19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia Jan 2023 Download:Click Here Views: 22421 Downloads: 1050

(20)-خیر و خبر

تعلیمِ اسلام کانفرنس کا دسواں دور

 علی گڑھ (پریس ریلیز) والدین اللہ کی خوبصورت نعمت ہیں، ماں کی ممتا انمول اور بے مثال ہے ماں بھوک سے نڈھال ہو مگر اپنے لخت جگر کے لیئے اپنے خون جگر کا ایک ایک قطرہ نچھاور کر دیتی ہے مگر آہ رے آج کی نوجوان نسلیں اپنی لمحوں پہلے ملی وقتی محبّت کی قربت کے لیئے والدین سے دوری فیشن سمجھا جانے لگا اگر کچھ باقی رہ گئے تو وہ مزارات اور صاحب مزار کو سبھی کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں اپنی ضروریات اللّٰہ سے طلب کرو مزارات پر حاضری دو مگر دوری کا لحاظ اتنا رکھنا لازم ہے جتنا اُن کی حیات میں رکھتے تھے، مزارات کے پاس بیٹھ کر اسکی اینٹوں کو دبانے سے کچھ حاصل نہیں اگر حاصل ہوگا تو اپنے والدین کے پیر دباؤ اُن کی زندگی میں خدمت کر لو دونوں جہان میں کامیاب و سرخرو ہو جاؤگے۔ اسلاف کی زندگی اور اُن کے پیغامات آج صرف سن کرنہیں بلکہ اس کو اپنی عملی زندگی میں شامل کرنے سے نبی اور آل نبی سے سچّی محبّت ثابت کی جائے تو کامیاب ہوا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج ۱۰ ویں کل ہند اصلاحی تعلیمِ اسلام کانفرنس جمال پور علی گڑھ میں حضرت مولانا ہاشم اشرفی کان پوری نے کیا۔ مولانا نے حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر ڈالی اور عوام کے اندر فکر پیدا کی کہ قرآن اور سنت کے جس حصہ کو جس حکم کو ہم ترک کرتے جا رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں ہمارے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ پیلی بھیت سے آئے مولانا تسلیم ربّانی نے نماز و صبرکامیابی اور فلاح کا واحد راستہ عنوان پر خطاب کیا اور قوم کو پیغام دیا کہ کامیابی کا راز اللّٰہ اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے راستوں میں مضمر ہے۔  نظامت کے فرائض دہلی سے آئے مولانا قیصر خالد فردوسی نے بہ حسن خوبی انجام دیئے۔ سرپرستی حضور امین ملّت سیّد شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی صاحب، سجادہ نشیں خانقاہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ مقدسہ اور صدارت محبوب العلماء الحاج سیّد محمد امان میاں قادری برکاتی صاحب قبلہ نے فرمائی۔ ثنا خوانی کی ذمہ داری عمران رضا برکاتی جے پوری، میکش رامپوری، سیّد حیدر علی قادری علی گڑھ اور مولانا مستقیم بدایونی نے نبھائی۔  چیف کنوینر محمد اظہر نور اعظمی نے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں سے تعلیمِ اسلام کانفرنس منعقد ہوتی آ رہی ہے عوام کے تعاون سے اتنی بڑی کانفرنس سال میں ایک بار عوام کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے جس کا تعلق کسی بھی طرح سے دنیاوی يا مسلکی سیاسیات سے نہیں ہوتا کانفرنس میں دور دور سے لوگ شامل ہونے آتے ہیں۔ اس سال چیف کنوینر محمد اظہر نور اعظمی نے یہ اعلان کیا کہ وہ غریب طلبہ و طالبات جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس اثاثہ نہیں تو وہ مُجھے 8273592940 پر رابطہ کریں ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔ اس موقع پر علی گڑھ قرب و جوار کی مساجد کے ائمہ، طلبا کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ مولانا شمشاد اجمل برکاتی، مولانا نسیم خان امام و خطیب (مسجد نزد درگاہ برچھی بہادر), حافظ و قاری شان عالم باز پوری، مولانا طارق رضا برکاتی، مولانا شفیق احمد برکاتی، قاری انتظار احمد،  مولانا قمر الحسن، حافظ دلدار، حافظ مشرّف برکاتی، KBF کے مالک طارق بھائی، شہر الوارث، پروفیسر کافی وغیرہ بہ طور خاص موجود رہے۔ آخر میں صلاۃ و سلام، و چیف کنوینر محمد اظہر نور اعظمی کے شکریہ نامہ کے بعد سیّد امان میاں صاحب قبلہ کی خاص دعاؤں کے بعد تعلیم اسلام کانفرنس کو اگلے سال تک کے لیے ملتوی کا اعلان کر دیا گیا۔

از:اظہر نور اعظمی، علی گڑھ

فکر رضا کانفرنس و سیمینار، پونے

 جنھوں نے اعلیٰ حضرت کو پڑھا؛ انھوں نے عظمتوں کا اعتراف کیا، رسول اللہﷺ محبوبِ عالم ہیں- ان کی محبت دلوں سے نکالنے کے لیے سازشیں کی گئیں- کمالاتِ نبوی کے انکار کی تحریک چلائی گئی- انکارِ شفاعت و انکارِ علم غیب کی تحریک چلائی گئی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے محبت کا جوہر دیا اور اس کی بقا کےلیے کام کیا۔ علم غیب پر دلائل قائم کیے، کمالاتِ مصطفیٰﷺ کو دلائل کے ساتھ اعلیٰ حضرت نے پیش کیا، اس طرح کا اظہارِ خیال ۲۲؍دسمبر ۲۰۲۲ء جمعرات کی شب النور انگلش

میڈیم اسکول پونے میں منعقدہ ’’فکر رضا کانفرنس و سیمینار‘‘ میں مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) نے کیا۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی خدمات کے تناظر میں کہا کہ: فقہ کا عظیم سرمایہ دُنیا کو دیا- اعلیٰ حضرت نے ترجمہ کنزالایمان میں تفاسیر کی روح کو سمیٹ دیا ہے، اعلیٰ حضرت کے عہد تک ’’صلعم‘‘ لکھا جاتا تھا، اعلیٰ حضرت نے اس شارٹ فارم کی تردید کی اور’’  صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھنے کا مزاج دیا۔

ازیں قبل مولانا ابوزہرہ رضوی مالیگ (مانچسٹر) نے کہا کہ : فکرِ رضا بہت جامع عنوان ہے- فکرِ رضا ہی مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے، اعلیٰ حضرت کی شخصیت جہاں ذکر ہوتی ہے وہیں علم کی عظمتوں کا تصور اُبھرتا ہے، اعلیٰ حضرت علمی و عالمی شخصیت ہیں، ۵۰ ؍سے زیادہ علوم پر ان کی کتابیں موجود ہیں، اعلیٰ حضرت کو رب العزت نے علم قرآن اس طور پر عطا فرمایا کہ جس وقت جو بھی لکھا اللہ نے اس کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ 

غلام مصطفیٰ رضوی (اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں) نے اپنے مقالہ’’ملت اسلامیہ کی رہنمائی اور امام احمد رضا ‘‘ میں کہا کہ:اعلیٰ حضرت مسلمانوں کی اجتماعیت کے خواہاں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسلامی احکام کا پابند ہو جائے اور محبت رسول ﷺ قلب و نظر اور فکر و خیال میں بسا لے تاکہ تابناک ماضی سے رشتہ استوار ہو جائے۔ اعلیٰ حضرت نے ملت کی تشکیل تمام شعبہ ہاے حیات کو مدنظر رکھ کر محبت رسول ﷺ کی بنیاد پرکی۔

صدارتی خطبہ میں بیرسٹر معین الزماں اعظمی(مانچسٹر) نے کہا کہ: ہمارا عقیدہ اعلیٰ حضرت کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے۔ جہاں تک علم کا سوال ہے مسلمان پسماندہ ہے۔ جہاں ظاہری ترقیاں ہوئیں وہاں عریانیت بڑھی۔ جو دنیا پر بمباری کرتے ہیں ان کے پاس بھی علم ہے۔ لیکن علم وہی ہے جو اسلام نے عطا کیا، مسلمانوں نے ہر علم و فن میں تحقیق کے دریا بہائے۔ اعلیٰ حضرت کی کرامت علم و تحقیق سے لبریز کتابیں ہیں۔

اس کانفرنس میں بطورِ مہمان خصوصی الحاج محمد سعید نوری، مولانا ولی اللہ شریفی، مولانا عبد المجید، مولانا جاوید ثقافی، مولانا اسرار نظامی، مولانا منصور احمد، مولانا معروف رضا، مولانا مختار احمد، مولانا اسرار نجمی، مولانا محسن رضا نیز اساتذۂ جامعہ قادریہ و ائمہ کرام پونے شریک تھے-

  ڈاکٹر سعید احسن قادری نے اظہارِ تشکر میں کہا کہ: علامہ قمرالزماں اعظمی نے بے لوث خدمت کی اور اسلام کے دعوتی پیغام کو اکنافِ عالم میں پہنچایا، درجنوں جہتوں سے آپ نے دینی خدمت انجام دی، کانفرنس کا انعقاد پروفیسر ڈاکٹر سعید احسن قادری اور مسلمانانِ اہل سنّت کدل واڑی نے کیا۔ اس موقع پر مجموعہ مقالات ’’شہزادگانِ اعلیٰ حضرت کے علمی کارنامے‘‘کا رسم اجرا عمل میں آیا۔ ۵۷٦؍صفحات پر مشتمل یہ کتاب حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان اور حضور مفتی اعظم کی خدمات کے علمی گوشوں پر مبنی ہے جس کی اشاعت اہل سنّت و جماعت سینٹر پونے سے عمل میں آئی۔ میزبانی کے فرائض نوری مشن کے فرید رضوی، معین رضوی اور نعیم رضا و احباب کدل واڑی بالخصوص حافظ معین الدین نے انجام دیے، نظامت مولانا حامد رضا نے کی، سلام و دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

از: نوری مشن مالیگاؤں

مدنی میاں عربک کالج میں عرس حافظ ملت

 و عرس شیخ انوار اللہ فاروقی علیہما الرحمہ 

جانشین محدث اعظم ہند حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی مد ظلہ العالی کا ہبلی کرناٹک میں قائم کردہ دینی ادارہ ”کلیۃ الاشراف للعلوم الاسلامیۃ مدنی میاں عربک کالج“ میں بروز پیر بتاریخ 26 دسمبر 2022 کو ملک ہند کے دو عظیم و قدیم جامعات کے بانیان کی بارگاہوں میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

 بانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقی ﷫ (وصال: 30 جمادی الاولی 1336ھ) 

اور بانی الجامعۃالاشرفیہ مبارکپور یوپی حافظ ملت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی ﷫ (وصال: 1 جمادی الاخری 1394ھ)  کے عرس مقدس کے موقع پر  قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔

محفل کا آغاز محمد شاہجہاں (طالب علم ادارہ ہذا) کی تلاوت قرآن سے ہوا ،

 

 جناب محمد علی عطاری صاحب نے نعت پاک پیش کی۔ مولانا افسر رضا مصباحی (استاذ ادارہ ہذا) نے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اور  شیخ انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمۃ  کی سوانح حیات پر روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ حضور حافظ ملت کسی مشہور گھرانے یا خانوادہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے مگر آج حافظ ملت کو پوری دنیا جانتی ہے یہ ان کے علم وعمل ، زہد و تقوی اور خدمت دین کا نتیجہ ہے ۔ ہمیں ان کے اقوال اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ آج ہر مدرسے میں اور دنیا کے ہر کونے میں مصباحی نظر آتے ہیں، دین کی خدمت میں مصروف ہیں یہ سب حافظ ملت کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔ ہمارے اس محبوب ادارے مدنی میاں عربک کالج میں بھی حافظ ملت علیہ الرحمۃ  کا علمی فیضان جاری ہے۔

نیز آپ نے فرمایا کہ دکن کے علاقے میں قائم علم دین اور مسلک حنفی کی ترویج و اشاعت کا عظیم مرکز جامعہ نظامیہ حیدرآباد ایک قدیم دینی ادارہ ہے جہاں کے فارغین صرف دکن ہی میں نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک میں دین و سنیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں ،  جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے قیام نے پورے دکن کو نور علم سے منور کیا ہے۔ اس علمی گلستان کے بانی شیخ الاسلام حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی ﷫ ہیں۔  آپ نسباً فاروقی ہیں آپ کا سلسلہ نسب انچالیسویں پشت میں امیر المومنین امام المجاہدین سیدنا عمرفاروق اعظم ﷛ سے ملتا ہے۔ 

آج مدنی میاں عربک کالج میں مذکورہ جامعات کے دو عظیم علمی و عبقری شخصیات کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جن میں سے ایک بزرگ حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ  کے ساتھ بانی مدنی میاں عربک کالج حضرت شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں کا علمی تعلق ہے اس لیے کہ آپ کے استاذ ہیں حافظ ملت ،اور دوسری شخصیت سے بانی مدنی میاں عربک کالج کا روحانی تعلق ہے۔ اللہ تبارک وتعالی ان بزرگان دین کے وسیلے سے مدنی میاں عربک کالج کو بھی جامعہ بنائے۔ آمین۔

قل شریف اور فاتحہ خوانی کے بعد مہتمم ادارہ ہذا مولانا محمد نعیم الدین اشرفی نے دعا فرمائی۔ صلاۃ و سلام پر محفل کا اختتام ہوا