19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 8633 Downloads: 757

(19)-صدائے بازگشت

 

ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

صاحبو، سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس جائزے کی شروعات کریں تو کیسے کریں۔ گزرے ہوئے ہفتے میں رنجیدہ، سنجیدہ موضوعات سبھی معاملات پر حاوی نظر آئے۔ فیض لدھیانوی مرحوم کا سوال تھا

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا کیا ہے

ہر طرف خلق نے کیوں شورمچارکھا ہے

 ہمارا قلم ترمیم کے ساتھ اب حرف سوال ہے کہ”اے نئے ہفتے بتا تجھ میں نیا کیا ہے

گزشتہ پیر کو صبح تڑکے جے پور ایکسپریس فائرنگ کے دلدوز سانحہ نے ہما شما کو دہلا دیا۔ چیتن سنگھ نامی آرپی ایف اہلکار نے نفرت اور تعصب کی انتہا کردی۔ اس نے اپنے ایک ساتھی اور ۳؍ بے گناہ مسلمانوں کو موت کی نیند سلادیا۔ اس سانحہ سے سوشل میڈیا چیخ پڑا۔ شروتی چترویدی نامی انٹر پرینیور نے لکھا کہ’’جن ہندوستانی مسلمانوں نے اس ٹرین معاملے کا ویڈیو دیکھا ہوگا آج ان کے دل پر کیا گزری ہوگی میں اسے بیان نہیں کرسکتی، سوری!‘‘ اس درد اور کرب کو محسوس کرنے والوں کی کمی نہیں  ہے۔ صحافی و مصنف روہِن کمارنے فیس بک پر لکھا کہ ’’ایک پولیس والے نے مسلمانوں  کو نشان زد کرکے مارڈالا۔ اس کے بعد سے ایسے کئی مسلمان ہیں  جنہوں  نے اپنے ٹکٹ کینسل کروادئیے، سفر منسوخ کردئیے۔ گھر کے مردوں  کو مشورہ ملا کہ داڑھی ترشوالو، ٹوپی اورکرتا پہن کر سفر سے اجتناب کرو۔ ٹرین میں  نماز مت   پڑھو۔ نان ویج کھانا سفر میں  ساتھ نہ لے جاؤ۔ کئی سال سےتو یہ کہا ہی جارہا ہے کہ بس ٹرین میں  سیاسی بحث میں  مت الجھو۔ ایک ترقی  پسند ادارے کی سمپادک( ایڈیٹر) کو میں  نے کہا مسلمانوں  کے اس ڈر کا ’ڈاکیو مینٹیشن‘ ضروری ہے۔ یہ ایک اسٹوری ہے کہ کس طرح سے فرقہ وارانہ وارداتوں  سے پیدا ہونے والے ڈر کے ماحول نے مسلمانوں  کے معمولات زندگی اور رویہ پر اثر ڈالا ہے۔ سمپادک کا جواب آیا کہ یہ اسٹوری ہم نہیں  کرسکتے، یہ سنسنی خیز اسٹوری ہے۔ میں  نےکہا جی بس یوٹیوب کے تھمب نیل کو سنسنی خیز بنائیے، مسلمانوں  کی زندگی ویسے ہی سنسنی خیز ہوچلی ہے بھارت میں  ۔

 سہدیو جینو نے ٹرین فائرنگ کے ہیش ٹیگ کے تحت سوال قائم کیا کہ’’جب ہمارے محافظ ہی ہمارے قاتل بن جائیں تو کیا ہو؟ یہ گودی میڈیا کے مسلسل نفرت پروسنے کا اثر ہے؟...‘‘ پوجا پریام ودا نے لکھا کہ’’معصوموں پر گولیاں چلانے والا’ مینٹل‘نہیں ہوسکتا، براہ مہربانی مینٹل اِلنیس کو بدنام نہ کریں، وہ شخص مجرم ہے۔ ‘‘

 ابھی اس نفرت انگیزی کے زخم ہرے ہی تھے کہ ہریانہ میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ جس پر ہر فکرمند یہی کہتا نظر آیا کہ خدارا نفرت کی اس بھڑکتی آگ کو بجھایا جائے۔ جلتے دکان، مکان اور دنگائیوں کے ظلم کے شکار انسانوں کی لرزہ خیز تصاویر اور ویڈیوز گردش میں  رہے۔ میوات ٹیرر اٹیک، ہریانہ وائلنس، نوح  وائلنس، مونو مانیسر،   گروگرام کے ہیش ٹیگ کئی دن ٹرینڈنگ میں رہے۔ اس دوران لوگوں  نے میڈیا پر یہ الزام بھی لگایا کہ کوریج کے نام پر چینلوں  نے فرقہ وارانہ آگ میں تیل چھڑک کر اسے مزید بھڑکانے کا کام کیا۔ اسی لیے ’بائیکاٹ گودی میڈیا‘ کا ہیش ٹیگ چلا۔ صحافی روہنی سنگھ نے لکھا کہ ’’آگ اگلتے نیوز چینلس، زہر بانٹتا اخبار، بہت ہوا اب بندکرو، نفرت کا کاروبار‘‘ ارپت سنگھ نے لکھا کہ ’’یہ کہنا غلط ہوگا کہ شرپسند ہندو گروہ نے یہ شروع کیا، یہ بھی کہنا غلط ہے کہ مسلم شرپسند گروہ نے یہ شروع کیا، اصل قصوروار تو اب بھی آزاد گھوم رہا ہے-(وہ ہے) انڈین میڈیا‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر مودی سرنیم معاملے پرراہل گاندھی کی سزا کے فیصلے پر سپریم کورٹ کا روک لگانا، ایشیز سیریز کا برابری پر ختم ہونا، اسٹورٹ براڈ کی سبکدوشی، دہلی آرڈیننس بل جیسے موضوعات پر بھی چنتن منتھن دیکھنے کو ملا۔

یہ سطریں سپرد کی بورڈ ہی رہی تھیں  کہ ’پڑوس‘ سے خبر آئی کہ عمران خان کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں ٹرائل کورٹ نے توشہ خان کیس میں مجرم قراردے کر۳سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ۵سال نااہلی کی سزا سنائی ہے۔ کپتان کی گرفتاری کی خبرجنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پڑوس کے سوشل میڈیا حلقوں میں ہنگامہ مچ گیا۔ ایک طرف کپتان کے مداح چراغ پا ہیں، تو دوسری جانب انکے مخالفین ’سرٹیفائیڈ چور‘ کے ہیش ٹیگ چلاکر خوشیاں منارہے ہیں۔ دل گرفتگی کا اندازہ ارشد انصاری نامی صارف کے اس ٹویٹ سے لگائیے، کہتے ہیں کہ ’’عمران خان کو اگر سزا ہوتی ہے تو کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہ نکلے، کوئی بھی بات نہ کرے اور اپنا منہ بھی بندرکھے۔ کیونکہ آپ لوگ غلام ہو، اگر آپ خود کو غلام نہیں سمجھتے تو سمجھ لو کیونکہ عمران خان اکیلا پاگل تھا جو آپ جیسے غلاموں کو آزادی دلوانے نکلا تھا۔ “ اس معاملے میں عمران خان کے حامی راست طورپر حکمراں جماعتوں کے کردار پر سوال قائم کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کے ایک مداح ’سرپرائز ڈے۰۱‘ نامی صارف نے لکھا کہ ”کمپنی کی اتنی پھٹی ہوئی تھی کہ نااہلی کے ساتھ گرفتاری بھی کروائی کیونکہ عمران خان کے باہر ہوتے یہ جیت بھی نہیں سکتے۔

 اسد علی آئی کےنے لکھا کہ ”آج صرف گرفتاری غیر قانونی نہیں ہوئی فیصلہ بھی غیر قانونی دیا گیا ہے۔ اس عمل نے عمران خان کو ہیرو سے سپر ہیرو جبکہ بچی کچھی پی ڈی ایم کومردہ کردیا ہے۔ نظام انصاف اور قانون اپنی موجودگی ظاہر کرے گا پھر ہمیشہ دفن ہوجائے گا۔ “سیّد احتشام احمد نے لکھا کہ ”عمران خان کے مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو سزا نافرمانی کی دی جارہی ہے، (سسٹم کے سامنے) جھکنے سے انکار پر دی جارہی، توشہ خانہ محض بہانہ ہے۔ “

غرضیکہ گرفتاری اور سیاسی اتھل پتھل کا اونٹ جس بھی کروٹ  بیٹھے، فی الحال کپتان کا پلڑا بھاری ہے، کیونکہ عوامی حمایت انہی کے حق میں  معلوم ہورہی ہے۔ فریال گوہرکا یہ ٹویٹ اکثریت کا ترجمان معلوم ہوتا ہے، وہ لکھتی ہیں ”عمران خان اپنے عوام کی نظر میں کبھی نااہل نہیں ہوں گے۔              از:اظہر مرزا

Azhar.mirza@mid-day.com