20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia July 2023 Download:Click Here Views: 5751 Downloads: 762

(2)-علمِ الٰہی،قرآنی آیات کی روشنی میں

تفہیمِ قرآن       (دوسری قسط)

علمِ الٰہی،قرآنی آیات کی روشنی میں

مولانا حبیب اللہ بیگ ازہرہ

اس آیت مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اصل علم غیب اللہ کے پاس ہے، جسے بس وہی جانتا ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، ہاں اگر وہ اپنے کسی محبوب بندے کو بعض غیوب پر مطلع کرنا چاہے تو وہ ہر شی پر قادر ہے، جس طرح  انسانوں کو سمیع وبصیر بنانے سے اس کی صفت سمع ورویت کے ساتھ شرک لازم نہیں آتا، بالکل اسی طرح اپنے محبوب بندوں کو بعض غیوب پر مطلع کرنے سے شرک لازم نہیں آتا، بہر حال اللہ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، وہ آسمان وزمین کی ہر  شی کو جانتا ہے، خشکی اور تری میں رہنے والی ہر مخلوق کو دیکھتاہے، جن وانس، حیوانات وبہائم، چرند وپرند ، کیڑے پتنگے، سمندری جانور اور تمام حشرات الارض کو جانتا ہے،یہی نہیں، بلکہ وہ ہر مخلوق کی تعداد، حجم، وزن، شکل، فطرت، عمر ، جائے پیدائش، محل وقوع، گزشتہ زندگی، باقی ایام، اور ان کے پوری نسل اور کنبے کو جانتا ہے، جو  پہلےمرگئے اورجو بعد میں پیدا ہونے والے ہیں سب کو ازل سے جانتا ہے، وہ ہر ایک کی ضرورتوں کو جانتا ہے، ہر ایک    کی زبان سمجھتا ہے، ہر ایک کی آوازسنتا ہے، بلکہ وقت آنے اور بیان کرنے سے پہلے ہی اس کے جذبات واحساسات کو جان لیتا ہے، اور ان کی ہر ضرورت پوری فرمادیتا ہے، اس لیے کہ وہ رب العالمین بھی ہے اور خیر الرازقین بھی۔ 

وہ صرف ذی روح مخلوق کا خالق نہیں، بلکہ ہر ذرے کا خالق ہے، اسی لیے اسے ہر ذرے کی خبر رہتی ہے، وہ جنگلوں میں اگنے والے درختوں کو جانتا ہے، ان کی جڑ، شاخ، پتے، پھل،پھول سب کو جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ روئے زمین پر کتنے درخت ہیں، ہر درخت میں کتنے پتے ہیں، تمام درختوں کی اور ان کے پتوں کی مجموعی تعداد کیا ہے، اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کس درخت کا پتا کب خشک ہوگا، کب گرے گا، کہاں گرے گا، کتنی دیر میں گرے گا، اور کتنی قوت کے ساتھ گرے گا، وہ رات کی تاریکی میں گرنے والے پتوں کو ایسے ہی دیکھتا ہےجیسے دن کے اجالوں میں ٹوٹنے والی شاخوں کو دیکھتا ہے، اس لیے کہ اس کا علم کسی روشنی کا محتاج نہیں۔

اللہ رب العزت  عالم الغیب والشہادہ ہے، وہ زمین پر اگنے والےدرختوں کوبھی جانتا ہے اور زمین میں پوشیدہ گٹھلیوں کو بھی ، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسان زمین میں بیج دبا کر چلا جاتا ہے، اور خود کسان کو اندازہ نہیں ہوتاکہ اس نے کتنے دانے بوئے اور کہاں دبائے،لیکن اللہ علیم وخبیر ہے، اسے ہر دانے کا علم ہے، وہ زمین میں چھپے دانوں کی حفاظت فرماتا ہے، انھیں کیڑوں کی خرد برد سے محفوظ رکھتا ہے، ان میں نمو کی قوت وصلاحیت ودیعت فرماتا ہے، پھر متعینہ مدت میں ایک پودے کی شکل میں بر آمد کردیتا ہے، فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى ١ؕ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۔

[سورۂ انعام:۹۵]

بے شک اللہ دانے اور گٹھلی کا چیرنے والا ہے، وہ جان دار کو بے جان سے اور بے جان کو جان دار سے نکالتا ہے، یہ تمھارا اللہ ہے، تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ 

قرآن کریم نے اللہ رب العزت کے علم کی وسعتوں کو سمجھانے کے لیے درخت کے پتوں اور ان کی بیجوں کا ذکر کیا، یہ اس کے علم محیط کی صرف دو مثالیں ہیں، ورنہ ہر با شعور انسان اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک کو ہر خشک وتر کا علم ہے، اور ایسا محکم علم ہے کہ روز آفرینش سے لے کر صبح قیامت تک جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے سب کو اس نے اپنے ازلی علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے، اور  اس کے علم کی صداقت وحقانیت کا یہ عالم ہے کہ جو لوح محفوظ میں رقم فرمادیا اور جو واقع میں ہورہا ہے دونوں میں سر مو فرق نہیں ہے۔

۲– اللہ، مغیبات  خمسہ کو جانتا ہے۔

ہم اپنی روز مرہ زندگی پر غور کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ  زندگی امید پر  کٹ کر رہی ہے،آگے کیا ہونے والا ہے، کسی کو کچھ نہیں معلوم، لیکن اللہ کو سب معلوم ہے، کیوں کہ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، فرمایا:   

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ١ۚ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۔ [سورۂ لقمان: ۳۴]

اللہ وحدہ لا شریک نے ہر شی کے لیے ایک مدت مقرر کی ہے، جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو وہ شی فنا ہوجاتی ہے، جیسے ہر شی کی ایک عمر ہے ویسے ہی دنیا کی بھی ایک عمر ہے، جب دنیا کی عمر پوری ہوجائے گی دنیا تباہ ہوجائے گی، آسمان وزمین، چاند وسورج، دریا  اورپہاڑ غرضے کہ ہر شی فنا ہوجائے گی، لیکن یہ کب ہوگا؟ کسی کو نہیں معلوم، بس اللہ کو معلوم ہے، فرمایا:  

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ۔ بے شک قیامت کا علم تو اللہ ہی پاس ہے۔

اللہ نے جان دار مخلوق کو پانی سے بنایا ہے، اسی لیے کسی ذی روح مخلوق کی زندگی کے لیے پانی بے حد ضروری ہے، لیکن کب کسے پانی کا مسئلہ در پیش ہے، کس کو کتنے پانی ضرورت ہے، کب ضرورت ہے، کہاں ضرورت ہے، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اسی لیے وہی بارش برساتا ہے، فرمایا:

 وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ۔ وہی باش برساتا ہے۔

مرد وعورت کے جنسی اختلاط کے بعد استقرار ہوتا ہے، پھر مدت دراز کے بعد ولادت ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حمل میں بچہ تھا  یابچی، لیکن زوجین کے آپسی ملاپ کے فوراً بعد رحم مادر میں کیا ہوا اور کیا ہونے والا ہے کسی کو نہیں معلوم، لیکن اللہ کو  ازل سے معلوم ہے کہ کس ملاقات کے بعد کیا ہونے والا ہے، فرمایا:

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ۰۰۴۵ مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۰۰۴۶     [سورۂ نجم:۴۵-۴۶]

اوریہ کہ اس نے نطفے سے مرد وعورت کے جوڑے بنائے جب کہ نطفہ رحم میں پہنچایا جائے۔

جنسی اختلاط کے بعد استقرار ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو حمل میں بچہ ہے یا بچی؟ بہر صورت شکل وصورت کیسی ہے؟ رنگ وآہنگ کیا ہے؟  قوت وصلاحیت کیا ہے؟ مزید یہ کہ وہ زندہ  سلامت رحم مادر سے باہر آئے گا یا دنیا میں آنے پہلے ہی زندگی سے محروم ہوجائے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہ کسی قیافہ شناس کے پاس ہے نا کسی نکتہ داں کے پاس،  اور کوئی بھی حکیم،  ڈاکٹر یا ماہر تجربہ کار  نہیں جانتا  کہ رحم مادر کا حال کیا ہے،لیکن اللہ جانتا ہے، اور سب کچھ جانتا ہے، فرمایا:       وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ۔ اور اسے معلوم ہے کہ رحموں میں کیا ہے۔

انسان اپنے گزشتہ کل اور آج کو جانتا ہے، لیکن آنے والے کل کو نہیں جانتا، اور جانتا بھی کیسے کہ اس کے پاس مستقبل کی ضمانت ہی نہیں ہے، جسے اپنی اگلی زندگی کا حال معلوم نہ ہو بھلا اسے یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے، کل اور کل کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اسے بس اللہ جانتا ہے، اور کوئی نہیں جانتا، فرمایا:

وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا۔

اسی طرح انسان اپنی زندگی کے لیے بھر پور جتن کرتا ہے، سوسو طرح کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتا ہے، لیکن اسے نہیں معلوم کہ اس کا خمیر کس مٹی سے بنا ہے، اور کونسی زمین اسے اپنے آغوش میں سلانے کے لیے بے تاب ہے، زندگی کی تگ ودو کرنے والا انسان نہیں جانتا کہ اس کی موت کب مقدر ہے اور کہاں آئے گی، لیکن اللہ ضرور جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں زندگی کی آخری سانسیں لے گا، کہاں دفن ہوگا، اور کہاں سے اٹھایا جائے گا، فرمایا:

وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔

اللہ رب العزت نے قیامت اور بارش کے اوقات، رحم مادر کے تغیرات، کل پیش آنے والے واقعات اور جائے وفات کے بارے میں واضح طور پر فرمادیا کہ ان چیزوں کو تم نہیں جانتے، تمھارا رب جانتا ہے، لہٰذا تم  اپنے رب سے ڈرتےرہو، اور اسی کی طرف رجوع لاؤ، فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۔ اللہ ہر شی کو جانتا ہے، اور تمھارے احوال سے باخبر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved