25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 6589 Downloads: 724

(21)-عالمی خبریں

سویڈن میں پھر قرآن پاک کی بے حرمتی

اسٹاک ہوم (یو این آئی) سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایران نژاد خاتون نے قرآن مجید کا نسخہ نذر آتش کر دیا ۔ا نادولو خبر رساں یجنسی کی رپورٹ کے مطابق ۴۷ سالہ بیرامی مارجن نے مالورین جھیل کے ساحل پر برد ما ضلع کے انگیبا ڈیٹ بیچ پر قرآن پاک کا نسخہ جلا دیا۔ ایسا کرنے کے بعد خاتون نے کہا کہ تمام مذاہب کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ حالیہ مہینوں میں سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی ہے اور کچھ نے دونوں ممالک کے سفیروں کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ گزشتہ ماہ اسٹاک ہوم میں قرآن مجید کے نسخے کو نذرآتش کرنے کے بعد سیکڑوں عراقی مظاہرین نے سویڈن کے سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔

سرحدوں کی سیکورٹی سخت :ڈنمارک میں پولیس نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعات کے بعد سیکورٹی کی کشیدہ صورتحال کے باعث سرحدی سیکورٹی سخت کر دی، اسی طرح کا فیصلہ گزشتہ ہفتہ سویڈن کی حکومت کی جانب سے بھی دیکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں اسلام مخالف عناصر نے ڈنمارک اور سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی جس سے مسلم دنیا میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور ساتھ ہی دونوں ممالک کی حکومتوں سے ایسی کارروائیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈنمارک کی وزارت انصاف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکام نے آج یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس وقت اس بات پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے کہ ڈنمارک میں کون داخل ہو رہا ہے تا کہ مخصوص اور موجودہ خطرات کا جواب دیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر سرحدی سیکورٹی میں سختی کرنے کے فیصلے کا اطلاق ۱۰ اگست تک ہوگا۔ وزیر انصاف پیٹر ہمل گارڈ نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ سیکورٹی پولیس کے مطابق قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کیے جانے کے حالیہ واقعات کی وجہ سے سیکورٹی کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کی سیکورٹی اور ڈنمارک آنے والے مسافروں پر نگرانی مزید بڑھا کر، ڈنمارک نے سویڈن جیسا قدم اٹھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں حکومتوں نے بے حرمتی کے واقعات کی مذمت کی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس کی روک تھام کے لیے قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ لیکن مقامی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی فیصلے سے آزادی اظہار رائے کے حق کو نقصان پہنچے گا جسے ان دونوں ممالک کے آئین میں تحفظ حاصل ہے۔

۱۵ ہزاربے قصورفلسطینی صہیونی جیلوں میں قید

مقبوضہ بیت المقدس (ایجنسی ) بغیر کسی جرم کے اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے جس میں اکثریت نابالغ ہیں۔ فلسطین پر قابض غیر قانونی صہیونی ریاست اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ حمو کڈ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست کی مختلف جیلوں میں اس وقت ۱۵ ہزار کے قریب فلسطینی بغیر کسی جرم کے انتظامی حراست کی غیر قانونی پالیسی کے تحت قید ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں لیکن آج تک نہ ان پر کوئی مقدمہ چلایا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔

 واضح رہے کہ صہیونی ریاست اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے تحت انتظامی حراست کی غیر قانونی پالیسی کا استعمال کرتا ہے جس کے تحت ہزاروں فلسطینیوں کو کئی مہینوں سے لے کر کئی سالوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا جاتا ہے یہ بتائے بغیر کے ان کا جرم کیا ہے یا ان پر الزام کیا ہے۔

فلسطینی خاندان اپنے ہاتھوں  اپنے مکان کی مسماری کے لیے مجبور

صیہونی قابض فوج نے کل جمعرات کی شام مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ صیہونی خاص فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے جبل المكبر قصبے میں السلعہ کے محلے میں ایک فلسطینی خاندان کو زبردستی اپنا گھر مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔ قبل ازیں قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں راس العامود میں الشعیہ محلے میں شہید خیری علقم کے گھر کو مسمار کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔ ادھر غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم کے شمال میں واقع قصبے قفین میں مزاحمت کاروں اور قابض فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اسرائیلی قابض افواج نے آج جمعرات کو علی الصباح مغربی کنارے میں گرفتاریوں کی ایک بڑی مہم شروع کی، جو ہیبرون کے شمال میں بیت عمر قصبے میں مرکوز تھی۔

اسرائیلی مظالم کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ

تفصیلات کے مطابق صہیونی فورسز نے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ تور دیے، اقوامِ متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے حملوں اور پُرتشدد کارروائیوں کی تعداد 600 سے زائد ہو گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2023 کی پہلی ششماہی میں مظلوم فلسطینیوں کے خلاف مذموم 591 پُرتشدد واقعات ریکارڈ ہوئے، سال 2022 کے مقابلے میں ان کارروائیوں میں 39 فی صد اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں تواتر کے ساتھ جاری ہیں، گزشتہ روز بھی مقامی میڈیا اور فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے معمول کے چھاپوں کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔

اس سے قبل ایک اور واقعے میں آبادکاروں کے ہاتھوں ایک فلسطینی شہید ہوا، فلسطین کی وزارت صحت نے جمعہ کو بتایا کہ 19 سالہ قصی جمال معتان کو رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں برقۃ میں آباد کاروں نے گولی مار کر شہید کیا۔https:/urdu.palinfo.com

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved