25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9317 Downloads: 753

(12)-بچُّوں میں خود اعتمادی

ریحانہ قادری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا۔ اور اُن میں تخلیقی صلاحیتیں بھی رکھی تا کہ انسان اُن کو اجاگر کریں اور دنیا میں کامیابی حاصل کریں۔ اس طرح بچوں میں بھی تخلیقی صلاحیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں شرط یہ ہے کہ انہیں پہچان کر بروئے کار لایا جائے۔ یہ والدین کی، خاص طور پر ماؤں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھیں اور انہیں اجا گر کر کے اُن میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کریں کیوں کہ خوداعتمادی ہی زندگی کو کامیاب اور خوشگواربناتی ہے۔

  بچوں میں خود اعتمادی کی کمی تب ہوتی ہے جب مائیں انہیں حد سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور اُن کے ہر کام میں اپنے فیصلے اور راے مسلط کر دیتی ہیں۔ غلط، خوف زدہ اور منفی مشورے دیتی ہیں، مثلاً کھانا کھالو بیٹا ور نہ بھوت آکر کھائے گا یا بھوت آکر پکڑ لے گا ۔ پڑھائی کے دوران کہتی ہیں، ”اچھا پڑھ لو بیٹا، امتحان کی تیاری اچھے سے کر لو ورنہ فیل ہو جاؤ گے“۔ اور اُن پر کسی نہ کسی بات پر تنقید کرتی ہیں۔ مثلاً : تم ٹھیک سے پڑھتے نہیں ہو، ہر وقت تمہارا دھیان کھیل میں ہی رہتا ہے۔ اپنی تحریر سدھا رو، کتنا گندہ لکھتے ہو۔  اور - دوسرے بچے دیکھو کتنا اچھا پڑھتے لکھتے ہیں اور اچھے نمبرات سے امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسے تنقیدی اور منفی جملے کہہ کر ان کے اعتماد کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اور بچہ حد درجہ خوف زدہ ہو جاتا ہے، اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ دکھی رہتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو مشورہ دیں، بے شک دیں لیکن مشورے صحیح اور مثبت ہونے چاہئیں تاکہ بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو سکے۔ بچوں میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرنے کے مندرجہ ذیل نکات ہیں جن سے مائیں اپنے بچوں میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کر کے ان کی زندگی کو کا میاب اور خوش وخرم بنا سکتی ہیں:

مثبت سوچ: سب سے پہلے ماؤں کو اپنی سوچ مثبت کرنی ہوگی تاکہ بچے بھی اپنی ماؤں میں ہمت، حوصلہ اور لگن کا جذبہ دیکھ کر خود بھی اپنی سوچ مثبت کرسکیں۔ ماؤں کو چاہیے کہ شروع ہی سے بچوں کے سامنے مثبت باتیں کریں، خوش اور پر اعتماد رہیں۔ بچوں کو تسلی دیں انہیں اچھی اچھی مثالیں دے کر ان کی سوچ کو مثبت بنا ئیں ان میں ہمت پیدا کریں۔

پڑھائی کا جذبہ: بچوں کو علم کی اہمیت سے آگاہ کریں اور ان میں پڑھنے، لکھنے کا جذبہ پیدا کریں، نصابی اور غیر نصابی کتابیں لا کر انہیں پڑھنے دیں تاکہ ان کی معلومات میں اضافہ ہو سکے اور وہ لوگوں کے سامنے ہمت سے اپنے خیالات کا اظہار بخوبی کر سکیں ۔ ساتھ ساتھ ان کی تحریر پر بھی توجہ دیں۔ روزانہ ایک صفحہ عبارت لکھوائیں تاکہ ان کا املا درست ہو سکے تحریر درست ہو سکے۔

وقت کی پابندی:بچوں کو وقت کی اہمیت بتا ئیں اور وقت کی پابندی کا جذبہ پیدا کریں۔ پڑھائی کا، کھیلنے کا، کھانے پینے اورٹی وی دیکھنے کا ٹائم ٹیبل بنائیں تا کہ بچے ٹائم ٹیبل کے مطابق اپنا ہر کام انجام دے سکیں اور ان میں خود اعتمادی پیدا ہو جائے۔

غیر نصابی سرگرمیاں: ان سرگرمیوں سے بچے تندرست اور صحت مند رہتے ہیں۔ کسی دانش مند نے بجا کہا ہے کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم میں ہوتا ہے۔ بچوں کو اسکول میں مختلف پروگرام میں حصہ لینے کے لیے کہیں۔ مثلاً ورزش، دوڑ ، آنکھ مچولی، کبڈی وغیرہ سے بچوں میں ہمت اور طاقت پیدا ہوتی ہے کیوں کہ کامیاب اور پر اعتماد زندگی کے لیے ذہنی و جسمانی صحت از حد ضروری ہے۔

ذمہ داری کا جذبہ : اپنے بچوں میں ذمہ داری پیدا کریں۔ ان سے گھر کے چھوٹے موٹے کام کروائیں، مثلاً گھر کی صاف صفائی، بستر لگانا، ڈائننگ ٹیبل پر برتن سجانا، اپنا اسکول بیگ پیک کرنا، باہر بازار سے سودا سلف لانا تا کہ بچوں میں حساب کتاب کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ حساب کتاب سیکھ سکیں اور خرید و فروخت میں ماہر ہوسکیں۔ اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالیں، ہر وقت والدین پر منحصر نہ رہیں۔ کچھ نیا انداز اپنانے کی کوشش کریں ۔اگر آپ کا بچہ کوئی نیا کام کرنے کی آرزو کرتا ہے تو اسے کرنے دیں۔ روکیں نہیں بلکہ اس کا ساتھ دیں اور نیا کام کرنے پر اسے شاباشی دیں۔ اگر بچہ کوئی کام غلط کرتا ہے تو اسے ڈانٹیں نہیں بلکہ نرمی سے اس کا نقصان بتا کر سمجھا ئیں۔ علاوہ ازیں اپنے بچوں کے ساتھ باہر گھومنے جائیں، گھر پر ایک ساتھ مل کر بیٹھیں، ان کے دکھ سکھ بانٹیں، دن بھر کے معمولات پر اظہار خیال کریں، ان کی تکالیف اور مسائل کو سنیں ، سمجھیں اور حل کرنے کی کوشش کریں، تا کہ ان کا خوف دل و دماغ سے نکل جائے اور وہ اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ ان کے والدین ان کے ساتھ ہیں۔ یہ سوچ کر ان کی ذہنی حالت مطمئن اور مستحکم ہو جائےگی۔ ہمت اور حوصلہ پیدا ہوگا۔ یہی ہمت، حوصلہ افزائی اور خود اعتمادی ان کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved