22 April, 2018

تازہ ترین معلومات


۴۳واں عرس عزیزی اور جلسہ دستار فضیلت و تحقیق بہ حسن و خوبی اختتام پذیر

۴۳واں عرس عزیزی اور جلسہ دستار فضیلت و تحقیق بہ حسن و خوبی اختتام پذیر....

جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے وسیع کیمپس میں منعقدہ دو عرس عزیزی اتوار کی شب میں ساڑھے تین بجے فارغین جامعہ کی دستار بندی کے بعد اختتام پذیر ہو گیا.... عرس عزیزی ہندستان کے دیگر اعراس میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے..... یہ شرعی اصولوں کے اجالے میں منعقد ہونے والا ہے اور بہت سے خصوصیات رکھتا ہے..... مقررین و خطبا میں ملک و بیرون ملک کی نامور شخصیات شامل ہوتی ہیں علما و مشائخ سے عزیزی اسٹیج بھرا رہتا ہے. پیران طریقت بھی تشریف لاتے ہیں اس عرس میں امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمہ کے پیرخانے سے رفیق ملت حضرت سید نجیب میاں مارہروی دام ظلہ کی جلوہ آرائی نے اجلاس عام کی رونق کو دوبالا کردیا تھا..... جلسے کے اخیر وقت تک حضرت اسٹیج پر موجود رہے جس وقت سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ و جانشین حافظ ملت جامعہ کے خاص معاونین اور ہمدردوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے حضرت رفیق ملت نے جامعہ اشرفیہ کے لیے ایک موٹی رقم عنایت فرمائی تو سربراہ اعلی کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اشک بار لہجے میں انھوں نے کہا کہ یہ جامعہ اشرفیہ پر حضور غوث اعظم کے خصوصی فیضان و اعتماد کی سند ہے یہ جامعہ یوں ہی ترقی اور فیضان برساتا رہے گا...بعد نماز عشا جلسے کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت و منقبت سے ہوا ملک کے معروف نعت خواں و خطبا اسٹیج کی زینت بڑھا رہے تھے صدرالمدرسین و ناظم تعلیمات کے علاوہ اساتذہ اشرفیہ اور مشائخ اہل سنت کا جم غفیر تھا جو بطور خاص قل شریف کی اس محفل میں حافظ ملت علیہ الرحمہ کے علمی و روحانی فیضان کی بارش میں نہانے کی غرض سے حاضر تھا قل شریف سے قبل ہونے والے خصوصی خطاب میں انگلینڈ کی سرزمین سے تشریف لائے عالم دین علامہ فروغ القادری. بھیونڈی مہاراشٹر سے آئے مولانا یوسف رضا قادری کا خطاب کافی اہم تھا. اس کے بعد سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی پرنسپل جامعہ اشرفیہ کی سوال و جواب کی بزم تھی حضرت مولانا صدر الوری قادری نے نے سوالات پوچھے اور مفتی صاحب قبلہ قرآن و حدیث اور حالات حاضرہ کی روشنی میں ہر سوال کا جواب تشفی بخش جواب دیا تین طلاق کا مسئلہ بغیر محرم کے عورت کا حج کو جانا پیدا ہوتے ہی بچے کے کان میں اذان و تکبیر کا مقصد و طریقہ. حسام الحرمين کی تصدیق و تشکیک کے مسائل کا شرعی پیش فرمایا..... یہ شیشن مختصر ضرور تھا مگر کافی اہم اور فائدہ بخش تھا جسے ایک زمانے تک یاد کیا جائے گا..........حسب روایت تنظیم ابناے اشرفیہ کی جانب سے علامہ محمد أحمد مصباحی اور ڈاکٹر فضل الرحمن شرر مصباحی کو حافظ ملت ایوارڈ سے نوازا گیا..... یہ ایوارڈ حضور رفیق ملت اور سربراہ اعلٰی کے دست اقدس سے دیا گیا.حضرت سربراہ اعلٰی نے مولانا اللہ بخش راجستھان. مولانا سلطآن رضا ہالینڈ.مولانا شمس الہدی مصباحی. مفتی محمد نسیم مصباحی. مفتی معراج القادری اور مولانا نفیس احمد مصباحی کو اپنی خلافت و اجازت سے نوازا... گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل شریف او دعا ہوئی... اس کے بعد خطیب الہند مولانا عبیداللہ خان اعظمی سابق ایم پی کا خصوصی خطاب ہوا... یہ خطاب شوق و سنجیدگی سے سنا گیا.... پھر حضرت رفیق ملت دام ظلہ نے تقریر فرمائی اور جامعہ اشرفیہ کے لیے خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف اور برکاتیوں کی بھرپور حمایت کا اعلان فرمایا. حضور سربراہ اعلٰی سے آپ نے کہا کہ جو جملہ میرے تایا جان حضور سید العلما نے اشرفیہ کے تاسیسی اجلاس میں کہا تھا میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ جامعہ اشرفیہ کے لیے میرا ہر برکاتی ہر وقت آپ کے قدموں میں نچھاور ہے ہم اپنے جسم کا ایک ایک قطرہ خون بھی جامعہ کو دے سکتے ہیں جامعہ اشرفیہ بلامبالغہ مرکز علم ہے.میری دعائیں جامعہ کے ساتھ ہیں..،،

جلسے کے آخر میں مختلف شعبوں کے فارغین کو علما ومشائخ کے ہاتھوں دستار علم و فضل سے نوازا گیا..... آج کے کامیاب اجلاس کی نظامت مولانا قیصر اعظمی نے کی ہے.... عرس عزیزی کا کتابی پوری طرح کامیابی سے ہمکنار ہوا.

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved