19 June, 2024


Book: The Monthly Ashrafia August 2023 Download:Click Here Views: 8621 Downloads: 756

(20)-خیر و خبر

 

سنی مسجد بلال میں ہریانہ کے امام کے قتل پر تعزیتی نشست

 قصور واروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ حکومت سے مطالبہ۔ (معین میاں )

دوٹانکی سنی مسجد بلال میں ہریانہ میں امام کے قتل پر علماے کرام کی ایک تعزیتی نشست رکھی گئی ۔ جس کی سر پرستی اور صدارت پیر طریقت رہبر شریعت قائد قوم وملت حضرت علامہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ وصدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما نے فرمائی ۔ معین المشائخ نے فرمایا کہ اب نفرت کی سیاست کو روکنا بہت ضروری ہے ، ملک کی امن وسلامتی اسی میں ہے کہ بھائی چارگی کو اپناتے ہوئے نفرت کو دل سے نکال دیا جائے ۔ آپ نے امام کے وحشیانہ قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ قصورواروں اور خاطیوں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر نفرت کی آگ کو روکا نہ گیا تو ملک کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ، ایک بے قصور امام کو نشانہ بنانا نہایت ہی افسوس ناک بات ہے ، اب مذہبی رہنما بھی محفوظ نہیں رہے ،جو ملک کے لیے شرم کی بات ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعصب کی آگ بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ معین المشائخ نے مزید کہا کہ میں سنی جمعیۃ العلما کی جانب سے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہوں ۔ جامعہ قادریہ اشرفیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا صوفی محمد عمر نے کہا کہ مسجد کے امام کو اس طرح قتل کرنا ظلم و بربریت کو فروغ دینا ہے۔ جتنی مذمت کی جائے کم ہے  ایسے واقعات ملک کے دامن میں بد نما دھبہ ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ حکومت کو فوری طور پر قدم اٹھاتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کر کے سزا دینی چاہیے ۔ سنی جمعیۃ العلما کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ابراہیم آسی نے کہا کہ امام کو اس طرح سے کھلے عام شہید کرنا اقلیت کو دبانے کی کوشش کرنا ہے ۔ امام ایک مذہبی رہنما ہوتاہے ہر قوم کے لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، سماج میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو نفرت کی آگ کو پھیلاتے ہیں، امام کا قتل ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ نفرت پھیلانے والوں پر شکنجہ کسنا بہت ضروری ہے۔ سنی مسجد بلال کے خطیب و امام حضرت حافظ و قاری مشتاق احمد سیفی نے کہا کہ میں اس واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہوں ، اور معین المشائخ کے بیان کی تائید کرتا ہوں کہ حکومت خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دے ۔ اس نشست میں علماے کرام اور دانشوران موجود تھے بالخصوص حلیمہ اپارٹمنٹ کے خطیب و امام مولانا شاہ نواز ، حکیم دائم مسجد کے خطیب و امام قاری الیاس ، قصائی محلہ کے خطیب و امام قاری خورشید ، قاری قطب الدین ، مولانا عارف ، قاری نظام الدین ، قاری محفوظ ، ، قاری عبد العزیز اور دیگر حضرات موجود تھے۔

43واں عرس حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ

قادیانی جمہور علما کے نزدیک غیر مسلم ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور آخری رسول ہیں: الحاج محمد سعید نوری

آندھرا پردیش حکومت شعبۂ اوقاف نے گزشتہ کئی سال قبل قادیانیوں کے تعلق سے ایک قانون پاس کیا تھا، کہ آندھرا پردیش صوبہ میں قادیانی فرقہ کے لوگوں کو مسجد اور مدرسہ کے رجسٹریشن کرانے یا تعمیری کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مگر ابھی مرکزی وزیر اقلیتی امور اسمرتی ایرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص قادیانیوں کو کافر کہے گا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے متعلق رضا اکیڈمی نے نوری مہمان خانے میں آج ایک علما کی ہنگامی میٹنگ بلائی ، جس میں اس سنگین مسئلے پر علماے کرام نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے سربراہ مولانا الحاج سعید نوری نے کہا کہ قادیانی فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اور یہ بھی کتابوں میں لکھا ہے کہ میں آخری نبی ہوں ، مجھے تم لوگ نبی مانو۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی ٰنبوت سراسر قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور آخری رسول ہیں، یہ تحققی مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص حضور اقدس کو آخری نبی اور آخری رسول نہیں مانتا ہے، تو وہ خود کافر ہو جائے گا، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ عرس نوری کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں دار العلوم منظر اسلام کے پرنسپل مفتی عاقل رضوی نے کہا کہ قا ادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا بہت ضروری ہے، عقیدۂ ختم نبوت کو کمزور کیا جارہا ہے۔ دارالافتاء منظر اسلام کے مفتی سید کفیل ہاشمی نے کہا کہ حکومت ہند کا نظریہ قادیانیوں کی حمایت کرنا ہے، یہ فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے اور مسلمانوں کے در میان انتشار وافتراق پیدا کرنا چاہتی ہے۔ دار العلوم مظہر اسلام کے مولانا ثناء اللہ مظہری نے علما سے سخت موقف اختیار کرنے کی بات کہی۔ ڈاکٹرمحمد حسن قادری نے کہا کہ ملک کے ہر شہر سے علما و مشائخ اور مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کو اب کھل کر میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ 7 ستمبر 1974ء میں علما کے مطالبہ پر حکومتی سطح پر غیر مسلم قرار دیا ، پورے ملک میں قادیانی فرقے کے افراد کوئی بھی ادارہ سازی  نہیں کر سکتے ہیں۔ یہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس سال 2 لاکھ 17 ہزار 166 لوگوں نے قادیانی مسلک اختیار کیا۔ 186 عبادت گاہیں قائم ہوئیں۔ 124 نئے مشن ہاؤس بنائے گئے ، 329 نئی شاخیں کھولی گئیں عوام کے درمیان لاکھوں کی تعداد میں لٹریچر تقسیم کیے گئے۔ مذکورہ مجموعی تعداد سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ قادیانی فرقہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کو مجروح کر رہے ہیں۔ نوری مہمان خانہ میں بعد نماز مغرب شہزادہ اعلیٰ حضرت تاج دار اہل سنت حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کا قل شریف روایتی انداز میں منایا گیا، بعدہ لنگر نوری کا بھی اہتمام کیا گیا۔