19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia March 2023 Download:Click Here Views: 60977 Downloads: 3081

(20)-فضائل ذکر اپنے موضوع پر ایک منفرد علمی کاوش

سید صابر حسین شاہ بخاری قادری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین

  کلمۂ طیبہ ”لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ“  ہمارے ایمان کی بنیاد اور اساس ہے اور یہی کلمۂ طیبہ جنت کی چابی ہے ۔  ایک سچا اور پکا مسلمان اس کلمۂ طیبہ کو ہمہ وقت حرز جاں بنائے رکھتا ہے اور یہ تمنا اور آرزو بھی رکھتا ہے کہ جب   اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرے تو اس کی زباں پر یہی کلمۂ طیبہ جاری وساری رہے ۔

   کلمۂ طیبہ کے دو حصے ہیں پہلے میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور دوسرے میں پیغمبرِ آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت  کا بیان ہے ۔    کلمۂ طیبہ کو پڑھنا ذکر کہلاتا ہے۔ عام طور پر ذکر  کرنے کی چار  اقسام ہیں۔  پہلی قسم  ذکر باللسان ،دوسری ذکر بالفعل، تیسری ذکر بالقب اور چوتھی ذکر بالجہر ہے۔  ذکر کی یہ تمام اقسام قرآن وحدیث اورسلف صالحین کے ارشادات سے ظاہر و باہر ہیں۔صدیوں سے کلمۂ طیبہ کا ذکر بالجہر امت مسلمہ میں جاری وساری ہے۔ آج دنیا کے  ہر اس خطے میں کلمۂ طیبہ کا ذکر بالجہر سنا جا سکتا ہے جہاں راسخ العقیدہ مسلمان بستے ہیں۔ 

 کلمۂ طیبہ کی اہمیت وافادیت ، معنی و مفہوم اور ذکر بالجہر کے اثبات ،برکات ،ثمرات اور فضائل و کمالات کے حوالے سے  اکابرین اسلام نے باضابطہ کتابیں لکھ کر ہمارے لئے تزکیۂ نفس کا سامان   چھوڑا ہے اور منکرین ذکر بالجہر کے دل و دماغ کو بھی جھنجھوڑا ہے۔

 اہل سنت کے مفتیانِ کرام کے فتاویٰ میں  ذکر بالجہر کے بارے میں کئی سوالات کے مفصل اور مختصر جوابات موجود ہیں ۔

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ  کے ”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ بقول شیخ محمد اکرام:”انہوں نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی ۔“

 موضوع کی مناسبت سے ایسی چند کتابوں کا   ذکر ملاحظہ فرمائیں جن میں ذکر بالجہر کے حوالے سے نہایت ہی کار آمد اور مفید بحث و تمحیص  شامل ہے۔ 

(1) علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے” نتیجہ الفکر فی الجھر بالذکر“   لکھی جس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت علامہ فضلِ حنان سعیدی دامت برکاتہم العالیہ کے حصے میں آئی ہے ۔

(2) علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”سباحۃ الفکر فی الجھر بالذکر“ لکھی جسے علامہ پروفیسر سید ذاکر حسین شاہ سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے اردو کے قالب میں ڈھالا ۔

(3) علامہ شیخ تاج الدین احمد بن عطاء اللہ سکندری رحمۃ اللہ علیہ نے ”مفتاح الفلاح“ لکھی جس میں ذکر کے فضائل محفوظ فرمائے ۔

(4) شیخ عبداللہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ”شھادۃ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ “  رقم فرمائی جس میں کلمۂ طیبہ کے فضائل و شواہد اور مطالب و معانی  پر منفرد بحث فرمائی ہے ۔

(5) خواجہ محبوب عالم نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تنویر الابصار بجنود الابرار ہے جسے کرنل (ر)پیر الطاف محمود ہاشمی دامت برکاتہم العالیہ نے ترجمہ، تجدید، ترمیم و تخریج کرکے”الطاف و اذکار “ کے نام سے نئی آب و تاب سے شائع کی ہے ۔

(6)  عزیز ملت مولانا محمد عبدالعزیز کلیمی چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے” تحفۂ کلیمی “ نامی کتاب لکھی جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر بالجہر کی اہمیت وافادیت کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہے ۔ نیز اس میں ذکر کے آداب اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں ذکر کرنے کے طریقے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے ۔

 علامہ مفتی محمد ممتاز حسین حبیبی دامت برکاتہم العالیہ اور مولانا  مفتی محمد عبدالخالق اشرفی دامت برکاتہم العالیہ کی تقاریظ سے اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔

(7) نبیرۂ اعلیٰ حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خان جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ذکر اللہ“ کے عنوان سے ایک مختصر مگر جامع کتاب لکھی ہے ۔

(8) شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد غلام فرید ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے ”فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین“ لکھی جس میں منکرین ذکر بالجہر کے اعتراضات کا نہایت مسکت جواب دیا گیا ہے ۔

(9) شیخ الحدیث علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ  کی نہایت مختصر مگر مفید تر کتاب  ” خدا کو یاد کر پیارے“   ہے۔ جو اپنے موضوع پر ایک لاجواب تحریر ہے جس میں ”ذکر اللہ“ کی نہایت ہی احسن انداز میں تلقین کی گئی ہے۔

(10) اسی نام”خدا کو یاد کر پیارے“  سے مولانا تطہیر احمد رضوی دامت برکاتہم العالیہ کی بھی ایک مختصر تحریر سامنے آئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کے چند طریقے    دئیے گئے ہیں۔

(11) مولانا مظفر احمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک منفرد اور مختصر تحریر” کلمۂ طیبہ کی تشریح“ ہے۔ جس میں کلمۂ توحید،  توحید دو صورتیں، شرک ، ایمان، عبادت،تعظیم، افعال تعظیم، نماز ، رسالت اور فضائل کلمۂ طیبہ جیسے عنوانات شامل ہیں۔

(12) مولانا محمد شہزاد قادری ترابی زید مجدہ کی کتاب” تشریح کلمۂ طیبہ“   کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ کتاب فیض ملت علامہ محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ ، مفتی محمد اکبر الحق شاہ قادری زید مجدہ اور خطیب العصر علامہ ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی زید مجدہ کی تقاریظ سے مزین ہے جن سے کتاب کی اہمیت محتاج تعارف نہیں رہتی ۔

(13) شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ” ذکر بالجہر“ مشہور و معروف ہے ۔ یہ   بلند آواز سے ذکر کرنے کی ایک بے نظیر تحقیق ہے۔

(14) جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مختصر مگر  پر اثر تحریر ” کلمۂ طیبہ ۔۔ انجام غفلت“ ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔

(15) ابو الوفا علامہ مفتی سیف الرحمن برکاتی ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ” کلمۂ طیبہ کے فضائل“   کا عنوان لیے ہوئے چھپ کر سامنے آئی ہے جس میں آپ نے نہایت فقہیانہ انداز میں کلمۂ طیبہ کے فضائل رقم فرمائے ہیں ۔

(16) علامہ مولانا محمد محبت علی قادری دامت برکاتہم العالیہ کی نہایت مفصل اور جامع کتاب ” ترغیب الاذکار المعروف بہ فضائل ذکر“کے نام سے  اشاعت پذیر ہوئی ہے ۔   جو پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور پھر ہر باب کی کئی فصلیں ہیں ۔ آپ اپنے آپ کو عبد مصطفیٰ اور غلام رضا لکھتے ہیں ۔

(17)  علامہ مولانا محمد محبت علی قادری دامت برکاتہم العالیہ کی دوسری کتاب ” جماعت کے بعد ذکر بالجہر شرعاً مستحب ہے“  بھی ہے جو اپنے موضوع پر ایک معلومات افزاء تحریر ہے ۔

(18) مبلغ یورپ علامہ قاضی محمد عبداللطیف قادری دامت برکاتہم العالیہ کی ضخیم کتاب” اربعین فی الدنیا والدین  “ ہے جو ”برکات ذکر“ کے عنوان سے معروف ہے ۔یہ کتاب بھی قرآن و حدیث اور اکابرین اسلام کے ارشادات سے مزین ہے ۔   

 ذکر بالجہر کے فضائل ، کمالات اور اثبات کے حوالے سے   جہاد بالقلم کےمحاذ پر  کتابی سلسلہ جاری وساری ہے۔ اسی سلسلۃ الذہب کے تحت  ہمارے مہربان اور قدردان علامہ مولانا مفتی محمد اعظم قادری رضوی زید مجدہ آگے بڑھے ہیں اور آپ بھی ”فضائل ذکر“ کے عنوان سے ایک نہایت ہی عمدہ اور اعلیٰ علمی و قلمی سوغات لے کر سامنے آئے ہیں۔  آپ نے یہ کتاب 9رمضان المبارک 1409ھ/ 16اپریل 1989ء بروز اتوار کو  مکمل کر لی تھی لیکن آپ دیگر دینی مصروفیات کی وجہ سے اسے بروقت شائع نہ کرسکے ۔ اس دوران آپ کی کئی دیگر اہم کتابیں چھپ کر اہل علم و قلم سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں ۔ آپ درس و تدریس اور امامت وخطابت کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔  اور ناموسِ رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کئی بار پابند سلاسل بھی رہ چکے ہیں لیکن آپ نے کبھی ہمت نہیں ہاری ۔ آپ نہایت استقامت اور متانت سے اپنے علمی و قلمی اہداف کی جانب بھی آگے بڑھتے رہے ۔ آپ نے پیش نظر کتاب پر نظر ثانی فرمائی اور اس میں کئی مفید اضافات بھی فرمائے ۔  گویا آپ نے یہ کتاب از سرِ نو ترتیب دی ہے ۔  یوں آپ کی  ذکر کے فضائل پر یہ گراں قدر کتاب چار ابواب میں ترتیب پا کر سامنے آئی ہے ۔ 

 پہلا باب ” فضائل ذکر آیات قرآنی کی روشنی میں“ ہے جس میں پچیس قرآنی آیات سے ذکر کے فضائل ، برکات ، اثبات   اور ثمرات دئیے گئے ہیں۔

دوسرا باب” ذکر بالجہر احادیث نبویہ کی روشنی میں“ ہے   جس میں پندرہ احادیث مقدسہ سے ذکر بالجہر  کے دلائل دئیے گئے ہیں۔

تیسرا باب” فضائل ذکر احادیث نبویہ کی روشنی میں“ ہے جس میں ذکر کے فضائل میں بیس احادیث مقدسہ  قارئین کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

چوتھا باب” فضائل کلمۂ طیبہ احادیث نبویہ کی روشنی میں“ ہے۔ جس میں کلمۂ طیبہ کے فضائل و کمالات کے حوالے سے چالیس احادیث مقدسہ سلک مروارید کی طرح  صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دی گئی ہیں۔

 فاضل مصنف اور محقق کا انداز تحریر نہایت شستہ   ، محققانہ اور عالمانہ ہے۔  ہر باب کی سطر سطر سے آپ کی تحقیق انیق کے سوتے پھوٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔     اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ قرآن وحدیث پر نہ صرف آپ کی گہری نظر ہے بلکہ یہ کتاب مستطاب آپ کے وسعت مطالعہ  پر شاہد و ناطق ہے۔

 ابواب کے آخر میں آپ نے ”مآخذ و مراجع“ کی فہرست بھی دے دی ہے جس سے کتاب کا تحقیقی اور علمی پہلو بھی ظاہر و باہر ہو جاتا ہے۔  اس کتاب پر مشاہیر علماء اہل سنت نے اپنی تقاریظ   لکھ کر کتاب   کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔

    آج ہم ایک نہایت ہی پر فتن دور سے گزر رہے ہیں۔  معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہے۔ اخلاقی قدریں ختم ہوتی جارہی ہیں۔

  آہ افسوس! آج مسلمان کلمۂ طیبہ کے ذکر پر بھی جنگ و جدل پر اتر آتا ہے۔  ہماری تحصیل حسن ابدال کے مغرب میں تھوڑے سے فاصلے پر  جی ٹی روڈ کے قریب قریب ایک چھوٹا سا  گاؤں” جلو“ ہے، شروع  میں اس گاؤں  میں صرف ایک ہی مسجد تھی جہاں سب مسلمان امن و سکون سے نمازیں پڑھتے چلے آرہے تھے۔  کافی عرصہ پہلے کی بات ہے  کہ ایک بار  رمضان المبارک کے آغاز میں   نماز کے بعد جوں ہی نمازیوں نے کلمۂ طیبہ کا ذکر بلند کیا تو چند لوگوں نے اس پر احتجاج کیا کہ اب اس مسجد میں نمازوں کے بعد ہم کلمۂ طیبہ کا ذکر نہیں ہونے دیں گے ۔ نوبت جنگ و جدل تک جا پہنچی اور مسجد ہی میں گھمسان کی جنگ ہوئی، ساری مسجد خون سے لت پت ہو گئی یہاں تک کہ زخمیوں کا خون مسجد سے  باہر نالیوں میں بہنے لگا ۔ بالآخر  معاملہ تھانے میں پہنچ گیا ۔ اور مسجد کو سیل کر دیا گیا ۔ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں مسجد بند رہی ، اذان تک نہ ہو سکی۔  مسجد کی بندش کا وبال ان شریر لوگوں کے سر رہا جنہوں نے کلمۂ طیبہ کا ذکر کرنے پر اپنے مسلمان بھائیوں کا ناحق خون بہایا۔  یہ تو صرف ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ   ہمارے معاشرے میں ایسی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ، کہیں مساجد میں نمازوں کے بعد کلمۂ طیبہ کے ذکر کرنے پر جھگڑے دیکھنے میں آئے ہیں اور کہیں نمازِ جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے کلمۂ طیبہ کے ذکر کرنے پر  بعض لوگوں کے ماتھے پر بل آجاتے ہیں۔  حالانکہ کلمۂ طیبہ کے ذکر سے تو ہمارے ایمان کو تازگی اور حلاوت ملنی چائیے۔

 کلمۂ طیبہ تو ہماری رگ و پے میں گردش کررہا ہے اگر اسی کی بلندی پر کوئی کبیدہ خاطر ہوتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی فکر کرے۔

 ان ناگفتہ بہ حالات میں میرے ممدوح علامہ مولانا مفتی محمد اعظم قادری صاحب زید مجدہ کی یہ گراں قدر کتاب ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ مسلمانو!  خود بھی کلمۂ طیبہ کا ذکر کرتے رہو اور اپنی اولادوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہو تاکہ مرتے وقت بھی ہماری زبانوں پر یہی کلمۂ طیبہ جاری رہے۔

 مبلغ یورپ علامہ قاضی محمد عبداللطیف قادری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی کتاب ”اربعین فی منافع الدنیا والدین“ المعروف بہ ”برکات ذکر“   مطبوعہ ادارہ فیضانِ رسالت (پیر مہر علی شاہ ٹاؤن غوث اعظم روڈ) راول پنڈی  (2012ء) کے آغاز میں ذکر کے چالیس آداب    رقم فرمائے ہیں جنہیں افادۂ عام کے لیے یہاں   پیش کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں:

(1) باوضو ہو کر ذکر کرے ۔

(2)اول آخر درود شریف پڑھ لینا چاہیے کم از کم تین مرتبہ ۔

(3)قبلہ رو بیٹھ کر ذکر کرے تو زیادہ بہتر ہے ۔

(4)دو زانو التحیات کی شکل میں بیٹھے ۔

(5)دل میں عجز و انکساری ہو ۔

(6)خشوع وخضوع کے ساتھ ذکر ہو تو اور اچھا ہے ۔

(7)سکنیت اور وقار کے ساتھ اور پورے اطمینان سے ذکر کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکنیت نازل ہو ۔

(8)ٹھہر ٹھہر کر صحیح تلفظ کے ساتھ ذکر کرے ۔

(9)سر جھکا کر با ادب ہو ۔

(10)عطر یا دوسری کوئی پاک خوشبو مل جائے تو کپڑوں وغیرہ پر لگا لے ۔

(11)ذکر تنہائی میں ہو تو زیادہ اچھا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا ذکر الگ ہو کر کرے ۔

(12) ذکر پاک جگہ میں بیٹھ کر کرے ۔ گندی جگہ یا بد بودار والی جگہ بیٹھنے سے پرہیز کرے ۔

(13)ذکر سے پہلے مسواک کرے اور منہ کو اچھی طرح صاف کرے تاکہ کھانے کے ٹکڑے وغیرہ جو دانتوں میں ہوں ، ان کو نکال دے اور بو بھی منہ سے نکل جائے ۔

(15)ذکر شریف دل کی حاضری کے ساتھ کرے ۔

(16)جو جو الفاظ منہ سے نکال رہا ہو ان پر پورا پورا دھیان دے ۔

(17) اجتماعی ذکر ہو تو زیادہ اچھا ہے ۔ حدیث شریف میں اس کو ریاض الجنۃ کہا گیا ہے یعنی جنت کا باغ اسے ذکر کا حلقہ کہتے ہیں ۔

(18) اچھی آواز سے ذکر کیا جائے تاکہ دل پر اثر اچھا رہے ۔

(19)جن الفاظ  یا کلمات کے مطلب نہ جانتا ہو ، کسی عالم سے پوچھ لے ۔

(20)کسی کے لئے تکلیف کاباعث نہ ہو تو ذکر جہر کرے ورنہ آہستہ ہی کرے ۔

(21)جس سلسلہ کا مرید ہو ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر کرے ۔

(22)کسی نیک آدمی سے ذکر کا طریقہ سیکھ کر ذکر کرے ۔

(23)ذکر کے وقت نگاہ نیچے رکھے اگر خیالات منتشر ہوں تو آنکھیں بند کرے ۔

(24)اسماے ذاتی و صفاتی دونوں سے ذکر کرنا جائز ہے ۔

(25)ذکر اس وقت کرے جب تک طبیعت میں بھی ذوق و شوق ہو ، جب بوریت محسوس کرے تو اس وقت ذکر نہ کرے ۔

(26)ذکر کرنے کی جو تعداد روزانہ مقرر کر  رکھی ہے اس سے کم نہ ہو بلکہ زیادہ ہی ہو۔

(27)ذکر کا جو وقت مقرر کیا ہوا ہے یا جس وقت کی پیر/استاذ نے تعلیم دی اسی وقت پر کرے ۔

(28) اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کے ساتھ ذکر کرے تو ساتھ یا کو ملا لے جیسے یا رحمن ، یا رحیم یا کریم، تاکہ ذکر بھی ہو جائے اور دعا بھی ہو جائے ۔

(29) بعد نماز فجر و بعد نماز عصر ذکر کے خاص اوقات ہیں ، ان اوقات میں ذکر کرنے سے مشکلات دور ہوتی ہیں ۔

(30)ذکر وہی اچھا ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو ۔

(31) ذکر اور دعا وہی قبول ہے جو عربی میں ہو اور کسی سند سے ثابت ہو ۔

(32) محفلِ ذکر میں بچوں اور عورتوں کو شامل نہ کیا جائے ۔

(33) کلمۂ طیبہ کو گانے کی طرز میں نہ پڑھا جائے ۔

(34) ذکر کے وقت خیالات ادھر ادھر منتشر نہ ہونے دیں ۔

(35)نیند کے غلبہ کے وقت ذکر نہ کیا جائے تاکہ کوئی کلمہ غلط زبان پر نہ جاری ہو جائے ۔

(36) زبان ہر قسم کی بے ہودہ گفتگو سے پاک رکھی جائے تو پھر ذکر میں اثر زیادہ ہوتا ہے ۔

(37)ذکر کے وقت دنیوی باتوں سے پرہیز کیا جائے ۔

(38)ڈھول باجے کے ساتھ ذکر نہ کیا جائے جیسے جاہل صوفیوں نے نیا طریقہ نکالا ہے ۔

(39) کوئی ایسی چیز تصویر وغیرہ سامنے نہ ہو جو توجہ ہٹائے ۔

(40)ذکر کی تعداد زیادہ کرنے کی غرض سے ذکر میں تیزی بھی نہ کرے ۔

 ذاکرین جب بھی ذکر   کریں تو ان مندرجہ بالا آداب کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔ 

فاضل مصنف  علامہ مفتی محمد اعظم قادری رضوی زید مجدہ (خلیفۂ مجاز تاج الشریعہ بریلی شریف ۔ انڈیا) کی اس علمی کاوش پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد اور ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں ۔

 یقیناً  آپ کی یہ کتاب ذاکرین اور عابدین کے لئے ایک تحفۂ بے بہا ہے اور ذکر کے منکرین  کے لئے ایک تازیانۂ عبرت  ہے ۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے اور اسے شہرت عام اور بقائے دوام بخشے اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے ۔آمین ثم آمین ۔