح  قرآن کریم نےصحابہ کرام کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کے دلوں کے احوال سے بخوبی واقف ہے۔

۲ – اللہ کی راہ میں علانیہ اور پوشیدہ طور پر خرچ کرنے یا نذر پوری کرنے کے سلسلے میں فرمایا گیا: 

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۰۰۲۷۰ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔

[سورۂ بقرہ:۲۷۱]

اور جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو یا نذر مانو تو اللہ اسے جانتا ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کرو تو بہت اچھی بات ہے، اور اگر تم چھپا کر فقیروں کو دو تو یہ اور زیادہ بہتر ہے، اللہ تمھارے بعض گناہوں کو معاف فرماے گا، اور اللہ تمھارے کاموں سے باخبر ہے۔ 

عام طور پر یہی دیکھا جاتا ہے کہ انسان کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے، اور بظاہر نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو وہ دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرتا ہے اور نذر مانتا ہے کہ میری مراد برآئی تو میں اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کروں گا، ایسی نذر کسی کو معلوم نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو معلوم ہوتی ہے، فرمایا: فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ۔ اللہ اس بندے کی نذر کو جانتا ہے، لہٰذا بندے پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنی نذر پوری کردے، اور اپنے رب کا شکر ادا کرے۔

علاوہ ازیں صدقات کے معاملے میں بندے کو اختیار ہے، وہ چاہے تو علانیہ صدقہ دے اور چاہے تو پوشیدہ طور پر دے، بہر صورت اللہ دلوں میں پوشیدہ نیتوں کو جانتا ہے، اور اسی کی بنیاد پر دنیا وآخرت میں اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔ (جاری)

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved