20 October, 2018

تازہ ترین معلومات


حضور تاج الشریعہ کے وصال پر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں مجلس ایصال ثواب

 

’’عالم اسلام کی ممتاز ومشہور شخصیت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری علیہ الرحمہ کے وصال پر پورا جامعہ سوگوار ہے ،آج ہر آنکھ نم ہے ، حضرت کی علمی و دینی اور متاثر کن ذات سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ، ان کا نقش پا مشعل زندگی ہے ، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔ ‘‘ ان خیالات کا اظہار جامعہ کے سربراہ اعلیٰ عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ عزیزی نے عزیزالمساجد میں منعقدہ اساتذہ و طلبہ کے مشترک تعزیتی اجلاس میں کیا اور حضور تاج الشریعہ کے انتقال کو ملت کا عظیم سانحہ قرار دیا ۔ ۲۰؍ جولائی بعد مغرب شہر بریلی شریف میں ان کا وصال ہوا ، اطلاع ملتے ہی نماز عشا کے بعد عزیز المساجد میں محفل ایصال ثواب منعقد ہوئی ، بعد فجر اجتماعی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ، صبح آٹھ بجے کے بعد پھر اجتماعی قرآنی خوانی ہوئی اور تعزیتی نشست ہوئی ۔ تلاوت قرآن اورنعت کے بعد پہلا تاثراتی خطاب استاذ جامعہ اشرفیہ ،خلیفہ تاج الشریعہ مفتی محمد شمس الہدیٰ مصباحی کا ہوا ، آپ نے فرمایا کہ تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا وصال ایک زریں عہد کا خاتمہ ہے ، جامعہ اشرفیہ اور خانوادہ رضویہ کے روابط ایک زمانے سے قائم رہے ہیں ، آج پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ مسلک امام احمد رضا کا سب سے بڑا علمی ترجمان ہے اور مصباحی برادران ہند و بیرون ہند ان کے افکار کومنضبط انداز میں عام کر رہے ہیں۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مرشد گرامی مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کو پورے برصغیر میں اگر کسی پر بھروسہ تھا وہ ذات تھی ابوالفیض حضور حافظ ملت کی ۔ انھوں نے فقہ حنفی کا عظیم انسائیکلوپیڈیا فتاویٰ رضویہ کا مسودہ انھیں سونپ دیا اور الحمد للہ وہ کام ان کے دست راست علامہ عبدالرؤف بلیاوی اور مفتی عبدالمنان اعظمی علیہما الرحمہ کی کاوشوں سے مکمل ہوا اور پورا عالم اسلام اس عظیم علمی و فقہی سرمایے سے فیض یاب ہوا۔ ‘‘

جامعہ کے صدر شعبہ افتا و صدرالمدرسین مفتی محمد نظام الدین رضوی نے اپنے تعزیتی خطاب میں فرمایا کہ آج سارے عالم اسلام کے لیے بڑے ہی قلق اور قلبی اضطراب کی بات ہے کہ ہم سے تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا ازہری علیہ الرحمہ رخصت ہوگئے ، اناللہ و انا الیہ راجعون ۔حضرت کی علمی وروحانی شخصیت خانوادہ امام احمد رضا کی انتہائی معروف ذات تھی ، جنھوں نے مفتی افضل حسین مونگیری اور مفتی اعظم ہند سے باقاعدہ فقہ افتا کی تربیت لی اور مرشد گرامی کے فقہی وروحانی فیوض سے مالامال ہوئے اور اپنے وقت کے جید فقہا ومفتیان کرام میں شمار ہوئے ، ان کی عربی ، اردو ، انگریزی تصانیف ، عربی و اردو تراجم ، سمیناروں کے مقالات اور فقہی و علمی شہ پارے ان کی یادگار ہیں ، جن کی تعداد تیس سے زیادہ ہے ۔‘‘ مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایاکہ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کو جو مقبولیت آخر کے پچیس سالوں میں عطا فرمائی اللہ تعالیٰ نے وہ مقبولیت حضرت علامہ ازہری صاحب کو شروع ہی میں عطا فرمادی۔ ‘‘حضرت کی ذات ایک پرکشش ذات تھی ، جو آپ کے چہرے کو دیکھ لیتا اس کا دل کشا ںکشاں ان کی طرف مائل ہوتا ۔ اور آج ہند و بیرون ہند میں ان کے مریدین و خلفا لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔اللہ تعالیٰ خانوادہ رضویہ کو مرجع اہل سنت و جماعت عطا فرمائے ، آمین ۔ آپ نے ۱۹۹۲ء میںشہر ممبئی میں حضور تاج الشریعہ سے ملاقات کا واقعہ ذکر فرمایا جس سے ان کے علمی کمال و فقہی جودت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ آخری خطاب سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کا ہوا جس میں آپ نے حضور تاج الشریعہ کے وصال پر اپنے گہرے رنج و غم کااظہار فرمایا اور طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ آپ جس بڑی شخصیت سے گہری عقیدت رکھتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور ان کے علمی و قلمی سرمایے کی حفاظت کریں، یہ ان کی بارگاہ میں بہت بڑا خراج عقیدت ہے ۔ پھر صلاۃ وسلام ،قل شریف اور قبلہ عزیز ملت کی دعا پریہ اجلاس ختم ہوا۔جامعہ میں دوروزہ تعطیل کا اعلان ہوا ۔ اجلاس میں  کثیر تعداد میں طلبہ واساتذۂ جامعہ شریک رہے ، نظامت مفتی زاہدعلی سلامی نے کی ۔ اساتذہ و طلبہ حضرت کے جنازہ میں شرکت کے لیے پابہ رکاب ہیں ۔مفتی محمدمعراج القادری ، مولانا مسعود احمد برکاتی ، مولانا نفیس احمد مصباحی، مولانا ناظم علی مصباحی ، مولانا صدرالوریٰ قادری ، مولانا احمد رضا مصباحی ، مولانا نعیم الدین عزیزی ، مولانا اختر کمال قادری ،وغیرہم کے علاوہ درجنوں اساتذہ اشرفیہ شریک محفل رہے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved