20 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia Feb 2023 Download:Click Here Views: 23923 Downloads: 1152

(4)-آپ کے مسائل

مفتی نظام الدین 

بلا ثبوت شرعی کسی کو عیاش کہنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں :

ہمارے یہاں ایک تقریری پروگرام بتاریخ: ۲۰۲۲/۱۰/۲۶ء کو منعقد ہوا جس میں مقامی سنی علما نے شرکت کی جس میں ایک سنی عالم دین نے دوران تقریر یہ جملے بولے:

”اے سیل پر جانے والو ! آج کیا عالم ہے کہ تم پونا، ممبئی، مہاراشٹر اور اندور جارہے ہو، اور اپنی بیوی کو چھوڑ کر جارہے ہو، ادھر تم عیاشی میں ڈوب جاتے ہو ، ادھر خاتون بھی عیاشی میں ڈوب جاتی ہے، ہماری بہو، بیٹیاں بھی غیروں کے حوالے ہورہی ہیں۔“

 ان جملوں کی بنیاد پر عوام میں سے سیل پر جانے والے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ایک عالم کی طرف سے ان نازیباکلمات کا استعمال سراسر ہماری بہن بیٹیوں پر الزام و بہتان ہے۔

 ان جملوں کے متعلق شرعی حکم واضح فرما کر بتائیں کہ عوام کا کہنا صیح ہے یاغلط ؟ اگر صحیح ہے تو پھر ان جملوں کے قائل پر کیا حکم شرع ہے۔ نیز اگر قائل منصب قضا وامامت پر فائز ہو تو پھر ان کی امامت کا کیا حکم ہے ؟ قرآن و حدیث اور اقوال فقہا و محدثین کی روشنی میں رہنمائی فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔ فقط والسلام

الجواب: جن مسلمان مردوں اور عورتوں کی طرف خطیب نے عیاشی کرنے کی نسبت کی ہے اگر وہ ایسے کبیرہ کے مرتکب ہیں تو خطیب اس پر ثبوت شرعی قائم کرے، ورنہ علانیہ ان سے معافی مانگے ، بارگاہ الٰہی میں تائب ہو اور صلاح ناس کے لیے حکمت و موعظۂ حسنہ کا طریقہ اپنائے اور آئندہ مسلمانوں کی ایذارسانی سے لازمی طور پر بچے۔ ہمارے اردو زبان کے عرف میں عیاشی کا لفظ بڑے قبیح اور گھناؤنے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، یہ لفظ عیاش کا اسم منسوب ہے جس کا معنی ہے:

”شہوت پرست، بد کار ، رنڈی باز، زندگی کے مزے لوٹنے والا، رنگین مزاج ، وغیرہ۔“

 اس کا معنی وضعی جو بھی ہو، عرف میں انہی برے معانی میں استعمال ہوتا ہے اور عام طور پر لوگ اس سے بدکار اور بدکاری کا معنی سمجھتے ہیں۔ یہ لفظ ” تہمت زنا کے لیے متعین تو نہیں ہے لیکن یہ ایک فحش اور گھناؤنی گالی ضرور ہے جو حرام وگناہ ہے ، جو کسی بھی مسلم کے شایان شان نہیں، چہ جاے کہ کوئی عالم یا مصلح قوم یا واعظ ایسی قبیح اور گھناؤنی گالی دے۔ گالی کی حرمت اور قباحت پر کثیر احادیث نبویہ وارد ہیں جو صحاح ستہ میں موجود ہیں۔

اپنے معاشرے میں خرابیاں یا برائیاں ہیں توان کی اصلاح ضروری ہے کہ امربالمعروف و نہی عن المنکر واجب ہے لیکن اس کے لیے قرآن مقدس نے یہ ہدایت فرمائی ہے:

 اُدۡعُ إلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ –

 ( القرآن الحکیم سورۃ النحل:۱۶، الآیت ۱۲۵:)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ۔

تاکہ لوگ قریب رہ کر باتیں سنیں اور اصلاح حال کریں۔

اس کے برخلاف تلخی گفتار سے انھیں متنفر کر کے دور کر دینا قطعا ً حکمت موعظۂ حسنہ نہیں ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلی خرابیوں کو کسی کی طرف منسوب کیے بغیر ان کے بارے میں جو احادیث شریفہ وارد ہیں اور اجلۂ علمانے ان کی جو تشریحات فرمائی ہیں یا ان کی حکمتوں پر روشنی ڈالی ہے وہ بیان کی جائیں اور بتایا جائے کہ جن کے اندر اس طرح کی خصلت بد ہو وہ اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کر کے تقوی شعار بن جائیں۔

بہار شریعت میں ہے:

”مسئلہ ۱۷ : کسی عفیفہ (پاک دامن ) عورت کو رنڈی یا کسبی کہا تو یہ قذف ہے اور حد کا مستحق ہے کہ یہ لفظ انھیں کے لیےہے جنھوں نے زنا کو پیشہ کر لیا ہے ۔ “ (بہار شریعت، حصہ: ۹، ص: ۳۹۸، حد قذف کا بیان)

مگر” عیاشی کرنے“  کا لفظ ” رنڈی“ کی طرح زنا کے لیے متعین نہیں۔

یہ لفظ حرامی کی طرح ہے جو عرف میں ولد الزنا کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور گالی کے طور پر بھی۔بہار شریعت میں ہے:

”ولد الزنا یا زنا کا بچہ کہا..... تو حد ہے اور اگر کسی کو حرام زادہ کہا تو حد نہیں ؛ کیوں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وطی حرام سے پیدا ہوا، اور وطی حرام کے لیے زنا ہو نا ضروری نہیں.... یو ں ہی، حرامی.... کہنے پر بھی نہیں ۔ “

( بہار شریعت، حصہ :۹،ص: ۳۹۸، حد قذف کا بیان)

الغرض عیاشی کرنے کا لفظ قذف و تہمت زنا کے لیے متعین نہیں، وہ فحش اور گھناؤنی گالی ہے جو حرام و گناہ ہے ۔شرح فقہ اکبر اور فتاویٰ رضویہ وغیرہ میں ہے:

لا تجوز نسبة كبيرة إلى مسلم من غير تحقيق.

کسی مسلمان کی طرف بلا تحقیق گناہ کبیرہ کی نسبت جائز نہیں۔

لہذا جس شخص نے سیل پر جانے والے مسلمانوں کو خطاب کر کے ان کی طرف اور ان کی عورتوں کی طرف عیاشی کرنے کی نسبت کی وہ عیاشی بمعنی متعارف پر ثقہ اور دین دار مردوں یا مردوں اور عورتوں کی شہادت پیش کرے تاکہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب کا ثبوت شرعی حاصل ہو ۔ اور ایسی شہادت شرعی و ثبوت شرعی نہ پیش کر سکے تو بلا خوف لومۃ لائم اپنی عقبی سنوار نے اور بارگاہ الٰہی کے مواخذے سے بچنے کے لیے مسلمانوں کے مجمع عام میں علانیہ سیل پر جانے والے مردوں اور ان کی عورتوں سے واضح الفاظ میں معافی مانگے اور سچے دل سے بار گاہ الٰہی میں تائب ہو اور آئندہ حکمت و موعظۂ حسنہ کا طریقہ اپنائے ۔ واللہ تعالی اعلم

قدیم مسجد کی زمین کو صحن اور راستہ کےلیے استعمال کرنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گاؤں میں مسلمانوں نے ایک چھوٹی سی مسجد بنائی اور اس میں نمازوں کا سلسلہ شروع کر دیا کم و بیش دس سال سے مسجد قائم ہے۔ گاؤں والوں نے مسجد کی توسیع کا ارادہ کیا اور مسجد کے بغل میں کچھ جگہ مزید خریدی اور نئی والی جگہ میں مسجد تعمیر کی۔ اور جو پرانی مسجد تھی جس میں پہلے نماز ہوتی تھی اس جگہ کو اب اس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ اس کو صحن بنادیا جائے تا کہ نمازی اسی پرانی والی مسجد سے گذر کر نئی والی مسجد میں نماز کے لیے جائیں۔ تو کیا گاؤں والوں کا پرانی مسجد والی جگہ جس میں کم و بیش دس سال سے نماز ہوتی رہی اس کو چھوڑ کر دوسری جگہ مسجد بنانا جائز ہے؟ نیز پرانی مسجد والی جگہ کو صحن اور راستے کے طور پر استعمال کرنا کیسا؟ مزید یہ کہ پرانی والی مسجد کو نئی مسجد میں کس طرح شامل کریں جس سے پرانی مسجد ویران بھی نہ ہو اور نئی مسجد میں نماز بھی ہوتی رہے۔ براے کرم رہنمائی فرما کر عند اللہ ثواب کے حق دار بنیں۔

الجواب:  مسجد کو عام راستہ بنانا جائز نہیں، اس لیے مسلمان راستے کے واسطے الگ سے زمین حاصل کر لیں یا خرید لیں۔ اور پرانی مسجد کو یوں آباد رکھیں کہ یہ پوری مسجد نئی مسجد سے ملا کر شمال، جنوب میں صفیں دراز کر لیں اور پورے حصے میں نماز پڑھیں۔ وہ حصہ قیامت تک کے لیے مسجد ہے اور وہ بھی بلندی میں آسمان کے کنارے تک، لہذا اس کی بے حرمتی سے بچنا واجب و لازم ہے۔

       پرانی مسجد کو یوں چھوڑ دینا کہ اس میں نماز پڑھنا موقوف ہوجائے اور بس نئی مسجد کے راستے کے طور پر اس کا استعمال ہو حرام و گناہ ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ۔ (القرآن الحکیم، سورۃ البقرۃ: ۲، الآیة: ١١٤)

 ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے۔ اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔(کنزالایمان)

       لہذا پرانی مسجد کو ہرگز ہرگز عام راستے کے طور پر نہ استعمال کیا جائے۔

     ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو مسجد باقی رکھیں، نئی مسجد کے ساتھ اسے جوڑ دیں اور اس حصے میں نمازوں کی صف شمالا جنوبا لمبی ہو۔ پھر  جیسے مسجد میں نمازی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے آتے ہیں اسی طور پر اس میں بھی جا اور آسکتے ہیں۔

     پرانی مسجد قیامت تک کے لیے مسجد ہے اور زمین کے نیچے سے لے کر آسمان تک مسجد ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی عام گزرگاہ بنایا جا سکتا ہے جس میں جنبی اور حائض غیرہ کو چلنے کی اجازت ہوتی ہے، نہ ہی وہاں جنازے کی نماز پڑھی جاسکتی ہے کہ مسجد کے اندر یہ کام حرام و گناہ ہیں۔ یوں ہی وہاں جوتے چپل پہن کر جانا بھی ممنوع و بے ادبی ہے۔

     درمختار میں ہے: وكره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية: بفسقه باعتياده۔ (وإدخال نجاسة فيه) وعليه (فلا يجوز الاستصباح بدهن نجس فيه) ولا تطيينه بنجس (ولا البول) والفصد (فيه ولو في إناء) ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره.(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی احکام المسجد)

       ردالمحتار میں ہے:      (قوله: إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي.

      (قوله: واتخاذه طريقا) في التعبير بالاتخاذ إيماء إلى أنه لا يفسق بمرة أو مرتين، ولذا عبر في القنية بالاعتياد۔ نهر.

      وفي القنية: دخل المسجد فلما توسطه ندم، قيل يخرج من باب غير الذي قصده، وقيل يصلي ثم يتخير في الخروج، وقيل إن كان محدثا يخرج من حيث دخل إعداما لما جنى اهـ.

(قوله بغير عذر) فلو بعذر جاز۔

       في الفتاوى الهندية: لا يدخل المسجد من على بدنه نجاسة۔(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی احکام المسجد)    واللہ تعالیٰ اعلم¥¥¥

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved