25 May, 2024


ماہنامہ اشرفیہ


Book: The Monthly Ashrafia June 2023 Download:Click Here Views: 9331 Downloads: 753

(13)-پليسبو كيا هے

ڈاكٹر شرمين انصاری

تصور کریں کہ ایک مریض کو ایک گولی دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سے اس کے درد کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور یہ دوا وہ ڈاکٹر دیتا ہے جس پر مریض کو پورا اعتماد ہوتا ہے۔ دراصل یہ کوئی دوا نہیں ہوتی محض شکر کی گولی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات مریض کو نہیں پتہ ہوتی ، وہ اسے حقیقی دوا سجھ کر کھاتا ہے اور صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس طرح بغیر دوا کے صحت یاب ہونے کے نفسیاتی عمل اور رجحان کو پلیسبو افيكٹ (Placebo Effect) کہتے ہیں۔ دراصل پلیسبو ایک ڈمی دوا ہے۔

 اکثر خواتین کی بیماریاں کچھ حقیقی اور کچھ ذہنی اختراع ہوتی ہیں۔ اکثر خواتین سوچتی ہیں کہ انہیں جو بیماری ہے وہ محض دوا کھانے ہی سے ٹھیک ہوگی اور وہ بے دریغ دوائیاں کھاتی ہیں جس کے  اکثر نقصانات بھی سامنے آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کا استعمال کر کے دوا کے بجاے انسانی دماغ کو گمراہ کر کے مرض کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلیسبو  افیکٹ دراصل مثبت سوچ کا نتیجہ ہے۔ جب آپ کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس دوا سے میں ٹھیک ہو جاؤں گی تو واقعی اس کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے۔ یہ تکنیک دماغ اور جسم کے درمیان ایک مضبوط تعلق پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔

اس کے نفسیات پر اثرات:

کلاسیکی کنڈیشننگ: کلاسیکی کنڈیشننگ سیکھنے کی ایک قسم ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب مخصوص کسی چیز کو کسی خاص رد عمل سے جوڑتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی مخصوص کھانا کھانے کے بعد بیمار ہو جاتی ہیں تو آپ اس کھانے کو اپنی بیماری کا سبب سمجھتی ہیں اور مستقبل میں اسے کھانے سے گریز کرتی ہیں۔ پلیسبو افیکٹ بھی اسی نہج پر کام کرتا ہے، آئیے دیکھیں کس طرح؟

 اگر آپ سر درد کے لیے ایک مخصوص دوا لیتی ہیں تو آپ اس دوا کو درد سے نجات کے ساتھ جوڑ نا شروع کر دیتی ہیں اور اگر آپ کو سر درد کے لئے اس دوا جیسی نظر آنے پلیسبو گولی بھی دی جائے تو بھی آپ اس کو کھا کر درد میں کمی محسوس کریں گی۔پلیسبو افیکٹ ایک شخص کی توقعات میں کافی اثر رکھتا ہے۔ اگر آپ کو کسی چیز سے پہلے سے توقعات ہیں تو وہ اس کے بارے میں آپ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لہذا اگر آپ کو امید ہے کہ گولی آپ کو بہتر محسوس کروائے گی تو آپ اسے کھانے کے بعد بہتر محسوس کریں گی۔

ہارمونل رسپانس: پلیسبو لینے سے اینڈروفنز کا اخراج ہوتا ہے۔ اینڈروفنز کی ساخت مورفین اور دیگر افیون والی درد کش ادویات کی طرح ہوتی ہے اور یہ دماغ کی اپنی قدرتی درد کش ادویات کے طور پر کام کرتی ہیں جن کی وجہ سے خود بخود درد میں کمی محسوس ہوتی ہے۔

جینیات: جینز اس بات پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں کہ لوگ پلیسبو کے علاج کے بارے میں کیسے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ لوگ جینیاتی طور پر پلیسبو کا اثر زیادہ قبول کرتے ہیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں کاجین متغیر ہوتا ہے جو دماغی کیمیکل ڈوپامائن کی اعلیٰ سطح کے لئے کوڈ کرتا ہے وہ کم ڈوپامائن والے ورژن والے افراد کے مقابلے میں پلیسبو ا فیکٹ سے زیادہ متاثر ہوتےہیں۔

پلیسبو کے صحت پر اثرات :

درد: پلیسبو کے ذریعے درد میں کمی واقع ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پلیسبو قدرتی در دکش ادویات کی اخراج کی وجہ بنتا ہے جسے اینڈروفنز کہتے ہیں۔ اس طرح تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پلیسبو درد کم کرتا ہے۔ ۲۰۱۴ء کے ایک چھوٹے سے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایپیوڈک مائیگرین والے ۶۶  افراد پر پلیسبو افیکٹ کا تجربہ کیا گیا جنہیں ایک تجویز کردہ گولی لینے کے لئے کہا گیا تھا۔ اور انہیں کہا گیا کہ یہ درد کو ختم کرنے والی دوا ہے۔ کافی لوگوں نے ڈمی دوا کھانے کے باوجود درد کے کم ہونے کی اطلاع دی۔

کینسر : پلیسبو ا فیکٹ کا مطالعہ کینسر سے بچ جانے والوں پر بھی کیا گیا جو کینسر سے متعلق تھکاوٹ کی شکایت کر رہے تھے۔ شرکاء کو تین ہفتوں کا علاج دیا گیا اور پلیسبو دواؤں کا استعمال کیا گیا۔ دوا لینے کے دوران اور بند کرنے کے تین ہفتوں بعد بھی مریضوں نے علامات میں بہتری کی اطلاع دی۔

تناؤ: پلیسبو افیکٹ کے ذریعے ذہنی دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ پلیسبو کے استعمال سے جسم میں موجود اورینا لائن نامی کیمیکل کم ہوتا ہے، یہ کیمیکل تناؤ کا سبب بنتا ہے۔ پلیسبو ا فیکٹ لوگوں کے محسوس کرنے کی طاقت پر ایک تو انا اثر ڈال سکتا ہے لیکن یہ کسی بنیادی حالت کا علاج نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مریضوں کو بتائے بغیر عملی طور پر پلیسبو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اس تکنیک پر اب بھی تحقیق جاری ہے

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved