19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 8609 Downloads: 756

(3)-آپ کے مسائل

مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی

تعمیرات کے لیے کیا گیا چندہ  کہاں کہاں استعمال ہوسکتا ہے

سوال: مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کی جب کسی مسجد یا مدرسہ کی تعمیرات کا سلسلہ ہوتا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تعمیرات کے مٹیریل کی حفاظت کے خاطر ایک چھوٹا ساروم بنانا پڑتا ہے ٹین شیڈ وغیرہ کا تو ایسی صورت میں تعمیرات کے مد میں جمع کی ہوئی رقم یہاں استعمال کی جاسکتا ہے ؟ اسی طرح سے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعمیراتی مٹیریل کی حفاظت کی خاطر کسی بندے کو اجبیر رکھا جاتا ہے جو کہ تعمیرات کے سامان کی حفاظت کرتا ہے اور سامان لانے میں بھی مدد کرتا ہے تو کیا اس اجیر بندے کی تنخواہ بھی تعمیرات کے مد میں جمع کی ہوئی رقم سے دی جا سکتی ہے ؟ نیز بسا اوقات کچھ قانونی معاملات کے پیش نظر مثلاً کنٹرکشن پر میشن لینا ہے وہاں بھی رقم کی حاجت ہوتی ہے تو تعمیرات کے مد میں جورقم جمع ہوئی ہے کیا وہ رقم یہاں صرف کی جا سکتی ہے ؟ الغرض تعمیراتی کام سے متعلق جو بھی مسائل پیش آتے ہیں تو تعمیرات کے مد میں جمع کی ہوئی رقم سے وہ کام کیے جاسکتے ہیں یا نہیں برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب:مٹیریل رکھنے کے لیے گودام، محافظ، کنٹرکشن پرمیشن کے اخراجات تعمیرات فنڈ سے حسب حاجت لینا جائز ہے۔ رشوت اس سے نہ دیں اور اسراف سے بھی بچیں۔

     عام تعمیرات کی طرح مسجد و مدرسہ کی تعمیرات کے لیے بھی مٹیریل ضروری ہیں تو ان کی ذخیرہ اندوزی کے لیے کوئی کوٹھری وغیرہ چاہیے اور حفاظت کے لیے کوئی محافظ آدمی بھی چاہیے۔ کام بڑا ہوتا ہے تو ان سب کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ سب تعمیرات ہی کے حصہ ہوتے ہیں جیسے مکان بنانے کے لیے مستری، مزدور، انجینیر یہاں تک کہ بانس، بَلّی وغیرہ کی بھی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ تمام اشیا تعمیرات کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں تو یہ سب تعمیرات کے ہی براہ راست یا بالواسطہ حصہ ہیں تو ان سب کے لیے احتیاط کے ساتھ مناسب اخراجات کی اجازت ہے۔ اسراف تو کبھی بھی نہیں چاہیے کہ یہ ممنوع ہے۔ الاشباہ والنظائر میں ہے:

القاعِدَةُ الرّابِعَةُ: التّابِعُ تابِعٌ

تَدْخُلُ فِيها قَواعِدُ:

الأُولى: أنَّهُ لا يُفْرَدُ بِالحُكْمِ

ومِن فُرُوعِها الحَمْلُ يَدْخُلُ فِي بَيْعِ الأُمِّ تَبَعًا، ولا يُفْرَدُ بِالبَيْعِ، والهِبَةُ كالبَيْعِ.

ومِنها الشُّرْبُ، والطَّرِيقُ يَدْخُلانِ فِي بَيْعِ الأرْضِ تَبَعًا، ولا يُفْرَدانِ بِالبَيْعِ عَلى الأظْهَرِ،

ومِنها لا كَفّارَةَ فِي قَتْلِ الحَمْلِ۔(الاشباہ والنظائر)

قانونی معاملات کے پیش نظر  ”کنٹرکشن پرمیشن“ لینا ضروری ہو تو اس کے اخراجات بھی تعمیرات کے فنڈ سے لینا جائز ہے کہ یہ بھی تعمیر کے ضروریات سے ہے۔ ہاں اس کے لیے رشوت دینی پڑے تو اس کا انتظام الگ سے چاہیے تعمیرات فنڈ سے رشوت ہرگز نہ دی جائے کہ چندہ دینے والوں کا مقصد مسجد و مدرسہ کی تعمیر کا ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے اور رشوت تو دراصل ناجائز ہے گو کسی مجبوری کی وجہ سے دینے والے کے حق میں مباح ہو۔

ارشاد باری ہے:اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ (القرآن الحکیم، سورۃ التوبه: ۹، الآیة: ۱۸)

اور ارشاد رسالت ہے:الراشی و المرتشی فی النار۔واللہ تعالٰی اعلم۔

کیا مسجد نبوی کا چبوترہ خارج مسجد ہے

مسجد نبوی کا چبوترہ جہاں اہل صفہ رہتے تھے وہ خارج مسجد ہے۔ کیا آج بھی مسجد نبوی کا وہ حصہ خارج ہے ؟ حضرت ، مسجد کا صحن اور فنا اور چبوترہ، ان چیزوں کو کیسے پہچانا یا جائے ؟ اس مسئلہ میں بہت تشویش ہو رہی ہے؟

الجواب:وعلیكم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،

ہاں مسجد نبوی کا چبوترہ آج بھی خارج مسجد ہے، اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ تمامیت مسجد کے وقت جو زمین خارج مسجد ہوتی ہے وہ بعد میں بھی خارج مسجد رہتی ہے۔ مسجد نبوی شریف کا یہ چبوترہ محتاج صحابہ کی رہائش اور تعلیم و تربیت کے لیے تھا ، نماز کے لیے مخصوص نہیں تھا اور بعد میں اسے اسی حال پر باقی رکھا گیا لہذا وہ آج بھی خارج مسجد ہے اس بارے میں فتاوی رضویہ جلد دوم باب الاذان والا قامۃ میں فتوی اور فقہی جزئیہ موجود ہے مزید اطمینان قلب کے لیے اسے دیکھ لو۔ واللہ تعالی اعلم ۔

 (۲) تمھارے سوال میں خارج مسجد سے مراد ”فناے مسجد “ ہے اور فناے مسجد زمین کا وہ حصہ ہے جو حرم مسجد سے متصل نمازیوں کی ضرورت کے لیے چھوڑی گئی ہو جیسے وضوخانہ،غسل خانہ ، استنجا خانہ، جوتے چپل اتارنے کی جگہ اذان دینے کی جگہ وغیرہ۔ اس سے سمجھ سکتے ہو کہ مسجد کیا ہے اور فناے مسجد کیا ہے۔ مسجد در اصل وہ جگہ ہے جو نماز کے لیے مخصوص ہو موضِعُ أُعِدَّ لِلصَّلاة . تو جو جگہ نماز کے لیے مخصوص ہو وہ مسجد ہے اور جو جگہ نماز اور نماز کی ضرورتوں کے لیے ہو وہ فناے مسجد ہے۔ فناے مسجد ایک حیثیت سے جزو مسجد ہے کہ وہ بھی وقفی ہوتی ہے اور ایک حیثیت سے خارج مسجد ہے ۔ جزو مسجد ہے لہٰذاوہاں تجارت کا کوئی کام نہیں ہو سکتا خارج مسجد ہے اس لیے وہاں وضو وغیرہ کیا جاسکتا ہے اور جو جگہ حدود مسجد سے باہر ہے وہ مکمل خارج مسجد ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔

عدت میں گھر سے باہر نکلنے کا حکم

حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ،السلام علیکم

 میرانام ڈاکٹر وقارا عظمی ہے اور میں حضرت علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب قبلہ کا بیٹا ہوں ۔ امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرے پاس ایک سوال آیا ہے اور میں آپ کی رائے چاہوں گا۔ اگر کوئی عورت لندن میں عدت میں رہتی ہے لیکن ان کی والدہ پاکستان میں بہت بیمار ہیں اور ان کی طبیعت خراب ہے تو کیا وہ ان سے ملنے کے لیے سفر کر سکتی ہے ؟

 الجواب : وعلیكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

 عدت کا حکم قرآن مقدس میں یہ ہے:لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ .(سورة الطلاق، آیت:۱)

”نہ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں ۔“

صبر کی گھڑی ہے جس پر اجر عظیم کی بشارت ہے ، وہ عورت صبر کرے اور دعاے خیر میں مشغول رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔

مسجد کا سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا

اور اس کا انٹریسٹ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟

حضرت مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ :

اراکین مسجد ، مسجد کی رقم رکھنے کے لیے مسجد کا ایک بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا چاہتے ہیں، سیونگ اس لیے کھلوا ر ہے ہیں کہ مسجد کا فائدہ ہو، جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں زائد رقم نہیں ملتی ۔

(۱) مسجد کا سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا کیسا ہے ؟

(۲) اس پر جو زائد رقم بینک دےگااس کو مسجد کے کس کس کام میں صرف کر سکتے ہیں کس میں نہیں ؟

(۳)نہیں خرچ کرنے کی صورت میں اس کا کیا کیا جائے ؟

الجواب:(۱)مسجد کی رقم رکھنے کے لیے حکومت کے کسی بینک میں مسجد کے نام سے سیونگ بینک اکاؤنٹ یا بچت کھاتا کھولنا جائز ہے کہ اس سے مال کا تحفظ ہوگا اور بینک اس پر کچھ زائد رقم بھی دے گا ساری دنیا اس طرح کے کھاتے کھولتی اور اپنے مال کا تحفظ کرتی اور کچھ نفع یاب ہوتی ہے، مسجد بھی کر سکتی ہے جو مفید کام سب کے لیے جائز ہے وہ مسجد کے لیے بھی جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم

(۲)بینک کے ذریعے جمع شدہ رقم پر جو زائد مال ملے گا اسے حرم مسجد کے سواہر کام میں استعمال کر سکتے ہیں اور حرم مسجد میں استعمال کرنا بھی حرام نہیں بلکہ خلاف اولیٰ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم

) ۳ (فی الحال خرچ کی کوئی حاجت نہ ہو تو اسے محفوظ رکھیں اور جب حاجت پیش آئے تو اسے استعمال میں لائیں یہ واضح رہے کہ یہ مال پاک و مباح مال ہے جو حکومت کی مرضی سے اس کے دستور کے مطابق ملتا ہے اس میں مسلمان کی طرف سے کوئی غدر یا فریب بھی نہیں اس لیے اس کا استعمال جائز ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔