23 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 6547 Downloads: 720

(6)- صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت

 

سید صابر حسین شاہ بخاری قادری

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حکیم ابو العلاء علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی رحمۃ اللہ علیہ (پ:1300ھ/1882ء۔ م:1367ھ/ 1948ء) کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔  اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (م:1340ھ/ 1921ء) کے خلفا میں آپ کا اسم گرامی  نہایت ہی روشن اور نمایاں ہے ۔   آپ اعظم گڑھ یو پی کے ایک علمی و روحانی خانوادے کے ایک فرد فرید ہیں ۔ آپ نے ابتدائی کتب اپنے جد امجد اور بھائی مولانا محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں۔ بعدازاں مدرسہ حنفیہ جون پور میں مولانا ہدایت اللہ خاں رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا ۔پھر   امام المحدثین استاذ العلما علامہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھنے کے بعد بریلی شریف میں بارگاہِ رضوی سے ایسے منسلک ہوئے کہ نہ صرف اجازت حدیث بلکہ خلافت و اجازت سے بھی سرفراز ہوئے ۔  دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں   کافی عرصہ تک حدیث شریف اور دوسرے فنون کی تعلیم دیتے رہے۔  اعلیٰ حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی فقاہت و ثقاہت پر اطمینان و اعتماد فرماتے ہوئے آپ کو”صدرِ الشریعہ“ کا ایسا لقب عطا فرمایا جو آپ کے اسم گرامی کا جزو لاینفک بن کر رہ گیا۔   اعلیٰ حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا فقید المثال”کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن“ آپ ہی کی مساعی جمیلہ سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔  آپ  دو قومی نظریہ کے ایک عظیم مبلغ اور رہنما تھے  جس پر آپ کی کتاب زیست  کا ہر صفحہ شاہد و ناطق ہے۔

 آپ کی ساری زندگی احقاق حق اور ابطال باطل سے عبارت ہے ۔ آپ فکر رضا کے امین بن کر  رہے ۔ آپ نے  ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔

 جہاد بالقلم کے محاذ پر آپ کے قلم کی جولانیاں دیدنی ہیں۔

 اُردو زبان میں   آپ کی عظیم و ضخیم اور شہرۂ آفاق کتاب ”بہار شریعت“ تو فقہ حنفی کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے ۔  اس کتاب مستطاب کا پہلا حصہ عقائد پر مشتمل ہے۔ اس میں آپ نے جہاں دیگر فتنوں کی خبر لی ہے وہاں آپ نے فتنۂ قادیانیت کے سرغنہ اور بانی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی بھی خوب نقاب کشائی فرمائی ہے۔ آپ نے اس کی کتابوں کی خانہ تلاشی لے کر اس کی ہفوات و بکواسات کو مسلمانوں کے سامنے  رکھا ہے تاکہ وہ   اس کے کفریات سے آگاہ ہو کر خود بھی اس فتنۂ عظیمہ سے دور رہیں اور اپنی اولادوں کو بھی دور رکھیں ‌۔

 بہار شریعت کے پہلے حصے عقائد میں سے   آپ نے فتنۂ قادیانیت کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔  یہاں اس میں سے صرف ابتدائی اقتباس  قارئین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے:

” قادیانی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں ،اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شان جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہل جاتے ہیں، مگر ضرورت زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے ان میں کے چند بطورِ نمونہ ذکر کئے جائیں،خود مدعئی نبوت بننا کافر ہونے اور ابدالآباد جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا، کہ قرآن مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے، مگر اس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء علیہم السلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے،کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے،اگرچہ انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو،بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے چنانچہ آیۂ”کذبت قوم نوح ن المرسلین“ وغیرہ اس کی شاہد ہیں اور اس نے تو صدہا کی تکذیب کی اور اپنے کو نبی سے بہتر بتایا۔ ایسے شخص اور اس کے متبعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہر گز شک نہیں ہو سکتا، بلکہ ایسے کی تکفیر میں اس کے اقوال پر مطلع ہو کر جو شک کرے خود کافر۔“

  صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد مرزا آنجہانی کی آٹھ کتابوں سے اس کے کفریات ظاہر و باہر فرمائے ہیں۔  ان کتابوں میں  ازالۂ اوہام،براہین احمدیہ،انجام آتھم،دافع البلاء،اربعین، کشتیِ نوح،اعجاز احمدی  اور دافع الوساوس کے نام شامل ہیں۔

 اب  یہاں آخری اقتباس بھی ملاحظہ کرتے جائیں:

” غرض اس دجال قادیانی کے مزخرفات  کہاں تک گنائے جائیں، اس کے لیے دفتر چاہیے ، مسلمان ان چند خرافات سے اس کے حالات بخوبی سمجھ سکتے ہیں، کہ اس نبی اولو العزم کے فضائل جو قرآن میں مذکور ہیں،ان پر یہ کیسے گندے حملے کر رہا ہے...! تعجب ہے ان سادہ لوحوں پر کہ ایسے دجال کے متبع ہو رہے ہیں، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں...! اور سب سے زیادہ تعجب ان پڑھے لکھے کٹ بگڑوں سے کہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ جہنم کے گڑھے میں گر رہے ہیں...!کیا ایسے شخص کے کافر، مرتد،بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہو سکتا ہے۔ حاش للہ!”من شک فی عذابہ و کفر فقد کفر“ جو ان خباثتوں پر مطلع ہو کر اس کے عذاب و کفر میں شک کرے ، خود کافر ہے ۔“  

   ماشاءاللہ ،  فتنۂ قادیانیت کے تعاقب میں آپ کا راہوار قلم ایسا چلا کہ  فتنۂ قادیانیت کے سرغنہ اور بانی مرزا آنجہانی کی تمام  ہفوات و بکواسات کا خلاصہ پیش فرما کر  قاری کو اس کے رد میں لکھی گئی بڑی بڑی کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے ۔ گویا آپ نے یہاں کوزے میں دریا بند فرما دیا ہے ۔ یہی نہیں آپ نے اپنے فتاویٰ میں بھی نہ صرف اس طائفہ خبیثہ کی بلکہ دیگر کذابون کی بھی خوب خبر لی ہے۔  

 فتاویٰ امجدیہ جلد دوم میں ایک استفتا میں آپ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص پہلے قادیانی تھا اب قادیانی ہونے سے  انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں"بہائی ہوں  یعنی بہاء اللہ کا معتقد اور اس کے مذہب پر ہوں، بہاء اللہ وہ شخص ہے جس کی نسبت اخیاء  وغیرہ میں لکھا ہے اور بہت مشہور ہے کہ وہ مدعیِ نبوت تھا ، جس کا زمانہ عنقریب گزرا ہے دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایک مسلمہ سنیہ حنفیہ عفیفہ سیدانی لڑکی کا نکاح شخص مذکور سے شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

  آپ نے اس کا جو جواب مرقوم فرمایا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

” حضور اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے خاتم النبیین و آخر الانبیاء کیا،حضور کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو سکتا، بکثرت احادیث صحیح اس پر ناطق اور خود قرآن عظیم کی نص قطعی ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اس مدعا پر شاہد،جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی جدید کے آنے کا قائل ہو یا اسے جائز مانے، قطعاً یقیناً کافر و مرتد ہے،اگر وہ شخص قادیانی تھا تو کافر تھا اور اب بہائی ہے اور بہاء اللہ کو نبی مانا جب بھی کافر ہے، بلا شبہ ایسے شخص کا نکاح کسی مسلمہ سے نہیں ہو سکتا، خصوصاً سنیہ، جو شخص نکاح کرائے گا سخت کبیرہ شدیدہ کا مرتکب اور زنا کا دلال ہو گا۔“

 آپ کا یہ فتویٰ، شفا شریف اور فتاویٰ عالمگیری سے بھی مزین ہے۔ 

 فتاویٰ امجدیہ حصہ چہارم میں ایک استفتا کے جواب میں نہایت ہی واشگاف اور دو ٹوک الفاظ میں اپنا فتویٰ کچھ اس انداز میں صادر فرماتے ہیں:

” مذہب قادیانی رکھنے والے یقیناً اجماعا بلا شک و شبہ کفار و مرتدین ہیں ، ایسے لوگوں کی کتابیں بچوں کو پڑھانا ناجائز ہے ، اگرچہ ان کتابوں میں ان کی گمراہی کی باتیں نہ ہوں مگر مصنف کی عزت دل میں پیدا ہو گی اور ان کی باتیں قبول کرنے کا مادہ ہو گا۔“

 فتاویٰ امجدیہ کے اسی حصہ چہارم میں ایک سوال کے جواب کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

”اس میں شک نہیں کہ مرزا غلام احمد نے انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین کی ہے اور دعویٰ نبوت کیا ، اس وجہ سے یقیناً   وہ شخص کافر ہے، اس کے اقوال پر مطلع ہو کر مجدد تو مجدد اسے مسلمان جاننا بھی کفر ہے ۔“

 اسی طرح فتاویٰ امجدیہ کے اسی حصہ میں ایک سوال کے جواب میں آپ فرماتے ہیں:

” حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کوئی جدید نبی نہیں ہو سکتا نہ شریعت جدیدہ لے کر، نہ اس شریعت کا حامل بن کر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اب جدید نبوت نہ ملے گی، لہذا قادیانی مرتد کا اپنے کو نبی ماننا اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کا حامل بتانا باطل محض و کفر و ارتداد ہے ، اس وجہ سے قرآن عظیم میں وخاتم النبیین فرمایا ، المرسلین نہ فرمایا کہ اب منصب نبوت ختم ہو چکا کسی دوسرے کو عطا نہ ہو گا، ہر دو علماء جب فتویٰ حرمین شریفین کو حق بتا رہے ہیں اور بالکل متفق ہیں تو اس امر میں اب کیا تردد باقی رہ گیا۔“

 المختصر صدرِ الشریعہ بدر الطریقہ رحمۃ اللہ علیہ  ختم نبوت کے تحفظ کے لیے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جہاد بالقلم کے محاذ پر نہایت ہی سرگرم رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین

 اعلیٰ حضرت بریلوی نے ان کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے:

 میرا امجد مجد کا پکا

 اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved