24 November, 2017

نظام تعلیم


جامعہ اشرفیہ کے نظام تعلیم پر اثر ڈالیں تو اس کی خصوصیات واضح ہوں گی۔ بفضلہ تعالی یہاں کمیت سے زیادہ کیفیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ انتظامیہ اور مجلس تعلیم کی جانب سے خامیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاح وترقی کی جانب پیش قدمی برابر جاری رہتی ہے۔ ادارہ کے سربراہ اعلی، ناظم تعلیمات، صدر المدرسین اور بعض مدرسین کا اس سلسلے میں اہم کردار ہے بلکہ سبھی اساتذہ اسی فکر کے ساتھ سرگرم عمل ہیں کہ ہم خوب سے خوب تر کی جانب کس طرح بڑھیں، یکم؍ اگست ۲۰۰۰ء سے ۳۰؍ جون ۲۰۱۴ء تک حضرت علامہ محمد احمد مصباحی صدر المدرسین کے عہدے پر فائز رہ کر جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں کی قیادت ونگرانی فرماتے رہے اور اب یکم ؍ جولائی ۲۰۱۴ء سے حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب قبلہ صدارت کے عہدے پرفائز ہیں جب کہ جامعہ کے ناظم تعلیمات حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ہیں اور ان دونوں حضرات کی قیادت ونگرانی میں جامعہ اپنے تمام شعبہ جات کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کسی استاذ کے تقرر میں یہ لحاظ ہوتا ہے کہ جس شعبہ یا درجہ کے لیے اس کا تقرر ہو اس میں اس سے زیادہ کی صلاحیت موجود ہو اور اپنے کام کو اخلاص ودیانت کے ساتھ بحسن وخوبی انجام دے سکتا ہو۔ مقررہ نصاب کی تکمیل ضروری ہے۔ ابتدائی درجات کی کتابیں ، اور کسی فن کے قواعد کی کتابیں پوری پڑھانا لازم ہے تاکہ طالب علم اگلے درجات کو بخوبی طے کر سکے۔ ورنہ درمیان ہی میں دم توڑ دے گا۔ پھر اسی درجہ میں رہ کر اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ بالفرض کو ئی طالب علم ایک درجہ میں دو بار فیل ہوا تو اسے خارج کر دیا جاتا ہے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved