19 June, 2024


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، وبعد: رب کے کرم سے آپ کے خیر و عافیت کی امید کرتا ہوں سوال : فون سے طلاق کا کیا حکم ہے، واقع ہوگی یا نہیں، دلیل کی روشنی میں؟ جزاکم اللہ خیرا!

فتاویٰ # 395

Assalam o alaikum Us khatoon k bare me kya hukm hai Jo 8 sal SE Apne shauhr SE alg Rh rhi h aur uska shauhar use talk ni de rha h jbki us khatoon be kyee DFA Apne shauhar se khula Ka sawal kya Pr fr bhi o talak ni de rha h

فتاویٰ # 968

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس خاتون کے بارے میں جو اپنے شوہر سے تقریباً 9سال الگ رہ رہی ہو اور اس دوران اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا ہو اور وکیل کے ذریعہ سے نوٹس بھی بھیجا ہو مگر اس شوہر نے طلاق دینے سے منع کردیا ہو تو اب وہ خاتون کیا کرے شکریہ

فتاویٰ # 969

ہندہ نابالغہ کا عقد اس کے بھائی نے کر دیا اور ہندہ کا باپ رضا مند نہیں تھا ۔ نکاح کے بعد ہندہ حالتِ نابالغی میں اپنی سسرال گئی اور پھر میکہ واپس آکر بالغہ ہونے کے ایک سال بعد اس نکاح سے اس نے انکار کر دیا کہ میں اس سے راضی نہیں اور میرا نکاح اس سے جائز نہیں ۔ چناں چہ اس نے اپنی ماں اور بھائی کی رضا مندی سے دوسرا عقد کر لیا ۔ اب دوسری شادی سے ہندہ کے بچے بھی ہیں ۔ عدالت موجودہ میں شوہر اول نے مقدمہ دائر کیا اور اس میں ہزیمت بھی ہوئی۔ فیصلہ کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد شوہر اول کا انتقال ہو گیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کا نکاحِ ثانیہ اس کے لیے درست ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1101

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تم کو دو گواہوں کے سامنے طلاق دی تو ایسی صورت میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟اور اگر اس نے دو بار یا تین بار کہا تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا۔

فتاویٰ # 1102

طیب نے اپنی بیوی سکینہ کو طلاق دی۔ طلاق نامہ نشانی انگوٹھا اور تین گواہوں کے دستخط کے ساتھ سکینہ کو ملا ۔ اس تحریر کی نقل حسب ذیل ہے:نقل طلا ق نامہ بلفظہ:تاریخ دوسری ماہ ذیقعدہ بروز شنبہ ۱۳۵۹ھ میں اپنی خوشی سے بلا جبر و تشدد کسی کے امان اللہ کی لڑکی بی بی سکینہ کو تین طلاق دیا، طلاق دیا، طلاق دیا ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالا میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1103

شوہروں کے گم ہو جانے یا نامرد و مجنون ہو جانے ، یا ظالمانہ برتاؤ اور سنگ دلی کی وجہ سے عورتوں اور ان کے پورے گھرانے کے لیے سخت مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔ کوئی نہ ٹھکانے سے رکھتا ہے ، اور نہ طلاق دیتا ہے ، نہ خرچ دیتا ہے ، ان مشکلات کا حل موجودہ زمانے میں علمانے دو صورتوں سے نکالا ہے ۔ ایک تو یہ کہ مسلمان حاکم سے فسخ کرالیا جائے اس کے لیے بعض علما انہیں قیود و شرائط کا لحاظ کرتے ہیں جو قاضی شرع کے نزدیک معتبر ہوں، بعض علما صرف مسلم حاکم ہونا کافی جانتے ہیں ، جو فسخ. کرنے میں قوانین شرعیہ کا لحاظ نہیں کرتے۔ اور بعض علماے اہل حدیث نے تو اتنی وسعت دی ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید ہی نہیں لگاتے ، ہر حاکم کے فسخ کو معتبر جانتے ہیں ۔ ان صورتوں میں بعض جگہ یہ صورت اختیار کی گئی ہے کہ حکام عدالت کے فسخ. کرنے کے بعد یہ لوگ اپنے طور پر پنچایتی نظام کے ذریعہ سے جس میں دیندار لوگ اور بعض علما بھی شریک ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ فسخ کو نافذ کرتے ہیں ۔ لہٰذا سوال(۱) یہ ہے کہ فسخِ حکام کے بعد پنچایتی نظام مذکور میں از سر نو پوری کاروائی کرنی پڑے گی، یا صرف فسخ کو نافذ کردینا کافی ہوگا۔؟ (۲). بعض عورتیں شوہروں کے مفقود الخبر ہونے کے تین چار سال کے بعد ہی حکام سے فسخ کرالیتی ہیں اور بعض دوسری صورت میں شوہر کے عدم حاضری کی وجہ سے بھی عورت کو ڈگری مل جاتی ہے کیا ان صورتوں میں فسخ حکام جائز ہوگا یا نہیں۔؟ (۳). مسلم یا غیر مسلم حاکم کے فسخ. کرنے کے بعد شرعی پنچایت جس میں علما بھی شریک ہیں اگر ان میں اختلاف رائے ہو جائے تو اکثریت کا فسخ نافذ ہوگا یا نہیں ۔؟ (۴). اگر فسخِ حکام کے بعد شرعی پنچایت کا انعقاد ہوا اور اس کے بلانے پر اہل معاملہ اور ان کے گواہان جن کے بیان پر تحقیقِ معاملہ موقوف ہے نہ آئیں تو اس مجبوری کی صورت میں پوری کاروائی شرعی قاعدے سے کیوں کر انجام دی جائے؟

فتاویٰ # 1104

زید نے اپنی بیوی کو طلاق لکھ کر اپنے تین عزیزوں کے نام ڈاک سے روانہ کردیا ۔زید کی بیوی کو اس کا علم ہوا تو زید کے پاس چلی آئی اور زید نے اسے رکھ لیا۔ کیا حکم ہے زوجین کے لیے بحوالۂ کتب ِشرع تحریر فرمائیں ۔

فتاویٰ # 1105

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو یہ الفاظ کہے کہ میں نے طلاق دیا ، طلاق دیا، طلاق دیا،تین طلاق رجعی۔ ایسی صورت میں ہندہ پر کون سی طلاق واقع ہوئی؟ یہ تین طلاق رجعی ۱۷ ؍ستمبر ۱۹۵۳ء بروز جمعہ کو دیا ہے ، اس کے بعد سے زید نے ہندہ سے کسی قسم کی خلوت نہیں کی۔ ہندہ بال بچے والی ہے ۔ بینوا و توجروا ۔ پتہ حسب ذیل پر روانہ فرمائیے۔

فتاویٰ # 1106

ایک جوان عورت ہے، جس کا شوہر عرصہ ۶؍سال سے پردیس میں ہے، گھر نہیں آیا ۔ایک آدھ خط کا جواب دیا مگر اپنی بیوی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کرتا ہے اس معاملہ میں خاموش ہے۔ ایک مرتبہ اس کو لکھا گیا کہ تم آکر طلاق دے دو تو اس نے جواب دیا کہ لڑکی کو روک کر بیوی کو چھوڑ دو۔ جب پھر لکھا گیا کہ خود آکر طلاق دے دو، دوسرے کو حق نہیں ہے تو رجسٹری خط واپس آیا کہ اس نام کا کوئی آدمی نہیں ہے ، یہاں عورت کا یہ حال ہے وہ گھر میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں ٹھہررہی ہے ، وہ کہتی ہے کہ اگر آپ لوگ ہی میرا دوسرا انتظام نہیں کریں گے تو ہم خود دوسرا شوہر کرلیں گے ، بلکہ ایک آدمی نے اس کے واسطے کرنے کی کوشش شروع کردیا۔ وہ کہتی ہے کہ ہم ڈوب کر کنویں میں جان دے دیں گے یا تو لامذہب آدمی کو رکھ لیں گے ، بہت سمجھا نے پر تو اس نے دانا پانی کھانا شروع کردیا ہے ، دس دن کے لیے اس سے سفارش کیا گیا ہے تمہارا دوسرا انتظام جلد از جلد کردیا جائے گا۔ اس لیے آپ سے دست بستہ عرض ہے فوراً جہاں تک جلد ممکن ہو اس کا جواب مرحمت فرمائیں ۔

فتاویٰ # 1107

ہاجرہ کی شادی محمد یوسف کے ساتھ آج سے تقریباً بیس برس پہلے ہوئی ۔نکاح کے کچھ عرصہ بعد دونوں میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوگئی سبب یہ کہ محمد یوسف ہاجرہ کو زود و کوب کرتا رہتا تھا اس وجہ سے ہاجرہ ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر چلی گئی، دو تین بار ایسا معاملہ ہوا لیکن پنچوں نے دونوں میں میل ملاپ کرادیا۔ اس درمیان ہاجرہ کو محمد یوسف سے ایک بچہ بھی تولد ہوا جو کہ ابھی تک زندہ ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر دونوں میں جھگڑا ہوا تو اس مرتبہ سرکاری کورٹ میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے محمد یوسف کی غیر موجودگی میں ( محمد یوسف عدالت کے فیصلہ کے دن ممبئی میں تھا) ہاجرہ کو عدالتی قانون کی روسے طلاق دے دی لیکن محمد یوسف نے شرعی طور سے ہاجرہ کو طلاق نہیں دی۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد سات سال ہاجرہ اپنے والدین کے پاس رہی، ان سات برسوں میں محمد یوسف نے کئی دفعہ ہاجرہ کو حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد ہاجرہ کے والدین نے اپنی ذمہ داری پر ( ہاجرہ راضی نہیں تھی کیونکہ محمد یوسف نے شرع کے مطابق طلاق نہیں دی تھی) ہاجرہ کی دوسری شادی زید سے کردی۔ زیدکے پاس ہاجرہ پانچ برس رہی اور زید سے ہاجرہ کو دو بچیاں پیدا ہوئیں۔ جب ہاجرہ کی شادی زید سے ہوئی تو محمد یوسف نے کوشش کی کہ ایسا نہ ہونے پائے اور ہاجرہ دوبارہ اس کے پاس رہنے لگے ۔ لیکن ہاجرہ کے والدین کی وجہ سے محمد یوسف ناکام رہا۔ زید کے گھر پانچ برس گزار نے کے بعد (حالاں کہ زید ہاجرہ کی کبھی نہیں نبھی)ہاجرہ زید سے لڑجھگڑ کر بچوں کو لیکر علاحدہ رہنے لگی جس کو آج تقریباً پانچ برس ہورہے ہیں۔ زید سے الگ ہونے کے بعد زید نے ہاجرہ کی کسی بھی قسم کی امداد نہیں کی۔ اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ دیا ۔حالاں کہ محمد یوسف ہاجرہ کے علاحدہ ہونے کے بعد سے آج تک امداد یا خرچہ دیتا رہتا ہے۔ ان واقعات کو سامنے رکھ کر آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کا شرعی جواب دیں ۔ سوالات: (۱).عدالتی فیصلہ کے بعد جب کہ محمد یوسف نے شرعی طلاق نہیں دی، کیا محمد یوسف اور ہاجرہ کے درمیان طلاق ہوگئی ؟ (۲).زید اور ہاجرہ کا نکاح جائز ہوا یا ناجائز ، اگر ناجائز ہوا تو زید سے ہاجرہ کو جو دوبچیاں پیدا ہوئیں ان دونوں کے متعلق شرعی طور سے کیا کیا جائے؟ (۳).اب ہاجرہ چاہتی ہے کہ وہ دوبارہ محمد یوسف کے ساتھ رہے تو کیا اسے دوبارہ نکاح محمد یوسف سے پڑھوانا ہوگا یا پہلا ہی نکاح درست ہے یا اب شرع کے مطابق کوئی راستہ بتائیں کہ ہاجرہ اور محمد یوسف دونوں ایک ہو جائیں ۔فقط والسلام

فتاویٰ # 1108

عبد المعید نے بطور مذاق یہ خبر اڑائی عبد اللطیف سے کہا کہ’’ حمید اللہ نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا ہے‘‘ تو عبد اللطیف نے جواب دیا کہ تمہارا کوئی اعتبار نہیں تو عبد المعید نے کہا کہ حمید اللہ سے پوچھ لو! عبد اللطیف نے حمید اللہ سے پوچھا تو حمید اللہ نے صرف سر کو ہلایا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر عبد اللطیف نے پوچھا تب حمید اللہ نے تو سرہلایا اور ’’ ہاں ‘‘ کہا اور ہاں کہنا زوج حمید اللہ کی طرف سے پایا گیا اور لفظ ’’ چھوڑنا‘‘ دوسری جانب سے پایا گیا اور حمید اللہ کی طرف سے ’’ ہاں ‘‘ اور یہ لفظ کنائی ہے اور کنائی میں نیت ضروری ہے اور حمید اللہ کی نیت طلاق کی نہ تھی۔ اتنا کہہ کر حمید اللہ و عبد المعید چلے گئے۔ اس کے بعد عبد المعید دوبارہ لوٹ کر تنہا آیا ،اس درمیان میں عبد اللطیف اور محمد بشیر موجود تھے ایک ہی جگہ۔ پھر وہی بات عبد المعید نے لوٹائی جو عبد اللطیف سے کہا تھا محمد بشیر سے کہا اور یہ زیادہ کر کے اور کہا تین کاغذ لکھا گیا تو بشیر نے کہا تین کاغذ لکھنے کی کیا ضرورت تھی تمہارا کوئی اعتبار نہیں عبد المعید قسم کھا کر کہنے لگا کہ یٰس نے مجھ کو بلایا تھا جب میں گیا تو لڑکی کے والد موجود تھے تو میرے اور لڑکی کے والد کے سامنے یٰس نے تین کاغذ لکھا اور یٰس کو جذبہ آگیا اور حمید اللہ سے کہا کہ ایک سو تیس روپیہ اپنی چچی سے مانگ لاؤ، حمید اللہ گیا اور روپیہ لاکر یٰس کو دیا اور یٰس نے لڑکی کے والد کو دیا اس نے لینے سے انکار کیا اور کہا کل ہم مقبول کو لیکر آئیں گے تو روپیہ لے جائیں گے یہ بیان عبد اللطیف کے گھر پر عبد المعید نے آ کر دیا تھا۔ بعد میں حمید اللہ آیا اس کے بعد فیض اللہ آیا اور بشیر پہلے سے موجود تھے ، اس جگہ بشیر نے حمید اللہ سے پوچھا کہ تو نے چھوڑ دیا یہ لفظ صرف بشیر نے کہا تو حمید اللہ نے کہا کہ چھڑا نے میں پڑگیا بشیر اور فیض اللہ نے یہ لفظ سنا اور عبد اللطیف نے سنا کہ چھڑانے پڑے تو بشیر نے حمید اللہ سے پوچھا ایک کہ تینوں تو حمید اللہ نے کہا ہاں صرف ہاں کہا توفیض اللہ نے دوسرے روزیٰس سے پوچھا کہ یہ واقعہ صحیح ہے یا کہ غلط تو یٰس نے بحلف کہا کہ میں کچھ نہیں جانتا پھر ایک شبہ میں یٰس نے محمد بشیر و فیض اللہ و عبد اللطیف وحمید اللہ و عبد الرؤف عبد الاحد ، عبد المعید اور مولوی عبد الحنان وغیرہ کو جمع کیا اپنی صفائی کیا کہ میں کچھ نہیں جانتا تو پھر یہ الزام میرے اوپر کیوں لگایا گیا تو عبد الاحد نے عبد المعید سے پوچھا کہ یہ بات تم نے کیوں کہی عبد المعید نے جواب دیا کہ حمید اللہ نے کہا تھا اور حمید اللہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتا اور نہ میں نے کچھ کہا ہے اس پر عبد الاحد نے عبد الحمید سے کہا کہ ایسی بیہودہ بات کبھی نہ کرنا تمہاری بہت شکایت ہوتی ہے ۔ تمہارا فعل برا ہے خبر دار ایسا کبھی نہ کرنا اس پر عبد المعید شرمندہ ہوا اور متصل شاہد فیض اللہ ، محمد بشیر اور عبد اللطیف نہیں ۔ آیا طلاق ہوئی یا نہیں اگر طلاق ہوئی کون رجعی۔ یابائن یا مغلظہ؟ بینوا بالکتاب و توجروا بالحساب

فتاویٰ # 1109

ایک مسلمان عورت کو سات ماہ پر لڑکاپیدا ہوا۔ اس پر بستی والوں نے کہا کہ بچہ تمہارے شوہر کا نہیں ہے۔ اس پر اس کے شوہر نے کہا کہ یہ میرا بچہ ہے اور بیوی نے بھی کہا کہ میرے شوہر کا ہے۔ بستی والے نہیں مانے۔ بہت اصرار کرنے پر کہ تم کو کچھ نہ کریں گے۔ تب اس عورت نے اقرار کیا کہ دوسرے کا ہے۔ تب اس کے شوہر سے پوچھا گیا کہ تم رکھو گے یا نہیں؟ تو شوہر نے کہا کہ رکھیں گے۔ پھر اس کی عورت کے پاس آدمی بھیجا گیا کہ اس میں اور کوئی تھا، تو اس نے دو عورتوں کا نام لیا، ان میں ایک بالکل ضعیفہ تھی اور ایک تین بچے کی ماں تھی۔ ان دونوں نے فریب دے کر پھنسا دیا تھا، لیکن ان دونوں کی بد چلنی ثابت نہیں ۔ بستی والوں نے دونوں کے شوہروں کو بلا کر کہا کہ تم لوگوں کو اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دینا ہوگا۔ ایک عورت تو بیوہ تھی لہٰذا دو سے کہا گیا۔ ان لوگوں کا ارادہ نہیں تھا لیکن کہنے پر اقرارکیا اور نمبر ایک عورت کو بلایا گیا۔ اس کے شوہر نے کہا کہ تم کو طلاق دیتے ہیں ، اسی طریقے سے دو بار کہا۔ اس کے بعد نمبر دو عورت کو بلایا گیا جو نہیں آتی تھی۔ تب شوہر کا چچا زاد بھائی اسے مکان سے گھسیٹ کر لایا اور ایک بانس کی چھڑی سے مارا اور زیور اتار لیا اور جہاں پر آدمی اور شوہر جمع تھے ، لایا گیا۔ اس وقت عورت رو رہی تھی۔ روتے ہوئے اس نے اپنے شوہر کا نام پکار کر کہا کہ تم کو جادو سے مروا دیں گے۔ جس پر شوہر کے چچا بولے کہ طلاق ہو گئی۔ تم بھی کہہ دو کہ تم ماں ہم بیٹا۔ جس پر اس کا شوہر بولا کہ تم ماں ہم بیٹا۔ اور بیوی کا نام لے کر کہا کہ تم کو طلاق دیتے ہیں ، تم کو طلاق دیتے ہیں ۔ اسی طریقے سے دو بار کہا۔ اس وقت وہ عورت رو رہی تھی۔ بعد میں دونوں عورتیں نکال دی گئیں اور اپنے اپنے ماں باپ کے یہاں چلی گئیں ۔ پھر نمبر ایک عورت کا شوہر دس دن کے بعد بیوی کو لے آیا۔ اپنے قاضی سے پوچھ کر کہ یہ عورت جائز ہے ، طلاق نہیں ہوئی۔ بعد میں نمبر دو عورت بھی راضی ہے کہ اسی شوہر کے یہاں جائے گی اور شوہر بھی راضی ہے کہ ہم وہی عورت چاہتے ہیں تو اس کا فتویٰ کیا ہوتا ہے۔ شوہر اور کچھ گواہ اور شوہر کا باپ کہتا ہے کہ دو بار طلاق کا نام لیا ہے۔ لیکن ایک دو شخص کہتے ہیں کہ تین بار کہا ہے اور طلاق کی نسبت شوہر کے ماں باپ نے کچھ نہیں کہا کہ تم چھوڑ دو اور نمبر دو عورت کہہ رہی ہے کہ میں رو رہی تھی۔ میں نے طلاق کا نام تک نہیں سنا ہے۔ صرف ماں بیٹا سنا ہے۔ اس کافتویٰ جلد از جلد دیں گے کہ عورت جائز ہو سکتی ہے یا نہیں اور دونوں شوہر بیوی کو چاہتے ہیں ۔

فتاویٰ # 1110

زید نے ہندہ کو حالتِ غیض میں تین طلاقیں دے دیں ۔ یعنی ہندہ سے کہا کہ تمھیں ’’طلاق طلاق طلاق دی‘‘‘ ایسی صورت مین زید ہندہ سے پھر رجوع کر سکتا ہے یا نہیں ؟بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1111

زید نے ہندہ کوبحالتِ نشہ طلاق دی مغلظہ اور ہندہ نے پھر زید مذکور کے پاس چھ شخصوں سے اپیل کی کہ میں زید سے راضی ہوں اور رہوں گی، میرے لیے جو شرعی قانون سے ہو اس پر عمل کرکے مجھے پھر میرے شوہر سے ملا دو ۔ لہٰذا اس کے کہنے پر لوگوں نے مناسب خیال کیا اور بہ وجہ پختگی جانبین سے تحریر لے لی گئی۔ وہ حضرات یہ ہیں ۔محمد صدیق ،محمد حسین، محمد متین، مولوی شاہ محمد۔ لہٰذا عرض یہ ہے کہ آپ بمطابق شرع شریف جو حق ہو۔ بینوا توجروا فقط اللہ الموقف بالحق والصواب۔

فتاویٰ # 1112

زید نے آج اپنی بیوی کو طلاق دی ۔ لیکن عمرو نے اس کے بعد یہ بتایا کہ میں نے زید سے اس کی بیوی کے حق میں ایک سال پیش تر بھی دو شہادتوں کے ساتھ طلاق حاصل کر لی تھی، مگر زید، عمرو اور ہر دو گواہان نے خود عمرو کے ایما سے طلاق کی کارروائی کو صیغۂ راز میں رکھا اور اس ناروا راز داری کے باعث دو صحیح العقیدہ سنیوں کے مابین بلا وجہ دوری اور نزاع کی بنیاد پڑ گئی، متعدد دوستوں کے باہمی تعلقات نہایت مذموم طورپر کشیدہ ہو گئے، نیز بیش تر مسلمانوں کے درمیان میل و محبت کی جگہ نفرت و عداوت کے جذبات مشتعل ہوئے اور ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمرو کی ریشہ دوانیوں کے سبب اس سلسلہ میں درمیانی بزرگوں کو ایک طویل زحمت سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ بھی واضح رہے کہ عمرو کے بیان کے مطابق زید نے اپنی بیوی کو آج سے ایک سال قبل طلاق دی ، لیکن ابھی چند مہینے گزرے ہوں گے کہ زید نے برادری کی پنچایت میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا وعدہ کیا اور اس کے بعد زید کے بزرگوں نے زوردار طریقہ پر یہ سفارش بھی کی کہ لڑکی کی رخصتی کرا دی جائے۔ پس خدا نخواستہ زید کی بیوی رخصت ہو جاتی تو عمرو کی متذکرہ راز دارانہ کارروائی کی وجہ سے معاذ اللہ حرام کاری کا دروازہ بند ہو جاتا۔ ان حالات میں فقہ حنفیہ کی روشنی میں جواب مطلوب ہے کہ: (۱).زید کی بیوی پر عدت آج طلاق کے وقت سے وارد سمجھی جائے گی یا عمرو کے بیان کردہ طلاق سے زمانۂ عدت کا شمار ہوگا؟ اگر ایسا ہی ہوگا تو زمانۂ عدت میں نادانستگی کے سبب عورت کے گھر سے باہر نکلنے اور آنے جانے کے غیر شرعی فعل کا مواخذہ کس سے ہوگا؟ (۲).آج کی طلاق کے ساتھ یہ شرط مربوط ہے کہ عورت کے مطالبۂ طلاق کی بنا پر طلاق دی گئی ہے ، لہٰذا عورت رقم، مہر و خرچہ پانے کی مستحق نہیں ، لیکن عمرو کی بیان کردہ طلاق ہی شرع کے نزدیک قابلِ تسلیم ہے۔ تو اس صورت میں زید کی رقم مہر و خرچہ پانے کی حق دار ہے یا نہیں ؟ جب کہ ظاہر ہے کہ سابقہ طلاق کے وقت عورت کے مطالبۂ طلاق کا کوئی سوال نہ تھا۔ (۳).ایک سال پہلے والی طلاق کو چھپانے کی بنا پر عمرو نے جو عام فتنہ برپا کیا اور سنی مسلمانوں کے دلوں میں باہمی نفرت کی آگ بھڑکائی اور اس مذموم کارروائی میں دو گواہوں اور خود زید نے عمرو کا ساتھ دیا، لہٰذا شرع الٰہیہ کے نزدیک عمروو زید اور دونوں گواہوں کے لیے کیا حکم ہے، آیا ان کی حرکت غیر ایمانی اورشیطانی ہے یا نہیں ۔ (۴).طلاق کو چھپانے کے باعث اگر زید کی بیوی کی رخصتی ہو جاتی تو طلاق کے بعد میاں بیوی کے اختلاط کے ذریعہ ہونے والی حرام کاری کا ذمہ دارکون ہوتا؟ ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرمائیے کہ اس حرام کاری کے ذرائع پیدا کرنے والوں کے لیے خدا اور رسول کا کیا حکم ہے؟ (۵).اگر طلاق راز میں نہ رکھی جاتی تو اب تک غالباً زید کی بیوی زمانۂ عدت گزار کر نکاحِ ثانی کر چکی ہوتی، لیکن عمرو وغیرہ کی اس حرکت کی وجہ سے ایک عورت کو بلا وجہ تا دیر مجرد زندگی گزارنی پڑتی۔ کیا یہ حق دار کا حق غصب کرنے اور بے گناہ پر ظلم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ اگر ہے تو اس ظلم کرنے والے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ امید کہ حضورِ عالی استفتا پیش نظر کا تفصیلی جواب عطا فرماکر شکریہ کا موقع دیں گے۔

فتاویٰ # 1113

ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی ہے اب وہ دونوں آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کا نکاح ہوگا یا نہیں ۔ یعنی تین طلاقیں ہو چکی ہیں ۔

فتاویٰ # 1114

(۱).زید اور ہندہ کے درمیان خانگی معاملات میں کچھ ایسی باتیں ہو گئیں کہ زید نے ایک روز حالت نشہ میں بذریعہ خط لکھ کر دیا کہ تم کو ہم نے متعدد بار سمجھایا مگر تم اپنی حرکت سے باز نہ آئی ،اس سے ہم نے تم کو طلاق دیا، طلاق دیا، طلاق اب تم سے ہم الگ ہو گئے، لہٰذا جس قدر میرے زیورات تمہارے پاس ہیں اس کی قیمت سو روپیہ سے زائد ہے لہٰذا دین مہر مبلغ سو روپیہ تم وضع کر کے باقی زیورات واپس کر دو۔ (۲).زید کہتا ہے کہ جب نشہ ٹوٹ گیا تو ہم نے عورت کے پاس معافی کا خط لکھا، چناں چہ اس نے معاف کر دیا۔ بعدہ آٹھ ماہ تک بیوی کا خرچہ بذریعہ منی آرڈر ماہ بہ ماہ دیتے رہے۔ پھر عورت نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ آپ مجھے اپنے پاس بلا لیجیے، چناں چہ سفر خرچ مبلغ پچیس روپے اور بھیج دیے۔ عورت اپنے عزیز کے ہم راہ کلکتہ چلی آئی۔ اس وقت عورت اپنے عزیز ہی کے پاس ہے ۔ یہاں علما کے پاس یہ مسئلہ رکھا گیا تو یہ جواب ملا کہ عورت زید کی ملک سے نکل گئی، زید دریافت کرتا ہے کہ طلاق کے بعد جو رقم زید نے بیوی کے پاس روانہ کی اس کے واپس لینے کا حق رکھتا ہے یا نہیں اور وہ رقم نفقہ و دین مہر میں وضع کی جا سکتی ہے یا نہیں اور جو زیورات بیوی کے پاس ہیں وہ زید واپس لے سکتا ہے یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1115

خدیجۃ النسا کی شادی منیر احمد کے ساتھ ہوئی تھی مگر خدیجۃ النسا کو نان و نفقہ کی تکلیف ہے۔ ایک بار خدیجۃ النسا کی والدہ، چچی اور چچا خدیجۃ النسا کے سسرال گئے اور منیر احمد سے خدیجۃ النسا کے گزر اوقات کے متعلق گفتگو کرنے لگے، منیر احمد کو ان لوگوں کی باتیں ناگوار معلوم ہوئیں ۔ اس نے غصے میں یہ الفاظ کہنا شروع کیا کہ میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا۔ زائد الفاظ کہتا ہوا مکان سے باہر نکل آیا۔ اس وقت منیر احمد کے یہ الفاظ ہندہ کی والدہ، چچی و چچا اور ہندہ نے بھی خوب اچھی طرح سے سنے اور ایک شخص محلہ کا ہے ، اس کا بیان یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صرف لفظ طلاق سنا حالاں کہ یہ شخص پہلے سے اس جگہ موجود نہ تھا۔ اب منیر احمد زبانی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں قرآن اٹھا کر پنچایت میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے یہ کہا تھا کہ ہندہ کی والدہ کہیں تو ہم طلاق دیں اور بلکہ پنچایت میں کلام پاک لے کر کھڑا تھا یہی الفاظ کہنے کے لیے اور خدیجۃ النسا کی والدہ، چچی اور چچا اور ہندہ بھی قرآن پاک اٹھانے کے لیے تیار ہیں کہ منیر احمد نے تین مرتبہ سے بھی زیادہ کہا کہ میں نے طلاق دیا، جواب درکار ہے۔

فتاویٰ # 1116

اقرار نامہ اور معاہدہ کی رو سے بجاے ایک ماہ کے سات مہینہ گزر گیالیکن قدرتی میاں نے کنیز فاطمہ کی کسی طرح بھی کچھ بھی کھوج خبر نہ لی، ایسی حالت میں طلاق عائد ہو گئی یا نہیں اور یہ گزری ہوئی سات مہینے کی مدت عدت میں لی جا سکتی ہے یا نہیں ۔ ایک جوان غریب پردہ نشین عورت بے گناہ بے بسی ماری جاتی ہے۔ اس کا علماے دین شرع متین کے مطابق جو حق فیصلہ ہو جلد صادر فرما کر مستحق ثواب ہوں اور مدعیہ کو بھی شکریہ کا موقع دیں ۔ خدا حافظ۔

فتاویٰ # 1117

ہم نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کے متعلق یہ جملہ لکھ دیا جو کہ ذیل میں تحریر کیا ہوں : ’’میں اپنی بیوی بتول کو طلاق طلاق طلاق لکھتا ہوں ۔‘‘

فتاویٰ # 1118

میرے اور اہلیہ کے مابین وقتی شکر رنجی اور حالت غضب میں بات بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی کہ میں نے عزم کر لیا کہ اپنی زوجۂ منکوحہ کو بعد از فراہمیِ مہر اپنی قیدِ نکاح سے علاحدہ کر دوں گا۔ پھر چند مخلص رفقا اور گھر کے ذمہ داران حضرات کے سمجھانے بجھانے سے باز آگیا۔ کیا فقط ارادہ اور عزم سے زوجہ پر طلاق واقع ہوگی، مدلل بیان فرمایا جائے۔

فتاویٰ # 1119

آج بتاریخ ۲؍جنوری ۱۹۵۹ء بروز اتوار بمقام احاطہ مڑوا ڈیہ ایک پنچایت منعقد ہوئی، جس میں محمد یوسف ولد رحمت علی عرف متولی ساکن موضع پنڈت پور تھانہ روہنیہ ضلع بنارس اور اس کی بیوی مسماۃ قمر النسا دختر عبد الرحمن ساکن موضع تہار تھانہ کینٹ ضلع بنارس موجود تھے۔ پنچایت مذکور میں شوہر و بیوی کے باہمی تعلقات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ مسماۃ قمر النسا مذکور نے روبرو پنچایت میں بیان دیا کہ اپنے شوہر مسمیٰ محمد یوسف مذکور کے ساتھ نہیں رہ سکتی، میں طلاق چاہتی ہوں ، مجھے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے میں بہت تکلیف ہے، مجھے عیب ناجائز لگا دیا ہے۔ لڑکی مذکور کے بیان ختم ہونے کے بعد مسمیٰ محمد یوسف مذکور نے اپنا بیان رو برو پنچایت حسب ذیل الفاظ میں دیا کہ میں اپنی بیوی مسماۃ قمر النسا کو نہیں رکھ سکتا ہوں اور قمر النسا بنت عبد الرحمن کو طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ۔ رو برو پنچایت صرف زبانی طلاق دیا، تحریر نہیں ہے۔ جس وقت لڑکے نے طلاق دیا اسی وقت پنچایت میں دو فریق ہو گئے۔ ایک فریق کہتا ہے کہ طلاق ہو گئی، دوسرا فریق کہتا ہے طلاق زبانی ہم لوگ نہیں مانتے بلکہ تحریر چاہتے ہیں ۔ دونوں فریق میں اتنا جھگڑا ہوا کہ نتیجہ خراب ہو گیا۔ لڑکا طلاق دے کر اب انکار کرتا ہے کہ جب تک مبلغ پانچ سو روپے نہیں ملے گا، اس وقت تک تحریری طلاق نامہ نہیں لکھوں گا، صرف زبانی ہے۔ بعد اس کے مجلس برخاست ہو گئی۔ اب لڑکے نے دوسرا نکاح کر لیا ہے اور لڑکی نے بھی دوسرا عقد اپنا کر لیا ہے ۔ دونوں صاحبِ اولاد ہیں ۔ جس جگہ قمر النساء نے دوسری شادی کر لی ہے ، اس کے شوہر اور والدین کو پریشان کرنے کے لیے فریقِ ثانی کہتا ہے کہ تم لوگوں نے بغیر طلاق عورت سے نکاح کیا ہے، اس لیے برادری سے الگ ہو جاؤاور تمہارا حقہ اور کھانا پینا برادری سے الگ کیا جاتا ہے اور تم لوگوں کو کسی معاملہ میں شریک نہیں کیا جائے گا، جب تک تم لوگ توبہ نہ کرو اور مسماۃ قمر النسا کو علاحدہ نہ کروگے ، اس وقت تک برادرانہ تعلقات ختم ہیں ، یا اس کا فتویٰ منگا کر اپنا معاملہ صاف کر لو ۔ اس لیے لڑکی کا دوسرا شوہر اور گھر کے لوگ پریشانی میں ہیں ۔ ان سب وجہوں سے مسماۃ قمر النسا کی طلاق ہوئی یا نہیں اور اس کا نکاحِ ثانی صحیح ہے یا نہیں ، اس کا فتویٰ طلب ہے۔

فتاویٰ # 1120

طلاق نامہ مسماۃ ہندہ کا بذریعہ رجسٹری ملا اور کاتب فی الوقت انتقال کر گیا ہے۔ کاتب کی موت کے بعد پنچایت میں لڑکے(زید) نے اپنے دستخط سے انکار کیا۔ گواہ اول نے بتایا کہ کاتب میرے پاس آیا اور گواہ کے طور پر دستخط کرنے کے لیے کہا ، دریافت کرنے پر کہا زید ہندہ کو طلاق دے رہا ہے ، میں نے دستخط کر دیا، زید سے کچھ نہیں سنا۔ گواہ دوم نے کہا کہ کاتب آئے اور مجھ سے اس کاغذ پر دستخط کرنے کے لیے کہا ، میں نے دستخط ثبت کر دیا اور میں کچھ نہیں جانتا۔ کاغذ کی تحریر کا علم دو تین دن کے بعد ہوا۔ ہندہ کو رجسٹری ملنے کے بعد ہندہ کے ایک عزیز کاتب سے ملے اور سوال کیا کہ یہ آپ نے کیا کیا ، کاتب نے جواباً کہا کہ ہم نے جو کچھ کیا سب ٹھیک کیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ موجودہ صورت میں کیا طلاق ہوگی؟

فتاویٰ # 1121

زید کی شادی مطابق شریعتِ محمدی ﷺ قریب ۱۵؍۱۶؍ سال ہوئے مسماۃ رقیہ سے ہوئی اور زید کے نطفے سے رقیہ کے بطن سے چار اولادیں تین لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی، جو زندہ ہیں لیکن رقیہ کو کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، کیوں کہ زید بالکل ہی اس کے خورد و نوش کا خیال نہیں کرتا تھا۔ تاہم رقیہ اس کے گھر صبر سے پڑی رہی اور کچھ دنوں کے بعد قریب آٹھ نو سال ہوئے کہ اس نے اپنے باپ سے اپنی تکلیف کا اظہار کیا ۔ رقیہ کے باپ بہ رضا مندی زید رقیہ کو اپنے گھر لے آئے، جب سے ان کے پاس ہے۔ نو برس کے درمیان میں زید چار بار آیا ۔ دو مرتبہ لڑکوں کو پندرہ دن کے لیے بھیجا تھا، اس کے بعد کچھ کھوج خبر نہیں لیا ۔ اس کے بعد رقیہ کے کہنے پر (اپنے میں پرورش کی طاقت نہ پا کر)رقیہ کے والد زید کے وہاں گئے اور یہ بات کہی کہ ہم کب تک یہ بار برداشت کریں گے، یا تم طلاق دے دو یا اس کی اور اپنے بچوں کی پرورش کا انتظام کرو۔ زید برابر حیلہ وحوالہ کرتا رہااور یہ کہتا رہا کہ جب ہم کو کوئی آمدنی ہوگی تو لاویں گے اور نو برس کے درمیان میں کوئی اولاد نہیں ہوئی، کیوں کہ بالکل علاحدگی رہی اور چھوٹا لڑکا رقیہ کے میکے میں چھ مہینے کا ہوا۔ رقیہ اور اس کے والد بضدہوئے اس پر زید نے ایک تحریرمورخہ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء کو بطور طلاق نامہ لکھ دیا اور تین طلاق دیا، لیکن رقیہ وہاں موجود نہیں تھی، اور زید کا کہنا ہے کہ ہم نے غصہ میں طلاق لکھا اور تین طلاق دیااور رقیہ کے والد کے ذریعہ طلاق نامہ رقیہ کو ملا اور ان کی زبانی طلاق دینے کا حال اسی روز معلوم ہو گیا۔ بعد میں تاریخ ۲۳؍ جنوری۱۹۵۵ء ایک تحریر رقیہ کے نام اپنے لڑکے کے ذریعہ جو نابالغ ہے بھیجا جو اتفاقاً اپنے نانا کے ساتھ زید کے گاؤں میں چلا گیا تھا کہ میں محی الدین (زید) پسر نور الحسن ساکن سکندر پور محبوب النسا رقیہ کو مطلع کرتا ہوں کہ ہم نے تمہاری طرف شرعی طور سے رجوع کیا۔ بہتر ہے کہ تم میرے گھر چلی آؤ۔ اس کے گواہان عبد المعید اور بشیر الدین ہیں ۔ بقلم خود، مورخہ ۲۳؍ جنوری ۔ لیکن اس لڑکے نے اپنی نانی کو وہ تحریر دی۔ نانی جھنجھلا گئی۔ جب رقیہ کے پاس خط گیا تو لینے سے انکار کر دیا، اس کی تحریر پڑھوا کر نہیں سنا۔ اب سوال یہ ہے کہ: (۱).مورخہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء کی تحریر کے مطابق محبوب النسا رقیہ کی طلاق ہوئی کہ نہیں ؟ (۲).اگر طلاق رجعی ہو تو ۲۳؍ جنوری ۱۹۵۵ ء کی تحریر کے مطابق رجعت ہوئی یا نہیں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طلاق رجعی ہوئی۔ (۳).کیا رقیہ بحالت سابق نکاحِ سابق پر جا سکتی ہے اور زید کی زوجیت میں رہ سکتی ہے؟ (۴).کیا زید لڑکے لڑکیاں لے سکتا ہے، جب کہ لڑکے جانے پر راضی نہ ہوں اور ان لڑکوں کا خرچہ بحالت لینے لڑکوں کے زید پر ضروری ہے یا نہیں ، بلا خرچہ ادا کیے زید لڑکوں کو لے سکتا ہے؟ براے کرم مندرجہ بالا سوالوں کے جواب بروے شرع جلد از جلد اس پتہ پر روانہ فرمائیں تاکہ ایک بہت بڑا فتنہ و نزاع ختم ہو۔

فتاویٰ # 1122

زید اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے پھر اب اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے تو کس طرح لاسکتا اور نکاح کرسکتا ہے ۔

فتاویٰ # 1123

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد پھر اسے رکھ لیا ، جس کو بہت عرصہ ہو رہا ہے ۔ اس کی طلاق سے پہلے بھی اولادیں ہیں اور بعدِ طلا ق پھر چند اولادیں ہیں ۔ یہاں کا دستور ہے کہ ہر نکاح کے واسطے جماعت سے اجازت نامہ کا پروانہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اب صورتِ مسئولہ میں جماعت ان لڑکوں کے نکاح کے واسطے پروانہ دے یا نہ دے، یعنی نکاح میں رکاوٹ پیدا کرے اس خیال سے کہ شاید اس سختی سے بھی اپنے ناجائزفعل سے رک جائے ۔ جماعت کا خیال ہے کہ لڑکا اگر اپنی والدہ اور والدسے الگ ہو جائے تو نکاح کا پروانہ(چھٹی) دیا جائے گا۔ جماعت کا یہ خیال شریعت مطہرہ سے درست ہے یا غلط؟ بینوا و توجروا۔

فتاویٰ # 1124

کلو جب اپنی بیوی کی رخصتی کرانے اپنی سسرال گیا، کلو کی ساس نے کلو سے کہا کہ تمہارے ساتھ ہماری لڑکی کا گزر نہیں ہوگا میں آنچل پھیلاتی ہوں جواب دے دو، تب کلو نے کہا جواب لے لو ۔ جواب لے لو ۔

فتاویٰ # 1125

زیدنے اپنی اہلیہ کو دو مرتبہ طلاق دیا ۔ اور تیسری مرتبہ بوجہِ غصہ اہلیہ کی والدہ کو طلاق دیا ۔ چونکہ زید بہت بے چین ہے اور پریشان ہے اور چاہتا ہے کہ پھر اپنی اہلیہ کو رکھوں تو رکھنے کا کون سا طریقہ ہوگا اور طلاق دیے قریب قریب تین ماہ کا عرصہ ہوا ہے ۔ زید کی اہلیہ بھی رہنے پر راضی ہے اور اس کے والدین بھی راضی ہیں ۔

فتاویٰ # 1126

محمد تقی نے کہا اپنے لڑکے اقرب علی سے کہ تم طلاق دے دو اپنی بیوی کو تو اقرب علی نے کہا’’ اٹھ ہم نے تجھے تلاق دے دیا۔‘‘ دو مرتبہ کہا کہ ہم نے تجھے تلاق دے دیا ۔ فقط۔ اس کا اصل قصہ ساس بہو میں جھگڑا ہوا ۔ ہم فقیر کے دروازے پر آکے بیٹھے، وہاں سے بھی ہم کو کھدیر دیاتو ہم یتیم کے یہاں جا کے بیٹھے وہاں سے بھی بھگا دیا۔

فتاویٰ # 1127

میرے شوہر نے مورخہ ۹؍ یا ۱۲؍ دسمبر ۵۰ء کو آکر طلاق دیا اور اس طرح سے لکھا جو کہ حسب ذیل مندرج ہے:میں کہ صابر علی ولد امانت علی شاہ موضع بشن پورہ، ٹنٹنوا تھانہ پچپڑوا ضلع گونڈہ کا ہوں جو کہ آج بتاریخ ۹؍ یا ۱۲؍ دسمبر ۵۰ء اپنی عورت عجیب النسا کو جو کہ لال محمد شاہ موضع کبد گورا تھانہ، پچپڑوا، ضلع گونڈہ کی لڑکی ہے اپنی خوشی، رضا مندی و درستی عقل سے طلاق دیتا ہوں اور یہ اقرار کرتا ہوں کہ مسماۃ سے مجھے کوئی واسطہ نہیں اور جو کچھ زیور وغیرہ تھا وصول پا کر اقرار نامہ بطور رسید لکھ دیا کہ سند رہے اور وقت ضرورت کام دے۔ اسی طرح سے لکھا اور زیور واپس لیا ۔ زیور جب لے لیا تو ایک تیسرا آدمی طلاق نامہ نوچ کر پھینک دیا اور چلے گئے تو طلاق ہو گئی کہ نہیں اوربچپن میں صرف رسم ادا کرنے شوہر کے گھر گئی تھی ، عدت کیا ہے اور مہر کا کیا حق ہے۔

فتاویٰ # 1128

جس کا شوہر اقرار کر چکا ہو بلکہ اقرار نامہ لکھ دیا ہے کہ اپنی عورت کے ساتھ کوئی بیجا حرکت کرے تو پنچوں کو اختیار ہے جو چاہیں کریں پھر اس نے اپنی عورت کے ساتھ بہت بڑی بیجا حرکت کی کہ اس کا ناک ہاتھ چاقو سے کاٹ دیا اور سرکار کی طرف سے اس کو پانچ سو روپیہ جرمانہ اور دو سال کی سخت سزا ہوئی ۔ ایسی حالت میں کیا عورت اپنا ثانی نکاح کر سکتی ہے؟ جو احکام شرعی ہوں اس کو فرمائیں ۔

فتاویٰ # 1129

محمد سعید نے غصہ میں اپنی بیوی سے پانی مانگا۔ پانی لانے میں تاخیر ہوئی، اس پر وہ اور برہم ہو گیا اور پھر اپنی بیوی سے کہا، میں نے تم کو طلاق دیا، میں نے تم کو طلاق دیا، تو اب یہ طلاق پڑی یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1130

ایک شوہر نے اپنی جائداد کے خراب اور اکثر سامان خانہ داری کو فروخت کر کے اپنی نو عمر بیوی مع ایک بچہ کے مکان میں چھوڑ کر آوارہ گردی اختیار کر لی۔ جب عورت کے نان و نفقہ کی صورت نہ رہ گئی تو وہ اپنے میکے جا کر بسر اوقات کرنے لگی۔ چار سال تک انتظار کرنے کے بعد جب شوہر کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو عورت اس شوہر سے طلاق کی طلب گار ہوئی مگر شوہر نے طلاق دینے سے انکار کیا۔ عورت نے موضع کے چند مسلمانوں کو اکٹھا کیا ، اس میں بھی شوہر حاضر ہونے سے انکاری ہوا۔ شوہر کی کج خلقی، آوارگی اور بربادیِ جائداد وغیرہ کے سبب عورت کسی صورت شوہر کے یہاں جانے کے لیے رضا مند نہ ہوئی۔ عورت کی عصمت دری کا اندیشہ دیکھ کر عورت کے والدین اور چند دیگر اشخاص نے شوہر سے جبراً و قہراً طلاق نامہ لکھوا کر بعد گزرنے عدت کے عورت کا عقد ثانی کر دیا۔ پس (۱).یہ طلاق و عقد ثانی جائز ہوا یا نہیں ؟ (۲).اگر جائز نہیں ہوا تو دوسری صورت کیا ہے؟ (۳). ایسے نکاح پڑھانے والے پر کیا حکم ہے۔ بحوالہ کتب اہل سنت مع دستخط و مہر جواب ارسال فرمائیں ۔

فتاویٰ # 1131

خاتون نابالغ لڑکی ہے، جس کا نکاح اس کی ماں کی اجازت سے ہوا تھا، آیا درست ہے یا ناجائز ہے ۔ اگر درست ہے تو زید اس سے دست بردار ہونا چاہتا ہے جو نابالغ ہے ۔ خاتون عرصہ تین برس سے سسرال میں رہتی ہے ۔ عدت و مہر کا کتنا خرچہ زید پر عائد ہوتا ہے؟

فتاویٰ # 1132

حفیظ اللہ نے اپنی بیوی سے ناشتہ مانگا، اس نے کہا کہ ناشتہ نہیں ہے ، اسی میں آپس میں گستاخی اور بے ادبی کے ساتھ بات چیت ہوئی ۔ حفیظ اللہ محلہ کے تین آدمیوں کو بلا لائے، عظیم اللہ، لقمان سردار، لال محمد۔ ان لوگوں کے سامنے حفیظ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دیا، طلاق دیا، جب تیسری مرتبہ طلاق دینا چاہا تو لقمان سردار نے اٹھ کر زور سے منہ بند کر دیا۔ شوہر کچھ بول رہا تھا مگر آواز صاف نہیں نکلی۔ پھر لقمان سردار نے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا تو حفیظ اللہ نے کہا کہ جو کچھ ہمیں کہنا تھا کہہ دیا ، اب اس کو اس کے میکے پہنچا دو ۔ بیوی کے والد کے ساتھ زیور وغیرہ اتار کر رخصت کر دیا۔ پھر چار ماہ سات روز کے بعد حفیظ اللہ نے اپنی بیوی کو لا کر رکھ لیا تو پنچ لوگوں نے حفیظ اللہ کو بلا کر پوچھا کہ تیسری مرتبہ کیا کہہ رہے تھے تو حفیظ اللہ نے کہا کہ ہم وہی کہہ رہے تھے جو پہلے دو مرتبہ کہہ چکے ہیں ۔ اور گواہ لقمان سردار سے پنچ لوگوں نے پوچھا کہ تمہارے نزدیک طلاق ہوئی تھی یا نہیں ۔ گواہ لقمان سردار نے کہا کہ میرے نزدیک طلاق ہو گئی تھی۔ از روے شرع اس مسئلہ میں کیا حکم ہے؟

فتاویٰ # 1133

اگرزید نے اپنی بیوی سے کہا تم ہماری ماں ہو اور ہم تمہارے بیٹا ہیں اورزید نے بارہا اس جملہ کو استعمال کیا اور کہا ہم تمہیں نہیں چاہتے ہیں،تم میری نظر سے دور ہو جاؤ کہ ہم تمہارے شکم کی پیدا ہیں اورزید نے اپنی بیوی کی پستان سے منہ لگا کر دودھ زبردستی پیا، اس کی بیوی دودھ پیتے وقت بولی آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو زید نے جواب دیا کہ مجھے ماں کادودھ پینے کی عادت ہے ، اس لیے میں پیتا ہوں اور اپنی بیوی کے بولنے کی وجہ سے بری طرح اسے مارا ہے ۔ وہ عورت کہتی ہے اور بستی والے بھی اس واقعہ سے واقف ہیں ۔ اور زید تین برس چھ ماہ سے فرار ہے اور اس کی بیوی ساڑھے تین برس سے مزدوری کر کے اپنی پرورش کررہی ہے ۔ اب وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہے ۔ لہٰذا اب دوسرے شخص سے اس کا نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1134

زید اور زوجۂ زید میں کسی لا یعنی بات پر گفت و شنیدبڑھی، یہاں تک کہ زید نے طیش میں آکر ہندہ سے کہا کہ ہم تمھیں طلاق دیا۔ اس کے بعد زید لیٹ گیا۔ ہندہ نے اپنی بک بک جاری رکھی۔ اس بنا پر زید نے جھنجھلا کر کہا کہ اب کیا بک بک کرتی ہے ، ہم تو تمھیں چھوڑ دیا۔ بعد ازاں ہندہ نے اپنی ماں کو بلایا۔ ماں نے آکر جب سناکہ طلاق دیا ہے، والدۂ ہندہ واپس چلی گئیں ۔ اور دو آدمیوں کو بھیجا، ان دو آدمیوں نے آکر پوچھا کیا معاملہ ہے؟ تو زید نے کہا ہاں ان کو چھوڑ دیا ہے اور لے جاؤ، تو ان دونوں نے کہا کہ تین دفعہ طلاق دیا ہے، زید نے کہا کہ ہاں ۔ تو وہ آدمی لے کر چلے گئے ۔ اس کے بعد مولوی صاحب سے پوچھا کہ ہم اپنی بیوی کو چھوڑ دیاہے ،اب اس کو رکھ سکتے ہیں ، تو کہنے لگے کہ نہیں ۔ دوسرے مولوی صاحب کے پاس گئے تو انھوں نے کہا جس سے بھی تم نے کہا ہے کہ ہم نے چھوڑ دیا وہ طلاق میں شمار کیا جائے گا۔ عمرو یہ کہتا ہے کہ ’’ہم نے چھوڑ دیاہے‘‘کھلا اقرار اس کو اپنے فعل کا ہے ، کیا کسی جرم کے اقرار کو جرمِ ثانی قرار دینا جہالت ہے؟ لہٰذا از روے شرع شریف جواب دیا جائے ۔

فتاویٰ # 1135

ولی محمد ولد سلامت اللہ ساکن محلہ پورہ رانی قصبہ مبارک پورضلع اعظم گڑھ حال ساکن بمبئی محلہ مدن پورہ نے جس کی شادی شکر اللہ ولد عبد الواحد ساکن ولید پور محلہ بھٹی کی دختر مسماۃ حمید النساء سے ہوئی ہے ۔ ۱۴؍ جنوری ۱۹۴۵ء کو پنچوں کے سامنے روزنامہ لکھا ہے کہ اگر کسی مہینہ میں کسی وجہ سے مبلغ پانچ روپیے بذریعہ ڈاک روانہ نہ کر سکا تو قانوناً اور شرعاً طلاق سمجھا جائے ۔ اب عرض ہے کہ صرف ۲۹؍ جنوری ۱۹۴۵ء کو پانچ روپیہ وصول ہوا، اس کے بعد سے آج ۶؍ جون ۱۹۴۵ء تک کچھ وصول نہ ہوا ۔ روپیہ ادا نہ کرنے کے متعلق باتصدیق معلوم ہوا کہ جنوری کے بعد کسی اور مہینہ میں یعنی اب تک ۶؍ جون تک روپیہ روانہ نہیں کیا اور تین حیض کی مدت بھی گزر چکی ہے ، شرعی اور قانونی رو سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔ طلاق واقع ہونے کی صورت میں عدت کا شمار کب سے ہوگا ۔ عدت کے اند ر ولی محمد نے ایک عورت کو بھیجا کہ وہ اس کی زوجہ مسماۃ حمید النساء کو بلا کر زید کے مکان پر پہنچائے۔مگر حمید النسا کو اس کے والدنے نہیں بھیجا تو ولی محمدکایہ فعل، طلاق واقع ہونے کی تقدیر پر رجعت ہوگا یا نہیں ۔ فقط۔

فتاویٰ # 1136

میری دو بیویاں ہیں ۔ ایک شب دوسری بیوی نے کہا کہ مجھے سوکن(سوتن) کا ساتھ برداشت نہیں ہوتا، بہتر ہے کہ تم مجھ کو چھوڑ دو۔ میں نے کہا اپنے طرف سے ایسا ہر گز کرنے کو تیار نہیں اورنہ د نیا کی کوئی طاقت مجھ سے ایسا کرا سکتی ہے، ہاں اگر تمہاری مرضی یہی ہے تو اس پر غور کروں گا۔ دوسرے دن ایک مسودہ اس خیال سے تیار کر لیا گیا کہ اگر کل تک آپس میں کوئی مفاہمت نہیں ہوئی تو طلاق نامہ نافذ کر دوں گا اور چوں کہ مفاہمت کی امید تھی، اسی وجہ سے اس طلاق نامہ پر میں نے آنے والے کل کی تاریخ ڈالی تھی اور اپنے دستخط بھی اس پر نہیں کیے تھے، اس کے میرے پاس گواہ ہیں اور نہ میں نے اس تحریر کو اپنی بیوی کو دکھایا تھا ۔ پھر اس دن میں نے ایک شخص کو بھیج کر معلوم کرنا چاہا کہ اب ان کی کیا راے ہے ۔ میرے بھیجے ہوئے آدمی نے میری بیوی سے گفتگو کر کے آکر مجھے اطلاع دی کہ اب تمہاری بیوی کے خیالات تبدیل ہو گئے ہیں اور وہ طلاق نہیں چاہتی، اس لیے میں نے خاموشی سے موجودہ طلاق نامہ نذر آتش کر دیا۔ کیا ایسی حالت میں از روے شرع میری بیوی مجھ سے علاحدہ ہو گئی ، جب کہ طلاق اس کی مرضی پر تھی اور نفاذ سے پہلے ہی اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اس انکار کے بعد میں نے خاموشی سے اپنی بیوی کو کسی قسم کی اطلاع کے بغیر وہ طلاق نامہ جو نامکمل اور مؤقت تھا یعنی کہ جس پر میں نے اپنے دستخط نہیں کیے تھے اور جس پر آنے والے کل کی تاریخ تھی، نذر آتش کردیا۔ بینوا وتوجروا

فتاویٰ # 1137

عزیز اللہ کے سالے نے نیز اس کی زوجہ نے طلاق کے لیے کہا ۔عزیز اللہ نے کہا کس لیے طلاق دوں پھر اس کے سالے نے جواب دیا کہ تم بیچنے چلے جاتے ہو جس کی وجہ سے ہماری ہمشیرہ کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس پر اس کے شوہر یعنی عزیز اللہ نے کہا میں بیچنے نہ جاؤں گا اور کہیں مکان تلاش کر کے رہوں گا ،وہیں لے چلوں گا اور اپنے پاس رکھوں گا۔ اس پر اس کے سالے نے کہا اس پر کوئی شرط لکھ کر مکان تلاش کرنے جاؤ تمہارا کیا اعتبار ہے، اس کے بعد عزیز اللہ نے کہا دو ماہ کے لیے۔ ان لوگوں نے اس کو منظور نہیں کیا اور کہا کہ ایک ہفتہ کے لیے لکھو۔ اگر میں ایک ہفتہ میں مکان تلاش کر کے نہ آؤں تو طلاق ہے۔ اس کے بعدعزیز اللہ کہیں چار ماہ تک نہیں گیا اور اس کی بیوی اس کے ہمراہ رہتی تھی بعد چار ماہ کے مال لے کر وہ پھر بیچنے گیا اور جب باہر آنے جانے لگا تو کوئی شرط نامہ نہیں لکھا گیا، برابر آتا جاتا رہا ،بیس بائیس دن میں آتا تھا مگر ایک مرتبہ زیادہ دیر ہوگئی چار مہینہ میں آیا۔ اس اثنا میں یعنی عزیز اللہ کے باہر جانے کے تین ماہ بعد اس کی بیوی نے دوسرا عقد کرلیا ۔عزیز اللہ جب جاتا تھا تو اس کی رضا مندی سے جاتا تھا پس ایسی صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور عقد ثانی درست ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1138

میرا شوہر احمد ولد اسماعیل عرصہ سے تاڑی شراب وغیرہ پیتا تھااور جوا وغیرہ کھیلتا تھا اور میری خبر گیری نہیں کرتا تھا ، یہاں تک کہ میرا زیور بیچ کر انھیں کاموں میں صرف کر دیااور مجھے کھانے پینے کی بھی تکلیف ہونے لگی، اسی وجہ سے میں اپنے میکے چلی آئی تو کچھ روز کے بعد میرا شوہر سید آل حسن صاحب اور اپنے والد اور ایک ہندو ماتا پرشاد کو لے کر میرے والد کے مکان پر آیا اور برادری کے کئی آدمی کو جمع کر کے اپنی غلطیوں کا اقرار کیا اور کہا کہ ہم آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔ اگر ہم آئندہ تاڑی شراب پئیں یا جوا کھیلیں تو ہماری بیوی کو طلاق اور طلاق کا لفظ تین مرتبہ کہا اور اس کے متعلق ایک تحریر لکھ کر میرے والد کو دے دیا تو اس کے بعد میں اپنے شوہر کے مکان پر چلی آئی۔ دو مہینے تک اس کی حالت اچھی رہی ، لیکن اس کے بعد ایک روز پی کر آیا اور جھک بک کرنے لگا اور اس کے منہ سے بد بو آتی تھی اور اسی حالت میں اپنے کپڑے وغیرہ لپیٹ کر اپنی والدہ سے کہنے لگا میری خطا قصور معاف کرو، اب میں جاتا ہوں اور اب میں نظام الدین پور میں نہیں آؤں گا۔ پھر اس کے بعد ایک روز دوپہر کو روپیہ لے کر بازار سودا لانے گیا تو شام کو آیا اور اس کے منہ سے بدبو آرہی تھی، اسی حالت میں مجھے گالیا ں دینے لگا اور اپنے بدن کا کپڑا پھاڑ کر کھپڑے پر پھینک دیا اور اس کی ماں بھاوج کہنے لگیں کہ بدبو اس کے پینے کی آتی ہے ، پھر اس کے بعد ایک روز اپنی بھاوج اور باپ کے سامنے مجھے کہا کہ تو اب جا میں نے تجھے طلا ق دیا۔ مندرجہ بالا تمام باتیں صحیح ہیں اور میں ان تمام باتوں کو حلف کے ساتھ بیان کر سکتی ہوں ، لہٰذا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مجھے طلاق ہوئی یا نہیں اور کس قسم کی طلاق ہوئی از روے شرع جوحکم ہو اُسے بیان فرمایا جائے۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1139

زید اپنے مکان کے باہر دروازہ پر چاندنی رات میں بیٹھا تھا اس کی پردہ نشیں بیوی دروازہ پر آئی، ایک اجنبی شخص کو گزرتے پاکر زید نے پردہ کرنے کو اسے(زوجہ کو) اشارہ کیا مگر نہ ر کی بلکہ بول اٹھی کہ فلاں تو ہے (حالانکہ اجنبی کی عمر تقریباً ۳۵ سال ہے ) زید نے طنز اً کہا کہ ’’ تو گودی لے لو‘‘ تب غصہ سے بڑبڑانے لگی اور اندر جاکر پردہ نیز حکم پردہ پر آئی اور زید کو فحش گالی بکنے لگی۔ زید غصہ ہوکر اس سے بولا۔ جب پردہ ناپسند ہے اور کھولنے کا شوق ہے توکل صبح بعدِ طلوع آفتاب ندی سے (جو کہ قریب ہے ) ایک گھڑا پانی تم کو خود لانا پڑے گا ورنہ تین طلاق ، تین طلاق ، تین طلاق۔ زوجہ نے حسب حکم پانی لادیا ۔ اب دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ دریں صورت طلاق واقع ہوگئی کہ نہیں ؟ عمر کہتا ہے طلاق ہوگئی کیوں کہ خلاف شرع امر کی شرط باطل ہے ۔بکر کہتا ہے کہ کلیہ یہ ہے کہ اذا فات الشرط فات المشروط اس سے طلاق واقع نہ ہونا ظاہر۔ زید کی زوجہ پر اس کی سخت کلامی خصوصاً حکم پردہ پر کہ منصوص ہے منہ آنا اور دیگر فحش گوئی کے باعث توبہ لازم ہے ۔ صحیح جواب سے مستفیض فرما کر اجر دارین حاصل کریں تادم تحریر فریقین قربت سے مُجتنِب ہیں ۔

فتاویٰ # 1140

زید نے زینب سے نکاح کیا، جس کو تین سال گزرے، ہندہ جبھی سے زید کے مکان پر ہے مگر زید اس کے ساتھ بہن کا برتاؤ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں زینب کو بہن سمجھتا ہوں ، اس کو نکاح میں نہیں رکھوں گا۔ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے اس برتاؤ اور اس قول سے کیا طلاق ہو گئی اور زینب زید کے نکاح سے نکل گئی یا اگر طلاق ہو گئی تو زینب بغیر عدت گزارے نکاحِ ثانی کر سکتی ہے، یا عدت کی ضرورت ہے، اور اگر طلاق نہیں ہوئی تو طلاق دینے کے بعد عدت کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1141

(۱) زید کم عقل ہے اور نامرد بھی ہے تو ایسی صورت میں شریعتِ مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟ (۲) ایک عورت ہے جس کے حمل ہے اور اس کا زوج اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو زوج طلاق دے سکتا ہے کہ نہیں حالتِ حمل میں ؟ (۳) ایک عورت ہندہ ہے ، اس کے زوج نے اس کو حالتِ حمل میں طلاق دے دیا تو ہندہ عدتِ حمل گزارے یا عدتِ طلاق، یا وہ فوراً نکاح کر سکتی ہے؟بینوا تو جروا۔

فتاویٰ # 1142

زید نے اپنی لڑکی مسماۃ خالدہ کا نکاح بکر کے ساتھ کر دیا، جس کو قریب سات برس کا زمانہ ہوتا ہے۔ اب سات برس کے بعد جب خالدہ اپنے میکہ آئی تو وہ کہتی ہے کہ آج تک بکر نے میرے ساتھ وہ تعلق جو زن و شوہر کے لیے مخصوص ہے، کبھی نہ کیا اور نہ اس کے کرنے پر وہ قادر ہے۔ میں نے شرم و حجاب کی وجہ سے اب تک اس کو ظاہر نہ کیا۔ مگر اب جب کہ میں بالکل مجبور ہو چکی ہوں اور اپنے انجام کو دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ میری زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی، لہٰذا اب میں نے ظاہر کیا۔ اب بکر کے ساتھ میرا رہنا کسی طرح نہیں ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ خالدہ اور بکر میں تفریق جائز ہے یا نہیں؟ تو اس صورت میں از روے شرع شریف کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ نوٹ: عوام میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ بکر عنین ہے یعنی عورت کے قابل نہیں ۔

فتاویٰ # 1143

زید نے اپنی لڑکی کی شادی کم سنی میں کر دی ، مگر شادی کے بعد معلوم ہوا کہ بکر کو جذام کا عارضہ ہے۔ لڑکی جس وقت بالغ ہوئی اس نے اس وقت اعلانیہ نکاح فسخ کر دیا وہ نکاح فسخ ہوا یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1144

زید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں زید اور اس کی بیوی میں ایک سال سے نااتفاقی چل رہی تھی اور اس سال کے درمیان میں زید اور اس کی بیوی ایک جگہ نہ ہوئے تھے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا تو اب یہاں کے لوگوں میں یہ جھگڑا پڑا ہوا ہے کہ زید میں اور اس کی بیوی میں ایک سال سے کوئی تعلق نہیں رہا اور زید نے طلاق دے دیا تو اس عورت کے لیے کوئی عدت نہیں ہے ۔اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس عورت کو عدت میں رہنا ہوگا ۔ دوسرا مسئلہ یہ در پیش ہے ۔زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیا اس حال میں کہ نہ تو زید اپنی سسرال آیا اور نہ اس کی بیوی زید کے وہاں گئی بلکہ دونوں اپنے اپنے مکان پر تھے، بلکہ جب لڑکی کا نکاح زید سے ہوا تو اس وقت لڑکی بالغ تھی اور صرف نکاح ہوا تھا اور نکاح ہوئے آج ایک سال کا زمانہ گزر رہا ہے مگر زید اور اس کی بیوی میں کوئی تعلق نہیں رہا. اب زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیدی تو اس عورت کے لیے عدت ہے یا کہ نہیں ؟فقط والسلام جواب اس پتہ پر روانہ کیا جائے:رکض انصاری کو ملے ڈاکخانہ پپرائچ مقام سمتی پور مڑلا ضلع گورکھپور۔

فتاویٰ # 1145

صادقہ خاتون کے شوہر نے بروز بدھ ۱۸؍ جنوری۱۹۵۰ء کو انتقال کیا ۔ تقریباً دو ہفتے کے بعد صادقہ کا ناجائز تعلق ایک غیر مرد سے ہو گیا۔ بھائی لوگوں کو معلوم ہوا۔ اس پر صادقہ سے ۲۱؍اپریل۱۹۵۰ء کو اس غیر مرد نے نکاح کر لیا۔ آیا یہ نکاح جائز ہوا یا نہیں ؟ اگر جائز نہ ہوا تو جو لوگ شریکِ نکاح ہوئے جنھوں نے سب باتوں کو جانتے بوجھتے نکاح پڑھایا ان کے لیے کیا حکم ہے؟

فتاویٰ # 1146

سلطان خاں نے ہندہ متوفی عنہا زوجہا سے تین ماہ دس دن گزرنے پر عقد کر لیا اور سات ماہ گزرتے ہی بچہ پیدا ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ چار ماہ دس دن عدت ہونی چاہیے تھی۔ایک سال گزر چکا ہے ، دوسرا عقد نہیں ہوا اور زوجیت کے تعلقات قائم ہیں ۔ آیا بچہ صحیح النسل مستحق وراثت ہوگا یا نہیں اور جائز شرعی صورت کے لیے اب کیا کرنا چاہیے ۔ بینواتوجروا۔

فتاویٰ # 1147

ہاجرہ بنت صاحب علی کا نکاح بابو علی ولد خیراتی سے ہوا ۔ وقتِ نکاح دونوں نابالغ تھے ۔ بعد میں بالغ ہونے پر بابو علی بد چلن ہو گیا جس کی وجہ سے بڑوں نے۳۱؍مارچ۱۹۴۹ء کو طلاق لے لی۔ ہاجرہ و بابو علی کبھی اکٹھا نہیں ہوئے ۔ اب ہاجرہ کی شادی کی فکر ہے ، لہٰذا از روے شرع کب نکاح ہو سکتا ہے؟طرفین اہلِ سنت و جماعت ہیں ۔

فتاویٰ # 1148

عمرو پردیس چلا گیا ۔ ۱۷؍ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا ۔ بی بی اس کی کہتی ہے کہ میرے پاس آئے تھے اور شوہر بھی کہتا ہے مگرآنے کا ثبوت نہیں ۔ اب لڑکے کے متعلق کیا حکم ہے ، آیا وہ حمل جائز صحیح النسل ہے کہ نہیں ؟

فتاویٰ # 1149

ہندہ اپنے میکے میں تھی کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو دو ماہ ہوتے ہیں بہ ذریعہ تحریر طلاق نامہ بھیجا اور اس طلاق نامہ پر دو ماہ پہلے ہی کی تاریخ مرقوم ہے اور مہر و عدت باوجود تقاضا کرنے کے اب تک ادا نہیں کیا ہے ۔ اور اب طلاق نامہ کی تاریخ کے حساب سے عدت کا زمانہ ختم ہو گیا اور عدت و مہر زید نے ادا نہیں کیا ،تو کیا ہندہ اب از روے شرع عدت لینے کی مستحق ہے کہ نہیں ؟

فتاویٰ # 1150

زید نے ہندہ کو قبل از رخصتی(یعنی خلوت صحیحہ) طلاق مغلظہ دے دیا تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کے لیے عدت ہے یا نہیں اور زید کو کتنا مہر دینا پڑے گا اور اگر عدت نہیں ہے تو علاوہ مہر کے زید کے ذمہ اور بھی کچھ واجب الادا ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کتنا، اور یہ بھی صاف فرما دیا جائے کہ خلوت صحیحہ سے قبل طلاق ہونے پر عورت کے بالغ ہونے اور نابالغ ہونے میں عدت پر کیا اثر پڑے گا۔ بالغ عورت کو خلوت سے قبل عدت گزارنی پڑے گی یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1151

زید کی بیوی مسماۃ زینب ابھی نابالغہ ہے اور اپنے شوہر کے پاس ۶۔۷۔ماہ رہ چکی ہے زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہیں اور ابھی تک زینب کے بیان کے مطابق زید نے اس کے ساتھ وطی نہیں کی ہے ایسی صورت میں زینب پر عدت کے ایام پورے کرنے ضروری ہیں یا نہیں ؟ اور عدت کے اندر ہی اس کا نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟شرعی حکم کیا ہے تحریر فرمایا جائے۔ بینوا و توجروا۔

فتاویٰ # 1152

ایک لڑکی مسماۃ بشیرن ، اس کی ۱۷؍ سال کی عمر میں شادی ہو گئی اور لڑکی ایک ماہ تک شوہر کے یہاں سسرال میں رہ کر پھر ماں باپ کے یہاں پہنچی اور اس مدت سکونت ميں بر مکان شوہر نہ وطی ہوئی، نہ خلوت ہوئی، پھر دو سال اپنے ماں باپ کے یہاں رہنے کے بعد طلاق حاصل کی یعنی شوہر نے اس کو تین طلاق دی اور بعد طلاق ہفتہ عشرہ گزار کر اس لڑکی کو دوسرے شوہر سے اس کے والدین نے عقد نکاح منعقد کر دیا اور لڑکی رضا مند اور خوش بھی ہے اور باقاعدہ استیذان کے بعد ہی شوہر ثانی سے نکاح ہوا ہے ۔ اسی حالت میں یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ شوہر سے بعد طلاق عدت پوری کرنے سے پہلے نکاح کیا ہے ۔ اسی بنا پر شوہر ثانی کو لوگوں نے امامت سے الگ کر دیا ہے ، اور اب شوہر ثانی سے بشیرن حاملہ بھی ہے اور حمل کی مدت سات ماہ ہو چکی ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب شوہر ثانی پر شرعاً بلحاظ زمانہ و قانون کیا کیا عاید ہوتا ہے۔ اگرلوگوں کا اعتراض بجا ہے تو پھر وہ(شوہر ثانی) قابل بنانے کی صورت شرعاً کیا ہے۔ اور اگر اس کا یہ فعل گناہِ کبیرہ ہے تو شرعی توبہ کیا ہے۔ بینوا وتوجروا

فتاویٰ # 1153

زید کا نکاح ہندہ سے نابالغی کی حالت میں ہوا اور بالغ ہونے پر زید نے ہندہ کو طلاق دے دی۔ نکاح کے بعد سے طلاق تک رخصتی وغیرہ کچھ نہیں ہوئی۔ کیا ہندہ پر اس طلاق کی عدت گزارنا واجب ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1154

ہندہ کی طلاق ہوے تین مہینہ پانچ روز ہوا اور دریافت کیا گیا ہندہ سے کہ ماہواری بھی اس کو تین مرتبہ ہوچکی ہے۔ ہندہ کہتی ہے کہ ہر مہینہ ۱۰ تاریخ کو ہوتی تھی۔ چند اشخاص گواہ بھی ہیں،تو شرع متین سے نکاح ہندہ کا جائز ہے یا نہیں؟بینوا تو جروا۔

فتاویٰ # 1155

مجھ کو میرے شوہر نے رمضان کی ۱۱؍ تاریخ کو طلاق بائن بلا جبر و اکراہ دے دیا۔ اور مجھ کو تین مہینہ ماہ واری آچکی ہے۔ اب میں نکاح کر سکتی ہوں یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1156

ایک ہندو راجپوت اسلام قبول کرنے کے بعد ایک شیخ مسلمان کی لڑکی سے شادی کیا اور اس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، جب لڑکی بڑی ہوئی تو ایک ہندو ٹھاکر لڑکااسلام قبول کر کے مسلمان ہوا تھا، اب اس نو .مسلم لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کا نکاح کردیا گیا ان لڑکی اور لڑکے سے کئی اولادیں ہیں جو کہ بڑے پابند شریعت اور مذہب اہلِ سنت و جماعت پر قائم ہیں مگر ان لڑکوں نے ابھی تک کوئی خاص پیشہ اختیار نہیں،کیا اب قومی حساب سے یہ کیا کہے جائیں گے جیسا کہ ہندوستان میں بین الاقوام شادیاں ہوتی ہیں ، سید، شیخ، مغل، پٹھان، انصاری، درزی، نائی، دھوبی، وغیرہ اب یہ لڑکے شیخ کہے جائیں گے یا پٹھان یا کس برادری میں شامل ہو سکتے ہیں؟ از روے شرع شریف بصورت فتویٰ مع مہر و دستخط تحریر فرمائیں ۔ فقط

فتاویٰ # 1157

ہندہ نے زید سے خلع طلب کیا اور طرفین سے علاحدگی واقع ہو گئی۔ زید کا ایک نو ماہ کا بچہ جو ہندہ کے بطن سے ہے علاحدگی کے وقت ہندہ نے اپنی اور اپنے اولیا کی رضا مندی سے اس بچہ کی پرورش کا حق زید کو منتقل کر دیا۔ ایسی صورت میں ہندہ پھر اس بچہ کی پرورش کا مطالبہ کرے تو قابل قبول ہوگا یا نہیں ، جب کہ زید کو اس کا بھی یقینی علم ہے کہ ہندہ غیر اسلامی زندگی گزارنے کی عادی ہے۔ نوٹ-مثلاً سنیما دیکھنا، کرم بورڈ کھیلنا، غیر محرم کے ساتھ کھیل تماشہ میں شریک ہونا وغیرہ۔

فتاویٰ # 1158

محمد ایوب نے اپنی زوجہ مسماۃ فاطمہ کو طلاق دی، دین مہر کو ادا کر دیا، اس کے علاوہ نفقہ اور وہ چیزیں جو جہیز میں ملی تھیں مسماۃ کو سپرد کر دیا۔ محمد ایوب کی تین لڑکیاں ہیں جو فاطمہ کے بطن سے ہیں. ایک کی عمر نو سال ، دوسری لڑکی کی سات سال اور تیسری کی عمر چار سال تقریباً ہے ۔ ان لڑکیوں کے متعلق پنچ نے فیصلہ کیا کہ لڑکیاں اپنے باپ محمد ایوب کے یہاں رہیں ۔ فاطمہ ان لڑکیوں کو نہیں رکھ سکتی اور نہ لے جا سکتی ہے۔ فاطمہ نے پنچ کے سامنے یہی اقرار کیا اور ایک اقرار نامہ پر دستخط کر دیے مگر اب مسماۃ مذکورہ اور اس کے والدین چاہتے ہیں کہ لڑکیوں کو محمد ایوب کے یہاں سے لے جائیں ۔ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں فاطمہ اور اس کے باپ کو محمد ایوب کی لڑکیوں کو لے جانے کا حق ہے یا نہیں ؟

فتاویٰ # 1159

زید کا عقد ہندہ سے ہوا، بعد میں زید کا دماغ خراب ہو گیا اور آج عقد کا زمانہ تقریباً دس برس کا ہوا، لیکن زید ہندہ کی طرف رغبت نہیں کرتا ہے اور اس دس برس کی مدت میں بعد شادی کے چھ مرتبہ زید ہندہ کو اپنے گھر لے گیا، مگر ہندہ کی طرف کسی بات اور کسی شے سے خیال نہ کیا، بعد میں ہندہ اپنے باپ کے گھر چلی آئی اور زید کا دماغ ابھی تک خراب ہے، کبھی گھر اور کبھی کہیں رہتا ہے۔ اور ہندہ بوقت شادی ہی بالغ تھی مگر زید کی بے توجہی کے باعث ہندہ زید کے یہاں جانے سے سخت انکار کر رہی ہے اور یہ بھی نہیں کہ زید لے جانے کو تیار ہے بلکہ اس کے خویش و اقربا تیار ہیں اور طلاق کی بات چیت اگر کی جاتی ہے تو زید کے بھائی وغیرہ انکارکرتے ہیں ، اب کیا کیا جائے؟

فتاویٰ # 1160

زید اور خالدہ کا نکاح حالتِ نابالغی میں دونوں کے ولی نے کر دیا اور اسی نابالغی کی حالت میں زید کے ولی نے زید سے خالدہ کو تین طلاقیں دلوا دیں ۔ اب زید اور خالدہ دونوں بالغ ہو چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھر زید ااور خالدہ کا نکاح ہو جائے تو دریافت طلب ہے کہ اب پھر دوبارہ زید اور خالدہ میں نکاح صحیح ہو سکتا ہے یا نہیں ۔ از روے مذہب حنفی جواب عطا فرمایا جائے۔

فتاویٰ # 1161

مریم کو اس کے شوہر عبد اللہ نے عرصۂ دراز سے اپنے گھر سے باہر نکال دیا ہے، مریم کو نان و نفقہ نہیں دیتا، مریم بیس سال کے اندر کی جوان عورت ہے، اس کو شوہر کی حاجت ہے۔ مریم کو اپنے گزران کے لیے نوکری وغیرہ کام کے لیے باہر جانا ضروری ہوتا ہے، اس کو کھلانے پلانے اور سنبھالنے والا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ اس زمانۂ پر فتن میں مریم کے لیے اپنی عصمت کی حفاظت بہت ہی دشوار ہے، گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ عبد اللہ اس کا شوہر کہتا ہے منہ میں سفید دانت ہیں ویسے ہی سر میں سفید بال ہو جائیں گے مگر طلاق نہیں دوں گا، اور کہتا ہے کہ اب اگر وہ میرے گھر آئی تو ضرور اس کی ناک کاٹ لوں گا۔ ان دشواریوں سے مجبور ہو کر ممکن ہے کہ مریم خودکشی کر لے ۔ مذکورہ بالا دشواریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب آپ فرمائیے کہ مریم کیا کرے؟ کیا مریم عبد اللہ کے طلاق دینے سے پہلے دوسرے شوہر سے کسی طرح نکاح کر سکتی ہے۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1162

رفیق نے اپنی شادی طیب النسا سے کی، عرصہ دو سال ہواکفیل اپنی زوجہ کا نان و نفقہ سے نہیں ہوا اور نہ کوئی صورت معلوم ہوئی ہے اور نہ طلاق دیتا ہے۔ ایسی حالت میں کون سی صورت اختیار کی جائے۔ از روے شرع حکم صادر فرمایا جائے۔ بینوا توجروا۔ (نوٹ) شوہر کسی طرح سے رضا مند نہیں ہے اپنی زوجہ کو مکان پر لانا گوارا نہیں کرتا۔

فتاویٰ # 1163

زید نے اپنی زوجہ کے متعلق کہا کہ اگر امسال میکے والے نہ آنے دیں گے تو میں طلا ق دے دوں گااور اگر طلاق نہ دوں تو جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی امت سے خارج۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ جس سال کہا تھا وہ گزر گیا اور زید کی زوجہ نہیں آئی تو زید کسی گناہ کا مرتکب ہوا کہ نہیں ، اگر ہوا تو اس کا کفارہ کیا ہوگا، نیز زوجہ پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔

فتاویٰ # 1164

حاملِ رقعہ نے اپنی بیوی کو بمبئی سے بذریعہ خط اس مضمون کے ساتھ طلاق دی(اور سنو آج سے تمہارا خرچہ بند اور ہم تم کو طلاق دے رہے ہیں ، جب ہم آئیں گے تو ہم سے تم سمجھ لینا) آج سے نو روز پہلے بمبئی سے واپس آیا اور محلے والوں سے کہا کہ میرے ذمہ جو کچھ مسماۃ کا مطالبہ ہے، دینے کو تیار ہوں ۔ اس پر مسماۃ نے محلہ والوں کو جمع کر کے مہر طلب کیا اور مجمعِ عام میں حاملِ رقعہ نے تسلیم کیا کہ میں نے طلاق دی۔ اس پر محلہ والوں نے مہر کی قسط مقرر کر دی جو فریقین کی رضا مندی سے مقرر ہوئی اور خرچ تا اداے مطالبہ بیس روپیہ ماہ وار دینا منظور کیا۔ اس کے بعد فریقین (میاں بیوی کے طور پر رہنے پر راضی ہیں۔ مرتب غرلہ) راضی ہیں ، کیا صورت ہو سکتی ہے، نیز یہ کہ عورت حاملہ ہے۔

فتاویٰ # 1165

زید نے آج اپنی بیوی کو طلاق دی لیکن عمرو نے اس کے بعد یہ بتایاکہ میں نے زید سے اس کی بیوی کے حق میں ایک سال بیش تر ہی دو شہادتوں کے ساتھ طلاق حاصل کر لی تھی، مگر زید عمرو اور ہر دو گواہان نے خود عمرو کے ایما سے طلاق کی کارروائی کو صیغۂ راز میں رکھا اور اس ناروا رازداری کے باعث صحیح العقیدہ سنیوں کے مابین بلا وجہ دوامی نزاع کی بنیاد پڑ گئی۔ متعدد دوستوں کے باہمی تعلقات نہایت مذموم طورپر کشیدہ ہو گئے۔ نیز بیش تر مسلمانوں کے درمیان میل محبت کی جگہ نفرت و عداوت کے جذبات مشتعل ہوئے اور ہمیں اس کے ساتھ ہی ساتھ عمرو کی ریشہ دوانیوں کے سبب اس سلسلے میں درمیانی بزرگوں کو ایک طویل زحمت سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ بھی واضح رہے کہ عمرو کے بیان کے مطابق زید نے اپنی بیوی کو آج سے ایک سال قبل طلاق دی لیکن ابھی چند مہینے گزرے ہوں گے کہ زید نے برادری کی پنچایت میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا وعدہ کیا اور اس کے بعد زید کے بزرگ نے زوردار طریقہ پر یہ سفارش بھی کی کہ لڑکی کی رخصتی کرا دی جائے، لڑکی کی رخصتی کرادی جائے، لیکن خدانخواستہ اگر زید کی بیوی رخصت ہو جاتی تو عمرو کی متذکرہ رازدارانہ کارروائی کی وجہ سے معاذ اللہ حرام کاری کا دروازہ باز ہو جاتا۔ ان حالات میں فقہ حنفیہ کی روشنی میں جواب مطلوب ہے کہ: (۱).زید کی بیوی پر عدت آج کے طلاق کے وقت سے وارد سمجھی جائے گی یا عمرو کے بیان کردہ طلاق سے زمانہ عدت کا شمار ہوگا؟ اگر ایسا ہی ہوگا تو زمانۂ عدت میں نادانستگی کے سبب عورت کے گھر سے باہر نکلنے اور آنے جانے کے غیر شرعی فعل کا مواخذہ کس سے ہوگا؟ (۲).آج کی طلاق کے ساتھ یہ شرط مربوط ہے کہ عورت کے مطالبۂ طلاق کی بنا پر طلاق دی گئی ہے، لہٰذا عورت رقم مہر و خرچہ عدت پانے کی مستحق نہیں، لیکن عمرو کی بیان کردہ طلاق بھی شرع کے نزدیک قابلِ تسلیم ہے تو اس صورت میں زید کی رقم مہر و خرچہ پانے کی حق دار ہے یا نہیں۔ جب کہ ظاہر ہے کہ سابقہ طلاق کے وقت عورت کے مطالبۂ طلاق کا کوئی سوال نہ تھا۔ (۳).ایک سال پہلے والی طلاق کو چھپانے کی بنا پر عمرو نے جو عام فتنہ برپا کیا اور سنی مسلمانوں کے دلوں میں باہمی تنفر کی آگ بھڑکائی اور اس مذموم کارروائی میں دو گواہوں اور خود زید نے عمرو کا ساتھ دیا، لہٰذا شرع الٰہیہ کے نزدیک عمرو ، زید اور دونوں گواہوں کے لیے کیا حکم ہے؟ آیا ان کی حرکت غیر ایمانی اور شیطانی ہے یا نہیں؟ (۴).طلاق کو چھپانے کے باعث اگر زید کی بیوی کی رخصتی ہو جاتی تو طلاق کے بعد میاں بیوی کے اختلاط کے ذریعہ ہونے والی حرام کاری کا ذمہ دار کون ہوتا۔ ساتھ یہ بھی وضاحت فرمائیے کہ اس حرام کاری کے ذرائع پیدا کرنے والوں کے لیے خدا اور رسول کا کیا حکم ہے؟ (۵).اگر طلاق راز میں نہ رکھی جاتی تو اب تک غالباً زید کی بیوی زمانۂ عدت گزار کر نکاحِ ثانی کر چکی ہوتی، لیکن عمرو وغیرہ کی اس حرکت نے ایک عورت کو بلا وجہ تادیر مجرد زندگی گزارنی پڑی، کیا یہ حق دار کا حق غصب کرنے اور بے گناہ پر ظلم کرنے کے مترادف نہیں؟ اگر ہے تو اس ظلم کرنے والے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ امید کہ حضور عالی استفتا پیشِ نظر کا تفصیلی جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

فتاویٰ # 1166

مسمیٰ اقبال حسین و مسماۃ دلوری بیگم آپس میں شوہر و بیوی ہیں لیکن کسی وجہ سے زوجین میں ناچاقی ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے مسماۃ دلوری بیگم عرصہ ڈیڑھ سال سے اپنے والد کے مکان پر چلی گئی ہے۔ مسماۃ دلوری بیگم کے بطن سے ایک لڑکا بعمر ۵؍ سال مسمیٰ آفتاب احمد ہے، مسمیٰ آفتاب احمد کو مسمیٰ اقبال حسین یہ چاہتا ہے کہ وہ میری ولایت میں رہے اور دلوری بیگم یہ چاہتی ہے کہ وہ لڑکا میری ولایت میں رہے اس جھگڑے کی وجہ سے مسماۃ شہزادی بیگم جو کہ لڑکے آفتاب احمد کی دادی ہوتی ہے، اسے اندیشہ ہے کہ فریقین میں کوئی بھی لڑکے کی ٹھیک پرورش نہیں کر سکتا، ایسی حالت میں لڑکے کو میری ولایت میں دے دیا جائے، دیگر یہ کہ مسماۃ دلوری بیگم کی طرف سے یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ اپنانکاح فسخ کرائے ایسی حالت میں لڑکے کی پرورش میں خلل پیدا ہونے کا احتمال ہے، لہٰذا شرعاً لڑکے کو کس کی ولایت میں دیا جائے؟

فتاویٰ # 1167

زید کے ایک نا مکمل اور نا موقت طلاق نامہ پر طلاق ہونے نہ ہونے کے بارے میں لوگوں میں کچھ ہلچل مچی، زید کو اس کی خبر ہوئی اور وہ اس حالت میں پنچایتمیں بلوایا گیا، پنچوں نے طلاق مان کر زید پر عدت اور مہر کی رقم واجب الادا کر دی، لیکن اس وقت مرعوب ہو کر زید نے پنچوں کی باتوں پر کوئی اعتراض نہ کیا، بعد میں اس نے باہر سے فتوے منگوائے، فتوے اس کی موافقت میں آئے، لیکن فتویٰ آنے سے پہلے ہی زید پنچایت میں بلوایا گیا، چوں کہ اس وقت تک فتوے اس کو حاصل نہ ہو سکے تھے، اس لیے وہ پنچایت میں حاضر نہ ہو سکا ۔ اس پر لوگ مشتعل ہوئے ، لوگوں نے زید کی ملامتیں کرنی شروع کیں، محلہ کی پارٹیوں میں کھنچاؤ پ]یدا ہو گیا، زید کو اس کی سرکاری ملازمت کی دھمکیاں د جانے لگیں، کچھ مخالفین نے افسر بالا کی طرف اس کے خلاف رپورٹ کرنے کی تیاریاں کرنی شروع کر دیں۔ زید سے اس کے اپنے پرائے سبھوں نے اظہارِ ناراضگی کرنا شروع کر دیا۔ بعض دوستوں نے فضا کو ہموار کرنے کا مطالبہ کیا، کیوں کہ زید پہلے ہی حساس طبیعت ، غیر مستقل مزاج اور بزدل واقع ہوا ہے، اس لیے ان تمام باتوں کا اس کےدل و دماغ پر برا اثر پڑا۔اس نے اپنا دماغی توازن کھو دیا، اس کے اپنے بھلے برے کی تمیز نہ رہی اور حالتِ جنون میں اس نے اپنی بیوی ہندہ کو تحریری تین طلاقیں دی دیں، تو کیا از روے شرع زید کی بیوی ہندہ اس سے علاحدہ ہو گئی، جب کہ زید انتہائی رنج و غم اور پریشانی کے دور میں اپنا دماغی توازن کھو بیٹھنے کا مریض ہے۔ بظاہر احساس نہیں ہوتا لیکن ڈاکٹر زید کی اس دماغی کمزوری کو تسلیم کرتا ہے۔ زید سے حالتِ جنون میں بعض اوقات ایسے ہی تعجب خیز واقعات سرزد ہو جایا کرتے ہیں، جس پر لوگوں کو اور بذاتِ خود اس کو ایسے ناشدنی واقعات کے ہونے پر سخت تعجب ہوتا ہے۔بینو توجروا

فتاویٰ # 1168

زید نے اپنی مسجد کے مصلیان سے کہا کہ آپ لوگ چلیں میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں کیوں کہ مجھ سے راضی نہیں رہتی۔ لہٰذا مصلیان میں سے کچھ لوگوں کو لوا کر ان کے سامنے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اور حاجی جھبوں کے دریافت پر کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا ہے، کہا کہ ہاں چوں کہ وہ مجھ سے رضا مند نہیں تھی اس لیے طلاق دے دیا۔ ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں۔ واضح ہو کہ اس موقع کے گواہ بھی موجود ہیں اور طلاق نامہ پر دستخب بھی زید کا ہے۔ بینوا توجروا۔

فتاویٰ # 1169

مسمیٰ یٰسین نے بصورت لڑائی و جھگڑا اپنی بیوی کو بایں الفاظ طلاق دی کہ زیادہ بولتی جاؤگی تو تمہارا طلاق۔ اور پھر یہ کہا کہ زیادہ بولوگی تو تم کو طلاق دیوینگے، یہ کہنا شوہر کا ہے۔ بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے شوہر کو طلاق دیتے کچھ نہیں سنا ، یہاں گواہ مسماۃ شافیہ جو وہاں موجود تھی یہ کہ یٰسین نے کہا کہ تم کو طلاق دیتا ہوں، تم کو طلاق طلاق۔ اس واقعہ کے بعد تین روز تک بیوی شوہر کے مکان پر تھی، پھر میکے چلی گئی۔ اور عرصہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک رہ کر شوہرکے مکان پر چلی آئی اور رہنے لگی ۔ اب سوال یہ ہے کہ صورتِ مذکورہ میں طلاق ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو رجعی ہوئی یا بائن اور حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا مہربانی فرما کر جواب بعجلتِ ممکنہ مرحمت فرمائی، عین نوازش ہوگی۔

فتاویٰ # 1170

ایک صاحب کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا۔ صاحب نے طیش میں آکر اپنی بیوی کو دو چار گالیاں دیں اور دو چار ہاتھ مارا بھی۔ صاحب کی خوش دامن موجود تھیں، انھیں بھی طیش آیا ، دوڑ پڑیں۔ بیوی تو گھر میں چلی گئی، اور ساس نے صاحب کے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ چلو جی گھر چلو، جب ہوتا ہے یہ مارتے پیٹتے رہتے ہیں، تو صاحب نے ساس سے کہا کہ ایسے کیسے جاؤگی، اگر جاتی ہو تو کچھ لیتی جاؤ، ساس نے کہا کیا لیتی جائیں تو صاحب نے کہا طلاق دیا، طلاق دیا، طلاق دیا۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ بیوی کمرے کے اندر ہے اور صاحب بر آمدہ میں ساس سے گفتگو کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں بیوی کو طلاق ہو سکتی ہے یا نہیں، کیوں کہ اضافت و خطاب نہیں پایا جاتا ہے اور مخاطبہ ساس سے ہے ۔ جواب باصواب سے سرفراز فرمائیں۔ مولا تعالیٰ اجر عطا فرمائے گا۔ بینوا توجروا

فتاویٰ # 1171

(۱).قاضی صاحب نے طلاق والی عدت میں نکاح پڑھا دیا یہ جائز ہے یا نہیں اور نکاح پڑھانے والا گنہگار ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر ازروے شرع گنہ گار ہوں تو کیا تعزیر ہونی چاہیے ؟ (۲).قاضی صاحب کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ (۳).قاضی صاحب نے اس عورت سے پوچھا تمہارا شوہر ہے یا نہیں تب اس عورت نے اپنی زبان سے گواہوں کے سامنے کہا کہ میرا شوہر ابھی موجود ہے لیکن پگلا ہے اور پاگل پن کی حالت میں طلاق دیا ہے ۔ (۴).اور اس کا شوہر جس کو پگلا کہا ہے، وہ اس کے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں دیا ہے ۔ دیگر احوال:قاضی صاحب نے جب اس طلاق والی عورت کا نکاح پڑھایا ،کئی ایک روز کے بعد مسجد کے کل نمازیوں نے سنا تو قاضی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا۔ دو مہینہ کے بعد قاضی صاحب نے جماعت کو توڑ کر ایک علاحدہ پٹی بناکر زبردستی سے پھر نماز پڑھنا شروع کیا ۔اس لیے جماعت میں دوپٹی ہوگئے ہیں ایک پٹی قاضی صاحب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ، اور ایک پٹی نہیں پڑھتے ہیں۔

فتاویٰ # 1172

بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالافتاح گزارش ہے کے سائل میر افسر ولدسائیں خان بیرون ملک سعودی عرب میں تھا کہ میری بیٹی اقراء کا نکاح ہمراہ عبدالمنان ولد محمد نصیر جو لاہور میں رہتے ہیں ہوا ۔میں نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیٹی کے ماموں کو ولی مقرر کیا بوقت نکاح جب زیورات مہر میں مقرر کرنا طے پایا گیا تو لڑکے والوں نے بہانا کیا کہ ہم نے جس گھرمیں زیورات رکھے تھے وہ کرو نا کے باعث سیل (seal) ہوگیا لہذہ ہم زیورات نہیں نکال سکے۔ لہذا ان کے کہنے پر 4 تولے سونا مہر مقرر ہوا ۔لیکن یہ ایک فراڈ تھا جو آج تک برآمد نہیں ہو سکا ۔ لڑکی کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی پیدائش کے چھ ماہ بعدلڑکے نے اپنی ساس کو فون کر کے کہا کہ میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے ا سے آ کر لے جائیں پھر لڑکے کی والدہ نے بھی یہی پیغام دیا ۔پھر لڑکی کو آج تک ذاتی موبائل فون میسر نہیں ہوا اس لیے اس نے اپنے خاوند کے فون سے ایس ایم ایس کیا کہ مجھے طلاق ہو گئی ہے آ کر مجھے لے جائیں میری بیوی محلے کے تین آدمی لے کر لاہور ان کے گھر پہنچی تو انہوں نے بدتمیزی کی اور لڑکی بھیجنے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ ہم نے مولوی صاحب کو بلایا تھا انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایک موقع پر دی گئی تین طلاقیں صرف ایک واقعہ ہوتی ہے لہذا میاں بیوی پہلے کی طرح ازدواجی تعلقات قائم کر سکتے ہیں بس چند بندوں کو کھانا کھلا دیں کفارہ ادا ہو جائے گا جو بندے میری بیوی کے ہمراہ لاہور گئے تھے انہوں نے لڑکی اور لڑکے سے طلاق کی تصدیق کی تو انہوں نے اقرار کیا لیکن لڑکی کو بھیجنے سے انکار کر دیا ابھی جب میں پاکستان چھٹی آ رہا تھا تو بڑی مشکل سے اپنی بیٹی کو کشمیر ملنے کے لیے بلایا تو انہوں نے 9 ماہ کے بچے کو ماں کے ساتھ نہیں بھیجا میں نے بیٹی سے حالات جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتانے سے گریز کیا میری بیٹی کو طلاق ہوئی ہے اور وہ طلاق کے باوجود اپنے خاوند کے پاس جانا چاہتی ہےاور لڑکے والے بھی طلاق دینے کے باوجود اسے گھر رکھنا چاہتے ہیں میرے داماد کے بڑے بھائی نے بھی اپنی بیوی کو زبانی طلاق دی اس کو بھی ماں باپ نے روک لیا لیکن قانونی کارروائی کے لیے کوئی تحریری طلاق موجود نہ ہے۔اس لڑکی کو بھی طلاق کے باوجود دوبارہ بلا رہے ہیں ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کے زبانی طلاق دے دی ہے لیکن تحریری موجود نہ ہے اس وقت معاشرہ فراڈ اور دھوکہ دہی میں مبتلا ہے شرعی معاملات کو پست رکھ کر اپنی من مرضی کا دین بنا رکھا ہے زنا کے ساتھ بددیانتی جھوٹ فراڈ عام ہے۔ اس معاشرے کی اکثریت طلاق ہونے کے باوجود میاں بیوی بن کر رہے ہیں میری بیٹی کا شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، نکاح نامہ سب کچھ سسرال میں ہے۔لہذا قانونی چارہ جوئی میں بھی دشواری ہے میری چھٹی ایک ماہ رہ گئی ہے پھر سے روزگار کے لیے سعودی عرب جانا ہے اگر میرے جانے کے بعد بیٹی اپنے خاوند جس نے طلاق دی ہے اس کے پاس چلی گئی تو ساری عمر گناہ میں مبتلا رہے گی اور ہم بھی گناہ گار ہوں گے کیوں کہ میری بیٹی نے بھی اب اپنا بیان بدل لیا ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ اس نے اپنی ماں کے کہنے پر مجھے طلاق دی ہے ۔ اس متن میں دو سوال ہیں 1۔ نکاح میں دھوکہ سے مہر مقرر کر کر لینا اور اس کا ادا نہ کرنےسے نکاح کی نوعیت درست ہوگی اور میاں بیوی حقوق زوجیت ادا کر سکتے ہیں 2-طلاق کے باوجود اپنی من مرضی سے دیگر فقہاء کی مدد لیتے ہوئے طلاق کو باطل قرار دینا درست ہے ؟ مذکورہ بالا صورت حال میں مجھے ایسا جامع اور مفصل فتوی جاری فرمایا جائے کہ ہم اپنے اللہ کے سامنے بھی سرخرو ہو جائیں اور قانونی معاونت کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو میر افسر خان گاوں مندری تحصیل دیر کوٹ ضلع باغ آزاد کشمیر ۔

فتاویٰ # 2124

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ اگر کوئی اہنے سالے کو کہے :آکر اپنی بہن کو لیجا ورنہ میں طلاق دے دؤں گا تیری بہن نے مجہے برا تنگ کیا ہوا ہے۔ اور بعد میں اپنے کیے پر نادم ہیں۔ اسکا حکم شرع کیا ہوگا

فتاویٰ # 2132

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی لیکن اس کے بقول اسے پختہ یقین نہیں ہے کہ اس نے دو بار طلاق دی یا تین بار لیکن ظن غالب ہے کہ تین طلاق دی ہے اور اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ دو دی ہے اور اس اثنا میں ان کے درمیان کوئی تیسرا فرد موجود نہیں تھا براہ کرم اس پر شریعت کا کیا حکم لگتا ہے آیا طلاق ہوگی یا نہیں اور ہو جانے کی صورت میں حلالہ کا حکم ہے بیان فرمادیں۔

فتاویٰ # 2217

شوہر اپنی بیوی کو الفاظ کنایہ کے ساتھ طلاق بائن دینے کے بعد عدت کے اندر تین سے زائد مرتبہ تحریرا یا تقریرا طلاق صریح دے تو کیا حکم ہے۔؟

فتاویٰ # 2231

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ،زید نے اپنی بیوی کو موبایل پر تین بار طلاق طلاق طلاق کہا ، مگر موبائل کی خرابی کی وجہ سے بیوی سن نہیں پائی اور بیوی سے پوچھنے پر اس نے کہا میں نے کچھ نہیں سنا تو کیا یہ طلاق واقع ہوجائے گی جبکہ زید کی نیت طلاق دینے کی ہوگی جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں عمران رضوی ۔گارڈن ریچ۔کلکتہ 24 8282824641

فتاویٰ # 2233

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ میں کہ زید اپنی زوجہ سے کہتا ہے کہ میں تیری ماں سے بول کر تجھے طلاق دے دونگا کیا اس طرح بولنے سے طلاق ہو جائے گا۔

فتاویٰ # 2333

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین کہ زید نےایک لڑکی سے یہ الفاظ بولے "اگر میں تمہارے علاوہ کسی اور سے نکاح کروں، جب جب نکاح کروں ،ہر مرتبہ طلاق ہے". زید کا بیان ہے کہ اسے شک ہے کہ" ہر مرتبہ طلاق ہے" کہا ہے، یا "ہر مرتبہ تین طلاق" کہا ہے. اب زید کا کسی دوسری جگہ رشتہ طے ہو چکا ہے. دو ماہ بعد شادی ہے. ایک عالم دین نے نکاح فضولی کا مسئلہ ان سے بتایا تو زید نے کہا کہ یہ کام تم ہی انجام دو،کیسے کروگے مجھے نہ پتا. تم سمجھو. مذکورہ عالم دین نے اس لڑکی سے نکاح کی اجازت لے لی ہے جس سے رشتہ طے ہوا ہے، کیا وہ عالم نکاح پڑھا سکتے ہیں یا کوئی اور ہی اس حیلہ شرعی کو انجام دے. یا کیا صورت ہوگی طلاق سے بچنے کی؟ از روے شرع رہنمائی فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ محمد احمد رضا برکاتی جویا،امروہہ ،یو پی9627602622

فتاویٰ # 2373