24 November, 2017

حافظ ملت علیہ الرحمہ


شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی مبارک پور میں تشریف لائے اور مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں تعلیمی صدارت کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس وقت مدرسہ پورانی بستی میں تھا (جس کی جدید عمارت اب حضرت عزیز ملت کی قیام گاہ ہے) بیرونی طلبہ بالکل نہیں تھے، معیار تعلیم فارسی اور نحومیر و پنج گنج تک تھا، اور مدرسہ کا سالانہ بجٹ ۲۷۵۷؍ روپیہ ۱۴؍ آنے ۹؍ پائی تھا۔ آپ کے جہد مسلسل اورحسن تدبیر سے مدرسہ میں ایک نئی زندگی پیدا ہوئی، قصبہ کے ماحول میں دینی بیداری آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری فضا دین ودانش کی خوشبووں سے مہک اٹھی اور مدرسہ کی تعلیمی شہرت بوئے گل کی طرح ملک کے گوشے گوشے میں پھیلنے لگی۔ طالبان علوم نبویہ کشاں کشاں حافظ ملت کی شمع علم کے گرد پروانوں کی طرح ٹوٹنے لگے اور کچھ ہی دنوں میں مدرسہ مہمانان رسول سے کھچا کھچ بھر گیا۔ دوسری طرف بدمذہبوں کی مہم بھی تیز تر ہو گئی، حالات کے ان چیلنجوں کو حافظ ملت نے قبول کیا اور دور اندیش مدبر، پر عزم مجاہد اور اخلاص پیشہ قائد کی حیثیت سے تعمیری فکر و عمل کے میدان میں اتر پڑے۔ اب حافظ ملت ایک طرف بدمذہبوں کی ریشہ دوانیوں کا جواب دے رہے تھے تو دوسری جانب فکر وعمل کی تمام تر توانائیاں سمیٹ کر مدرسہ کو پروان چڑھانے کی سعی پیہم کر رہے تھے۔ حافظ ملت کو اس دو رخا محاذ پرتاریخ ساز کامیابی حاصل ہوئی انہوں نے اپنی چار ماہ تک مسلسل مناظرانہ تقریروں سے باطل پرستوں کو دھول چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ اور ’’اتفاق زندگی ہے ، اختلاف موت‘‘ کی صدائے دلنواز سے پورے قصبے کو اپنی فکر وشخصیت کا گرویدہ بنا لیا۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved