23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 51057 Downloads: 2893

(3)-امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل

از: مبارک حسین مصباحی

 

(۱۴))- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ‏"‏ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ‏"‏ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے آج کون روزہ دار ہے ؟ حضرت ابوبکر نے کہا ؛میں ۔ آپ نے فرمایا تم میں سے آج کسی شخص نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟  حضرت ابو بکر نے کہا ؛میں نے ۔ آپ نے فرمایا تم میں سے آج کسی شخص نے مریض کی عیادت کی؟ حضرت ابو بکر نے کہا میں نے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص میں یہ اوصاف جمع نہیں ہوں گے مگر وہ شخص جنتی ہو گا ۔

(۱۵)- حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‏"‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏.‏ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا ‏.‏ أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‏"‏ فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‏"‏ بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ لَهُ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي"‏ ‏‏ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‏"‏ فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص گاے پر بوجھ لاد کر ہانک رہا تھا ، گاے نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہا میں اس لیے پیدا نہیں کی گئی ، البتہ مجھے کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، لوگوں نے تعجب سے کہا سبحان اللہ اور خوف زدہ ہو کر کہا کیا گاے نے کلام کیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لاتے ہیں، حضرت ابو ہریرہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا اس پر ایک بھیڑیے نے حملہ کیا اور ایک بکری اٹھا کر لے گیا ، چرواہے نے اس کو ڈھونڈا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، بھیڑیے نے مڑ کر کہا در ندوں کے دن جب میرے سوا اور کوئی چرواہا نہیں ہوگا اس دن اس کو کون چھڑائے گا ؟ لوگوں نے کہا سبحان اللہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ، ابو بکر اور عمر اس پر ایمان لاتے ہیں۔

(۱۶)- وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ ‏.‏

ترجمہ: امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی اس میں بکری اور بھیڑیے کا ذکر ہے اور گائے کا ذکر نہیں ہے۔

(۱۷)- وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِكْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا وَقَالاَ فِي حَدِيثِهِمَا "‏ فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏وَمَا هُمَا ثَمَّ ‏.‏

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت بیان کی ، یہ روایت بھی حسب سابق ہے، اور اس میں ہے آپ نے فرمایا کہ میں اور ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس جگہ موجود نہیں تھے۔

(۱۸)- وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّﷺ ‏.‏

ترجمہ: امام مسلم نے دوسندوں کے ساتھ حضرت ابو ہر یرہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ذکر کی ۔

اب ہم ذیل میں چند احادیث جامع صحیح بخاری کتاب الاذان سے نقل کرتے ہیں۔

(۱۹)- حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الأَسْوَدُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَذَكَرْنَا الْمُوَاظَبَةَ عَلَى الصَّلاَةِ وَالتَّعْظِيمَ لَهَا، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ‏.‏ قِيلَ لِلأَعْمَشِ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ بِرَأْسِهِ نَعَمْ‏.‏ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضَهُ‏.‏ وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا‏.‏

ترجمہ: حضرت اسود بن یزید نخعی نے کہا کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھے ۔ ہم نے نماز میں ہمیشگی اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس وقت آپ ﷺ سے کہا گیا کہ ابوبکر بڑے نرم دل ہیں ۔ اگر وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گی ۔ آپ ﷺ نے پھر وہی حکم فرمایا ، اور آپ ﷺ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی ۔ تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو ۔ ( کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو ) ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے ۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے ۔ گویا میں اس وقت آپ ﷺ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں ۔ لیکن حضور ﷺ نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا ۔ پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے ۔ جب اعمش نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی ۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کی ؟ حضرت اعمش نے سر کے اشارہ سے بتلایا کہ ہاں ۔ ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا شعبہ سے روایت کیا ہے اور شعبہ نے اعمش سے اور ابومعاویہ نے اس روایت میں یہ زیادہ کیا کہ رسول اللہ  ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے ۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ۔

(۲۰)-عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ مَرِضَ النَّبِيُّ ﷺ وسلم فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ فَعَادَتْ فَقَالَ ‏"‏ مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ﷺ‏.‏

ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ  نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لئے نماز پڑھانا مشکل ہو گا ۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی ۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ، تم لوگ صواحب یوسف (زلیخا ) کی طرح ( باتیں بناتی ) ہو ۔ آخر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہی نماز پڑھائی ۔

 (۲۱)- عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي مَرَضِهِ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ‏.‏ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‏"‏ مَهْ، إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا‏.‏

ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو روتے روتے وہ (قرآن مجید ) سنا نہ سکیں گے ، اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ آپ فرماتی تھیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ بھی کہیں کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو روتے روتے لوگوں کو ( قرآن ) نہ سنا سکیں گے ۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی اسی طرح کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ خاموش رہو ۔ تم صواحب یوسف کی طرح ہو ۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا ۔ بھلا مجھ کو کہیں تم سے بھلائی پہنچ سکتی ہے ؟

(۲۲)- أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ـ وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ ﷺ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ  النَّبِيَّ ﷺ الَّذِيْ تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، وَهْوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِیِّ ﷺ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِیُّ ﷺ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ‏.‏

ترجمہ: انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے ، آپ کے خادم اور صحابی تھے،حضور ﷺ کے مرض وصال نماز پڑھاتے تھے ۔ پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو حضور ﷺ حجرہ کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے ، ہماری طرف دیکھ رہے تھے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ( حسن و جمال اور صفائی میں ) گویا مصحف کا ورق تھا ۔ آپ ﷺ  مسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپ ﷺ کو دیکھنے ہی میں نہ مشغول ہو جائیں اور نماز توڑ دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آ ملنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا کہ نماز پوری کر لو ۔ پھر آپ ﷺ نے پردہ ڈال دیا ۔ رسول اللہ اللہ ﷺ کی وفات اسی دن ہو گئی ۔

(۲۳)- عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجِ النَّبِيُّ ﷺ ثَلاَثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ ﷺ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ ﷺ حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى النَّبِيُّ ﷺ الْحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ‏.‏

ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ( ایام بیماری میں ) تین دن تک باہر تشریف نہیں لائے ۔ ان ہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے کو تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ( حجرہ مبارک کا ) پردہ اٹھایا ۔ جب حضور ﷺ کا چہرہ مبارک دکھائی دیا ۔ تو آپ ﷺ کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ( قربان اس حسن و جمال کے ) پھر آپ ﷺنےﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا اور آپ ﷺ نے پردہ گرا دیا اور اس کے بعد وفات تک کوئی آپ ﷺ کو دیکھنے پر قادر نہ ہو سکا ۔

(۲۴)- عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَجَعُهُ قِيلَ لَهُ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ غَلَبَهُ الْبُكَاءُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوهُ فَيُصَلِّي ‏"‏ فَعَاوَدَتْهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوهُ فَيُصَلِّي، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ عُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ‏.

ترجمہ: حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی  کہ جب رسول کریم ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ ﷺ سے نماز کے لیے کہا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ حضرت ابوبکر رقیق دل کے آدمی ہیں ۔ جب وہ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو بہت رونے لگتے ہیں ۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان ہی سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔ دوبارہ انہوں نے پھر وہی عذر دہرایا ۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ ان سے نماز پڑھانے کے لیے کہو ۔ تم تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو ۔ اس حدیث کی متابعت محمد بن ولید زبیدی اور زہری کے بھتیجے اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے زہری سے کی ہے اور عقیل اور معمر نے زہری سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

(۲۵)- عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِيْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ‏.‏

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں حکم دیا کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس لیے آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے آپ کو کچھ ہلکا پایا اور باہر تشریف لائے ۔ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے ۔ انھوں نے جب حضور اکرم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا ، لیکن حضور ﷺ نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ قائم رہنے کا حکم فرمایا ۔ پس رسول کریم ﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بازو میں بیٹھ گئے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺم کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے تھے ۔

(۲۶)- عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ ذَھَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالنَّاسِ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ ـ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ـ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللہِ ﷺ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَصَلِّی، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللہِ ﷺ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ”مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ‏“‏‏.‏

ترجمہ: سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺبنی عمرو بن عوف میں ( قبا میں ) صلح کرانے کے لیے گئے ، پس نماز کا وقت آ گیا ۔ مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آ کر کہا کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے ۔ میں تکبیر کہوں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی ۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ نماز میں تھے ۔ آپ ﷺ صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے ۔ لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا ( تاکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی آمد پر آگاہ ہو جائیں ) لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ جب لوگوں نے متواتر ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول کریم ﷺ کو دیکھا ۔ آپ ﷺ نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا ۔ ( کہ نماز پڑھائے جاؤ ) لیکن انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو امامت کا اعزاز بخشا ، پھر بھی وہ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں شامل ہو گئے ۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی ۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر جب میں نے آپ کو حکم دے دیا تھا پھر آپ ثابت قدم کیوں نہ رہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوقحافہ کے بیٹے ( یعنی ابوبکر ) کی یہ حیثیت نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نماز پڑھا سکیں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عجیب بات ہے ۔ میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے ۔ ( یاد رکھو ) اگر نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو سبحان اللہ کہنا چاہئے جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔

(۲۷)- عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَ وَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِيْرِيْلُ وَمِيکَائِيْلُ، وَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنهما کليهما، 5 / 616)

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے لئے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ سو آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرئیل و میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔

(۲۸)- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَآي أَبَابَکْرٍ وَ عُمَرَ فَقَالَ: هَذَانِِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.( الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنهما کليهما، 5 / 613)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو فرمایا: یہ دونوں (میرے لئے) کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

(۲۹)- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ! فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيْقٌ، وَشَهِيْدَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.( أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: قول النبي ﷺ: لو کنت متخذا خليلا، 3 / 1344)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم ﷺ اُحد پہاڑ پر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن کے (آنے کی خوشی کے) باعث (جوشِ مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے احد! ٹھہر جا تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

(۳۰)- عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رضي الله عنهما: هَذَانِ سَيِّدَا کُهُوْلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ إِلَّا النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ.( أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنهما کليهما، 5 / 610)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے علاوہ اوّلین و آخرین میں سے تمام عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں۔

(۳۱)- عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوْقٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما يَقُوْلُ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ﷺ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ عُمْرَهُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

(  أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمة، باب: فضل أهل بدر، 1 / 57، الرقم: 162)

ترجمہ: حضرت نسیر بن ذعلوق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام کو برا مت کہو، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا ان کا ایک ایک لمحہ تمہاری زندگی بھر کے (اعمال) سے بہتر ہے۔

امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب احادیث نبویہ میں کثیر ہیں، ان سب کو ایک مضمون میں جمع کرنا مشکل ہے۔ سرِ دست ہم اسی پر اکتفا کرتے  ہیں۔، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved