19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 60969 Downloads: 3080

(2)-حروفِ مقطعات

مولانا حبیب اللی بیگ ازھری

حروف مقطعات کے معانی ہیں: علاحدہ حروف، اور اس سے مراد وہ حروف ہیں جو مختلف سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں اور علاحدہ علاحدہ پڑھے جاتے ہیں۔

قرآن مجید کی کل انتیس سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات ہیں، اور ان سورتوں کے نام یہ ہیں:

1- البقرة 2- آل عمران            3- الأعراف           4- يونس

5- ہود   6- يوسف  7- الرعد    8- ابراہیم

9-الحجر 10- مريم  11- طٰہٰ     12- الشعراء

13- النمل            14- القصص   15- العنكبوت  16- الروم

17- لقمان            18- الٓمٓ السجدة  19- یٰسٓ         20- صٓ

21- غافر             22- حم السجدة 23- الشورىٰ    24- الزخرف

25- الدخان           26- الجاثية 27- الأحقاف        28- قٓ

29- القلم

 ان سورتوں میں مجموعی طور پر چودہ حروف مقطعات ہیں، جنھیں ہم ذیل میں تعداد حروف کے اعتبار سے پیش کرتے ہیں۔

یک حرفی آیات مقطعات تین ہیں:صٓ۔ قٓ۔ ن۔

دو حرفی آیات مقطعات چار ہیں۔طٰہٰ. طٰسٓ. یٰسٓ. حٰمٓ.

 سہ حرفی آیات مقطعات تین ہیں. الٓمٓ۔ الرٰ۔ طٰسم.

 چار حرفی آیات مقطعات دو ہیں۔ المصٓ. المرٰ

 پانچ حرفی آیات مقطعات دو ہیں، جن میں ایک آیت، ایک ہی آیت پر مشتمل ہے، اور وہ ہے:  كهٓيعص، جب کہ دوسری آیت دو آیات پر مشتمل ہے، اور وہ ہے: حم ٓ۔عسق۔

 کسی بھی کلام کا حسن افتتاح یعنی بہترین آغاز قاری کے دل ودماغ پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے، اسی لیے اہل زبان ہمیشہ آغاز کلام کے لیے خوب صورت تعبیرات کا انتخاب کرتے ہیں، اور اسی حسن انتخاب کے باعث آنے والا کلام سننے کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، قرآن کریم میں بھی ہر سورت کا آغاز بڑے حسین پیرائے میں کیا گیا ہے، جس کی تفصیل علوم قرآن اور کتب تفاسیر میں ملتی ہے، قرآنی سورتوں میں حسن افتتاح کا سب سے منفرد طریقہ حروف مقطعات کا ہے، اور یہ وہ طریقہ ہے جس کی نظیر کلام عرب میں بھی نہیں ملتی، اسی لیے مفسرین کرام نے اس پہلو پر خصوصی گفتگو کی ہے، ہم یہاں حروف مقطّعات کے حوالے سے کتب تفاسیر میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔

حروف مقطعات کی توضیح کے سلسلے میں بنیادی طور پر اہل علم کے دو موقف ہیں۔

1- پہلا موقف تفویض کا ہے، تفویض کا معنی ہے: سپرد کرنا، یعنی جو حضرات تفویض کے قائل ہیں وہ ان حروف کو منزل من السماء اور قرآن کا جز مانتے ہیں، اور ان کی حقیقت و مراد کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں، اور کہتے ہیں: الله أعلم بمراده،  یعنی ان حروفِ مقطعات کی مراد اللہ بہتر جانتا ہے۔

2- دوسرا موقف تاویل کا ہے، تاویل کا معنی ہے: توضیح وتشریح، کچھ اہل علم حضرات اخبار وآثار، عربی زبان کے اصول اور اس کے طریقہ استعمال کی روشنی میں ان حروف مقطعات کی توضیح کرتے ہیں، لیکن حروف مقطعات، آیات متشابہات کی قبیل سے ہیں، لہذا ان کی کوئی ایک متعین اور واضح توضیح نہیں کی جاسکتی، اسی لیے ان آیات کی تاویل کے طور پر متعدد اقوال ملتے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں۔

 1- یہ حروف اسمائے الہٰیہ، اور عظیم معانی کے رموز ہوسکتے ہیں، اس سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متعدد روایتیں ملتی ہیں، آ پ سے منقول ایک روایت میں ہے کہ الم کا معنی ہے: أنا الله أعلم، یعنی میں اللہ ہوں، خوب جانتا ہوں، گویا الف سے أنا کی طرف، لام سے لفظ اللہ کی طرف اور میم سے أعلم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح آپ سے منقول ہے کہ الم ٓ  میں الف سے آلاء الله، یعنی اللہ کی نعمتیں، لام سے لطف الله، یعنی اللہ کی مہربانی، اور میم سے مجد الله یعنی اللہ کی بزرگی مراد ہے۔

اسی طرح آپ سے منقول ایک روایت یہ بھی ہے کہ الر، حم، ن، ان تمام حروف مقطّعات سے اللہ کے سب عظیم صفاتی نام  الرحمٰن کی طرف اشارہ مقصود ہے، کیوں کہ ان کا مجموعہ الرحمٰن بنتا ہے۔

اس طرح کی تاویل کی تائید میں ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے:

 فقلت لها قفي، فقالت: ق.

یعنی میں نے اس سے کہا: رک جاؤ تو اس نے جواب میں کہا: ق۔ یعنی وقفت، بمعنی رک گئی۔

اس شعر میں شاعر نے قٓ کہہ کر وقفت مراد لیا ہے، اسی طرح قرآن کریم کے حروف مقطعات سے اسماے الٰہیہ اور عظیم معانی کے رموز اور اشارے مراد لیے جا سکتے ہیں۔

2- سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف مقطّعات در اصل تنبیہ کے لیے ہیں، اور تنبیہ کے لیے آغاز کلام میں مخصوص کلمات کا لانا شائع وذائع ہے، قرآن کریم نے تنبیہ کے لیے ان کلمات کو اس ذکر کیا کہ کفار  قرآن نہیں سنتے تھے، قرآن کریم کے مطابق ان کا حال یہ تھا:

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ۔ [فصلت ٢٦]

اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو، اور تلاوت کے وقت لغو باتیں کرو، تاکہ تم غالب آجاؤ۔

ایسے کافروں کے لیے اگر عام کلمات تنبیہ ذکر کیے جاتے وہ توجہ نہیں دیتے، اسی لیے قرآن کریم نے سب سے جداگانہ کلمات تنبیہ ذکر کیے، تاکہ ان کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

3- یہ حروف سورتوں کے نام ہوسکتے ہیں، اور اس نظریے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی متعدد سورتوں کے نام حروف مقطعات پر رکھے گئے ہیں، مثلاً، سورہ طہ، سورہ یس، سورہ ص، سورہ ق اور سورہ الم السجدہ وغیرہ۔

4- سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف مقطّعات قرآن کریم کے اعجاز کو بتانے کے لیے ہیں، اور اس بات کے چیلنج کے لیے ہے کہ انھی حروف کے مجموعے سے کلام بنتا ہے، اور تمھیں پڑھ سنایا جانے والا کلام بھی انھی حروف کا مجموعہ ہے، اس کے با وجود کوئی اس کی نظیر نہیں پیش کرسکتا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اور اگر تم اسے کلام الہی نہیں مانتے تو انھی حروف کی مدد سے قرآن جیسا کوئی کلام بنا لاؤ، لیکن تم نہیں لا سکتے، لہذا اس کلام کو کلام الہی مان لو۔

یہاں پر ایک دوسری جہت سے بھی قرآن کریم کا اعجاز بیان کیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ حروف مقطّعات میں جو محاسن وکمالات جمع ہیں وہ کسی امی کے بس کی بات ہی نہیں، اس کے با وجود یہ حروف مقطعات ایک نبی امی کی زبان سے ادا ہورہے ہیں تو اس واضح مطلب ہے یہ کلام امی لقب پیغمبر کا نہیں، بلکہ ان کے رب کا ہے۔

حروف مقطعات کے محاسن وکلمات کو علامہ قاضی بیضاوی علیہ الرحمہ نے سورہ بقرہ کے شروع میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، قاضی بیضاوی صاحب کے بیان کے مطابق قرآن کریم کی سورتوں کے شروع میں انتیس  حروف تہجی میں سے چودہ حروف کو بطور حروف مقطّعات کے بیان کیا گیا ہے، اور حروف کا انتخاب اتنا زبردست ہے کہ علم تجوید اور علم نحو کی روشنی میں حروف کی جتنی قسمیں بنتی ہیں ہر قسم سے تقریباً نصف مقدار حروف مقطعات میں شامل ہے، اور یہ ایسا حیرت انگیز انتخاب ہے کہ یہاں تک کسی قادر الکلام ادیب کی رسائی نہیں ہوسکتی، چہ جائیکہ کسی امی کی رسائی ہو، اس کے باوجود امی لقب پیغمبر نے ان حروف مقطعات کو ( جن کی تعداد نصف حروف تہجی کو پہنچتی ہے، اور ہر قسم کے حروف کے نصف مقدار کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے) پڑھ کر سنایا تو معمولی عقل رکھنے والا انصاف پسند انسان یہی کہے گا کہ یہ کلام کسی بندے کا نہیں ہوسکتا، بلکہ رب العالمین ہی کا ہوگا، اس طرح یہ حروف مقطعات قرآن مجید کا اعجاز بتانے کے لیے لائے گئے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر مقامات پر حروف مقطعات کے معا بعد قرآن اور آیات قرآن کا ذکر ہوتا ہے، مثلاً سورہ بقرہ میں ہے:

الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ -هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ [البقرة ١-٢]

سورہ رعد میں ہے:

الٓـمّٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِؕ-وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۔[الرعد ١]

اسی طرح دیگر سورتوں میں بھی ہے، حروف مقطعات کے ساتھ قرآن کی عظمتوں کا ذکر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ حروف در اصل اعجاز قرآن کو بتانے ہی کے لیے لائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ حروف مقطعات کے تحت کتب تفاسیر میں ذکر کیے گئے اقوال میں سب سے صحیح قول پہلا اور آخری معلوم ہوتا ہے، والله تعالى أعلم.