24 November, 2017

قصبہ مبارک پور


خاک ہند کے صوبہ اترپردیش کا ایک مشہور اور مردم خیز ضلع اعظم گڑھ ہے جو اب کمشنری بن چکا ہے۔ اعظم گڑھ سے مشرق میں ۱۴؍ کلو میٹر کی دوری پر قصبہ ’’مبارک پور‘‘ ہے۔ یہ اس وقت خوش حال صنعتی بستی ہے۔ یہاں کی تیار کردہ ریشمی ساڑیاں دنیا بھر میں بنارسی ساڑیوں کے نام سے مشہور ہیں۔ اس کی آبادی مردم شماری کے حالیہ سروے کے مطابق قریب ساٹھ ہزار ہے جب کہ عام طور پر لگ بھگ ۷۵؍ ہزار بتائی جاتی ہے۔ معاشرتی طور پر سادہ رہن سہن اور اسلامی طرز فکر وعمل ، اکثریت اکثریت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ کے مسلک کی پابند اور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمۃ بانی الجامعۃ الاشرفیہ کی شیدائی اور فدائی ہے۔

مبارک پور کا قدیم نام قاسم آباد تھا، دسویں صدی ہجری کے نصف اول میں حضرت سید مبارک شاہ کڑا مانک پور ضلع پرتاپ گڑھ سے دعوت وتبلیغ کے لیے قاسم آباد تشریف لائے، انھوں نے اپنے ارشاد وتبلیغ سے قاسم آباد میں دین ودانش کی روح پھونکی، جس سے اسلام کی پژمردہ کھیتیوں میں بہار آگئی، مثلا متلاشیان حق کو منزل مل گئی اور گمگشتگان راہ نور حق کی طرف جادہ پیما ہو گئے۔ حضرت راجہ سید مبارک شاہ جید عالم اور سلسلہ چشتیہ کے مشہور اور برگزیدہ بزرگ تھے انھوں نے قاسم آباد کو از سر نو آباد کر کے اس کا نام ’’مبارک پور‘‘ رکھا۔ ۲؍ شوال ۹۶۵ھ / ۱۵۵۸ ء میں آپ کا وصال ہوا۔ قصبہ کے اندر کی سب سے بڑی مسجد جامع مسجد راجہ مبارک شاہ متعلقہ الجامعۃ الاشرفیہ آپ ہی کے نام سے منسوب ہے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved