25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9335 Downloads: 753

(18)-اقلیم فکروفن کا وہ سلطاں چلا گیا

محمد مسیح احمد قادری مصباحی

 

بخدمت گرامی حضور عزیز ملت علامہ عبد الحفیظ صاحب قبلہ سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور و صاحب زادگان رئیس التحریر واساتذہ دار القلم، ذاکر نگر ، دہلی سلام و رحمت

عقاید و معمولات اہل سنت کے سچے محافظ ، فکر رضا کے امین اور بے باک مبلغ رئیس التحریر حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی علیہ الرحمہ کی رحلت دنیا ے فکروفن اور جہان تحریر وقلم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

 علامہ موصوف گوناگوں کمالات و محاسن کے حامل تھے، اُن کی خاموشی ہزاروں خطبات اور لباس فقیری میں سلطانی جاہ وجلال نمایاں تھے ، وہ بے کسی اور بے یاری کے عالم میں بھی صد ہزار انجمن تھے ، اُن کا ہر قدم ٹھوس، ہر انداز پر جوش اور ہر عمل مستحکم و غیر متزلزل تھا ، وہ ہمیشہ قوم وملت کی فکر میں اپنے آپ سے بھی بے تعلق وبے فکر رہے ، معمار قوم وملت کی دور رس نگا ہوں اور اثر آفریں تربیت نے انھیں اس شان سے سنوارا تھا کہ وہ فرمان حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام “ کی عملی تصویر بن گئے تھے۔

گویا۔ نہ عرض کسی سے ، نہ واسطہ، مجھے کام اپنے ہی کام ہے۔

علامہ موصوف علیہ الرحمہ تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا نوری قدس سرہ کے مرید صادق اور افرا دور جال کی تعمیر و تنظیم فرمانے والے حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کے تلمیذ رشید تھے اور اپنے معاصرین اور اساتذہ کے محبوب نظر ہونے کے ساتھ مشائخ و سادات مارہرہ مطہرہ کے نور نظر تھے ۔ انھوں نے اپنی تصنیفات سے افکارِ رضا کی سچی ترجمانی اور دلائل کے زور پر مسلک اعلیٰ حضرت کی ٹھوس پاسبانی فرمائی ،مصنفات رضویہ سے استخراج کر کے رد بدعات و منکرات کا حسین گلدستہ تیار کیا جس سے افراد اہل حق جہاں مطمئن و شاد ہیں وہیں باطل پرست وہابی دیوبندی عاجز و لاجواب ہیں ۔ اسی طرح آپ ہی کی کوششوں سے قائدین آزادی اور علماے انقلاب کے حسین وبے مثال کارنامے دنیا کے سامنے آئے بلکہ آپ ہی کی بدولت وطن کی آبرو کی خاطر سر دینے والوں اور انگلی کٹائے بغیر زمرۂ شہیداں میں نام شامل کرانے والوں کا فرق بھی لوگوں نے جانا ہے۔

ع—           تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

علامہ نے بے سروسامانی کے عالم میں بھی ملت کی ناخدائی کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اہل سنت میں گہرے جمود و تعطل کے باوجود اس مرد قلند ر نے دہلی میں دار القلم نامی ادارہ قائم کیا اور اپنے جواں سال و بلند حوصلہ معاصر علماے ربانین کے ساتھ مل کر مبارک پور کی مبارک سرزمین پر” المجمع الاسلامی“ کی بنیاد ڈالی، نتیجے میں نوجوان علما اور نوخیز اہل قلم کے اندر حرکت و عمل کی روح پھونک دی اور شکستہ بے مایہ اور بے حوصلہ افراد کو شاہین کی پرواز عطا کی اور خود بھی بڑھاپے کی ناتوانی اور ضعف کو شکست دیتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتے رہے، صحت و بیماری کی پرواہ کیے بغیر ہر حال میں کام اور صرف کام کیا۔

زندگی نام ہے اک جہد مسلسل کا فنا

راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد

ایسے مرد آہن اور جواں ہمت شخصیت کا وصال فرما جانا یقیناً باعث رنج وغم ہے ۔ اللہ کریم اپنے حبیب مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل اُنھیں غریق رحمت فرمائے، اُن کی خدمات جلیلہ قبول فرما کر پس ماندگان اور مابعد کے علما و طلبہ کے لیے سنگ میل کی حیثیت عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین علی افضل الصلوة واكرم التسليم.

جامعہ عربیہ انوار القرآن ، بلرام پور میں اجتماعی قرآن خوانی اور تعزیتی میٹنگ کر کے حضرت علامہ علیہ الرحمہ کی روح کو ایصال ثواب کیا گیا۔ جامعہ کے اساتذہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم مغفور کے لیےدعائے مغفرت کی ۔ خداے قدیر کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ استاذی الکریم کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے اور اُن کا نعم البدل مرحمت فرمائے ۔ آمین یارب العلمین -

غم گسار—محمد مسیح احمد قادری مصباحی

۱۰ذی قعده ۱۴۴۴/ ۳۱ مئی ۲۰۲۳

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved